’’اِنَّ الْاَمْرَ کُلَّہٗ لِلّٰہِ ‘‘کا مفہوم

سورۂ آل عمران ‘ آیت ۱۵۴ میں الفاظ ہیں : یَقُوۡلُوۡنَ ہَلۡ لَّنَا مِنَ الۡاَمۡرِ مِنۡ شَیۡءٍ ؕ ’’یہ کہتے ہیں کہ ہمارا بھی امر میں کوئی حصہ ہے یا نہیں؟‘‘ یعنی ہماری بھی کوئی بات مانی جائے گی یا نہیں؟ کوئی ہماری بھی رائے چلے گی یا نہیں؟ یہ انسان کی طبعی و فطری کمزوری ہے . انسان چاہتا ہے کہ میرے ہاتھ میں بھی اختیار ہو‘ میری رائے کو بھی اہمیت دی جائے. یہی وہ sense of participation ہے جسے ملحوظ رکھنا حکومت اور ریاست کی سطح پر بہت ضروری ہے کہ ہمارا معاملہ ہمارے ہاتھ میں ہے‘ ہم اس میں شرکت (participate) کر رہے ہیں‘ہماری رائے سے فیصلے ہوتے ہیں.لیکن جماعتی سطح پر‘ اُس نظم میں جو بیعتِ سمع و طاعت پر قائم ہو‘ یہی چیز سب سے بڑی مہلک شے بن جاتی ہے. چنانچہ ان کی اس بات کا کہ ’’اس امر میں ہمارا بھی کوئی حصہ ہے یا نہیں؟‘‘ جو جواب دیا گیا وہ بڑا عجیب ہے : قُلۡ اِنَّ الۡاَمۡرَ کُلَّہٗ لِلّٰہِ ؕ ’’(اے نبی! ان سے) کہہ دیجیے کہ یقیناامر تو کُل کا کُل اللہ کے ہاتھ میں ہے‘‘.اس جواب پر وہ کہہ سکتے تھے کہ ہم نے تو رسول کے حکم سے اختلاف کیا تھا‘ اللہ کے حکم سے کب کیا تھا؟ یہ تو رسول کا اجتہادی حکم تھا. 

اس کا پس منظر ذہن میں رکھئے. غزوۂ اُحد کے موقع پر عبد اللہ بن اُبی اور اس کے ۳۰۰ ساتھی کیوں واپس گئے تھے؟ اس لیے کہ اُس نے یہ رائے دی تھی کہ مدینہ میں محصور رہ کر دفاع کیا جائے .جیسے کہ دو سال بعد غزوۂ احزاب میں ہوا اور اللہ کے فضل و کرم سے بارہ ہزار کے لشکر کا مقابلہ کیا گیا. رسول اللہ کی اپنی رائے بھی یہی تھی‘ لیکن آپؐ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے جوشِ ایمان اور ذوقِ شہادت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان کی رائے کا احترام کیا اور مدینہ سے باہر نکل کر مقابلہ کرنے کا فیصلہ فرمایا. اب دیکھئے. اوّلاً یہ اللہ کا حکم نہیں تھا‘ ثانیاً رسول اللہ کی بھی یہ رائے نہیں تھی. ہاں‘ رسولؐ نے جو فیصلہ کر دیا یہ اس کی مخالفت ہے. اگرچہ رسولؐ نے اپنی رائے کو پس پشت رکھ کر اپنے ساتھیوں کی رائے کے مطابق فیصلہ کیا‘ لیکن اب اس سے اختلاف رسول اللہ 
کے فیصلے سے اختلاف ہے.چنانچہ اس کو واضح کر دیا گیا کہ چاہے یہ اتنا سا معاملہ ہے‘ لیکن حقیقت میں یہ اللہ کی معصیت ہے‘ یہ اللہ کے اختیار کو چیلنج کرنا ہے. ایک سپاہی جب یونیفارم میں ہے تو وہ حکومت کانمائندہ ہے‘ اس کی توہین حکومت کی توہین ہے اور اس کی اطاعت حکومت کی اطاعت ہے. اس لیے کہ وہ ایک حکومتی نظم کی نمائندگی کر رہا ہے. اگر وہ وردی میں نہیں تو عام انسان ہے‘ اس کے ساتھ آپ کا جھگڑا ذاتی سطح پر شمار ہو گا‘ لیکن اگر وہ وردی اور پیٹی میں ہے تو اسے چیلنج کرنا حکومت کو چیلنج کرنا ہے. لہذا یہ نظم کا معاملہ ہے. اور جب یہ اس سطح پر آئے گا تو بات اللہ تک پہنچتی ہے .چنانچہ فرمایا کہ امر کُل کاکُل اللہ کے ہاتھ میں ہے. حالانکہ ہم ابھی سورۃ النساء کی آیت میں ’’اُولِی الۡاَمۡرِ ‘‘ کے الفاظ پڑھ کر آئے ہیں ‘ یعنی تم میں سے جو اصحابِ امر ہیں. بظاہر تو یہاں تضاد معلوم ہوتا ہے کہ یہاں فرما دیا : قُلۡ اِنَّ الۡاَمۡرَ کُلَّہٗ لِلّٰہِ ؕ ’’کہہ دیجیے کہ امر کُل کا کُل اللہ کے لیے ہے!‘‘ تو اس تضاد کو جو بظاہر پیدا ہو رہا ہے ‘ رفع کر لیجیے. درحقیقت اس chain کے ساتھ اگر کوئی امر آ رہا ہے تو وہ حقیقتاً اللہ کا ہے‘وہ علیحدہ نہیں رہا. اللہ کا رسول حکم دے رہا ہے تو اللہ کا حکم ہے. اور اللہ کے رسول کی اطاعت کے نیچے جو نظمِ جماعت بنا ہے اس کا حکم بھی اللہ کا حکم ہے ؏ 
’’ہاتھ ہے اللہ کا بندۂ مؤمن کا ہاتھ!‘‘