دینی ہیئت ِاجتماعیہ کے خلاف شیطان کے ہتھکنڈے

دینی مقاصد اور بالخصوص اقامت دین کے لیے جو بھی ہیئت ِاجتماعیہ وجود میں آتی ہے وہ یقینا شیطان کی دشمنی کے لیے اور اسے للکارنے کے لیے ہی وجود میں آتی ہے‘ لہذا شیطان کے حملے کا سب سے بڑا نشانہ اور ہدف بھی وہ اجتماعیت ہی بنتی ہے . اس پہلو سے غور کیا جائے تو شیطان کے حملہ آور ہونے کے مختلف راستے ہیں. اوّلاً اس کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ اس ہیئت ِ اجتماعیہ میں شریک ہر فردکے دل میں وسوسہ اندازی کرے اور اس کے نفسانی داعیات اور محرکات کو مشتعل کرے. یہ کوشش تو شیطان ہر فردِ نوعِ بشر کے لیے کرتا ہے اور ظاہر بات ہے کہ ایسے اشخاص کے لیے جو کسی ایسی اجتماعیت میں شریک ہوں جو شیطان کو للکارنے کے لیے وجود میں آئی ہو‘ اس کی یہ کوششیں دوچند ہو جائیں گی. پھراس سے آگے بڑھ کر وہ ایسے اشخاص کے باہمی رشتے کو کمزور کرنے‘ ان کی جمعیت میں رخنے ڈالنے‘ ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف بدگمانیاں پیدا کرنے اور ایک دوسرے کے خلاف دلوں میں کدورت پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے‘ تاکہ یہ بنیانِ مرصوص نہ بن سکیں‘ ان کے مابین ایک دوسرے کے خلاف غلط فہمیاں پیدا ہوں اور ایک دوسرے سے بغض اور عداوت پیدا ہو جائے. یہ شیطان کی دوسری کوشش ہے. تیسری کوشش اس کی خاص طو رپر یہ ہوتی ہے کہ اس اجتماعیت کے نظم کو بگاڑے اور اس نظم میں امیر اور مأمورین کے مابین جو ربط و تعلق ہے‘ اسے خراب کرے. اصل میں تو امیر اور مأمورین کے مابین یہ تعلق ہی ہے جو کسی نظم کے مؤثر ہونے میں سب سے زیادہ مفید ہے اور یہی چیز فیصلہ کن بھی ہے . تو اس اعتبار سے اس کا تیسرا حملہ اس تعلق کو کمزور کرنے کے لیے ہوتا ہے.

جہاں تک پہلی بات کا تعلق ہے وہ تو ہمارے اصل منتخب نصاب کے مختلف اسباق اور حصوں میں زیربحث آتی ہے‘ دوسرا معاملہ بھی بالخصوص سورۃ الحجرات میں تفصیل سے زیر بحث آیا ہے. اس میں مسلمانوں کی شیرازہ بندی کے ضمن میں جو مثبت احکام دیے گئے اور جن چیزوں سے روکا گیا ان کو اپنے ذہن میں تازہ کر لیجیے. میں عام طور پر درس کے دوران یہ واضح کیاکرتا ہوں کہ اس کی کیا اہمیت ہے‘ مسلمانوں کی یہ شیرازہ بندی کیوں مطلوب ہے‘ اس میں پیدا ہونے والے رخنوں کا سدّباب اتنا اہم کیوں ہے کہ اس کے لیے قرآن حکیم میں اس قدر اہتمام سے احکام دیے گئے ہیں؟سورۃ الحجرات میں دو بڑے احکام نازل ہوئے ہیں اور ساتھ ہی دو آیات (۱۱۱۲) میں چھ نواہی نازل ہوئے ہیں.جن چھ کاموں سے خاص طور پر روکا گیا ہے وہ یہ ہیں:تمسخر و استہزاء‘ عیب جوئی کرنا‘ ایک دوسرے کو برے ناموں سے پکارنا‘ سوءِ ظن پیدا کرنا‘ کسی کی برائی تلاش کرنے کے لیے اس کی ٹوہ میں لگے رہنا اور غیبت کرنا. اس لیے کہ ایک دوسرے کے مابین بدگمانی پیدا کرنا‘ دلوں کو پھاڑ دینا‘ کدورتیں پیدا کرنا ‘ حسنِ ظن ختم کر کے سوءِ ظن کے بیج بو دینا ‘یہ تمام چیزیں خطرناک ہیں. درحقیقت ان کی اصل اہمیت اس اعتبار سے ہے کہ کسی بھی فصیل کی مضبوطی کا دار و مدار دو چیزوں پر ہے. ایک تو یہ کہ ہر اینٹ اپنی جگہ پختہ ہو اور دوسرے ان اینٹوں کو جوڑنے والا مواد یعنی سیمنٹ مضبوط ہو. اینٹوں کا پختہ ہونا انفرادی سیرت و کردار کی پختگی کا پروگرام ہے جو ہمارے منتخب نصاب کے حصہ سوم کا موضوع ہے. ان اینٹوں کو باہم جوڑنے‘مضبوط کرنے اور ان میں کسی رخنے کو راہ نہ پانے دینے کے ضمن میں احکامات سورۃ الحجرات میں آ گئے کہ اس اجتماعیت میں شریک افراد کے مابین اگر کہیں اختلاف ہو تو اسے فوراً رفع کرنے کی کوشش کرو‘ افتراق کی روش درست نہیں ہے. خواہ مخواہ کی افواہوں پر اعتماد نہ کرو ‘ بلکہ 
افواہوں کی روک تھام کرو .

یہ دو حکم تو بڑے ہیں. ان کے علاوہ جو چھ نواہی ہیں ان میں یہ بھی ہے کہ ایک دوسرے کا استہزاء نہ کرو‘ تمسخر نہ کرو. بسا اوقات آدمی اپنے کسی دوست اور رفیق سے یوں ہی لائٹ موڈ میں کوئی بات کرتا ہے اور اس سے اس کا دل دکھانا مقصود نہیں ہوتا. اور یہ بھی واقعہ ہے کہ ممکن ہے وہ دوست اس سے قبل دس بار وہ بات ہنس کر ٹال چکا ہو‘ لیکن عین ممکن ہے کہ گیارہویں مرتبہ وہ بات تیر کی طرح سیدھی اس کے دل پر جا لگے اوراس کا دل زخمی ہو جائے. اب نتیجتاً اس سے محبت کا تعلق کمزور پڑے گا اور اس کے دل کی کیفیت کھردری سطح کی مانند ہو جائے گی جس پر اب میل جمنا شروع ہو جائے گا. لہذا فرمایا گیا ہے کہ استہزاء سے بچو. ازروئے الفاظِ قرآنی : 
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا یَسۡخَرۡ قَوۡمٌ مِّنۡ قَوۡمٍ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُوۡنُوۡا خَیۡرًا مِّنۡہُمۡ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنۡ نِّسَآءٍ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُنَّ خَیۡرًا مِّنۡہُنَّ ۚ (الحجرات:۱۱’’اے ایمان والو! (تم میں سے) کوئی گروہ دوسرے گروہ کا مذاق نہ اڑائے‘ ہو سکتا ہے کہ وہ ان (مذاق اڑانے والوں) سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں ‘ ہو سکتا ہے وہ ان (مذاق اڑانے والیوں) سے بہتر ہوں‘‘. یہ تو ایسا حکم ہے جو مَردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کے لیے بھی دہرا کر لایا گیا ہے. اگلی بات یہ فرمائی کہ : وَ لَا تَلۡمِزُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ ’’اور ایک دوسرے کی عیب چینی نہ کرو (تہمتیں نہ لگاؤ)‘‘اگر کسی کا واقعی کوئی ایسا معاملہ ہے تو خواہ مخواہ اسے جتلانا درست نہیں ہے‘ اس سے بھی اس کی عزتِ نفس کو مجروح کرنا مقصود ہوتا ہے. یہ بھی وہ چیز ہے جو باہمی رشتۂ اُلفت کو ختم کر دیتی ہے. پھر فرمایا : وَ لَا تَنَابَزُوۡا بِالۡاَلۡقَابِ ؕ ’’اور ایک دوسرے کو (بُرے) ناموں سے نہ پکارو‘‘. وہ نام کہ جو خواہ مخواہ کسی کو چھیڑنے کے لیے ہوں ان سے شدت کے ساتھ منع کیا گیا ہے.پھر یہ کہ سوءِ ظن سے بچو! ا س کے لیے الفاظ آئے ہیں: اجۡتَنِبُوۡا کَثِیۡرًا مِّنَ الظَّنِّ ۫ اِنَّ بَعۡضَ الظَّنِّ اِثۡمٌ ’’بہت زیادہ گمان کرنے سے بچو! یقینا بعض گمان گناہ ہیں‘‘.اس سے آگے ہے : وَّ لَا تَجَسَّسُوۡا ’’اور تجسّس نہ کرو‘‘. اگر کوئی ناخوشگوار چیز سامنے آبھی گئی ہے تو پردہ پوشی کرو‘ نہ یہ کہ خود پردے اٹھا اٹھا کر دیکھنے کی کوشش کرو.