’نقض غزل‘ پر ردعمل کا جائزہ

(تذکرہ و تبصرہ‘ ماہنامہ ’میثاق‘ جون ۹۰ء)

سالِ رواں کے جنوری اور مارچ کے شماروں میں ’نقض غزل‘ کی اشاعت پر حسب توقع شدید مخالفانہ‘ مخلصانہ و ناصحانہ اور تائیدی و وضاحتی‘ ہر نوع کا ردّ عمل موصول ہوا. آج کی صحبت میں اسی کے بارے میں کچھ عرض کرنا پیش نظر ہے. 

قارئین ِ ’’میثاق‘‘ کو یاد ہو گا کہ ’نقض غزل‘ کی اشاعت کا زور دار داعیہ جنوری ۸۹ء میں جدہ میں بعض احباب سے گفتگو کے نتیجے میں پیدا ہوا تھا. جدہ کے ڈاکٹر فرحت علی برنی اور طائف کے ڈاکٹر شجاعت علی برنی سے ہونے والی اُس گفتگو کا مفصل تذکرہ اولاً ’’میثاق‘‘‘ فروری ۸۹ء میں ہوا تھا (صفحات۹۲ تا ۹۵). اور پھر اس کا حوالہ جنوری ۹۰ء کی اشاعت میں دیا جا چکا ہے (صفحات ۱۱ تا ۱۲). اس گفتگو میں راقم الحروف کے سامنے اچانک یہ حقیقت بڑی شدت کے ساتھ آئی تھی کہ جہاں تک جماعت اسلامی پاکستان کے موجودہ طریق کار سے میرے اور تنظیم اسلامی کے اختلاف کا تعلق ہے وہ تو میری تالیف ’’تحریک جماعت اسلامی: ایک تحقیقی مطالعہ‘‘ کے ذریعے پوری وضاحت کے ساتھ لوگوں کے سامنے آ چکا ہے. لیکن جہاں تک جماعت سے علیحدگی کا تعلق ہے اس کے اصل سبب کے بارے میں عوام تو درکنار قریبی مخلصین اور احباب بھی بالکل اندھیرے میں ہیں اور اس کے لیے لازم ہے کہ ’’نقض غزل‘‘ کو مکمل کر کے شائع کر دیا جائے. 

بالکل اسی نوع کا شدید احساس اِن سطور کی تحریر سے ٹھیک ایک ماہ قبل رمضان المبارک کی ایک شام کو ہوا. جب بعد افطار دعوتِ طعام میں جماعت اسلامی لاہور کے بعض نمایاں ارکان سے بشمول سید اسعد گیلانی صاحب ملاقات اور گفتگو کا موقع ملا. اس موقع پر 
محترم گیلانی صاحب نے بڑے گہرے تاثر کے ساتھ فرمایا کہ ’’میری سمجھ میں نہیں آتا کہ جماعت اسلامی اور تنظیم اسلامی میں سوائے ایک ملکی انتخابات میں حصہ لینے یا نہ لینے کے اور کیا فرق ہے! جس پر میں نے عرض کیا کہ’’یہ فرق معمولی نہیں بہت بڑا ہے!بلکہ اس موقع پر میری زبان سے کچھ نا مناسب الفاظ بھی نکل گئے تھے جن پر گہرا تأسف تو مجھے اسی وقت لاحق ہو گیا تھا لیکن فی الفور معذرت کرنے سے اندیشہ تھا کہ کہیں ’’عذرِ گناہ بدتر از گناہ‘‘ والا معاملہ نہ بن جائے‘ لہٰذا میں نے سکوت مناسب سمجھا‘ بعد میں بھی کئی بار خیال آیا کہ فون پر معذرت کر لوں لیکن اس میں بھی یہ احتمال نظر آیا کہ اس طرح ’’جہر بالسوء‘‘ کے بارِ دگر اعادہ کی صورت نہ بن جائے. بہر صورت اب میں بغیر ان نامناسب الفاظ کو نقل کئے گیلانی صاحب سے علی رؤوس الاشہاد معذرت کرتا ہوں ؏ ’’گر قبول افتد زہے عزوّ شرف!). اس پر گیلانی صاحب نے فرمایا کہ ’’انتخابات کا مسئلہ خواہ اپنی جگہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو آخر ہے تو صرف تدبیر ہی کا معاملہ!‘‘ جس پر میں نے عرض کیا کہ: ’’آپ کی بات بلکل درست ہے‘ اور میں ہرگز اس اختلاف کی بنا پر جماعت سے علیحدہ نہ ہوتا بشرطیکہ جماعت میں اختلافِ رائے اور اس کے اظہار کے لیے راستے کھلے رکھے جاتے!‘‘ گیلانی صاحب نے جواباً ارشاد فرمایا کہ ’’جماعت میں اختلافِ رائے کی آزادی تو موجود ہے!‘‘ تب میں نے عرض کیا کہ ’’مجھے اس بات کا جواب دیں کہ آیا ماچھی گوٹھ میں طے ہوا تھا یا نہیں کہ جماعت اسلامی کی طے شدہ پالیسی سے اختلاف رکھنے والے لوگ جماعت میں رہ تو سکتے ہیں لیکن (i) نہ بذریعہ تحریر اپنی رائے کا اظہار کر سکتے ہیں. (ii) نہ نجی گفتگوؤں میں اپنی رائے پیش کر سکتے ہیں. (iii) نہ ہی مقامی‘ حلقہ جاتی اجتماعاتِ ارکان میں اظہار خیال کر سکتے ہیں بلکہ صرف اور صرف کُل پاکستان اجتماعِ ارکان ہی میں گفتگو کر سکتے ہیں! اب آپ مجھے یہ بتائیے کہ اولاً ایسا اجتماع کئی کئی سال بعد منعقد ہوتا ہے‘ پھر اس میں کئی ہزار افراد شریک ہوتے ہیں اور ارکان کے خصوصی اجتماع کے لیے بہت مختصر وقت ہی رکھا جا سکتا ہے. چنانچہ حالیہ کُل پاکستان اجتماع میں آپ نے صرف ایک مختصر نشست ارکان کے لیے مخصوص رکھی تھی‘ تو اس صورت میں اختلافِ رائے کا اظہار کیسے ممکن ہے؟‘‘ اس پرمحترم گیلانی صاحب نے تو سکوت اختیار فرمایا لیکن حاضرین میں سے ایک سنیئر رکن جماعت نے مجھ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ’’صَدَقْتَ!‘‘ . میں نے محترم گیلانی صاحب سے یہ بھی دریافت کیا کہ: ’’آپ ہی کے اُس انٹرویو سے جو ہفت روزہ ’’ندا‘‘ میں شائع ہوا ہے‘ مجھے یہ معلوم ہوا کہ ڈاکٹر محمد امین صاحب کو جماعت سے نکالا گیا ہے‘ تو کیا آپ یہ بتانا پسند فرمائیں گے کہ ان کا ’جرم‘ کیا تھا؟‘‘ اس پر جب انہوں نے یہ تسلیم کر لیا کہ اُن کا قصور صرف یہ تھا کہ انہوں نے جماعت کی پالیسی کے بارے میں ایک سوال نامہ مرتب کر کے بعض ارکانِ جماعت کو ارسال کیا تھا تو میں نے عرض کیا کہ پھر بتائیے کہ جماعت میں اختلافی رائے کے پنپنے کا کونسا موقع ہے؟ اس پر جو خاموشی جملہ حاضرین پر طاری ہوئی اُس سے اُن کی شرافت اور متانت کا تو گہرا تاثر قلب نے قبول کیا لیکن اس ملاقات اور گفتگو سے راقم الحروف کو مزید انشراح حاصل ہوا کہ ’’نقض غزل‘‘ کی اشاعت نہایت ضروری اور لازمی تھی.

میرے لیے ’’نقض غزل‘‘ کی اشاعت کے ضمن میں سب سے زیادہ اطمینان بخش بات یہ سامنے آئی کہ میرے بعض نہایت قریبی اور دیرینہ رفقاء کار نے صراحتاً تسلیم کیا کہ ’’آپ کے جماعت اسلامی سے پالیسی کے اختلاف کے بارے میں تو ہمارا ذہن بھی بالکل واضح تھا‘ اور ہمیں اس پر پورا شرحِ صدر بھی حاصل تھا‘ لیکن واقعہ یہ ہے کہ جماعت سے علیحدگی اختیار کرنے کے فیصلہ پر خود ہمیں پورا انشراح حاصل نہ تھا‘ اور اس معاملے میں قلب و ذہن میں ایک دبی اور چھپی ہوئی سی خلش موجود تھی جو کبھی دُور نہ ہو سکتی اگر ’’نقض غزل‘‘ کی تکمیل اور یکجا اشاعت نہ ہوتی!‘‘

مزید برآں ذاتی طور پر میرے لیے اس سے کہیں بڑھ کر اطمینان بخش امر یہ ہے کہ 
’’کُلُّ اَمۡرٍ مُّسۡتَقِرٌّ ﴿۳﴾‘‘ (القمر: ۳کے مطابق اس کی اشاعت کی صورت من جانب اللہ پیدا ہوئی‘ یعنی یہ کہ تحریک اسلامی کی قیادت و امارت کے فلسفے کے موضوع پر مولانا مودودی مرحوم کی وہ تقریر جس کو میں ع ’’جسے میں ڈھونڈتا تھا آسمانوں میں زمینوں میں!‘‘ کے مصداق سالہاسال سے تلاش کرتا رہا تھا وہ اچانک از خود ہفت روزہ ’’آئین‘‘ کے صفحات پر جلوہ گر ہو گئی جس سے جماعت اسلامی پاکستان کی تاریخ کے ۵۷۵۶ء والے گمشدہ باب کے ضمن میں بعض سوالات جو خود راقم کے ذہن کے سامنے حل طلب موجود تھے ایک دم حل ہو گئے. اور اس طرح راقم ’’نقض غزل‘‘ کی تکمیل پورے اطمینانِ قلب اور انشراحِ صدر کے ساتھ کر سکا‘ اور بحمد اللہ راقم کو پورا اطمینان ہے کہ اگرچہ فی الوقت اس کی اشاعت بعض حضرات کو ناگوار گزری ہے لیکن ان شاء اللہ تحریک اقامت دین اور اعلاء کلمۃ اللہ کی سعی و جہد کے وسیع تر تقاضوں اور مصلحتوں کے اعتبار سے اس کا منظر عام پر آنا نہایت مفید ثابت ہو گا. واللہ اعلم!!

اور اب آئیے ’’ردّ عمل‘‘ کے جائزہ کی جانب!

۱. اس سلسلے میں شدید ترین رد عمل ان حضرات کا ہے جنہوں نے اپنی ناراضگی کے اظہار کے طور پر ’’میثاق‘‘ کی خریداری منقطع کر دی ہے‘ اگرچہ ایسے حضرات کی تعداد میری توقع سے بہت کم رہی تاہم ان کے جذبات کی نمائندگی ایبٹ آباد کے قاضی عبد القدوس صاحب کے درج ذیل خط سے ہو جاتی ہے: