صورتِ حال کا تجزیہ

تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ اگر مولانا مودودی کا ذہن اِس قدر یکسو تھا تو انہیں اپنی قرار داد میں مولانا اصلاحی کے اضافے کو ہرگز قبول نہیں کرنا چاہیے تھا. اس صورت میں اجتماع ماچھی گوٹھ کی کارروائی اُسی رخ پر چلتی جس کی نشان دہی ہم‘ چند اراکین جماعت اسلامی منٹگمری نے کی تھی‘ یعنی مولانا مودودی اور مولانا اصلاحی اپنی اپنی قرار دادیں لے کر ارکان کے سامنے آتے اور اپنے اپنے نقطہ ٔ نظر کی کما حقہٗ وضاحت کرتے اور ارکانِ جماعت علیٰ وجہ البصیرت کسی ایک راہ کو اختیار کر لیتے. لیکن جب انہوں نے مولانا اصلاحی اصلاحی کی ترمیم کو قبول کر لیا تو اب وہ قرار داد اُن کی ذاتی نہیں رہی تھی بلکہ نہ صرف اُن کی اور مولانا اصلاحی کی‘ بلکہ دستورِ جماعت کی روسے امیر جماعت اور مجلس شوریٰ کی متفق علیہ قرار داد بن گئی تھی اور مولانا اصلاحی کی تقریر کے بعد اگر انہیں یہ احساس ہوا تھا کہ مولانا اصلاحی کا اضافہ انہوں نے سہواً اور اس کے ’’مضمرات اور مقدرات‘‘ کے شعور و ادراک کے بغیر قبول کر کے غلطی کی تھی تو ان کے لیے صاف اور سیدھا‘ اور نہ صرف معقولیت بلکہ شرافت اور مروّت پر مبنی راستہ یہ تھا کہ اجتماعِ ارکان کو تھوڑی دیر کے لیے ملتوی کر کے مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس منعقد کرتے اور اس میں اپنی مجوزہ ترمیم پیش کرتے‘ پھر اگر مولانا اصلاحی اور اُن کے ہم خیال لوگ بھی اسے قبول کر لیتے تو فبہا ورنہ مولانا اصلاحی کے لیے پورا موقع موجود ہوتا کہ ٹھنڈے دل کے ساتھ از سر نو غور کر کے اپنا آئندہ کا لائحہ عمل طے کر لیں‘ پھر خواہ وہ خاموشی اختیار کرتے‘ جیسے کہ انہوں نے اجتماع ارکان میں کی‘ خواہ خم ٹھونک کر میدان میں آ جاتے اور وہ طرزِ عمل اختیار کرتے جو بعد میں خود انہوں نے اپنے گشتی مراسلے میں ان الفاظ میں بیان کیا کہ ’’میں نے شوریٰ کو بتایا کہ اگر آپ لوگ اس قرار داد کو اجتاعِ عام میں لائیں گے تو میں دسمبر والی شوریٰ کی (متفق علیہ) قرار داد جماعت کے سامنے پیش کروں گا اور امیر جماعت اور ان کے اصحاب نے اس قرار داد کو دفن کرنے کے لیے جو مہمیں چلائی ہیں اور جو اقدامات کیے ہیں وہ سب اجتماعِ عام (ارکان) میں بیان کروں گا میری تقریر کے وقت میرے ہاتھ میں قرآن ہو گا اور میں اپنے داہنے امیر جماعت کو بٹھاؤں گا اور بائیں قائم مقام امیر جماعت چودھری غلام محمد صاحب کو‘ اور یہ دونوں حضرات میری جس بات کو کہہ دیں گے کہ جھوٹ ہے میں بغیر کسی حجت کے اسے واپس لے لوں گا‘‘. دونوں صورتوں میں ذمہ داری مولانا اصلاحی کی ہوتی اور مولانا مودودی پر کوئی حرف نہ آتا. 

لیکن اس صاف اور سیدھے راستے کو چھوڑ کر جو طرزِ عمل مولانا مودودی نے اختیار کیا‘ یعنی یہ کہ مجلس شوریٰ کو نظر انداز ہی نہیں‘ گویا اس کے وجود ہی کی نفی کرتے ہوئے پورے قضیے کو اچانک ایسے ارکان کے اجتماع عام میں پیش کر دیا جن کی عظیم اکثریت نہ صرف یہ کہ پالیسی اور طریق کار کے ضمن میں اختلافِ رائے سے اس روز سے قبل تک قطعاً نا واقف تھی‘ 
بلکہ ان تلخ اور تکلیف دہ‘ بلکہ نا گفتہ بہ حالات و واقعات سے تو سرے سے بے خبر محض تھی جو دسمبر ۵۶ء اور جنوری ۵۷ء میں جماعت کے بعض حلقوں (بالخصوص لاہور‘ لائل پور اور راولپنڈی) میں رونما ہوئے تھے … تاکہ ایک ناواقف اکثریت سے محض اپنی ذات مقبولیت کے بل پر حسب منشا فیصلہ حاصل کیا جا سکے … یہ طرز عمل مولانا مودودی نے اگر نا دانستہ اور غیر شعوری طور پر اختیار کیا تب بھی اسے نہ صرف جماعت اسلامی بلکہ ملت اسلامیہ پاکستان کی بد قسمتی بلکہ شامت اعمال قرار دیا جائے گا‘ اور اگر خوب سوچ بچار کے بعد جان بوجھ کر مصلحتاً اختیار کیا تب تو اسے میکیاویلی سیاست کے شاہکار سے کم کوئی نام دیا ہی نہیں جا سکتا اور اس کی کوئی نظیر کم از کم ماضی قریب کی تاریخ میں تو سوائے قادیانیت کی تاریخ کے اس واقعے کے اور کہیں نہیں مل سکتی‘ کہ جب حکیم نور الدین کے انتقال کے بعد نئی خلافت کے تصفیے کے ضمن میں قادیانی گروہ کے اُس مرکزی مشاورتی ادارے نے‘ جو آغاز سے اس وقت تک بالکل جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ ہی کے مانند‘ آخری بااختیار ادارہ رہا تھا‘ مرزا بشیر الدین محمود احمد کی بجائے‘ اور اُس کی بھر پور کوشش کے علی الرغم‘ مولوی محمد علی لاہوری کے حق میں فیصلہ کر دیا تو مرزا محمود نے جیسے بھی بن پڑا معاملہ مجلس عامہ (جنرل باڈی) میں پیش کرا کے ایک ہیجانی اور جذباتی ماحول میں‘ناواقف اور نا کندہ تراش لوگوں کی اکثریت سے اپنے حق میں فیصلہ حاصل کر لیا تھا. 

دوسری طرف جب مولانا اصلاحی نے مولانا مودودی کی اس ’مبارزت‘ کے جواب میں نہ کوئی احتجاج کیا‘ نہ شوریٰ کے اجلاس کا انعقاد کا مطالبہ کیا‘ نہ ترمیم شدہ قرار داد سے اپنا ’اتفاق‘ واپس لے کر کوئی متبادل قرار داد پیش کی‘ بلکہ نہ صرف یہ کہ خود کامل سکوت اختیار کیا‘ بلکہ جب بعض دوسرے ارکانِ شوریٰ (جیسے مولانا عبد الغفار حسن) نے بولنا چاہا تو اُن پر بھی اپنے اثر اور رسوخ کو استعمال کر کے انہیں چپ کرا دیا‘ تو اِس طرز عمل کو بھی کسی طرح نہ درست قرار دیا جا سکتا ہے‘ نہ اس دستور کی روح کے مطابق جس کی دہائی انہوں نے اُس وقت تک بھی بار ہادی تھی. اور بعد میں تو اپنے تمام شکوؤں اور شکایتوں کو اُسی پر مبنی قرار دیا. 

مولانا اصلاحی کے اس طرزِ عمل کو کسی معتدل اور متوازن یا درمیانہ اور اوسط موقف پر 
مبنی قرار نہیں دیا جا سکتا. بلکہ اُس کے بارے میں دو انتہائی آراء میں سے ایک کو اختیار کئے بغیر چارہ نہیں ہے یعنی یا تو اسے انتہائی بزدلی کا مظہر‘ اور اس خوف پر مبنی قرار دیا جا سکتا ہے کہ اس وقت اگر مولانا مودودی کو براہِ راست چیلنج کرنے کی روش اختیار کی تو اس میں بھی کوئی تعجب کی بات نہ ہو گی کہ با ضابطہ ’پٹائی‘ ہو جائے (اس لیے کہ صوبہ سرحد سے تعلق رکھنے والے ارکانِ جماعت کے تیور اُس وقت بلا شبہ اسی انداز کے تھے) بصورتِ دیگر بھی شکست فاش اور اس کے نتیجے میں رسوائی اور جگ ہنسائی قطعاً یقینی ہے یا پھر دوسری جانب مولانا کے طرز عمل کو جماعت کے ساتھ انتہائی خلوص و اخلاص‘ اور خود مولانا مودودی کے ساتھ کم از کم ناگزیر حد تک حسن ظن کے برقرار رہنے پر مبنی قرار دیا جا سکتا ہے ان میں سے جہاں تک مقدم الذکر توجیہہ کا تعلق ہے وہ مولانا کے نسلی پس منظر (مولانا نسلاً راجپوت ہیں) اور خود ذاتی مزاج اور سب سے بڑھ کر ایک سال بعد کے طرزِ عمل کے پیش نظر قابل قبول نظر نہیں آتی. رہی مؤخر الذکر توجیہہ تو اس کا حصہ اول تو حسن ظن کی بنا پر قبول کیا جا سکتا ہے‘ لیکن دوسرا جزو اُس خط کے پیش نظر ہرگز کسی بھی درجے میں قابل قبول نہیں ہے جو تقریباً دو ماہ قبل ارکانِ جائزہ کمیٹی کے خلاف مولانا مودودی کے الزام نامے کے جواب میں مولانا اصلاحی نے تحریر کیا تھا! (اس خط میں’اگر مگر‘ کے پردوں میں اگر کوئی بات مخفی رہ بھی گئی تھی تو ایک سال بعد رکنیت جماعت سے مستعفی ہونے کے بعد جو خط و کتابت مولانا مودودی اور مولانا اصلاحی کے مابین ہوئی اس نے تو؛ ع ’’پر شب کی منتوں نے تو کھو دی رہی سہی!‘‘ کے مصداق اگلے پچھلے سارے ہی پردے فاش کر دیئے)

ان دونوں انتہاؤں کے مابین صرف ایک ہی ممکن توجیہہ باقی رہ جاتی ہے اور وہ یہ کہ مولانا مودودی کے اس اچانک حملے سے مولانا اصلاحی بالکل بھونچکے ہو کر رہ گئے ہوں اور ان کی قوتِ فیصلہ فوری طور پر مفلوج ہو گئی ہو اور بہتر یہی ہے کہ اصل حقیقت کو 
’’یَوْمَ تُبْلَی السَّرَائِر‘‘ پر ملتوی کر کے فی الوقت یہی گمان کیا جائے کہ مولانا اصلاحی کے طرزِ عمل کا اصل سبب یہی تھا‘ واللہ اعلم. 

٭ ٭ ٭ ماچھی گوٹھ کے اجتماعِ ارکان کا اصل اور فیصلہ کن حصہ تو وہی تھا جو بیان ہو گیا باقی تو محض قواعد و ضوابط کی خانہ پُری اور صرف بھرتی کی کارروائی تھی. یہی وجہ ہے کہ راقم کو بالکل یاد نہیں آ رہا کہ مولانا مودودی کی جانب سے اس ترمیم شدہ قرار داد کے دوبارہ پیش ہو جانے کے بعد اس کے حق میں یا اس سے اتفاق کے علی الرغم کسی قدر قیل و قال پر مشتمل کوئی اور تقریر ہوئی تھی یا نہیں. ایک گمان سا ہوتا ہے کہ شاید جناب مصطفی صادق کی تقریر بھی اسی مرحلے پر ہوئی ہو اس لیے کہ انہوں نے اصل قرار داد سے کامل اتفاق کرتے ہوئے اس سے ’’عملی انحراف‘‘ کی چند نہایت نمایاں مثالیں پیش کی تھیں. یہی وجہ ہے کہ اُن کی تقریر کی اس ماحول میں بھی کافی پذیرائی ہوئی تھی‘ تاہم اپنی نوعیت کے اعتبار سے وہ بھی بعض دوسری تقاریر سے مشابہ تھی لہٰذا اس کا ذکر اُن ہی کے ساتھ مناسب ہو گا!

یہ بھی اب اچھی طرح یاد نہیں ہے کہ مولانا مودودی کی اس قرار داد پر رائے شماری کس مرحلے پر ہوئی‘ قیاس بھی یہی کہتا ہے اور گمان غالب بھی یہی ہے کہ رائے شماری اس قرار داد میں ترمیم کی تجویز پر مشتمل قرار دادوں اور بالکل جداگانہ اور متبادل قرار دادوں کے پیش ہونے کے بعد ہی ہوئی ہو گی. پھر چونکہ اس رائے شماری کے اعداد و شمار کا بھی کوئی دوسرا ریکارڈ موجود نہیں ہے‘ لہٰذا حسن ظن کے تقاضے پر مستزاد مجبوری بھی ہے‘ اور ماچھی گوٹھ کے حالات کے اعتبار سے قرین قیاس بھی‘ کہ ’’تحریک اسلامی کے آئندہ لائحہ عمل‘‘ نامی کتاب کے دیباچہ میں وارد شدہ اس بیان کو تسلیم کیا جائے کہ ’’ارکان جماعت میں سے ۹۲۰ نے مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کی پیش کردہ قرار داد کے حق میں اور صرف ۱۵ نے اس کے خلاف رائے دی. اس طرح یہ قرار داد جماعت کی ۹۸ فی صد سے بھی زیادہ اکثریت سے پاس کی گئی‘‘. (صفحہ ۴)
آگے بڑھنے سے قبل اس قرار داد کا مکمل متن مع جملہ ترامیم بھی سامنے آ جائے تو بہتر ہے 
وھو ھٰذا: 

’’جماعت اسلامی پاکستان اس امر پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاتی ہے کہ اب سے پندرہ سال قبل جس نصب العین کو سامنے رکھ کر‘ اور جن اصولوں کی پابندی کا عہد کر کے اس 
نے سفر کا آغاز کیا تھا‘ آج تک وہ اسی منزل مقصود کی طرف انہیں اصولوں کی پابندی کرتے ہوئے بڑھتی چلی آ رہی ہے. اس طویل اور کٹھن سفر کے دوران میں اگر اس سے اقامت دین کے مقصد کی کوئی خدمت بن آتی ہے تو وہ سراسر اللہ کا فضل ہے جس پر وہ اپنے رب کا شکر ادا کرتی ہے‘ اور اگر کچھ کوتاہیاں اور لغزشیں سرزد ہوئی ہیں تو وہ اس کے اپنے ہی قصور کا نتیجہ ہیں جن پر وہ اپنے مالک سے عفو و درگزر اور مزید ہدایت و توفیق کی دعا کرتی ہے. 

جماعت اسلامی اس بات پر مطمئن ہے کہ تحریک اسلامی کا جو لائحہ عمل نومبر ۱۹۵۱ء میں ارکان کے اجتماعِ عام منعقدہ کراچی میں امیر جماعت نے مجلس شوریٰ کے مشورے سے پیش کیا تھا وہ بالکل صحیح توازن کے ساتھ مقصد تحریک کے تمام نظری اور عملی تقاضوں کو پورا کرتا ہے‘ اور وہی آئندہ بھی اس تحریک کا لائحہ عمل رہنا چاہیے. 

اس لائحہ عمل کے پہلے تین اجزاء (یعنی تطہیر افکار و تعمیر افکار‘ صالح افراد کی تلاش و تنظیم و تربیت اور اجتماعی اصلاح کی سعی) تو جماعت اسلامی کی تشکیل کے پہلے ہی دن سے اس کے لائحہ عمل کے اجزاء لازم رہے ہیں‘ البتہ ان کو عمل میں لانے کی صورتیں حالات و ضروریات کے لحاظ سے اور جماعت کے وسائل و ذرائع کے مطابق بدلتی رہی ہیں. ان کے بارے میں جماعت اب یہ طے کرتی ہے کہ آئندہ کوئی دوسرا جماعتی فیصلہ ہونے تک ان تینوں اجزاء کو اُس پروگرام کے مطابق عملی جامہ پہنایا جائے جو اس قرار داد کے ساتھ بطور ضمیمہ شامل کیا جا رہا ہے. نیز جماعت کا یہ اجتماع عام مجلس شوریٰ‘ اور تمام حلقوں‘ اضلاع اور مقامات کی جماعتوں کو ہدایت کرتا ہے ہ وہ اس پروگرام پر اس حد تک زور دیں کہ لائحہ عمل کے چوتھے جزو کے ساتھ جماعت کے کام کا ٹھیک توازن قائم ہو جائے اور قائم رہے. 

اس لائحہ عمل کا چوتھا جزو نظامِ حکومت کی اصلاح سے متعلق ہے‘ در حققیت وہ بھی ابتداء ہی سے جماعت اسلامی کے بنیادی مقاصد میں شامل تھا. جماعت نے ہمیشہ اس سوال کو زندگی کے عملی مسائل میں سب سے اہم اور فیصلہ کن سوال سمجھا ہے کہ معاملات زندگی کی زمام کار صالحین کے ہاتھ میں ہے یا فاسقین کے ہاتھ میں‘ اور حیاتِ دنیا میں امامت و رہنمائی کا مقام خدا کے مطیع فرمان بندوں کو حاصل ہے یا اس کی اطاعت سے آزاد رہنے والوں کو. جماعت کا نقطہ ٔ نظر ابتداء سے یہ ہے کہ 
اقامت دین کا مقصد اُس وقت تک پورا نہیں ہو سکتا جب تک اقتدار کی کنجیوں پر دین کا تسلط قائم نہ ہو جائے. اور جماعت ابتداء ہی سے یہ حقیقت بھی پیش نظر رکھتی ہے کہ دین کا یہ تسلط یک لخت کبھی قائم نہیں ہو سکتا‘ بلکہ یہ ایک تدریجی عمل ہے جو غیر دینی نظام کے مقابلے میں دینی نظام چاہنے والوں کی پیہم کشمکش اور درجہ بدرجہ پیش قدمی سے ہی مکمل ہوا کرتا ہے. جماعت اسلامی نے اس مقصد کے لیے تقسیم ہند سے پہلے اگر عملاً کوئی اقدام نہیں کیا تھا تو اس کی وجہ مواقع کا فقدان اور ذرائع کی کمی بھی تھی اور یہ وجہ بھی تھی کہ اس وقت کے نظام میں اس مقصد کے لیے کام کرنے میں بعض شرعی موانع تھے. قیام پاکستان کے بعد جب اللہ تعالیٰ نے مواقع اور ذرائع دونوں فراہم کر دیئے اور شرعی مواقع کو دُور کرنے کے امکانات بھی پیدا کر دیئے تو جماعت نے اپنے لائحہ عمل میں اس چوتھے جزو کو بھی‘ جو اس کے نصب العین کا ایک لازمی تقاضا تھا‘ شامل کر لیا. اس میدان میں دس سال کی جدو جہد کے بعد اب غیر دینی نظام کی حامی طاقتوں کے مقابلے میں دینی نظام کے حامیوں کی پیش قدمی ایک اہم مرحلے تک پہنچ چکی ہے. ملک کے دستور میں دینی نظام کے بنیادی اصول منوائے جا چکے ہیں. اور ان منوائے ہوئے اصولوں کو ملک کے نظام میں عملاً نافذ کرانے کا انحصار اب قیادت کی تبدیلی پر ہے. اس موقع پر ایک صالح قیادت بروئے کار لانے کے لیے صحیح طریق کار یہ ہے کہ اس لائحہ عمل کے چاروں اجزاء پر توازن کے ساتھ اس طرح کام کرتے ہوئے آگے بڑھا جائے کہ ہر جزو کا کام دوسرے جزو کے لیے موجب تقویت ہو‘ اور جتنا کام پہلے تین اجزاء میں ہوتا جائے‘ اسی نسبت سے ملک کے سیاسی نظام میں دینی نظام کے حامیوں کا نفوذ و اثر عملاً بڑھتا چلا جائے. مگر یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ توازن قائم نہ رہنے کو کسی وقت بھی اس لائحہ عمل کے کسی جزو کو ساقط یا معطل یا مؤخر کر دینے کے لیے دلیل نہ بنایا جا سکے گا. 

علاوہ بریں چونکہ جماعت اسلامی اپنے دستور کی روسے اپنے پیش نظر اصلاح و انقلاب کے لیے جمہوری و آئینی طریقوں پر کام کرنے کی پابند ہے‘ اور پاکستان میں اس اصلاح و انقلاب کے عملاً رونما ہونے کا ایک ہی آئینی راستہ ہے‘ اور وہ ہے انتخابات کا راستہ‘ اس لیے جماعت اسلامی ملک کے انتخابات سے بے تعلق تو بہر حال نہیں رہ سکتی‘ خواہ وہ ان میں بلا واسطہ حصہ لے یا بالواسطہ یا دونوں طرح. رہا یہ 
امر کہ انتخابات میں کس وقت ان تینوں طریقوں میں کس طریقے سے حصہ لیا جائے‘ اس کو جماعت اپنی مجلس شوریٰ پر چھوڑتی ہے تاکہ وہ ہرانتخاب کے موقع پر حالات کا جائزہ لے کر اس کا فیصلہ کرے‘‘.