(’میثاق‘ اگست ۱۹۹۰ء)
محترمی ڈاکٹر اسرار احمد صاحب! السلام علیکم و رحمۃ اللہ. 

تازہ میثاق (جون ۱۹۹۰ء) کے ص ۳۳ پر میرا ذکر مجھے شرمسار کرنے کا باعث ہوا‘ نجانے اور کتنے اصحاب پر کیا کیا اثرات پڑے ہوں گے.
میں چونکہ میدانِ خلافیات سے زیادہ تر کنارے رہتا ہوں‘ نہ ڈائری رکھتا ہوں‘ نہ کسی کے متعلق یادداشتیں جمع رکھنے کی عادت ہے‘ اس لیے چند سال کی ایک بات اگر صحیح شکل میں سامنے نہ آئے تو اس کی وضاحت کرنے میں خاصی مشکل ہوتی ہے. مگر اتفاق سے وہ گفتگو ذہن میں ابھر آئی ہے اور اس کے بعض خاص جملے بھی‘ اس لیے آسانی ہو گئی ہے کہ تاریخ کے ریکارڈ کو درست رکھا جائے.

یہ درست کہ آپ مرکزی انجمن خدام القرآن لاہور کی سالانہ کانفرنسوں کے سلسلے میں کسی وقت مجھ سے اچھرہ میں گھر پر ملے تھے مگر جو گفتگو ہوئی اس کی رپورٹنگ میں ایسی شکل سامنے آتی ہے کہ آپ تو بڑے جذبۂ اتحاد و تعاون سے آئے تھے مگر آپ کو جواب دیا گیا کہ آپ سے ہمارا شدید اختلاف ہے‘ اس لیے ’’میری شرکت نا ممکن ہے‘‘ (بالفاظ ڈاکٹر صاحب) حالانکہ بات اختلاف کی نہ تھی بلکہ میں نے عرض کیا تھا کہ یہ صورت تو عجیب سی ہو گی کہ آپ کی طرف سے ایک جانب تو محاذِ مخالفت گرم ہو اور دوسری جانب مجالس اور کانفرنسوں میں ہم ایک دوسرے سے تعاون بھی چاہیں. اسی کے ساتھ میں نے کہا کہ میں کوئی تنہا فرد نہیں ہوں کہ جدھر چاہوں چل پڑوں‘ میں ایک جماعتی نظم کا پابند ہوں‘ میرے لیے یہ فیصلہ کرنا بطورِ خود مشکل ہے کہ میں کہاں جاؤں اور کہاں نہ جاؤں. تب آپ نے فرمایا کہ اچھا میں امیر جماعت سے اجازت لے دیتا ہوں. میں نے عرض کیاکہ کوئی پیچیدگی پیدا نہ 
کیجئے. فرض کیجئے میں کسی نہ کسی طرح آپ کے پلیٹ فارم پر پہنچ جاتا ہوں‘ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ پورے پاکستان میں اکابر سے لے کر متفقین تک یہ سوال یا شبہ اٹھ کھڑا ہو گا کہ میں وہاں کیوں گیا جہاں سے ناوک اندازی بخلافِ جماعت ہو رہی ہے. میں کس کس کو خطوں میں اور زبانی طور پر جواب دیتا پھروں گا. تب آپ نے فرمایا کہ پھر کوئی تدبیر بتایئے کہ اس صورتِ حالات کو درست کیا جا سکے. میں نے عرض کیا کہ سارے قضیے کے حل کے لیے ایک فقرہ کافی ہے جو آپ کی طرف سے شائع ہو جائے. آپ نے دریافت فرمایا کہ آپ ذرا وہ فقرہ مجھے لکھ دیں یا لکھا دیں (یا بتا دیں). مگر دراصل میں نے اپنا منشا تو آپ تک سری یا اشاراتی طریق سے پہنچا دیا تھا. جب آپ سمجھ نہیں رہے تھے اور سمجھ گئے تھے تو اسے اختیار نہیں کرنا چاہتے تھے تو میرا دماغ اتنا کھوکھلا نہیں کہ میں کوئی جملہ لکھ کر آپ سے واضح طور پر ’’نہ‘‘ سنوں. جس طرح آپ مجھ سے ’’نہ‘‘ نہیں سننا چاہتے تھے‘ اسی طرح میں بھی ایسی ٹھوکر سے بچنا چاہتا تھا‘ چنانچہ میں نے آپ کو یہ جواب دیا کہ:

’’ڈاکٹر صاحب! آپ بہت ذہین ہیں‘ سوچنے‘ لکھنے اور بولنے پر قادر ہیں‘ آپ اس کے محتاج نہیں ہیں کہ کوئی دوسرا آدمی آپ کو جملہ مرتب کر کے دے‘‘.

سیدھی سی بات ہے کہ آدمی جھگڑا ختم کرنا چاہتا ہو یا کسی نزاع و تصادم کی دلدل سے نکلنا چاہتا ہوں تو اس کا ذہن اسے ضروری الفاظ اور جملے فراہم کر دیتا ہے. مگر ارادہ نیت کچھ اور ہو اور باہر سے لوگ جملے ٹھونسنا چاہیں تو بے کار ہے. 

آپ کے یہ الفاظ کہ ’’قرآنی پلیٹ فارم پر میرے ساتھ کیوں تشریف نہیں رکھ سکتے‘‘ بڑے خوب ہیں. آپ قرآن کی بلندی سے فائدہ اٹھا کر خود بھی بلند ہو جاتے ہیں اور قارئین میں بھی بڑی جذباتی لہر اپنے حق میں پیدا کر لیتے ہیں. اندازِ بیان کی یہ مہارتیں اہل سیاست میں اور طرح ہوتی ہیں اور اہل مذہب میں اور طرح کام کرتی ہیں.

ہم کہتے ہیں کہ ہمارے پاس نظام اسلامی اور اقامت دین کا پلیٹ فارم ہے اور ہم طاغوتی اور لادینی قوتوں سے نبرد آزما ہیں. اکوڑہ خٹک کے بزرگ کہتے ہیں کہ ہمارے ہاتھ میں شریعت بل ہے‘ مولانا منظور احمد چنیوٹی فرماتے ہیں کہ ہمارے ہاتھ میں ختم نبوت کا 
جھنڈا ہے. قادری صاحب کے پاس محبت رسالت کا پلیٹ فارم ہے‘ ایک پلیٹ فارم شہادتِ حسینرضی اللہ عنہ کا بھی ہے. سب اپنے ہیں مگر اصل سوال رویوں کا ہوتا ہے کہ کس کا رویہ کس سے کیا ہے. آپ نے قرآن کانفرنس تو کئی بار کر ڈالی مگر آپ سے یہ رویہ نہ چُھٹا اور آپ نے ہمارے خلاف جو کھیل شروع کیا وہ ختم نہ ہو سکا. آپ ایک ایک ریکارڈ یا ٹیپ کو بار بار اپنے قارئین کو سنواتے ہیں. قرآن آپ کو یہ نہیں سکھا سکا کہ آپ غلبۂ دین یا فروغِ دین یا اقامت دین کے لیے اگر دوسرے سرگرم کار دوستوں سے تعاون نہیں کر سکتے تو بلا وجہ تصادم نہ کریں. کوئی وضاحت ایک بار‘ دو بار کرنی ضروری تھی تو وہ ہو گئی. للہ آپ فاشزم‘ سیکولر ازم‘ نظریہ ٔ ارتقا‘ بے خدا جمہوریت‘ سودی نظام‘ کمیونزم‘ مغرب میں خاندانی زندگی کا انتشار (اور ان ساری بلاؤں کا عکس اپنے ہاں موجود ہے) وغیرہ موضوعات پر کام کرتے اور نوجوانوں سے کراتے. اسلامی قوانین و اخلاق کے ضابطے مرتب کراتے. اور نہیں تو قدیم اور جدید تر مستشرقین کی شر انگیزیوں پر توجہ صَرف کرتے‘ صلیبی مشنریوںکی سیاسی یلغار کا جائزہ لیتے.
معلوم نہیں آپ نے یہ کس قرآن میں پڑھ لیا ہے کہ سارا انقلابِ اسلامی مولانا مودودیرحمہ اللہ اور جماعت اسلامی کے خلاف دماغ اور زبان اور قلم کی قوتیں کھپا دینے سے رونما ہو جائے گا. بار بار تمہید میں تعریف‘ متن میں مخالفت اور بین السطور پر نہ جانے کیا کیا پیش کر کے آپ جو نامۂ اعمال بنا رہے ہیں وہ آخرت میں کیا نتیجہ دے گا بلکہ عین اس دنیا میں کیا؟ 

یہ تو بس کربلا کی سی داستان ہے کہ دوہراتے رہئے ماتم کرتے رہئے اور شامِ غم مناتے رہئے. آپ کا جی اس میں خوش ہے تو خوش رہے. آپ کا ایمان اس سے تازہ ہوتا ہے تو بار بار خوب اچھی طرح تازہ کیجئے اور آپ کے اخلاق میں علو آتا ہے اور آپ کی جماعت جادۂ انقلاب کو اس مشغلے کی وجہ سے جلد تر طے کر سکتی ہے تو مبارک!

آپ اپنے معاملات‘ اپنے افکار اور اپنے رویوں کا خود بہت اچھا فیصلہ کر سکتے ہیں. ہماری کیا مجال کہ بے وجہ دخل دیں. 
نیاز کیش
نعیم صدیقی
۹۰۶۱۴ 


بسم اللہ الرحمن الرحیم 
۳۶ . کے‘ ماڈل ٹاؤن لاہور
۱۸؍ جولائی ۱۹۹۰ء