محترم ڈاکٹر صاحب

اسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ. گزشتہ دو تین ماہ سے ’’میثاق‘‘ میں ان واقعات کا تجزیہ کیا جا رہا ہے جسے آپ ’’نقض غزل‘‘ کے عنوان کے تحت بالالتزام شائع فرما رہے ہیں. عام قاری کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں کہ آپ ’’جماعت اسلامی‘‘ کے رکن کیوں بنے‘ اور کن حالات اور وجوہات کی بناء پر آپ نے اس جماعت سے علیحدگی اختیار کی.

میرا مقصد حیات تو 
’’خُذْ مَا صَفَا وَدَعْ مَا کَدَرَ‘‘ ہے اچھی بات جہاں سے ملے اسے اپنایا جائے اور مکروہات سے اجتناب کیا جائے. 

ٹیلی وژن پر آپ کے دروسِ قرآن سن کر آپ کا ہمنوا بنا لیکن ’’میثاق‘‘ کے 
’’نقض غزل‘‘ نے آپ کی حق گوئی کو واضح کر دیا. مولانا مرحوم سید ابو الاعلیٰ مودودی نے اسلام کے لیے جو کچھ کیا اس کا جواب وہ خود اپنے خالق حقیقی کے سامنے پیش ہو کر دیں گے. رحلت کے بعد ان کے افعال پر تنقید کسی طرح بھی جائز نہیں. کیا یہ کم ہے کہ وہ قرآن سیکھنے والوں کے لیے ’’تفہیم القرآن‘‘ کی صورت میں ایک اعلیٰ پایہ کی تفسیر اپنے پیچھے چھوڑ گئے ہیں. قرآن ہمیں ’’وَ اعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰہِ جَمِیۡعًا‘‘ کی تلقین کرتا ہے اور امارت کے شوق میں علیحدہ جماعت بنانے سے منع کرتا ہے. لیکن آپ نے ’’وَّ لَا تَفَرَّقُوۡا‘‘سے بچنے کے لیے ’’نقض غزل‘‘ کے پردہ کے پیچھے پناہ لینے کی کوشش کی ہے. 

اس لیے میں بامر مجبوری درخواست کرتا ہوں کہ آئندہ مجھے ’’میثاق‘‘ کی خریداری سے معذور جان کر رسالہ ارسال نہ کیا جائے.
ایک بار پھر اس اقدام کے لیے معذرت خواہاں ہوں. فقط والسلام 
عبد القدوس
خریداری نمبر 
M-C-PK-FP-ATD-0014 

قاضی صاحب موصوف اور ان کے ہم خیال حضرات سے ہمیں صرف یہ عرض کرنا ہے کہ انکی رائے صائب اور فیصلہ مناسب ہے اس لیے کہ فی الواقع ’’میثاق‘‘ صرف علمی و اصلاحی یا محض دعوتی و تبلیغی جریدہ نہیں ہے‘ بلکہ ایک انقلابی تحریک کا ترجمان ہے اور اس تحریک کے مقتضیات اس کے لیے ہمیشہ مقدم رہتے ہیں. بنا بریں ایسے حضرات کا ’’میثاق‘‘ سے قطع تعلق کر لینا بالکل درست ہے جو اس تحریک سے کوئی دلچسپی یا ذہنی و قلبی مناسبت نہ رکھتے ہوں.

۲. دوسرا کسی قدر نرم اور اصلاً ناصحانہ اور مخلصانہ ردّ عمل جدہ‘ سعودی عرب سے جناب غلام فرید خاں صاحب کی جانب سے موصول ہوا ہے. موصوف اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص (بی کام‘ سی پی آئی اور ایف سی آئی آئی لندن) ہیں. اور انہی کے مانند خیالات و احساسات بعض دوسرے حضرات کی جانب سے بھی ظاہر ہوئے ہیں لہٰذا ان کا خط بھی من و عن شائع کیا جا رہا 
ہے. خان صاحب موصوف رقم طراز ہیں: