مؤلف ’نقض غزل‘ کا قولِ فیصل

(’تذکرہ و تبصرہ‘ ماہنامہ ’میثاق‘ مارچ ۹۰ء)

اس بات کی اطلاع تو قارئین کرام کو گزشتہ شمارے کے ‘عرض احوال‘ کے ذریعے ہو ہی چکی ہے کہ جنوری میں راقم شدید علیل ہو گیا تھا. عزیزم عاکف سعید نے علالت کا آغاز جنوری کے دوسرے ہفتے سے تحریر کیا‘ واقعہ یہ ہے کہ تکلیف کا آغاز تو پہلے ہی ہفتے سے ہو گیا تھا‘ شدت دوسرے ہفتے میں شروع ہوئی. اور مسلسل دو ہفتے جاری رہی‘ اواخر جنوری میں کراچی کا ایک سفر طے تھا‘ اُس کے پیش نظر راقم نے پوری پابندی کے ساتھ اِس طرح جم کر علاج کرایا کہ اس سے قبل کبھی نہ کرایا تھا. اس سے بحمد اللہ کسی قدر افاقہ ہو گیا. چنانچہ کراچی کا چار روزہ سفر اختیار کر لیا. لیکن اللہ کی شان کہ وہاں جاتے ہی تکلیف بڑھ گئی. چنانچہ جیسے تیسے دونوں عوامی پروگرام تو نبھائے‘ لیکن متعدد بزرگوں اور احباب سے ملنے کی خواہش دل ہی میں رہ گئی. جس کے لیے اس بار اضافی وقت لے کر گیا تھا‘ صرف شیخ سلطان احمد صاحب اور مولانا محمد طاسین صاحب سے ملاقات کے لیے حاضری دے سکا. کراچی سے واپسی کے بعد بھی دو ہفتے پھر شدید تکلیف میں گزرے. ہفتہ عشرہ قبل پھر کسی قدر افاقہ کی صورت نظر آئی تو قلم ہاتھ میں لیا اور اولاً ’’اجتماعِ ماچھی گوٹھ کی بقیہ رُوداد‘‘ تحریر کر کے ’نقض غزل‘ کی تکمیل کر لی. اور اِس سے فارغ ہوتے ہی اِس پورے معاملے پر اپنا ’تبصرہ‘ اور ’تذکرہ‘ یا بالفاظ دیگر ’’محاکمہ‘‘ سپرد قلم کرنے کی کوشش کر رہا ہوں 
اَلسّعیُ مِنَّا وَالِا تمامُ مِنَ اللّٰہ پر اعتماد اور توکل کے علاوہ اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اپنے خصوصی فضل و کرم سے‘ اس معاملے کی خصوصی اہمیت اور نزاکت کے پیش نظر‘ اپنے اِن احکام پر عمل کرنے کی خاص الخاص توفیق عطا فرمائے: 

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُوۡنُوۡا قَوّٰمِیۡنَ بِالۡقِسۡطِ شُہَدَآءَ لِلّٰہِ وَ لَوۡ عَلٰۤی اَنۡفُسِکُمۡ اَوِ الۡوَالِدَیۡنِ وَ الۡاَقۡرَبِیۡنَ ۚ. (النساء: ۱۳۵
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُوۡنُوۡا قَوّٰمِیۡنَ لِلّٰہِ شُہَدَآءَ بِالۡقِسۡطِ ۫ وَ لَا یَجۡرِمَنَّکُمۡ شَنَاٰنُ قَوۡمٍ عَلٰۤی اَلَّا تَعۡدِلُوۡا ؕ اِعۡدِلُوۡا ۟ ہُوَ اَقۡرَبُ لِلتَّقۡوٰی ۫ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۸﴾. 
(المائدہ: ۸
’نقض غزل‘ کی بارِدگر اشاعت‘ اور اس کی تکمیل کے عزم پر ہمیں حسب توقع بعض خطوط تہدید و تنبیہ بلکہ عتاب و عناد پر مشتمل بھی موصول ہوئے‘ اور بعض محبت آمیز گلوں شکوؤں پر مبنی بھی‘ یہاں تک کہ دسمبر کی ریفریشر کورس والی تربیت گاہ کے موقع پر بعض رفقاء و احباب نے بھی شدید تنقید کی‘ اور ایک محترم بہن (ملک نصر اللہ خاں عزیز مرحوم کی صاحب زادی) نے تو محبت بھرے انداز میں یہ تنبیہ بھی کی کہ ’’کیا عجب کہ آپ کی علالت کا اصل سبب یہی ہو!‘‘ بنا بریں سب سے پہلے ہم اسی بات کی وضاحت کئے دیتے ہیں کہ اس سے ہماری غرض کیا ہے اور بعض حضرات کے بقول: ’’اس سے ہمیں کتنے نفلوں کا ثواب حاصل ہوتا ہے؟‘‘ 

ہمارے نظریات و افکار سے واقفیت رکھنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ ہمارے نزدیک: 

(۱): اسلام کے موعودہ عالمی غلبے کے ضمن میں مشیت ایزدی میں ارض پاک و ہند کو خصوصی اہمیت حاصل ہے‘ یہی وجہ ہے کہ (ا) گزشتہ چار صدیوں کے دوران تجدید دین کا سارا سلسلہ اسی خطے سے متعلق رہا. چنانچہ سوائے محمد ابن عبد الوہاب رحمہ اللہ تعالی کی قدرے یک رخی شخصیت کے حضرت مجدد الف ثانی رحمہ اللہ اور امام الہند شاہ ولی اللہ دہلویرحمہ اللہ ایسی عظیم شخصیتیں‘ اور تحریک شہیدین جیسی عظیم تحریک جہاد سب اسی خطے میں رونما ہوئیں! (ب) بیسیویں صدی عیسوی کے درمیانی حصے میں آزادی کی جو تحریکیں مختلف مسلمان ملکوں میں چلیں‘ ان میں سے بھی صرف تحریک پاکستان میں اسلامی جذبے کو اپیل کیا گیا. چنانچہ پورے کرہ ارضی پر صرف پاکستان ہی ایک ایسا ملک ہے جو اسلام کے نام پر بنا‘ اور اس کے سوا کوئی اور جڑ بنیاد نہیں 
رکھتا. (ج) اسی طرح چودھویں صدی ہجری کے مابین جتنے اعاظم رجال اس خطے میں پیدا ہوئے کہیں اور نہیں ہوئے‘ چنانچہ حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن‘ علامہ محمد اقبال‘ مولانا ابو الکلام آزاد‘ مولانا محمد الیاس اور مولانا ابو الاعلیٰ مودودی (رحمہم اللہ) مقابلے میں بیرون ہند صرف ایک نام لیا جا سکتا ہے یعنی شیخ حسن البنا شہیدرحمہ اللہ کا!

(۲): جملہ دینی مدارس اور اداروں کی خدمات اپنی جگہ‘ حضرات علماء کرام اور اصحاب علم و فضل کی انفرادی مساعی کی اہمیت بھی مسلم‘ علماء کی بے شمار جمعیتوں کی گھن گرج اور اثر و نفوذ بھی اپنے مقام پر لیکن ہمارے نزدیک بر عظیم پاک و ہند میں اصل احیائی تحریکیں دو ہی ہیں: ایک جماعت تبلیغی‘ جس میں سارا زور عوامی سطح پر تجدید ایمان اور انفرادی اصلاح پر ہے اور 
’’فَکُّ کُلِّ نِظَامٍ‘‘ (شاہ ولی اللہ دہلویرحمہ اللہ کا نعرۂ مستانہ) کا نام لینا بھی اس کے نزدیک خلافِ مصلحت ہے اور دوسری تحریک جماعت اسلامی کی ہے‘ جس کا آغاز عہد حاضر کی صحیح ترین اور جامع ترین تحریک اقامت دین کی حیثیت سے ٹھیٹھ انقلابی رنگ میں ہوا تھا‘ لیکن جو ’’بد قسمتی‘‘ سے پاکستان میں ایک خالص سیاسی جماعت کی صورت اختیار کر گئی (اگرچہ اس ’’صحرائے تیہ‘‘ کی چالیس سالہ بادیہ پیمائی سے نہ صرف یہ کہ تاحال اُس کے ہاتھ پلّے کچھ نہیں پڑا بلکہ روز بروز ع ’’پر شب کی منتوں نے تو کھو دی رہی سہی!‘‘ کے مصداق عزت و آبرو کا دھیلا ہوتا چلا جا رہا ہے ...اور اس طرح گویا ’’اسلاف کی عزت کے کفن‘‘ بھی سر عام بک رہے ہیں! (۱(۳): متذکرہ بالا ’’بد قسمتی‘‘ کے اسباب کی صحیح صحیح تعیین تحریک جدید و احیائے دین اور سعی و جہد اقامت دین کے مستقبل کے لیے لازمی و لابدی ہے‘ تاکہ واضح طور پر متعین کیا جا سکے کہ اس عظم قافلے کو کب ’’کہاں‘‘ کیسے اور کیا حادثہ پیش آیا، تاکہ جو غلطی ہو گئی ہو اس کا (۱): عرشی بھوپالی کے دلدوز اشعار ہیں ؎

میں نے دیکھا ہے کہ فیشن میں الجھ کر اکثر
تم نے اسلاف کی عزت کے کفن بیچ دیئے
نئی تہذیب کی بے روح بہاروں کے عوض
اپنی تہذیب کے شاداب چمن بیچ دیئے!

تدارک کیا جا سکے‘ جو کمی رہ گئی ہو اس کی تلافی کی جا سکے‘ اور جو زیادتی ہو گئی ہو اس سے رجوع کیا جا سکے! ورنہ شدید اندیشہ ہے کہ ایک مبہم سی مایوسی اس قافلے کے بچے کھچے رہ نوردوں پر مسلّط ہو جائے گی‘ جذبے اور ولولے بالکل سرد پڑ جائیں گے اور کیا عجب کہ اسلام کے مستقبل اور اس کے احیاء کے امکان کے بارے میں ایسی شدید بد دلی اور گہری مایوسی پیدا ہو جائے کہ ایک طویل عرصے کے لیے ع ’’اب یہاں کوئی نہیں‘ کوئی نہیں آئے گا!‘‘ کا سماں بندھ جائے! جب کہ ہمارے نزدیک شخصیتوں اور تنظیموں سے بالاتر سطح پر اسی ’’تحریک‘‘ کے تسلسل کو برقرار رکھنا ہر با شعور مسلمان کے دین و ایمان کا بنیادی تقاضا ہے! اور اس سلسلہ میں‘ بحمد اللہ ‘ ہمیں بعض اہم اور اساسی حقائق کا شعور و ادراک بہت پہلے ہو گیا تھا. چنانچہ ’’امت مسلمہ کا عروج و زوال اور موجودہ احیائی مساعی کا جائزہ‘‘ نامی تحریر میں جو ابتداء ً ’’میثاق‘‘ بابت اکتوبر نومبر ۱۹۷۴ء میں (گویا تنظیم اسلامی کے باضابطہ قیام سے لگ بھگ چھ ماہ قبل) شائع ہوئی تھی حسب ذیل صراحت موجود ہے:-

’’اسلام کی نشاۃ ثانیہ اور ملت اسلامی کی تجدید کا یہ کام دس بیس برس میں مکمل ہونے والا نہیں ہے،بلکہ لترکبن طبقا عن طبق، کے مصداق درجہ بدرجہ بہت سے مراتب و مراحل سے گزر کر ہی پایۂ تکمیل کو پہنچے گا‘ لہٰذا اس ارتقائی عمل کا ہر درجہ اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے اور چاہے بعد کے مراحل سے گزر کر پہلوں کا کام بہت حقیر بلکہ کسی قدر غلط بھی نظر آئے اپنے اپنے دَور کے اعتبار سے اس کی اہمیت و وقعت سے بالکلیہ انکار ممکن نہیں. تیسرے یہ کہ اس ہمہ گیر تجدیدی جدو جہد میں اگرچہ افراد کی اہمیت بھی اپنی جگہ مسلّم ہے تاہم جماعتوں اور تنظیموں کے مقابلے میں کم تر ہے. پھر جماعتیں بھی تحریکوں کی وسعت میں گم ہو جاتی ہیں اور بالآخر تمام تحریکیں بھی اُس وسیع احیائی عمل کی پہنائیوں میں گم ہو جاتی ہیں جو ان سب کو محیط ہے‘‘.

ہمیں خوب اندازہ ہے کہ ہماری یہ بات آسانی سے سمجھ میں آنے والی نہیں ہے کہ تحریک اسلامی کے مستقبل کے لیے سابقہ غلطیوں کی صحیح صحیح اور بلا کم و کاست نشاندہی ضروری اور ناگزیر ہے لہٰذا اس کی مزید وضاحت کے لیے ہم ایک مثال کا سہارا لے رہے ہیں:

آپ ذرا ایک ایسی بہت بڑی مشین کا تصور کیجئے جس کے صرف دو چھوٹے چھوٹے پرزے خراب ہو گئے ہوں‘ دو کا عدد ہم نے جان بوجھ کر استعمال کیا ہے‘ ورنہ ہمای تمثیل کے لیے تو ایک پرزے کا ذکر بھی کفایت کرتا ہے. اس لیے کہ صرف ایک چھوٹے سے پرزے ہی کی خرابی سے کروڑوں روپے کی پوری مشین کھڑی ہو جائے گی، اور اگر اس پرزے کی صحیح صحیح نشاندہی کر کے اُسے درست یا تبدیل نہ کر دیا جائے تو یا تو پوری مشین کباڑ خانے میں جائے گی یا زیادہ سے زیادہ یہ کہ اُس کے مختلف اجزاء کسی دوسری جگہ اضافی پرزوں (Spare Parts) کی حیثیت سے استعمال ہوں گے! بالکل یہی معاملہ ایک تحریک کا ہوتا ہے کہ اس میں جہاں اور جو غلطی ہو گئی ہو اس کی صحیح صحیح تشخیص نہ ہو سکے تو ہو سکتا ہے کہ تحریک کی ناکامی کے باعث اس کے کارکن اور وابستگان اس کے جملہ تصورات و نظریات اور کُل صغریٰ کبریٰ ہی کو غلط سمجھ بیٹھیں اور تحریک کا سارا کیا دھرا اکارت چلا جائے (ملاحظہ ہوں فیض’ کے اشعار مشمولہ ’کتاب ھذا صفحہ 151) اور پھر کوئی نیا آغاز ؏ ’’ہر کہ آمد عمارت نو ساخت‘‘ کے مصداق بالکل ہی نئے سرے سے کرنا پڑے. اور ’’لَتَرْکَبُنَّ طَبقًا عَنْ طَبَقٍ‘‘ کی ارتقائی صورت پیدا نہ ہو سکے!
کاش کہ ہمارے دوست احباب‘ اور سابقہ و حالیہ رفقاء اور بزرگ اس بات کو سمجھ لیں کہ مولانا مودودی مرحوم یا جماعت اسلامی کے ماضی و حال کے بارے میں کچھ لکھنے کا سبب ؏ ’’چھیڑ خوباں سے چلی جائے اسدؔ‘‘ کے نوع کی تفریح طبع نہیں ہے بلکہ ہمارے متذکرہ بالا احساس کی شدت ہے!

غالبؔ کے اس شعر کے مصداق کہ ؎

عرض کیجئے جوہر اندیشہ کی گرمی کہاں..
کچھ خیال آیا تھا وحشت کا کہ صحرا جل اُٹھا!

یہ اسی شدت احساس کاکرشمہ تھا کہ مجھ ایسے تصنیف و تالیف سے نابلد محض شخص کے قلم سے کُل ساڑھے چوبیس برس کی عمر میں سوا دو سو سے زائد صفحات پر مشتمل بیان ’’صادر‘‘ ہو گیا‘ 
پر جو دوسری سندیں مجھے ملیں اُن سے قطع نظر‘ سب سے بڑا خراج تحسین یکے از اکابرین جماعت‘ جناب سید اسعد گیلانی صاحب کے ان الفاظ کی صورت میں ملا جو موصوف نے اب سے سات آٹھ سال قبل رفیق مکرم قاضی عبد القادر صاحب (کراچی) سے کہے تھے کہ: ’’میں یہ مان ہی نہیں سکتا کہ یہ بیان ڈاکٹر صاحب کا اپنا تحریر کردہ تھا‘ یہ تو اصل میں مولانا اصلاحی کا لکھا ہوا تھا جسے اُس وقت مصلحتاً ڈاکٹر صاحب سے منسوب کیا گیا!‘‘ اس جملے سے موصوف کی اپنی جس ذہنی اور مزاجی کیفیت کا سراغ ملتا ہے‘ اُس سے قطع نظر گیلانی صاحب جیسے کہنہ مشق ادیب اور بیسیوں کتابوں کے مصنف شخص کی جانب سے یہ بلا شبہ ’ہجو ملیح‘ کے برعکس ’’مدح کریہہ‘‘ کی صورت میں ایک بہت بڑا Compliment ہے!

اس بیان کے ’’شانِ صدور‘‘ کے ضمن میں یہ واقعاتی حقائق بھی پیش نظر رہیں تو اچھا ہے کہ راقم جب ۳۰ ستمبر ۵۶ء کو اوکاڑہ میں جائزہ کمیٹی سے ملاقات یا اس کے سامنے ’’پیشی‘‘ کے لیے حاضر ہوا تو بالکل خالی ہاتھ تھا. اگرچہ ذہن میں خیالات کا لاوا بُری طرح پک رہا تھا. میں نے اپنے دوسرے ساتھیوں (سید شیر محمد شاہ اور نور محمد قریشی وغیرہما) کو پہلے اندر بھیج دیا اور خود جس کمرے میں ملاقات ہو رہی تھی اُس کے باہر برآمدے میں بیٹھ کر اپنی گفتگو کے لیے خاکہ 
(Synopsis) مرتب کیا. حسن اتفاق سے آج ہی اپنے فائل کو دیکھا تو اس میں اُن Notes کو محفوظ دیکھ کر میں خود بھی متحیر ہو گیا جو میں نے اُس وقت تیار کئے تھے. اس کے بعد جب کمیٹی سے ملاقات ہوئی اور میں نے اپنے خیالات شرح و بسط سے پیش کئے تو ان حضرات کی جانب سے یہ سرسری سی فرمائش ہوئی کہ: ’’کیا آپ اپنے ان خیالات کو قلمبند نہیں کر سکتے؟‘‘ جس پر میں نے جواب دیا: ’’کوشش کروں گا‘ لیکن ہے بہت مشکل!‘‘ اس کے ٹھیک سترہ دن بعد ۱۷ اکتوبر کو جب راقم نے لاہور میں اپنے بیان کا مسودہ شیخ سلطان احمد صاحب کے ہاتھ میں تھمایا تو انہوں نے نہایت تحیر کے عالم میں سوالیہ انداز میں خراجِ تحسین پیش فرمایا کہ: ’’کیا واقعتا آپ نے یہ ان ہی دنوں میں لکھا ہے؟‘‘

پھر میرے ساتھ وہ معاملہ کرنے کی بجائے کہ ؏ ’’وزدرونِ من نہ جست اسرارِ 
من!‘‘ خدا را ان حقائق پر بھی غور کیا جائے کہ:
(۱): جماعت سے علیحدہ ہو کر نہ میں نے کوئی بیان دیا‘ نہ پریس کانفرنس کی‘ نہ ہی اس بیان کو شائع کیا. حالانکہ ایک جانب میرے پاس پیسوں کی اتنی تنگی تو کبھی بھی نہ تھی کہ یہ کتاب نہ چھپوا سکتا. ۶۲ء تا ۶۵ء بھائیوں کے ساتھ کاروباری شراکت کے دَور میں تو میں بحمد اللہ گویا دولت میں کھیل رہا تھا! اور دوسری جانب اس نو عمری میں ’’صاحب تصنیف‘‘ بننے کا شوق بھی دل میں گدگدی پیدا کر سکتا تھا ان سب کے باوصف میں نے اس کی اشاعت کو اُس وقت تک مؤخر کئے رکھا جب تک یہ حتمی فیصلہ نہ کر لیا کہ اب اپنے بل بوتے ہی پر کام کا آغاز کر دینا ہے اور اسی فیصلہ کے تحت لاہور نقل مکانی کی! اس لیے کہ میرے نزدیک کسی جدید تعمیر کے لیے تو ناگزیر ’’تخریب‘‘ کا جواز رومیؔ کے اس شعر کے مصداق موجود ہے کہ ؎

گفت رومی ہر بنائے کہنہ کا باداں کنند
می نہ دانی اول آں بنیاد را ویراں کنند!

لیکن تخریب محض یا تخریب برائے تخریب کو میں ہرگز جائز نہیں سمجھتا! اس ضمن میں مولانا محمد منظور نعمانی کے ایک خط کے اقتباس کا عکس دیا جا رہا ہے‘ جو ’میثاق‘ کی اشاعت بابت نومبر ۶۶ء کے کور کے اندرونی جانب ٹائپ میں شائع ہوا تھا‘ اس کا آخری فقرہ لائق توجہ ہے: 

’’… ڈاکٹر صاحب کی کتاب میں نے بھی پڑھی‘ میرا خیال یہ ہے کہ جو کچھ بعد میں سامنے آیا اس کی پوری بنیاد آغاز ہی میں موجود تھی لیکن ہم اس کو اپنے ذہن کے مطابق سمجھتے اور ڈھالتے تھے‘ اسلام کی سر بلندی کا نصب العین زیادہ چھان پھٹک اور کھود کرید کرنے نہیں دیتا تھا. اس کے باوجود کتاب بہت خوب ہے اور ۸۱۰ سال تک اس کو روکے رکھنے کا ان کا عمل تو بہت ہی قابل داد اور لائق سبق آموزی ہے.‘‘

(مولانا) محمد منظور نعمانی 
مد یر مسئول ماہنامہ ’’الفرقان‘‘ لکھنؤ 

(۲): ۷۲ - ۷۱ء میں رفیق مکرم شیخ اجمل الرحمن صاحب سے ربط ضبط قائم ہوا تو معلوم ہوا کہ انہوں نے بڑی تحقیق و تفتیش اور عرق ریزی و جاں فشانی سے کام لے کر ایک پوری کتاب کا مواد اکٹھا کر لیا ہے جس سے جماعت اسلامی کے فکر و عمل اور قول و فعل کا تضاد واقعات کے 
آئینے میں نمایاں ہو کر سامنے آ جائے‘ لیکن میں نے ہرگز اُس کی اشاعت کی حوصلہ افزائی نہیں کی. اس لیے کہ میرا پختہ خیال ہے کہ بات اصولی طور پر سامنے آنی چاہیے‘ اگر لوگ اسے نہیں مانتے تو خواہ کتنا ہی واقعاتی استشہاد کر لیا جائے اسے بھی ہرگز نہیں مانیں گے! چنانچہ شیخ صاحب کی ساری محنت اکارت گئی اور جب اس کی اشاعت کا سوال ہی باقی نہ رہا تو عدم توجہی کے باعث پورا مسودہ ہی گم ہو گیا!
(۳): راقم کے مزاج اور افتاد کی سب سے نمایاں مثال یہ ہے کہ ۷۶۷۵ء کے لگ بھگ جب مولانا سید وصی مظہر ندوی کا جماعت سے اخراج عمل میں آیا‘ تو انہوں نے بھی جماعت کے خلاف ایک پوری کتاب کا مسودہ تیار کر لیا جو اشاعت کے لیے پریس جانے ہی والا تھا کہ بات میرے علم میں آ گئی. اس پر میں نے اُن سے عرض کیا کہ: ’’مولانا اگر تو آپ نے عزم فرما لیا ہے کہ اب خود داعی کی حیثیت سے سامنے آ کر اپنے طور پر تحریک کا آغاز کر دینا ہے تو بسم اللہ اس کتاب کو ضرور شائع فرمائیں اور اگر ایسا نہیں ہے بلکہ مخالفت محض برائے مخالفت مقصود ہے تو میں اس کی اشاعت کو جائز نہیں سمجھتا!‘‘ (واضح رہے کہ اس فقرے کے دوسرے الفاظ میں تو کمی بیشی یا تقدیم و تاخیر کا امکان موجود ہے‘ لفظ جائز مجھے قطعی اور حتمی طور پر یاد ہے!) یہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور مولانا کی طبعیت کی سلامتی کا مظہر ہے کہ انہوں نے راقم کی بات مان لی‘ اور کتاب کی اشاعت کا ارادہ ترک کر دیا !! ع ’’پھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیں؟‘‘

الغرض اپنی جملہ تحریروں اور کاوشوں سے راقم کا اصل مقصد تحریک ِ تجدید و احیاء اسلام اور سعی دعوت و اقامت دین کے تسلسل کا برقرار رکھنا ہے، ورنہ ہمیں نہ پہلے مولانا مودودی مرحوم سے کوئی ذاتی عداوت یا پرخاش تھی نہ اب جماعت اسلامی سے کوئی دشمنی یا عناد ہے‘ بلکہ جیسا کہ ’نقض غزل‘ میں بیان ہوا مولانا نے تو عین ماچھی گوٹھ میں اور وہ بھی اس وقت جب کہ میں تین گھنٹے تک جماعت اسلامی کی پالیسی پر جرح و تنقید کے بعد سٹیج سے اترا ہی تھا مجھ سے بالمشافہ فرمایا تھا: ’’آپ کو معلوم ہے کہ مجھے آپ سے کتنی محبت ہے؟‘‘ پھر میرے 
جماعت سے علیحدہ ہونے کے بعد ایک بار جب مولانا منٹگمری آئے اور وہاں آزاد میڈیسن کمپنی کے مالک عبد الرحمن آزاد کے مکان پر مقیم تھے تو میرے بارے میں استفسار کرنے والے لوگوں سے مولانا نے فرمایا تھا: ’’مجھے تو وہ اپنے بیٹوں سے بھی بڑھ کر عزیز رہا ہے!‘‘ یہاں تک کہ ۷۶۷۵ء کے آس پاس بھی جب بعض اسباب سے ہمارے مابین کشدگی عروج پر تھی مولانا نے میرے بارے میں فرمایا: ’’اس شخص کے بارے میں مجھے یہ اطمینان ہے کہ وہ جہاں بھی رہے گا دین کا کام کرتا رہے گا!‘‘ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو میری تالیف ’’اسلام اور پاکستان‘‘ کا دیباچہ)
رہی جماعت اسلامی‘ تو ہر شخص جانتا ہے کہ ہم نے اگر اپنی نوجوانی کے دس قیمتی سال ؎

یہ اور بات کہ تم پر نثار کر دی ہے...
عزیز اپنی جوانی کسے نہیں ہوتی!

کے مصداق اس کے ساتھ براہِ راست تنظیمی ربط کی صورت میں نذر کئے، تو اس سے علیحدگی کے بعد سے اس ساعت تک ثلث صدی کے طویل عرصے کے دوران بھی ہمیں کبھی ایک لمحے تک کے لیے بھی اس کے مقصد اور نصب العین سے اختلاف نہیں ہوا‘ اور ہم نے اپنی صوابدید کے مطابق اپنی عمر عزیز کا ایک ایک لمحہ‘ اور اپنی صلاحیتوں اور توانائیوں کا ایک ایک شمّہ اسی کی نذر کیا ہے! اور اسی کی قبولیت پر اپنی نجات کا دار و مدار سمجھتے ہیں!

ہاں دو فکری ’بے اعتدالیاں‘ ہمیں اس تحریک کے اساسی نظریات میں نظر آئیں‘ جن میں سے ایک پر ہم نے کسی قدر مفصل کلام کیا‘ اور دوسری کی اجمالی نشاندہی کی‘ اور اسی طرح دو ہی 
(۱عملی غلطیوں کا انکشاف ہم پر ہوا‘

اگرچہ وہ دونوں اتنی اساسی اور گمبھیر اور دُور رس نتائج کی حامل تھیں کہ ایک نے اس کے رُخ ہی کو یکسر تبدیل کر دیا‘ تو دوسری نے اس کی چوٹی کی قیادت میں باہمی عدمِ اعتماد اور سوء ظن اور اس سے آگے بڑھ کر نفرت و حقارت کے بیج بو دیئے. ان میں سے پہلی کی تشخیص و تعیین 
(۱): اسی مناسبت سے ہم نے مشین والی مثال میں دو پرزوں کی خرابی کا ذکر کیا تھا! 

کے لیے ہم نے متذکرہ بالا طویل بیان تحریر کیا تھا جو اب ’’تحریک جماعت اسلامی، ایک تحقیقی مطالعہ‘‘ کے نام سے طبع شدہ موجود ہے‘ اور دوسری کی تعیین و تبیین کے لیے ’نقض غزل‘ لازمی و لابدی ہے.

جہاں تک جماعت کے تأسیسی افکار و نظریات کی ’’بے اعتدالیوں‘‘ کا تعلق ہے‘ اُن میں سے ایک وہ ہے جس کا تذکرہ ہم نے اجمالاً ۱۹۶۶ء میں ’’تحریک جماعت اسلامی‘‘ کی اشاعت کے موقع پر اس کے دیباچے میں ان الفاظ میں کیا تھا: (صفحہ ۱۸)

’’مولانا مودودی صاحب بیک وقت داعی دین بھی ہیں اور متکلم اسلام بھی اور ان کی دعوت کی رگ و پے میں فطری طور پر ان کے کلامی نظریات سرایت کیے ہوئے ہیں. اب ظاہر بات ہے کہ مولانا مودودی اس دور کے متکلم ہیں جب کہ دنیا مختلف ’’نظام ہائے حیات‘‘ کے نظری و فکری ادوار سے گزر کر عملی زندگی کی نہج قرار پانے اور پھر ان کے باہمی تصادم کی آماجگاہ بنی ہوئی ہے. اس تاریخی پس منظر میں مولانا مودودی صاحب نے اسلام کا مطالعہ کیا تو وہ انہیں ایک ’’بہترین نظام حیات‘‘ اور ’’انسانی زندگی کے تمام مسائل کا بہترین حل‘‘ نظر آیا. چنانچہ یہی ان کی دینی فکر کا مرکزی نقطہ بن گیا جس کے یمین و یسار انہیں اسلام کے عقائد، اس کی عبادات اور اس کی شریعت کے تفصیلی احکام صف بستہ نظر آئے، اور اس طرح انہیں دین کا اصل مطالبہ یہ نظر آیا کہ اس نظام کلی کو نظامِ زندگی پر عملاً نافذ کر دیا جائے یہ تمام باتیں اپنی جگہ صحیح ہیں لیکن مولانا مودودی صاحب کی تحریروں پر ان کا اس قدر غلبہ ہے کہ دین کے دوسرے پہلو مثلاً بندے کا اپنے رب کے ساتھ تعلق اور اس میں عبدیت، انابت، اِخبات، تضرع اور اخلاص منجملہ نگاہوں سے اوجھل ہو گئے اور جماعت اسلامی کی تحریک میں فرد پر اجتماعیت، باطن پر ظاہریت، اور حیات اخروی پر حیاتِ دنیوی اس طرح چھا گئے کہ اس کے کارکنوں کی زبان پر اگرچہ ’’نجات اخروی‘‘ بھی رہی لیکن ان کی عملی سعی و جہد کا اصل مرکز و محور دنیا میں ’’اقامت دین‘‘ بن کر رہ گئی‘‘.

تاہم اس وقت بھی ہم نے مولانا وحید الدین خان کی کتاب ’تعبیر کی غلطی‘‘ کے مرکزی 
خیال سے اختلاف کرتے ہوئے اُسے دوسرا انتہائی رُخ قرار دیا تھا‘ اور پھر جب ایک سال بعد جب محولہ بالا رائے کی شرح ’’اسلام کی نشاۃِ ثانیہ: کرنے کا اصل کام‘‘ کے عنوان سے لکھی تو اس میں بھی تعبیر کی غلطی کی بجائے ’’تعبیر کی کوتاہی‘‘ کا عنوان اختیار کیا. 

اور دوسری ’’بے اعتدالی‘‘ کا مظہر وہ ’’انتہا پسندی‘‘ ہے جس کا اظہار مولانا مودودی نے اولاً وطنی قومیت اور ثانیاً مسلم قومیت کی نفی کے ضمن میں کیا، جس کے بارے میں ہم نے ۱۹۴۷ء میں تو اس اجمالی اشارے پر اکتفا کیا تھا: 

’’ہمارے نزدیک اس موقف میں انتہا پسندی کی شدت تو موجود ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام کا ٹھیٹھ نظریاتی اور اصولی موقف یہی ہے‘‘. (سر افگندیم‘ صفحہ: ۳۴)

لیکن ۱۹۸۷ء میں ’’جماعت شیخ الہندرحمہ اللہ اور تنظیم اسلامی‘‘ نامی کتاب کے مقدمے میں قدرے وضاحت کی کہ:
’’اُن کی اس انتہا پسندی کا اولین مظہر یہ تھا کہ انہوں نے متحدہ قومیت کو نہایت شد و مد کے ساتھ ’’کفر‘‘ قرار دیا، اور کانگریسی مسلمانوں اور جمعیت علماء ہند اور اس کی قیادت پر نہایت جارحانہ ہی نہیں حد درجہ دل آزار تنقیدیں کیں‘‘ اور پھر اس کے کچھ ہی عرصے بعد انہوں نے مسلم قومیت کو بھی ’’کفر بواح‘‘ کا ہم پلہ قرار دے دیا‘‘ (صفحہ: ۲۲)

اور اس طرح مسلمانانِ ہند کی قومی تحریک یعنی تحریک پاکستان سے کامل علیحدگی ہی نہیں مخالفت و مخاصمت کی روِش اختیار کر لی!
لیکن ان دونوں ’’بے اعتدالیوں‘‘ کے باوصف ہماری جو رائے تحریک جماعت اسلامی کے دورِ اول کے بارے میں تھی وہ ۵۶ء میں تحریر شدہ ’’بیان‘‘ میں تو ’’دورِ اول اور اس کے بنیادی افکار و نظریات‘‘ کی بحث کے اختتام پر ’’خاتمہ ٔ کلام‘‘ کے عنوان سے ا ن الفاظ میں سامنے آئی تھی کہ:
’’ان نقوش پر کہ جو صفحابِ گزشتہ میں ثبت کیے گئے ہیں، سرسری طور پر نظر ڈالنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ ایک اصولی اسلامی تحریک کے نقوش 
ہیں. واقعہ یہ ہے کہ جماعت اسلامی کی تحریک کا یہ دورِ اول کم از کم ظاہری اعتبار سے بالکل وہی نقشہ پیش کرتا ہے جو ہمیشہ سے انبیاء کرام علیہم السلام کی تحریکوں کا خاصہ رہا ہے. بالکل وہی افکار و نظریات و عقائد اور بعینہٖ وہی دعوت پیش کی گئی کہ جو انبیاء کرام پیش کرتے آتے ہیں اور بہت حد تک وہی نصب العین اختیار کیا گیا اور اس کے لیے وہی طریق کار اختیار کیا گیا کہ جو ان کی تحریکوں میں اختیار کیا جاتا رہا ہے. ان دونوں کے نقوش میں بہت مشابہت پائی جاتی ہے اور بنظر ظاہر ان میں کوئی نمایاں فرق محسوس نہیں ہوتا. 
یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ اس تحرک میں کوئی خامی اور کمی نہ تھی اور یہ ہر اعتبار سے مکمل تھی، اس لیے کہ اس میں خامیاں اور کوتاہیاں بہر حال موجود تھیں، جن پر آئندہ کسی جگہ مجھے بھی اپنی محدود بصیرت کے مطابق کلام کرنا ہے 
(۱. لیکن جو بات ایک گونہ اطمینان اور وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ تحریک اپنی نوعیت، اپنے بنیادی افکار و خیالات، اپنی دعوت اور اپنے طریق کار اور اس میں ترتیب اور تقدیم و تاخیر کے اعتبار سے، تھی بہر حال اسلام کے اصولوں کے مطابق اور انبیاء کرام علیہم السلام کی تحریکوں کے نقش قدم پر.‘‘(تحریک جماعت اسلامی صفحہ103)

اور پھر لگ بھگ ۲۱ برس بعد ۱۹۸۷ء میں بھی ہم نے بحمد اللہ ’’جماعت شیخ الہند رحمہ اللہ ‘‘ کے مقدمے میں جماعت اسلامی کے دور اول کو ’’ایک خالص اصولی‘ اسلامی‘ انقلابی تحریک‘‘ ہی قرار دیا جو ۱۹۴۷ء تک ’’خالص اصولی اور انقلابی طریق پر عمل پیرا اور گویا منہاج نبوت و رسالت پر قائم اور گامزن رہی!‘‘ (صفحہ: ۲۲)

لیکن دو عظیم عملی غلطیوں کا معاملہ اس کے برعکس ہے!

ان میں سے پہلی یعنی ۱۹۴۷ء میں طریق کار کی تبدیلی نے اس تحریک کی نوعیت ہی کو از سر تا پا بدل کر رکھ دیا. تاہم اس کے ضمن میں اس موقع پر کسی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے‘ 

(۱): یہ اشارہ ہے اپنی اس رائے کی جانب جو ہم نے دس سال بعد ’’تحریک جماعت اسلامی‘‘ کے دیباچے میں ظاہر کی اور جو ابھی قارئین کی نگاہوں سے گزر چکی ہے. 

اس لیے کہ راقم کی پوری تالیف ’’تحریک جماعت اسلامی‘‘ اسی کے دلائل و شواہد پر مشتمل ہے. یہاں ایک تو اس کے دوسرے حصے یعنی ’’دورِ ثانی اور اس کی خصوصیات‘‘ کے ’’نتیجہ ٔ کلام‘‘ کا یہ مختصر اقتباس کفایت کرے گا:

’’اس دورِ ثانی کے نقوش کا سرسری سا مطالعہ بھی یہ واضح کر دینے کے لیے کافی ہے کہ اس میں ’’ایک اصولی اسلامی جماعت‘‘ کی خصوصیات کہیں ڈھونڈھے سے بھی نہیں ملتیں … یہ ایک خالص بے اصولی قومی جماعت کا نقشہ پیش کرتے ہیں، جو یا تو واقعی اسلام پسند ہے یا اپنی قوم میں برسر اقتدار آنے کے لیے اسلام کو بطور نعرہ 
(Slogan) استعمال کر رہی ہے.

میں نے نہ یہ کہا ہے اور نہ میں ایسا سمجھتا ہوں کہ ۴۷ء میں جب طریق کار تبدیل کیا گیا تو دانستہ طور پر ان لازمی نتائج کو جاننے کے باوجود اور اس تبدیلی کا ادراک کرنے کے باوجود کیا گیا کہ جو اس طرح اس پوری تحریک کی بنیادی نوعیت میں برپا ہو رہی تھی لیکن یہ بہر حال میں سمجھتا ہوں اور اسی کو وضاحت کے ساتھ میں نے اس قدر طویل تحریر میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے کہ طریق کار کی اس تبدیلی نے جماعت کو سطحی طور پر متاثر نہیں کیا بلکہ اس کو جڑوں سے لے کر شاخوں تک اور سر سے لے کر پیر تک بدل کر رکھ دیا ہے. اور اب اس جماعت کی بنیادی نوعیت تک میں فرق واقع ہو چکا ہے‘‘. (تحریک جماعت اسلامی صفحات: ۲۰۲۲۰۳)

اور دوسرے اُن بے شمار خطوط میں سے صرف چار کے اقتباسات کفایت کریں گے جو کتاب کی اشاعت پر موصول ہوئے تھے‘ ان میں سے دو جماعت اسلامی پاکستان کے ایسے سابق ارکان کے ہیں جن کا ذکر ’نقض غزل‘ میں موجود ہے، اور دو کا تعلق بھارت سے ہے (یہ خطوط ’’میثاق‘‘ کے اگست اور ستمبر ۶۶ء کے شماروں کے کَور کے اندرونی صفحات پر شائع ہوئے تھے). 
٭

’’… آپ کی معرکۃ الآرا، وقیع اور تحقیقی تصنیف ’’تحریک جماعت اسلامی‘‘ ایک تحقیقی مطالعہ‘‘ نظر سے گزری … کتاب وقت کی ایک متحرک‘ جامع اور تاریخی تحریک سے 
متعلق ہے لہٰذا ظاہر ہے. کہ بہت دلچسپی اور شوق سے پڑھی جائے گی … علماء کے علاوہ خواص نے بھی اسے بالاستیعاب از ابتدا تا انتہا بہت ہی شوق سے پڑھا اور پڑھنے کے بعد بہت اطمینان اور خوشی کا اظہار فرمایا خصوصاً اس بات پر کہ آپ نے با ضابطہ جماعت میں اتنی کم مدت رہنے کے باوجود اور اس نو عمری میں ان حقائق و کوائف کا ادراک کیا اور پھر ایسے سلیس و متین پیرائے میں اور اس قدر مرتب اور سلجھے ہوئے انداز میں پیش بھی کر دیا … بہر کیف آپ امت کی جانب سے شکریے کے مستحق ہیں …

دل سے دعا نکلتی ہے کہ کاش جماعت جن مقاصد کے لیے قائم ہوئی تھی اور جن کا اس نے اپنے دور اول میں کسی حد تک عملی مظاہرہ بھی کیا اپنی بنیادی خامیوں کی اصلاح کے بعد پھر اسی کا عملی نمونہ پیش کرے. نہیں معلوم کتنے مضطرب قلوب اس کے منتظر ہیں! … محترمی! ہمارے قلوب پژ مردہ ہو چکے ہیں، ہماری مایوسی انتہا کو پہنچ چکی ہے‘ ہم بہت ٹھوکریں کھائے ہوئے‘ مخدوع اور زخم خوردہ ہیں … اے اللہ ہمارے زخموں کی مرہم پٹی کے لیے کسی کو بھیج‘ جو ہمیں ہر لحاظ سے ایسا بنا دے کہ ہم اسلام کے عملی ترجمان بن کر اپنے فرائض کی انجام دہی میں ہمہ تن مصروف ہو جائیں! …

مکرمی! آپ نے تحریک کے دَور ثانی میں بتدریج رونما ہونے والے جن نقائص و عیوب کا تذکرہ فرمایا ہے‘ میرے خیال ہی میں نہیں‘ بلکہ ہر منصف مزاج شخص یہ کہنے پر مجبور ہے کہ یہ بالکل بدیہی امر ہے اور خود جماعت کے اربابِ حل و عقد اور اصحاب فکر و نظر کو بھی اس کا پورا احساس ہے،لیکن اصلاح کے لیے جس ہمت مرداں و جرأت رنداں کی ضرورت ہے وہ مفقود ہے … وہاں تو لومۃ لائم سے بڑھ کر یہ احساس سد راہ ہے کہ ہم اپنے طویل سفر پر کس طرح پانی پھیر سکتے ہیں. 

اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان زخارف سے لا پروا ہونے کی توفیق عطا فرمائے. نہیں معلوم کتاب کے منظر عام پر آنے کے بعد آپ کن ’’مشکلات‘‘ اور ’’نوازشات‘‘ سے دوچار ہوں. اللہ تعالیٰ آپ کو صحت و عافیت کے ساتھ رکھے‘ آپ سے کوئی ٹھوس اور محکم خدمت لے اور اس راہ کے تمام موانع و عوارض کو دُور فرمائے … ‘‘ 

(Academy
Islamic Research and Publications.
Nadwatul Ulama,
LUCKNOW 

٭
’’… جماعت کے ماضی و حال کے تقابلی مطالعہ سے یہ بات شک و شبہ سے بالاتر ہو کر ثابت ہو گئی ہے کہ ؏ 
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے‘‘
حکیم افتخار الحق تکمیلی 
بیسل پور. پیلی بھیت (یو. پی) بھارت
٭
’’… اسی اثناء میں ’’تحریک جماعت اسلامی‘‘ کا مطالعہ کیا. تقریباً وہ سب باتیں آپ نے تفصیل سے بیان کر دی ہیں جو جائزہ کمیٹی کو ہم لوگوں نے نوٹ کرائی تھیں. ایسا محسوس ہوتا ہے کہ باتیں ہماری ہیں قلم آپ کا ہے اور آپ نے ہم سب کی بھر پور نمائندگی کی ہے … یہ کتاب محض آپ کی نہیں ہے‘ اور اس میں صرف آپ کے دل کی دھڑکنیں نہیں‘ بلکہ ان سینکڑوں افراد کا درد دل بول رہا ہے جو کراچی سے پشاور تک پھیلے ہوئے ہیں… 

… ماچھی گوٹھ کے بعد جماعت نے جس تیزی کے ساتھ اپنے مقصد سے انحراف کیا ہے، اُگلے ہوئے نوالوں کو جس طرح چبایا ہے اور تقیہ سے لے کر ہیر پھیر کے جتنے بھی پینترے اس نے بدلے ہیں ان کا تجزیہ ضروری تھا جس کی کمی کتاب میں محسوس ہوتی ہے … ‘‘
نجیب صدیقی‘ شاہی بازار‘ سکھر

٭
’’… آپ کی کتاب... صاحب سے لے کر دیکھی‘ جماعت اسلامی کے پرانے اور نئے موقف کا تضاد آپ نے خوب واضح کر دیا ہے. افراد کے کردار میں گراوٹ کے جو اسباب آپ نے بیان کئے ہیں وہ صحیح ہیں‘ اگر جماعت پرانے موقف پر چلتی رہتی تو زوال پذیر نہ ہوتی یا کم از کم اس قدر جلد نہ ہوتی … بہر حال آپ کا تجزیہ بنیادی طور پر صحیح ہے اور دس سال قبل کی تحریر ہونے کی وجہ سے بہت زیادہ ستائش کی مستحق ہے …‘‘
ظفر الاحسن‘ ناظم آباد‘ کراچی 

تاہم یہ واضح رہنا چاہیے کہ جماعت اسلامی پاکستان کے رُخ کی تبدیلی کو نہایت اساسی اور حد درجہ دُور رس نتائج کی حامل سمجھنے کے باوجود‘ راقم نے اسے کبھی کسی بد نیتی پر مبنی قرار نہیں دیا. اس سلسلے میں راقم نے اپنے بیان جائزہ کمیٹی کے آخری باب ’’تبدیلی کیوں؟‘‘ میں ان تمام دلائل کو ردّ کرنے کے بعد جو جماعت کی قیادت کی جانب سے اس تبدیلی کے جواز کے طور پر وقتاً فوقتاً پیش ہوئے ’’اصل وجہ‘‘ کے عنوان کے تحت لکھا تھا: 

’’سوال کیا جا سکتا ہے کہ پھر تمہارے خیال میں اس تبدیلی (بلکہ تمہاری رائے میں تحریک اسلامی کی ’’راہ راست سے انحراف‘‘) کی وجہ کیا ہے. اس سوال کا جواب میرے ذمے ہے اور اس کا وعدہ میں صفحہ ۱۲۰ پر بھی کر آیا ہوں.
میں اگر ایک لفظ میں اس اصل وجہ کو بیان کرنا چاہوں تو وہ ایک لفظ ’’عجلت پسندی‘‘ ہے، لیکن میں چاہتا ہوں کہ ذرا اس کی تفصیل بیان کر دوں. خصوصاً اس غرض سے کہ اس ’’دورِ فتن‘‘ میں جب کہ طرح طرح کی باتیں کی جا رہی ہیں اور بھانت بھانت کی بولیاں بولی جا رہی ہیں، کہیں میں بھی ان لوگوں کے زمرے میں شریک نہ سمجھا جاؤ جو محض بیان حال ہی پر اکتفا نہیں کر رہے ہیں بلکہ نیتوں تک کو زیر بحث لا کر فضا کو مکدر کر رہے ہیں.

میری رائے میں عجلت پسندی کہنے کو تو ایسی چیز ہے کہ جس کے بارے میں معمولی استعداد اور تھوڑی سی صلاحیت رکھنے والا شخص بھی فوراً کہہ دے گا کہ یہ ایک نہایت غلط اور بڑی مہلک چیز ہے لیکن واقعہ یہ ہے کہ یہ انسان کی گھٹی میں پڑی ہوئی ہے اور انسان کا خمیر جس مٹی سے اٹھا ہے اس میں ایک جزو لاینفک کے طور پر موجود ہے. یہ مفہوم جو میں نے اپنے ان الفاظ میں ادا کیا ہے قرآن مجید کا بیان کردہ ہے 
خُلِقَ الۡاِنۡسَانُ مِنۡ عَجَلٍ ؕ (الانبیاء:۳۷)، بنا ہے انسان جلدی کا، ترجمہ شیخ الہندرحمہ اللہ )‘اور ؕ وَ کَانَ الۡاِنۡسَانُ عَجُوۡلًا ﴿۱۱﴾ (بنی اسرائیل :۱۱ (،اور ہے انسان جلد باز) کے چھوٹے چھوٹے جملوں میں حقیقت کے اعتبار سے معنی اور مفہوم کے دریا بند ہیں‘‘.

اور اس کے بعد ’’عجلت پسندی‘‘ کے موضوع پر آٹھ دس صفحات پر پھیلی ہوئی ایک بحث 
(۱کےبعد...... (جس کی علمی حیثیت کو مولانا اصلاحی نے ایک موقع پر بہت سراہا تھا) آخر میں راقم نے دوبارہ عرض کیا تھا کہ: (۱): ملاحظہ ہو ’’تحریک جماعت اسلامی‘‘ صفحہ ۲۱۶ تا ۲۲۵ 
’’میں خدا کو گواہ کر کے کہتا ہوں کہ میں اس کے سوا کسی اور بری نیت یا Malafide کو برسر کار نہیں پاتا. اسے غلطی میں ضرور سمجھتا ہوں لیکن اس غلطی کو میں جذبہ عجلت پسندی پر محمول کرتا ہوں‘ کسی بری نیت یا ارادے پر مبنی نہیں سمجھتا!‘‘

اور بحمد اللہ راقم اب بھی اسی رائے کا حامل ہے!

دوسری عظیم عملی غلطی جس نے ٹائم بم کے مانند ’نقض غزل‘ کی صورت میں مہیب دھماکہ کیا اور جماعت اسلامی کی بنیادوں تک کو ہلا ڈالا‘ جماعت کی ہیئت تنظیمی سے متعلق ہے. اور جہاں پہلی غلطی کی نوعیت ایسی تھی کہ جیسے کوئی انسان ایک خاص رخ پر چلتے چلتے دفعتاً اپنا رخ تبدیل کر لے اور اس کے بعد پھر سیدھی لائن پر چلنا شروع کر دے تو خواہ ابتداء میں رُخ کی یہ تبدیلی معدودے چند ہی درجوں کے زاویے کے مساوی ہو لیکن جیسے جیسے وہ آگے بڑھے گا اُس کا فاصلہ سابق رُخ سے بڑھتا چلا جائے گا‘ اور گو اسے خود بھی محسوس ہو گا کہ وہ کچھ صحیح رُخ پر نہیں بڑھ رہا ہے لیکن جب تک وہ اُس خاص نقطے کا تعین نہ کر لے جہاں سے زاویہ بدلا تھا وہ کبھی اپنی غلطی کی صحیح تشخیص نہیں کر سکے گا. اس لیے کہ اس خاص نقطے کے بعد سے تو وہ پھر خط مستقیم ہی پر چل رہا ہو گا‘ چنانچہ ہر پچھلا قدم اگلے قدم کے لیے جواز فراہم کر دے گا !! وہاں اس دوسری غلطی کی نوعیت اُس سرطان کی سی تھی جو بظاہر صحت مند اور ہر طرح سے چاق و چوبند شخص کے جسم میں خاموشی کے ساتھ اندر ہی اندر جڑیں پھیلاتا رہتا ہے یہاں تک کہ بالکل اچانک پورا جسم ؏ ’’تن ہمہ داغ داغ شد پنبہ کجا کجا نہم‘‘ کے مصداق متعفن پھوڑوں سے پھل جاتا ہے. چنانچہ اول تو صرف ’نقض غزل‘ میں جو مواد شامل ہے اسی سے اس مسموم اور متعفن فضا کا بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے جو ۵۷۵۶ء میں جماعت اسلامی کے چوٹی کے قائدین کے باہمی تعلقات کے ضمن میں پیدا ہو گئی تھی‘ اور اگر اس کی شدت کا بھر پور اندازہ کرنا ہو تو اُس خط و کتابت پر ایک نظر ڈال لینا کافی ہو گا جو مولانا اصلاحی کے رکنیت جماعت سے مستعفی ہونے کے بعد ان کے اور مولانا مودودی کے مابین 
ہوئی.

یہ عظیم اساسی غلطی جو جماعت اسلامی کی ہیئت تنظیمی میں ؎

خشت اول چوں نہد معمار کج
تا ثریا می رود دیوار کج!

کے مانند پیوست ہو گئی تھی‘ یہ تھی کہ: 

حقیقت نفس الامری کے اعتبار سے تو جماعت اسلامی ایک داعی کی دعوت پر جمع ہونے والے لوگوں پر مشتمل تھی چنانچہ داعی کو از خود امیر و قائد کی حیثیت حاصل تھی‘ اور جمع ہونے والے لوگوں کی حیثیت اصلاً اُس کے اعوان و انصار کی تھی لیکن مختلف اسباب کی بناء پر ظاہری اعتبار سے اس کا ڈھانچہ ایک ایسی دستوری اور جمہوری تنظیم کے طرز پر اٹھایا گیا جو کچھ لوگوں کے باہمی اتفاقِ رائے سے وجود میں آتی ہے اور جس کا صدر یا امیر ان کے ووٹوں سے منتخب ہوتا ہے!!

اب ظاہر ہے کہ مقدم الذکر نوعیت کی جماعت میں قیادت کی اصل ذمہ داری ’’داعی امیر‘ کی ہوتی ہے‘ وہی پالیسی معین کرتا ہے‘ اسی کی صوابدید ہر معاملے میں فیصلہ کن ہوتی ہے چنانچہ وہ صرف اپنی ’’ضرورت‘‘ کے بقدر ساتھیوں سے مشورہ کرتا ہے‘ اور ساتھی اپنے امکانی ’’اجتہاد‘‘ کو بروئے کار لا کر مشورہ دیتے ہیں‘ اور مشورہ پیش کرنے کے بعد اپنے آپ کو بَری الذّمہ سمجھتے ہیں‘ اور آخری فیصلہ کا معاملہ اپنے داعی و قائد پر چھوڑ دیتے ہیں ‘ اس نوع کی کسی تنظیم کے ساتھ اگر ’’اسلامی‘‘ کا سابقہ یا لاحقہ بھی لگا ہوا ہو تو حدیث نبویصلی اللہ علیہ وسلم : 

’’لَا طَاعَۃ لِمَخْلُوْقٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ‘‘ 

کے مطابق‘ جس کا تقاضا ہے کہ داعی ہو یا قائد‘ صدر ہو یا امیر‘ حتیٰ کہ حاکم اور سلطان ہو یا خلیفہ‘ کسی کی بھی اطاعت کسی ایسے معاملے میں نہیں کی جا سکتی جو شریعت کے خلاف ہو. اس تنظیم یا جماعت میں بھی ’’سمع و طاعت‘‘ تو بھرپور انداز میں ہو گی لیکن ’’معروف‘‘ کے دائرے کے اندر اندر!. جب کہ مؤخر الذکر نوعیت کی تنظیم کے منتخب سربراہ کو نام خواہ صدر کا 
دیا جائے خواہ امیر کا اسے اصلاً کوئی امتیازی حیثیت اپنے ساتھیوں پر حاصل نہیں ہوتی اور جو کچھ اختیار اس کے پاس ہوتا ہے ساتھیوں ہی کا تفویض کردہ ہوتا ہے‘ جسے وہ جب چاہیں واپس لے سکتے ہیں‘ اس نوع کی تنظیم میں مشورہ کرنا صدر یا امیر کا ’’فرض‘‘ اور ساتھیوں کا ’’حق‘‘ ہوتا ہے اور سربراہ کے لیے لازم ہوتا ہے کہ اکثریت کی رائے کی پابندی کرے!!

’نقض غزل‘ کی تیسری قسط جس پر اب ’’مولانا مودودی اور مولانا اصلاحی کی رفاقت کا تاریخی پس منظر‘ اور جماعت اسلامی کا تنظیمی ڈھانچہ‘‘ کا عنوان قائم ہوا ہے‘ جب نومبر ۱۹۶۶ء کے ’’میثاق‘‘ میں شائع ہوئی تو مولانا اصلاحی کی جانب سے تو اس کی کامل اور صراحتاً تصویب ہوئی تھی. چنانچہ ان کے تأثر اور تبصرہ کا ایک حصہ تو وہ ہے جو دسمبر ۶۶ء کی اشاعت کے کَور پر شائع کر دیا گیا تھا یعنی:

’’ ’نقض غزل‘ کی گذشتہ قسط راقم الحروف نے اپنی ذاتی معلومات کی بنا پر تحریر کی تھی اور مولانا امین احسن اصلاحی صاحب کے علم میں وہ طباعت کے بعد ہی آئی‘ لیکن بحمد اللہ مولانا نے نہ صرف اس کی مجموعی اعتبار سے مکمل تصویب فرمائی بلکہ شدت تاثر میں بار بار یہ شعر مولانا کی زبان پر جاری ہوتا رہا کہ

سر خدا کہ عارف و سالک بکس نہ گفت
در حیرتم کہ بادہ فروش از کجا شنید!

اس مضمون کی حالیہ قسط میں راقم الحروف نے مولانا کے موقف سے اختلاف بھی کیا ہے اور اس پر تنقید بھی کی ہے. مولانا کی انصاف پسندی سے توقع ہے کہ وہ اس پر بھی ’’ہمدردانہ‘‘ غور فرمائیں گے. اسرار احمد‘‘

مزید برآں مولانا کے یہ الفاظ بھی ہمیں واضح طور پر یاد ہیں کہ: ’’آپ نے تو جماعت کی ایسی تاریخ لکھ دی ہے کہ اگر خود میں بھی کوشش کروں تو اس خاکے میں صرف واقعاتی رنگ مزید بھرنے کے سوا اور کوئی اضافہ نہیں کر سکتا!‘‘ مولانا مودودی مرحوم کی جانب سے بھی ’’سکوت‘‘ کو کامل توثیق نہ سہی ’’نیم رضا‘‘ سے تعبیر کیا جا سکتا ہے 
اس وقت اس کے حوالے سے دو باتیں ذہن میں تازہ کر لی جائیں: 
ایک یہ کہ مولانا محمد منظور نعمانی مولانا ابو الحسن علی ندوی اور مولانا شاہ محمد جعفر پھلواروی اور بعض دوسرے نمایاں علماء کے جماعت سے علیحدہ ہو جانے کے بعد مولانا اصلاحی کو جماعت اسلامی میں واضح اور مسلّم طور پر ’’شخص دوم‘‘ کی حیثیت حاصل ہو گئی تھی. اور دوسرے یہ کہ جماعت کی ہیئت تنظیمی کے ضمن میں مولانا مودودی کے نظریات اور تصورات اوپر بیان شدہ مقدم الذکر نوعیت کے تھے‘ جب کہ مولانا اصلاحی مؤخر الذکر نظریئے اور تصور کے حامل تھے.

چنانچہ ان ’’دو بڑوں‘‘ کے مابین‘ سترہ سالہ رفاقت کے دوران‘ دعوتی اور تحریکی سرگرمیوں میں ’’یک جان دو قالب‘‘ کی حد تک رفاقت اور مثالی تعاضد و تناصر کے باوصف اندر ہی اندر ایک کشمکش بھی جاری رہی‘ جو آغاز میں تو محض ایک علمی اختلاف کی حیثیت رکھتی تھی‘ لیکن قیام پاکستان سے متصلاً قبل ۱۹۴۶ء میں الٰہ آباد کے سالانہ اجتماع میں اس کے ضمن میں تلخی کا ظہور ہو چکا تھا‘ چنانچہ قیام پاکستان کے بعد دس سالوں کے دوران یہ ایک ’’سرد جنگ‘‘ کی صورت میں مرکزی مجلس شوریٰ کی سطح پر جاری رہی اور بالآخر اس نے ’نقض غزل‘ کے تند و تیز دھماکے کی صورت میں ظہور کیا. جس کی ذمہ داری کا اگر پچھتر فی صد حصہ مولانا مودودی پر آتا ہے تو کم از کم پچیس فی صد بار مولانا اصلاحی پر بھی ہے !!

راقم الحروف کو اقامت دین کے مقصد عظیم کے لیے ’’برپا‘‘ ہونے والی جماعت کی ہیئت تنظیمی اور اس کے امیر اور دوسرے شرکاء کے مابین تعلقات کی نوعیت‘ اور بالخصوص قائد اور امیر کے حقوق و اختیارات کے ضمن میں مولانا مودودی کی رائے کا اندازہ تو اگرچہ حالات و واقعات کے بین السطور سے پوری طرح ہو گیا تھا (جیسے کہ ’نقض غزل‘ کے متذکرہ بالا حصے سے ظاہر ہے) لیکن اس کے سامنے اس موضوع پر مولانا مرحوم کی کوئی واضح تحریر موجود نہ تھی. مولانا نے اس سلسلے میں جو تقریر کوٹ شیر سنگھ کی شوریٰ میں کی تھی اس کی اُڑتی اُڑتی سی خبریں ملیں تو تجسس تو بڑھ گیا لیکن تفصیلات کے حصول کی کوئی سبیل نظر نہ آئی اور 
متعدد رابطوں کے باوجود اس کا کوئی سراغ نہ مل سکا!

اسی اثناء میں ۸۳۱۹۸۲ء کے لگ بھگ زمانے میں حیدر آباد (دکن) سے مولانا محمد یونس (مرحوم) کی تالیف ’’خطوط کے چراغ‘‘ موصول ہوئی تو مولانا مودودی کے ایک مکتوب میں‘ جو قیامِ جماعت سے چھ ماہ قبل مارچ ۴۱ء میں تحریر ہوا تھا‘ موضوع زیر بحث پر ان کی سوچ واضح طور پر سامنے آ گئی. اس لیے کہ اس خط میں مولانا مرحوم نے بیعت کی اقسام کے ضمن میں بیعت نظم جماعت کا ذکر نہایت صراحت و وضاحت اور عزم و جزم کے ساتھ کیا ہے‘ جو حسب ذیل ہے: 

’’۳. تیسری بیعت وہ ہے جو اسلامی جماعت کے امیر یا امام کے ہاتھ پر کی جاتی ہے. اس کی نوعیت یہ ہے کہ جب تک امیر یا امام اللہ اور اس کے رسول صل اللہ علیہ وسلم کا مطیع ہے‘ اس وقت تک جماعت کے تمام ارکان پر اس کی اطاعت فرض ہے. 
’’مَن مَّاتَ وَ لَیْسَ فِیْ عُنُقِہٖ بَیْعَۃٌ‘‘ اور دوسری تمام احادیث میں جس بیعت کی اہمیت پر زُور دیا گیا ہے ان سب سے مراد تیسری بیعت ہے کیونکہ اس پر اسلامی جماعت کی زندگی اور اس کے نظام کا قیام منحصر ہے. اس سے الگ ہونے یا الگ رہنے کے معنی یہ ہیں کہ نبی  جس کام کے لیے تشریف لائے تھے اور جس امر عظیم کا بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم امت پر چھوڑ گئے ہیں اس کو نقصان پہنچایا جائے یا ختم کر دیا جائے. (۱‘‘

لیکن واقعہ یہ ہے کہ اس مسئلے میں مولانا مودودی مرحوم کے نظریات کمالِ شرح و بسط کے ساتھ ان کی اُس تقریر میں سامنے آئے جو ہفت روزہ ’’آئین‘‘نے شائع کی. یہی وجہ ہے کہ ہم نے اسے شکریہ کے ساتھ فوراً ’’میثاق‘‘ میں من و عن شائع کر دیا (اس لیے کہ ہم تو اس کے ایک عرصے سے متلاشی تھے!) 
(۱): مولانا مرحوم کے اس خط کے ضمن میں ہفت روزہ ’’تکبیر‘‘ کراچی نے کچھ غلط مبحث‘ اور مغالطہ آمیزی کی سعی کی تھی جس پر ہماری جانب سے وضاحت ارسال کر دی گئی تھی لیکن افسوس کہ اسے پورا شائع نہیں کیا گیا. تاہم ’’میثاق‘‘ میں یہ پوری بحث ۱۹۸۶ء میں شائع ہو گئی تھی اور دوبارہ مارچ ۸۹ء کی اشاعت میں بھی! 

مولانا مرحوم کے جو افکار اور نظریات اس تقریر (یا تحریر) کے ذریعے سامنے آئے ہیں‘ ان میں سے بعض سے ہمیں شدید اختلاف بھی ہے (جس پر ہم بعد میں گفتگو کریں گے) لیکن جہاں تک تحریک اسلامی کے قائد اور امیر کے حقوق و اختیارات کا معاملہ ہے اس کے ضمن میں ہم اُن سے صد فی صد متفق ہیں. یعنی یہ کہ اگر اس تحریک کے پیش نظر محض اصلاحی یا تبلیغی کام نہ ہو‘ بلکہ حقیقی معنی میں ’’اقامت دین‘‘ یعنی دین کامل نظامِ عدل و قسط (System of Social Justice) کا قیام یا بالفاظِ دیگر ’’اسلامی انقلاب‘‘ ہو تو اس کے لیے قائم ہونے والی جماعت یا تنظیم کے امیر کے حقوق و اختیارات وہی ہونے چاہئیں جو مولانا نے بیان کئے ہیں. بالخصوص جبکہ اس کی حیثیت ’’داعی امیر‘‘ کی ہو یعنی اسی کی دعوت اور اسی کے افکار و نظریات کی اساس پر وہ جماعت یا تنظیم وجود میں آئی ہو. تاہم ہماری پختہ رائے ہے کہ یہ تصورات صرف نظامِ بیعت سے مناسبت رکھتے ہیں اور کسی دستوری اور جمہوری تنظیم میں ان کو بہ تمام و کمال سمونا تو ممکن ہی نہیں ہے‘ لیکن اگر کسی مجبوری کے باعث ایسا کرنا لازمی ہو تو اس میں امیر یا صدر کے حق استرداد (Veto) کا غیر مبہم انداز میں تسلیم کیا جانا ضروری اور لابدی ہے!

جہاں تک ہمارا تعلق ہے‘ بحمد اللہ ہم پر یہ حقیقت پوری وضاحت کے ساتھ جماعت سے علیحدہ ہونے کے بعد جلد ہی ’’منکشف 
(۱‘‘ ہو گئی تھی. .......چنانچہ ہم نے اللہ کے فضل و (۱):اس لفظ کا واقعاتی پس منظر بہت دلچسپ ہے. راقم جماعت سے مستعفی ہونے کے بعد تقریباً ڈیڑھ سال تک تو لاہور اور فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے اکابر (مولانا اصلاحی‘ مولانا عبد الغفار حسن اور حکیم عبد الرحیم اشرف وغیرہم) کے ساتھ کسی نئی تنظیم کی تشکیل کی مساعی میں مصروف رہا. لیکن اوائل ۵۹ء میں ان سے مایوس ہو کر ڈاکٹر مسعود الدین عثمانی مرحوم کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے کراچی ہجرت کر لیا. وہاں بھی ایک خاصا بڑا گروپ ’’خوارج‘‘ کا موجود تھا اور ان کے مابین ان دنوںکسی نئی جماعت کے ضمن میں ہیئت تنظیمی کا مسئلہ زیر بحث تھا. چنانچہ راقم بھی اس مسئلے کے حل میں سرگرداں ہو گیا. اسی اثناء میں ایک دن یہ واقعہ پیش آیا کہ راقم نماز عشاء کے بعد مطب سے فارغ ہو کر کیماڑی سے ناظم آباد واپس آنے کے لیے بس میں سوار ہوا تو ذہن اسی ادھیڑ بُن میں مصروف ہو گیا ااور راقم اس میں اس درجہ مستغرق ہوا کہ اسے کچھ پتہ نہ چلا کہ کب بس ٹاور سے گزری اور کب صدر پہنچی. لیکن جیسے ہی ڈرائیور نے ایمپریس مارکیٹ پر بریک لگایا میں ایک دم چونک سا گیا اور اُسی لمحے میرا مسئلہ حل ہو گیا‘ اس لیے کہ عین اسی وقت سورۃ الصف کی آخری آیت میرے ذہن میں بجلی کی طرح کوند گئی اور یہ حقیقت ’’منکشف‘‘ ہو گئی کہ یہ مسئلہ ’’مَنْ اَنْصَارِیٓ اِلَی اللّٰہِ؟ ‘‘ کے الفاظ کے حوالے سے داعی اور اس کے اعوان و انصار کے اساسی تصور کے ذریعے ہی حل ہو سکتا ہے!

کرم سے مرکزی انجمن خدام القرآن لاہور قائم کی تو اُس میں بھی اپنا ویٹو تسلیم کرایا اور اس کے بعد تنظیم اسلامی قائم کی تو اُس کی اساس بھی ’’بیعت سمع و طاعت فی المعروف‘‘ پر رکھی‘ اور اگرچہ اس میں اصل دخل تو........... ’’ وَ مَا کُنَّا لِنَہۡتَدِیَ لَوۡ لَاۤ اَنۡ ہَدٰىنَا اللّٰہُ ‘‘ کے مصداق اللہ تعالیٰ کے خصوصی فضل و احسان ہی کا ہے‘ تاہم ایک حد تک یہ سہولت بھی ہمیں حاصل تھی کہ ہمارے سامنے جماعت اسلامی کا تکلیف دہ تجربہ اور ’نقض غزل‘ کی عبرت انگیز مثال موجود تھی.

مولانا مودودی مرحوم کے ۴۱ء کے خط اور ۵۷ء کی تقریر سے یہ بات بلا شبہ ریب و شک ثابت ہو جاتی ہے کہ اصلاً مولانا مرحوم کا ذہن بھی یہی تھا. اور ہمارے نزدیک وہ کوہ ہمالیہ جتنی بڑی غلطی جو مولانا سے قیامِ جماعت کے موقع پر سرزد ہوئی یہی تھی کہ انہوں نے جماعت کی اساس ’بیعت سمع و طاعت فی المعروف‘‘ پر نہیں بلکہ ایک دستور پر قائم کی. جس کے نتیجے میں ان کی جو حیثیت معین ہوئی وہ ایک دستوری تنظیم کے ’’منتخب امیر‘‘ کی تھی. جبکہ نہ صرف یہ کہ حقیقت واقعی کے اعتبار سے وہ ’’داعی امیر‘‘ تھے‘ بلکہ ان کے ذہن اور مزاج کی ساخت بھی اُسی سے مناسبت رکھتی تھی. اور واقعہ یہ ہے کہ مولانا مودودی کی ان دو حیثیتوں‘ یعنی حقیقی اور واقعی حیثیت اور دستوری قانونی حیثیت‘ کے مابین فرق و تفاوت بلکہ کشاکش اور تصادم ہی کے بطن سے ان جملہ پیچیدگیوں نے جنم لیا جن کے نتیجے میں وہ متعدد مواقع پر موردِ الزام بنے‘ اور ان کے بعد اقدامات اس درجہ قابل اعتراض صورت میں سامنے آئے کہ انکی بنا پر ان کی نیت تک پر شک کی گنجائش پیدا ہوئی. اس لیے کہ اگرچہ جماعت کے پہلے اجتماع میں مولانا مرحوم نے یہ وضاحت کر دی تھی کہ: ’’اسلامی جماعت کا طریقہ یہ ہے کہ وہ سب سے پہلے اپنے صاحب امر کے انتخاب میں تقویٰ اور دیانت ہی تلاش کرتی ہے 
اور اسی بنا پر وہ اپنے معاملات پورے اعتماد کے ساتھ اس کے سپرد کرتی ہے‘‘. لیکن چونکہ دستور جماعت میں امیر کے لیے ویٹو کا حق طے نہیں کرایا‘ لہٰذا بات گول مول رہ گئی!

اس سلسلے میں تأسیس جماعت کے عین موقع پر اگر موجود الوقت ظروف و احوال کے پیش نظر صورتِ معاملہ کے کسی قدر گول مول اور مبہم رہنے کے لیے کوئی وجہ جواز تسلیم کر بھی لی جائے‘ تو جماعت کے پہلے تنظیمی بحران کے بعد تو اس کے لیے قطعاً کوئی جواز باقی نہ رہا تھا جب بہت سے ’’اکابر‘‘ (مولانا محمد منظور نعمانی‘ مولانا سید ابو الحسن علی ندوی وغیرہم) امیر جماعت میں اسی ’’تقویٰ‘‘ کی کمی کے (صحیح یا غلط) احساس کی بنا پر جماعت سے علیحدہ ہو گئے تھے اور باقی رہنے والے لوگوں میں سے اس نمایاں ترین شخص (مولانا اصلاحی) نے‘ جنہیں اب واضح طور پر ’’شخص دوم‘‘ کی حیثیت حاصل ہو گئی تھی‘ امیر کے حق استرداد کے خلاف نہ صرف یہ کہ علانیہ موقف اختیار کر لیا تھا بلکہ ڈٹ کر مورچہ لگا لیا تھا. اُس موقع پر اگر مولانا مودودی اُن کے دلائل سے قائل ہو جاتے تب تو معاملہ دوسرا ہوتا‘ بصورتِ دیگر راست معاملگی 
(Straight Dealing) بلکہ دور اندیشی کا تقاضا بھی یہی تھا کہ مولانا بھی پوری طرح ڈٹ جاتے اور نہ کسی شخصیت کا لحاظ کرتے نہ کسی فوری مصلحت کے تحت خم کھاتے! لیکن افسوس کہ مولانا نے اس موقع پر وقتی مصلحت ہی کو پیش نظر رکھا اور اُس ’’عزیمت‘‘ کے عشر عشیر کا بھی مظاہرہ نہ کیا جس کا اظہار ان کی جانب سے دس گیارہ سال بعد ماچھی گوٹھ کے اجتماعِ ارکان کے موقع پر‘ یا اس کے بعد ہوا. لہٰذا معاملہ پھر گول مول ہی رہ گیا!

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ قیامِ پاکستان کے بعد جب جماعت کے سیاسی میدان میں چھلانگ لگا دینے کے باعث حالات و واقعات کی رفتار تیز ہوئی تو نو دس سال تک صورت یہ رہی کہ چونکہ مولانا مودودی کا ذہن اور مزاج تو وہی تھا جو اوپر بیان ہو چکا ہے‘ لہٰذا ان کا مستقل طرزِ عمل یہ رہا کہ ہر بڑا فیصلہ خود کر لیتے اور اس کا اعلان و اظہار بھی کسی خطاب عام‘ یا اخباری بیان‘ یا ماہنامہ ترجمان القرآن کے ’’اشارات‘‘ میں کر دیتے 
(۱اور پھر جب 

(۱): اپنے اس طرزِ عمل کا صریح اعتراف مولانا مودودی نے نہایت اعتماد اور طنطنہ کے ساتھ جنوری ۵۸ء میں مولانا اصلاحی کے نام خط میں کیا ہے کہ: ’’میں اسی رائے کو حق سمجھتا ہوں‘ ہمیشہ اسی کو ظاہر کیا ہے‘ اور تشکیل جماعت کے بعد سے آج تک اسی پر عملاً کام کرتا رہا ہوں!.‘‘ مجلس شوریٰ کا اجلاس ہوتا تو وہ غریب اس صورتِ حال پر سر پکڑ کر رہ جاتی کہ اب تو تیر کمان سے نکل چکا ہے. چنانچہ بعض مواقع پر شوریٰ کے ارکان اس طرز پر بھی سوچتے کہ میاں طفیل محمد صاحب کو قیم جماعت کی بجائے صرف ناظم دفتر کی حیثیت دی جائے‘ اور مولانا مودودی کو پابند کیا جائے کہ وہ شوریٰ سے پیشگی مشورہ لیے بغیر کسی نئے اقدام کا اعلان نہ کریں (یہ روایت حکیم عبد الرحیم اشرف صاحب کی ہے جو انہوں نے حالیہ ملاقات میں بیان کی). 

امیر جماعت اور مرکزی مجلس شوریٰ کے مابین اسی کشمکش کا نتیجہ تھا کہ بالآخر دستورِ جماعت میں یہ پیچ در پیچ فارمولا طے پایا کہ: اگر کسی معاملے میں امیر جماعت بھی اپنی رائے پر اصرار کرے‘ اور مجلس شوریٰ کی اکثریت بھی کسی مقابل رائے پر مُصر ہو جائے تو اس معاملے میں جماعت کے عام ارکان سے استصواب کیا جائے گا. پھر اگر ارکانِ جماعت کی اکثریت امیر کی رائے کے حق میں فیصلہ دے دے گی تو امیر اپنے منصب پر برقرار رہے گا جبکہ شوریٰ معزول ہو جائے گی اور اس کا نیا انتخاب ہو گا‘ اور اگر برعکس صورت پیدا ہو جائے تو امیر معزول ہو جائے گا اور نیا امیر منتخب کر لیا جائے گا!

جماعت اسلامی کی پوری تاریخ میں دستورِ جماعت میں طے شدہ اس راستے کو عملاً اختیار کرنے کا پہلا اور آخری موقع نومبر دسمبر ۵۶ء کی اُس شوریٰ میں آیا تھا جس میں جائزہ کمیٹی کی رپورٹ پیش ہوئی. شوریٰ کے اس طویل ترین اجلاس کے دوران ارکانِ شوریٰ کے مابین جماعت کی پالیسی اور طریق کار کے ضمن میں جو دو انتہائی متضاد نقطہ ہائے نظر سامنے آئے ان پر جانبین کے اصرار کی شدت تو اس سے ظاہر ہے کہ پندرہ دن کی طویل بحث کے بعد بمشکل ایک ’’مصالحتی قرار داد‘‘ پر اتفاق ہو سکا‘ اور اس معاملے میں خود مولانا مودودی کے جو احساسات تھے وہ انہوں نے بعد میں خود ہی ارکانِ جائزہ کمیٹی کے نام اپنے الزام نامے میں وضاحت سے بیان کر دیئے. تو سوال پیدا ہوتا ہے 
کہ دستورِ جماعت کا متذکرہ بالا پیچ در پیچ فارمولا آخر اور کس مرض کی دوا تھا؟ دستور کی روح ہی نہیں الفاظ کے مطابق بھی صاف اور سیدھا راستہ یہ تھا کہ جو کام مولانا مودودی نے ’’بعد از خرابی بسیار‘‘ ماچھی گوٹھ میں کیا وہ وہاں کرتے‘ یعنی اپنے نقطہ ٔ نظر کو وضاحت سے بیان فرما دیتے اور پھر رائے شماری کرا لیتے‘ اس کے نتیجے میں اگر شوریٰ کے ارکان کی اکثریت مولانا کے موقف کی تائید کر دیتی تب تو کوئی بحران یا تعطل پیدا ہی نہ ہوتا. بصورتِ دیگر عام ارکان سے استصواب کے لیے اجتماع طلب کر لیا جاتا. جہاں واضح طور پر امیر جماعت اور شوریٰ کی اکثریت کی قرار دادیں ایک دوسرے کے بالمقابل پیش ہوتیں اور ارکان جو فیصلہ کرتے اسے فریقین دستور کے مطابق قبول کر لیتے. اس کے برعکس جو روش مولانا نے اختیار کی وہ نہ صرف یہ کہ دستور کی روح اور الفاظ دونوں کے منافی تھی‘ بلکہ باہمی معاملات کے معروف اور معقول معیارات سے بھی اس درجہ بعید تھی کہ انسان کے لیے کم از کم اس معاملے کی حد تک مولانا کے ساتھ حسن ظن برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے! چنانچہ اس کا بالکل صحیح پوسٹ مارٹم تھا جو مولانا اصلاحی نے اپنے اُس طویل خط میں کر دیا تھا‘ جسے سفیر شام جناب عمر بہاء الامیری نے ’’قاضی کا فیصلہ‘‘ قرار دیا. 

اس معاملے میں اگر اس امکان کو پیش نظر رکھا جائے کہ مولانا مودودی نے دسمبر کی شوریٰ میں تو مصالحت کی کوشش پورے خلوص و اخلاص اور کامل صفائے قلب ہی سے کی تھی‘ لیکن بعد میں جب اس مصالحتی قرار داد کی مختلف اور متضاد تعبیریں کی گئیں اور اس کے نتیجے میں لاہور‘ راولپنڈی اور لائلپور میں جماعت کے حلقوں میں ہنگامہ ہو گیا تب مولانا کا ذہن تبدیل ہوا، تب بھی یہ الزام پوری شدت سے برقرار رہتا ہے کہ اس صورت میں بھی متذکرہ بالا راستہ ہرگز بند نہیں ہوا تھا بلکہ پوری طرح کھلا تھا. اور مجلس شوریٰ کا اجلاس ہنگامی بنیادوں پر دوبارہ فوراً طلب کیا جا سکتا تھا. 

مزید برآں مولانا اصلاحی کے خط کے موصول ہوتے ہی مولانا مودودی کا انتہائی جذباتی انداز میں جماعت کی امارت سے استعفاء دینا اور پھر اس کا سنسنی خیز انداز میں 
اخبارات میں شائع کرایا جانا (۱وغیرہ .........

مروّجہ سیاست کے تو یقینا ’’معروف‘‘ طور طریقے ہیں لیکن (ہلکے سے ہلکے انداز میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ) ؏ ’’ایں حال نیست‘ داعی‘ عالی مقام را!‘‘

اس کے بعد کی مصالحتی مساعی کے ضمن میں بھی بہت سی کہانیاں عام ہوئیں‘ یہاں تک کہ صریح کذب بیانی او دروغ گوئی کے الزام بھی لگے، لیکن چونکہ ان کا حتمی علم سوائے علام الغیوب تبارک و تعالیٰ کے اور کسی کو نہیں ہو سکتا‘ لہٰذا ہم اُن سب سے صرفِ نظر کرتے ہوئے آخر میں صرف اُس بات کی جانب اشارہ کرنا چاہتے ہیں جس پر تفصیلی گفتگو اجتماعِ ماچھی گوٹھ کی روداد کے سلسلے میں ’نقض غزل‘ کے اُس حصے میں ہو چکی ہے جو اسی شمارے میں شائع ہو رہا ہے‘ یعنی یہ کہ اولاً مولانا مودودی کو اپنی قرار داد میں مولانا اصلاحی کا اضافہ ہرگز قبول نہیں کرنا چاہیے تھا‘ اور مولانا اصلاحی کو پورا موقع دینا چاہیے تھا کہ وہ اپنے قول کے مطابق مولانا کی قرار داد کے بالمقابل دسمبر کی شوریٰ والی قرار داد کو پیش کرتے اور اس طرح دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی جدا ہو جاتا. ثانیاً جب انہوں نے اپنی قرار داد میں مولانا اصلاحی کی ترمیم قبول کر لی تھی تو اب یہ ان کی ذاتی قرار داد نہیں رہی تھی بلکہ اس نے دوبارہ 
(۱): اس کی جو تفصیل حال ہی میں مولانا عبد الغفار حسن صاحب کی زبانی معلوم ہوئی ‘ وہ یہ ہے کہ: یہ جنوری ۵۷ء کی کوئی تاریخ تھی‘ اور زور دار بارش ہو رہی تھی‘ کہ مرکزی گاڑی کا ڈرائیور میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ ’’میاں طفیل محمد‘ جناب نعیم صدیقی اور ملک نصر اللہ خاں عزیز گاڑی میں بیٹھے ہوئے ہیں اور آپ کو بلا رہے ہیں‘ فوراً اصلاحی صاحب کے پاس چلنا ہے‘‘. وہاں پہنچے تو طفیل صاحب نے مولانا مودودی کا استعفاء پڑھ کر سنایا جس پر نعیم صاحب کمبل میں منہ چھپا کر سسکیاں لینے لگے لیکن مولانا اصلاحی نے فرمایا: ’’اس کی خبر نہ کسی رکن جماعت کو دیں‘ نہ اخبارات کو‘ بلکہ بذریعہ ٹیلی گرام شوریٰ کا اجلاس طلب کر لیا جائے!‘‘ لیکن واپسی پر جب نعیم صاحب مرکز پہنچے تو انہوں نے یہ اعلان کیا کہ: ’’میں جماعت کی رکنیت سے استعفاء دیتا ہوں‘ اور چونکہ اب میں نظم کا پابند نہیں رہا لہٰذا میرے لیے ارکانِ جماعت کو مولانا کے استعفے کی خبر پہنچانے میں کوئی چیز مانع نہیں ہے!‘‘ اور ھر فون اٹھایا اور مختلف ارکانِ جماعت کو اطلاع دینی شروع کر دی. شام کو میاں طفیل محمد صاحب کا خط بھی آ گیا کہ ’’چونکہ ارکان جماعت کو سینہ بہ سینہ خبر پہنچ چکی ہے‘ لہٰذا اب اخفاء کی کوشش عبث ہے‘ لہٰذا میں استعفے کی خبر اخبارات کو بھی دے رہا ہوں!‘‘. 
ایک ’’مصالحتی فارمولے‘‘ کی صورت اختیار کر لی تھی‘ لہٰذا اس میں ترمیم بھی فریقین کی رضا مندی ہی سے ہونی چاہیے تھی‘ جس کے لیے شوریٰ کا اجلاس طلب کیا جانا چاہیے تھا تاکہ مولانا اصلاحی کو بھی دوبارہ پورا موقع مل جاتا کہ اپنا موقف اور لائحۂ عمل از سر نو معین کر لیں‘ لیکن افسوس کہ اس مرحلے پر مولانا مودودی نے اچانک مبارزت طلبی کی وہ صورت اختیار کر لی‘ جو اس کے بعد سے اُن کے ہر اقدام اور ہر لفظ سے مترشح ہوتی رہی.

الغرض! بات کو کھولا جائے تو قدم قدم پر ؎

ناطقہ سر بگریباں ہے‘ اسے کیا کہیے
خامہ انگشت بدنداں ہے اسے کیا لکھیے!

والا معاملہ نظر آتا ہے اور لسان العصر اکبر الٰہ آبادی کے اس فلسفیانہ شعر کے مصداق کہ ؎

جہاں ہستی ہوئی محدود‘ لاکھوں پیچ پڑتے ہیں
عقیدے‘ عقل‘ منطق‘ سب کے سب آپس میں لڑتے ہیں

مولانا مودودی کی رائے‘ قول اور عمل سب ایک دوسرے سے دست و گریباں نظر آتے ہیں‘ اور ’ہاتھی کے پاؤں میں سب کے پاؤں‘‘ کے مطابق سو بات کی ایک بات درکار ہو تو یہ سب کچھ نتیجہ ہے اس کا کہ تأسیس جماعت کے موقع پر مولانا مودودی نے اپنے اصل خیالات و نظریات کے برعکس ایک ایسی تنظیمی ہیئت اختیار کر لی جس کو وہ نہ ذہناً قبول کر سکے نہ عملاً. جس کے نتیجے میں خود ان کی برسہا برس کی محنت شاقہ کو جو نقصان پہنچا‘ اور انہیں خود اپنے ہی ہاتھوں محنت و مشقت سے کاتا ہوا سوت جس طرح تار تار کر دینا پڑا‘ اس سے قطع نظر تجدید و احیائے دین کی تحریک اور اقامت دین کی سعی و جہد کو شدید نقصان پہنچا 
فاعتبروا یا اولی الا بصار! 

دوسری طرف اس ’نقض غزل‘ کی ذمہ داری کا کم از کم ۲۵ فی صد حصہ مولانا امین احسن اصلاحی پر بھی عائد ہوتا ہے‘ اور وہ اس لیے کہ انہوں نے مولانا مودودی کے ساتھ مسلسل کئی سال کی کھینچ تان کے بعد جو پیچ در پیچ دستوری فارمولا طے کرایا تھا‘ وقت آنے پر 
اس کے منطقی تقاضوں کو پورا کرنے سے خود بھی کامل گریز کیا. 

اس سلسلے میں الحمد للہ کہ ہم نے اپنی تئیس برس قبل کی تحریر میں بھی جو ’’میثاق‘‘ میں دسمبر ۶۶ء میں اس وقت شائع ہوئی تھی جب ’’میثاق‘‘ مولانا اصلاحی کے ’’زیر سرپرستی‘‘ شائع ہوا کرتا تھا‘ واضح کر دیا تھا کہ ہمارے نزدیک جائزہ کمیٹی کے ارکان پر مولانا مودودی کے الزام نامے‘ اس پر مولانا اصلاحی کے مدلل تعاقب‘ اور اس کے جواب میں مولانا کے امارتِ جماعت سے استعفے کے اعلانِ عام کے بعد مولانا اصلاحی کی مصالحت پر آمادگی اور مصالحت کنندگان کی مساعی کے ساتھ تعاون ناقابل فہم ہے. ’’اور مستقبل کے مؤرخ کے لیے یہ حق باقی رہ جاتا ہے کہ وہ چاہے تو اُن کے طرزِ عمل کو انتہائی درد مندانہ اور مخلصانہ صلح جوئی کا نتیجہ قرار دے لے اور چاہے تو کمزوری پر محمول کر لے!‘‘ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو ’’میثاق‘‘ جنوری ۱۹۹۰ء صفحات ۸۲ء تا ۸۶)

راقم الحروف کو اچھی طرح یاد ہے کہ اجتماع ماچھی گوٹھ کے لیے روانگی سے چند یوم قبل راقم نے لاہور میں مولانا اصلاحی سے ملاقات کی اور جب یہ معلوم ہوا کہ مولانا ظفر احمد انصاری نے اجتماعِ ارکان سے قبل اپنی ایک مصالحتی کوشش کے ضمن میں مولانا سے کچھ وعدے لے لیے ہیں تو راقم نے ان سے صاف عرض کیا کہ: ’’مولانا! اب حالات جہاں تک پہنچ گئے ہیں ان کا تقاضا تو یہ ہے کہ آپ ماچھی گوٹھ کے اجتماع میں مولانا مودودی پر عدم اعتماد کی قرار داد لے کر کھڑے ہوں!‘‘ اس پر مولانا نے گہرے تاثر کے ساتھ فرمایا: ’’یہ ممکن نہیں ہے‘ اس لیے کہ یہ جماعت سوائے مولانا مودودی کے اور کسی شخص کی امارت میں چل ہی نہیں سکتی!‘‘ جس پر میری زبان سے بے ساختہ یہ الفاظ نکلے کہ: ’’پھر آپ نے جماعت کے دستور میں جمہوریت کے تقاضوں کو سمونے کی سعی لاحاصل کیوں کی تھی؟‘‘ اور اس پر مولانا خاموش ہو کر رہ گئے!
یہ صورتِ حال ماچھی گوٹھ کے اجتماعِ ارکان میں اس وقت اپنے نقطہ ٔ عروج 
(Climax) کو پہنچ گئی تھی جب مولانا مودودی نے بھرے اجتماع میں اپنی قرار داد میں مولانا اصلاحی کے تجویز کردہ اضافے کے ’’نہلے‘‘ پر اپنے اضافہ ٔ مزید کا ’’دہلا‘‘ دے مارا تھا‘ اور گویا مولانا اصلاحی کو برسر عام دعوتِ مبارزت دیدی تھی‘ اس پر ہم اپنی حالیہ تحریر میں جو اسی شمارے میں شائع ہو رہی ہے اپنا یہ تاثر بیان کر چکے ہیں کہ اگر اس کی ’’صریح بزدلی‘‘ سے کم تر کوئی توجیہہ ممکن ہے تو صرف یہ کہ اس غیر متوقع اور اچانک حملے سے مولانا اصلاحی بھونچکا ہو کر رہ گئے ہوں‘ اور انکی قوتِ فیصلہ عارضی طور پر مفلوج ہو گئی ہو!

چنانچہ ؏ ’’ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات!‘‘ کے مصداق مولانا اصلاحی کو اس وقت کے تذبذب یا کم ہمتی اور بزدلی کی بھر پور سزا بھی جلد ہی مل گئی. اس لیے کہ ماچھی گوٹھ کی فتح عظیم کے بعد مولانا مودودی کی خود اعتمادی میں بے پناہ اضافہ ہو گیا. چنانچہ کوٹ شیر سنگھ کے اجتماعِ شوریٰ میں انہوں نے کمال اعتماد کے ساتھ اپنا پورا فلسفہ ٔ تنظیم و جماعت اور تصورِ قیادت و امارت کھول کر بیان کر دیا اور اس طرح گویا مولانا اصلاحی کو دوبارہ ایک کھلی دعوتِ مبارزت دیدی . جس کے جواب میں مولانا کو راہِ فرار اختیار کرتے ہی بنی. یہی وجہ ہے کہ جنوری ۵۸ء میں جماعت کی رکنیت سے مستعفی ہو جانے کے بعد جو خط و کتابت مولانا اصلاحی اور مولانا مودودی کے مابین ہوئی اس میں مولانا مودودی کا پلڑا بہت بھاری نظر آتا ہے اور وہ مولانا اصلاحی کو بار بار دلیل اور منطق کے میدان میں مقابلے کی دعوت دیتے دکھائی دیتے ہیں‘ جبکہ مولانا اصلاحی گریز اور فرار کی راہ اختیار کرنے پر مجبور نظر آتے ہیں. اس لیے کہ ماچھی گوٹھ کے بعد سے جماعت کی زمین اور آسمان سب بدل گئے تھے اور نئے حالات میں مولانا اصلاحی کے لیے مولانا مودودی کے سامنے آنا قطعاً نا ممکن تھا! اس کیفیت کا تقابل اگر اس وقت کی صورتِ حال سے کیا جائے جب مولانا اصلاحی نے مولانا مودودی کے جائزہ کمیٹی کے خلاف الزام نامے کا جواب تحریر کیا تھا تو ؏ ’’بہ بیں تفاوتِ رہ از کجاست تا بہ کجا!‘‘ کے مصداق زمین اور آسمان کا فرق نظر آتا ہے! 
فاعتبروا یا اولی الا بصار! 

مولانا اصلاحی سے ایک شکایت اور بھی ہے‘ اور وہ یہ کہ انہوں نے آج تک اقامت دین کے لیے قائم ہونے والی جماعت کے تنظیمی ڈھانچے اور اس میں جمہوریت اور 
شورائیت کے تقاضوں کے ضمن میں اپنے تصورات کو کبھی تفصیل کے ساتھ بیان نہیں کیا. اس سلسلے میں انہوں نے مجلس شوریٰ میں تو یقینا اپنے خیالات کا اظہار بھی کیا ہو گا. اور اس کے حق میں دلائل بھی دیئے ہوں گے (بلکہ مولانا کے ایک خط سے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس مسئلے میں کسی موقع پر دوسرے اصحابِ علم و فضل سے بھی رجوع کیا گیا تھا) تب ہی وہ پیچ در پیچ فارمولا طے پایا ہو گا جس کا ذکر ہو چکا ہے. لیکن جماعت کے عام ارکان کے سامنے ان کے نقطہ ٔ نظر کی وضاحت کبھی نہ آ سکی. حالانکہ اس فارمولے کے دستورِ جماعت میں ثبت ہو جانے کے بعد اس کے حق میں کسی وضاحتی تحریر کی اشاعت ہرگز قابل اعتراض نہ ہوتی. پھر اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ جماعت میں شامل ہوتے ہوئے اس بحث کو پبلک میں چھیڑنا ادنیٰ درجہ ہی میں سہی‘ بہر حال نا مناسب تھا‘ تب بھی اس کا کیا جواب ہے کہ جماعت سے علیحدگی کے بعد بتیس سالوں کے دوران بھی مولانا نے اس موضوع پر ایک حرف تک سپرد قلم نہیں کیا کہ آئندہ کام کرنے والوں ہی کے لیے رہنمائی کا سامان فراہم ہو جاتا. اس کی بھی کم از کم ہمارے نزدیک دو کے سوا کوئی تیسری توجیہہ ممکن نہیں ہے‘ یعنی یا تو ان کے نزدیک فریضہ ٔ اقامت دین کی سرے سے کوئی اہمیت ہی نہیں رہی‘ یا انہیں اس کی ادائیگی کے لیے قائم ہونے والی جماعت کے ضمن میں اپنے اُن نظریات اور تصورات پر اعتماد نہیں رہا جن کی بنیاد پر انہوں نے سالہاسال تک مولانا مودودی کے ساتھ وہ کشتی جاری رکھی جسے خود انہوں نے ’’گربہ کشتن‘‘ کی کوشش سے تعبیر کیا. ان میں سے مؤخر الذکر توجیہہ کے خلاف تو ہماری اپنی گواہی موجود ہے کہ کم از کم ۱۹۷۲ء تک تو مولانا اپنے جمہوری شورائی تصورات پر اس حد تک عازم اور جازم تھے کہ جب اُس سال مرکزی انجمن خدام القرآن لاہور قائم ہوئی اور اس میں اُس کے صدر مؤسس کو ویٹو کا حق تفویض کیا گیا تو مولانا نے احتجاج کے طور پر ’’میثاق‘‘ کی پیشانی پر سے ’’زیر سرپرستی مولانا امین احسن اصلاحی‘‘ کے الفاظ ہٹوا دیئے. اور یہ الفاظ بھی فرمائے کہ ’’اسی مسئلے پر تو میں نے مولانا مودودی سے جنگ کی تھی!‘‘

بنا بریں صرف مقدم الذکر توجیہہ باقی رہ جاتی ہے لیکن اسے تسلیم کرنے سے بھی ذہن اس لیے انکاری ہے کہ صرف اقامت دین کی اجتماعی جدو جہد ہی کے لیے تو مولانا اصلاحی 
نے سرائے میر‘ اعظم گڑھ سے دار الاسلام‘ پٹھان کوٹ ہجرت کی تھی جبکہ علمی اور تعلیمی سرگرمیوں کے ضمن میں تو وہاں مدرسۃ الاصلاح اور دائرۂ حمیدیہ ایسے ادارے بھی موجود تھے‘ اور ان کا اپنا ماہنامہ ’’الاصلاح‘‘ بھی جاری تھا. مزید برآں مولانا مودودی کی اختیار کردہ اصطلاح ’’قیامِ حکومت الٰہیہ‘‘ کی جگہ ’’اقامت دین‘‘ کی اصطلاح کو تو انہوں نے ہی رواج دیا تھا‘ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کی معرکۃ الآراء کتاب ’’دعوتِ دین اور اس کا طریق کار‘‘ آج تک شائع ہو رہی ہے جس کے دوسرے اور اہم ترین باب ’’تبلیغ کس لیے؟‘‘ کے آخر میں اُس کی پوری بحث کے خلاصے اور لب لباب کے طور پر یہ زور دار الفاظ تاحال موجود ہیں: 

’’اس پوری تفصیل کا خلاصہ یہ ہے:

(ا): آنحضرت  پر تمام دنیا میں قیامت تک کے لیے تبلیغ دین کی جو ذمہ داری ڈالی گئی تھی اس کی طرف نبی کریم  نے رہنمائی فرما کر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی تکمیل کا کام اپنی امت کے سپرد فرمایا‘ تاکہ یہ امت ہر ’’ملک‘‘ ہر قوم اور ہر زبان میں قیامت تک اس دین کی تبلیغ کرتی رہے.

(ب): اس تبلیغ کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ شرط مقرر ہے کہ یہ دل سے کی جائے‘ زبان سے کی جائے‘ عمل سے کی جائے‘ بلا تقسیم و تفریق‘ پورے دین کی کی جائے‘ بے خوف لومۃ لائم اور بے رو رعایت کی جائے اور اگر ضرورت داعی ہو تو جان دے کر کی جائے.
(ج): اس جماعتی فرض کی ادائیگی کا باضابطہ ادارہ خلافت کا ادارہ تھا اور جب تک یہ ادارہ موجود تھا ہر مسلمان اس فرض کی ذمہ داریوں سے سبکدوش تھا.

(د) : اس ادارہ کے منتشر ہو جانے کے بعد اس فرض کی ذمہ داری امت کے تمام افراد پر ان کے درجہ اور استعداد کے لحاظ سے تقسیم ہو گئی. 
(ھ): اب اس فرض کی مسؤلیت اور ذمہ داری سے سبکدوش ہونے کے لیے دو ہی راہیں مسلمانوں کے لیے باقی رہ گئی ہیں! یا تو اس ادارہ کو قائم کریں یا کم از کم اس کو قائم کرنے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگائیں.

(و): اگر مسلمان ان میں سے کوئی بات نہ کریں تو وہ اس فرضِ رسالت کو اداء نہ 
کرنے کے مجرم ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے سپرد کیا گیا ہے اور صرف اپنی ہی غلط کاریوں کا وبال اپنے سر نہ لیں گے‘ بلکہ خلق کی گمراہی کا وبال بھی ان کے سر آئے گا.‘‘ (صفحات ۴۶۴۷)
الغرض‘ مولانا اصلاحی کا موقف پہلے کیا تھا اور اب کیا ہے؟ یہ ع ’’اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا!‘‘ اور ہمیں یہ باتیں لکھتے ہوئے اگرچہ قلبی اذیت محسوس ہو رہی ہے تاہم یہ سب کچھ لکھ اس لیے دیا ہے کہ ابھی ما شاء اللہ مولانا اصلاحی بقید حیات ہیں اور بحمد اللہ سوائے ایک حاسہ ٔ سماعت کے ان کے جملہ ذہنی قویٰ سلامت ہی نہیں پوری طرح چاق و چوبند ہیں‘ لہٰذا اب بھی وقت ہے کہ مولانا محمد منظور نعمانی کی طرح مولانا بھی وضاحت کے ساتھ لکھ دیں کہ وہ جن تصورات کے تحت جماعت میں شامل ہوئے تھے ان میں سے کن کن سے نظری و فکری طور پر رجوع کر چکے ہیں اور کن کن پر علمی اور ذہنی طور پر قائم ہیں‘ خواہ کسی سبب سے عملاً کاربند نہ ہوں تاکہ مستقبل کے مؤرخ کو بھی صحیح فیصلہ کرنے میں مدد ملے اور آئندہ نسلوں کو بھی رہنمائی کا سامان حاصل ہو!! 

مولانا مودودی مرحوم نے جو تقریر اولاً ماچھی گوٹھ میں ’’مجلس نمائندگان‘‘ کے سامنے اور بعد میں کوٹ شیر سنگھ میں مجلس شوریٰ کے اجلاس میں کی تھی اس کے مرکزی خیال یعنی ایک انقلابی جماعت میں قائد اور امیر کی حیثیت کے ضمن میں اُن کی رائے سے ہم اپنا کامل اتفاق ظاہر کر چکے ہیں. ....لیکن اس مرکزی خیال کے دائیں اور بائیں اس میں دو باتیں ایسی بھی ہیں جن سے ہمیں نہ صرف یہ کہ شدید اختلاف ہے‘ بلکہ فتنہ کی بُو بھی آتی ہے. لیکن اس وقت اُن پر مفصل بحث نہیں کی جا سکتی صرف اجمالی اشارہ ہی کیا جا سکتا ہے.

ان میں سے ایک کا تعلق جماعت میں اختلافِ رائے کے حق اور اظہارِ رائے کی آزادی سے ہے جس کی پُر زور نفی مولانا نے اپنے مخصوص طرزِ نگارش اور خطابی انداز کو بھرپور طور پر بروئے کار لا کر اس طرح کی ہے کہ ایک عام قاری یا سامع فوری طور پر متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا. لیکن اگر ذرا بنظر غائر دیکھا جائے تو اس سے عقل اور نقل دونوں 
تقاضے بری طرح پامال ہوتے نظر آتے ہیں اس لیے کہ یہ فہم عام (Common Sense) اور فطرتِ انسانی کے بھی خلاف ہے‘ اور قرآن و سنت کے اُن نصوص کے بھی منافی ہے جن میں مشاورتِ باہمی کی پُر زور تاکید کی گئی ہے.

اور دوسرا معاملہ قائم اور امیر کی شخصیت کو ع ’’پیراں نمے پرند و مریداں مے پرانند!‘‘ کے مصداق اور مولانا کے اپنے الفاظ کے مطابق خود بنانے اور دوسروں سے بنوانے‘ کا ہے تاکہ اُس کی عظمت کا نقش قلوب و اذہان پر قائم ہو جائے اور اس کی گہری محبت اور عقیدت دلوں میں رچ بس جائے‘ اور اس سلسلے میں مولانا جب تحریک کی کامیابی کی شرائط کے ضمن میں ’’ایک شخصیت کے جادو‘‘ کی اہمیت کو نمایاں کرنے کے ساتھ ساتھ ’’اس جادو کو فروغ دینے‘‘ کا بھی ذکر کرتے ہیں‘ تو اس سے شخصیت پرستی کے فتنے کے لیے نہ صرف یہ کہ دروازہ چوپٹ کھل جاتا ہے بلکہ اس کے جواز کا ایک پورا فلسفہ بھی سامنے آ جاتا ہے! یہ فلسفہ مولانا کے بعض دوسرے قریبی رفقاء (بالخصوص جناب نعیم صدیقی) کے ذریعے تو بہت پہلے سے فروغ پا رہا تھا‘ چنانچہ ’نقض غزل‘ کے اب سے تئیس سال قبل کے تحریر کردہ حصے میں اس پر مفصل کلام موجود ہے (ملاحظہ فرمائیں باب سوم میں ’’شخصیت گری‘‘ کے زیر عنوان متعلقہ بحث) تاہم خود مولانا کے اپنے الفاظ میں اس کی پُر زور وکالت اسی تقریر یا تحریر کے ذریعے سامنے آئی ہے. 

بہر حال ہمارے نزدیک مولانا کے فلسفہ ٔ تحریک کے یہ دو پہلو قائد تحریک کے اختیارات کے بارے میں ان کی رائے کے ساتھ شامل ہو کر ایک بالکل فاشسٹ جماعت کا نقشہ سامنے لاتے ہیں اور اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مولانا کے بارے میں ان کے بعض ناقدین اور معاندین کا یہ الزام بھی بے بنیاد نہ تھا کہ اُن کا مزاج فسطائی ہے‘ اور یہ اطلاع بھی غلط نہ تھی کہ انہوں نے خیری برادران سے بھرپور تاثر قبول کیا تھا جن کے ذہن اور فکر کی ساری اُٹھان نازی جرمنی میں ہوئی تھی!

بہر حال ہم مولانا کے فلسفہ ٔ تحریک کے ان دونوں پہلوؤں سے کامل براء ت کے ساتھ ساتھ اپنے اس یقین کامل کا اظہار کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ اسلام کا عطا کردہ نظامِ 
بیعت متذکرہ بالا دونوں لعنتوں کے بغیر تحریک کے جملہ تقاضے بہ احسن وجوہ پورا کر سکتا ہے اور اس میں مشاورتِ باہمی کی روح کو بھی بہ تمام و کمال سمویا جا سکتا ہے اور اختلافِ رائے کے حق اور اظہارِ رائے کی آزادی پر بھی کسی قدغن کی ضرورت نہیں پڑتی. چنانچہ بحمد اللہ تنظیم اسلامی کی صورت میں ہمارا یہ یقین و اذعان ایک واقعی تجربے کی صورت میں سامنے آ رہا ہے اور ہم اس پر صدق دل سے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہ: 

’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الّذِیْ ھَدَانَا لِھٰذَا وَ مَا کُنَّا لِنَھْتَدِیْ لَوْ لَا اَنْ ھَدَانَا اللّٰہُ‘‘ 

آئندہ کے لیے دعا کرتے ہیں: 

’’رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَیْتَنَا وَ ھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃً اِنَّکَ اَنْتَ الْوَھَّابُ!‘‘
اٰمِیْن یَا رَبَّ الْعَالَمِیْنَ!!