سمع طاعت پر مقدم کیوں؟


اس سلسلے میں تیسری لائق توجہ بات یہ ہے کہ ’’سمع و طاعت‘‘ میں ’’سمع‘‘ مقدم ہے ’’طاعت‘‘ پر. ویسے تو طبعی ضابطہ بھی یہی ہے کہ آپ کوئی بات سنیں گے تو اس کی اطاعت کریں گے‘ لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ ’’سمع وطاعت‘‘ کا حکم دیتے ہوئے 
’’وَاسْمَعُوْا‘‘ کو کیوں نمایاں کیا گیا ہے؟اس لیے کہ اقامت دین کی جدوجہد ایک اجتماعی شکل اور جماعتی ہیئت ہی میں ممکن ہے اور اس سلسلے کے تمام احکام سے بروقت آگاہی کے لیے اس جماعتی نظم سے وابستگی اور پیوستگی ضروری ہے. اگر آپ اس جماعتی نظم سے وابستہ نہیں ہیں تو ’’سمع‘‘ ہی نہیں ہو گا‘ نتیجتاً ’’طاعت‘‘ کی نوبت کہاں آئے گی؟ رسول اللہ کے احکام خطباتِ جمعہ میں صادر ہوتے تھے. اُس وقت آج کی طرح ریڈیو‘ ٹیلی ویژن‘ اخبارات‘ ٹیلی فون ‘ٹیلی گرام اور انٹرنیٹ جیسے رسل و رسائل اور ابلاغ کے ذرائع تو تھے نہیں. اب جو شخص جمعہ میں آتا ہی نہ ہو اور اس طرح ان احکام کے سننے ہی سے محروم رہے تو وہ اطاعت کیسے کرے گا! چنانچہ رسول اللہ نے خطبہ ٔجمعہ کے دوران منبر پر یہ فرمایا کہ یہ لوگ جو جمعہ میں شرکت سے رہ جاتے ہیں وہ اس طرزِ عمل سے باز آ جائیں‘ ورنہ اس بات کا اندیشہ ہے کہ اللہ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا.

یعنی ﴿خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ وَ عَلٰی سَمۡعِہِمۡ ؕ وَ عَلٰۤی اَبۡصَارِہِمۡ غِشَاوَۃٌ ۫ ﴾ (البقرۃ:۷کے الفاظ میں بدترین کافروں کے لیے جو سزا سنائی گئی ہے ‘انہیں وہ سزا ملے گی.

اسی طرح کوئی انقلابی جماعت جو اسی مقصد (غلبہ ٔ دین) کے حصول کے لیے کوشاں ہے اگر آپ اس سے پیوست نہیں ہیں‘ اس سے چمٹے ہوئے نہیں ہیں‘ اس کے نظم کے ساتھ آپ کی وابستگی ہی نہیں ہے تو انقلابی جدوجہد سے متعلق احکام و ہدایات آپ تک نہیں پہنچ سکیں گی. یہ ممکن نہیں ہے کہ کوئی ہرکارے او رپیادے احکام لیے لیے پھر رہے ہوں اور ایک ایک شخص کو تلاش کر کے ان کی تعمیل کرائیں. عدالتی نظام میں اور حکومتی سطح پر تو ایسا ہوتا ہے کہ گھروں پر جا کر سمن کی تعمیل کرائی جاتی ہے ‘لیکن کسی انقلابی جماعتی نظام میں ایسا ممکن نہیں ہے. اس کے لیے تو ؏ ’’پیوستہ رہ شجر سے اُمید ِبہار رکھ‘‘ کے مصداق جماعت سے وابستہ رہنا ضروری ہے. ایک پتا جب تک درخت پر لگا ہوا ہے اسی وقت تک وہ اس درخت کا حصہ ہے.

درخت کی جڑ سے لے کر اس کی چوٹی کے پتوں تک کے مابین ایک رابطہ قائم ہے. جڑ کے ذریعے سے جو پانی اور غذا درخت حاصل کرتا ہے وہ اس کے آخری پتے تک بھی پہنچ جاتی ہے‘لیکن جب کوئی پتا درخت سے کٹ جاتا ہے تو اب درخت کی غذا سے اسے کوئی حصہ نہیں ملتا اور اس کی موت واقع ہو جاتی ہے. اسی طرح اگر جماعت سے آپ کا تعلق منقطع ہو گیا تو ظاہر بات ہے کہ اب آپ اس کے نظم اور سلک میں نہیں ہیں‘ بلکہ ایک ایسی پتنگ کی مانند ہیں جس کی ڈور کٹ چکی ہے اور ایک ایسے پتے کی طرح ہیں جو اپنے درخت سے علیحدہ ہو چکا ہے. اسی کو پیوستگی کہا جاتا ہے اور اسی کے لیے الفاظ استعمال ہو سکتے ہیں منسلک ہونا‘ یعنی پرودیا جانا. ہار میں اگر موتی پرو دیے گئے ہیں تو وہ ہار ہے‘ اور اگر اس کی ڈور ٹوٹ گئی ہے تو وہ ہار نہیں رہا بلکہ منتشر موتی ہیں. اسی طرح جماعت کے افراد اگر اس کے ساتھ منسلک اور ملتزم ہیں تووہ صحیح معنوں میں جماعت ہے. التزام کے معنی چمٹ جاناہیں اور ملتزم وہ ہے جو جماعت کے ساتھ چمٹا رہے. یہی درحقیقت سمع کو مقدم رکھنے کا سبب ہے‘ ورنہ اس کو نمایاں کرنے کی ضرورت نہ تھی‘ کیونکہ یہ بات تو بالکل ظاہر اور understood ہے کہ اطاعت کا مرحلہ آتا ہی سننے کے بعد ہے.