سمع و طاعت کا لازمی تقاضا بیعت

چوتھی اور آخری بات یہ ہے کہ اس سمع و طاعت کو نبی اکرم نے بیعت کی شکل دی ہے. حضور اگرچہ رسول تھے اور جو کوئی بھی آپؐ پر ایمان لے آتا اس پر‘ ایمان بالرسالت کے لازمی تقاضے کے طور پر ‘ آپؐ کی اطاعت فرض تھی. اس کے باوجود نظم جماعت میں اس سمع و طاعت کی اہمیت کو واضح کرنے کے لیے آپؐ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے باقاعدہ بیعت لی. اس سلسلہ میں دو حدیثیں ملاحظہ ہوں:

(۱) حضرت حارث اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشادفرمایا: 

اَنَا آمُرُکُمْ بِخَمْسٍ‘ اَللّٰہُ اَمَرَنِیْ بِھِنَّ : بِالْجَمَاعَۃِ ‘ وَالسَّمْعِ‘ وَالطَّاعَۃِ‘ وَالْھِجْرَۃِ‘ وَالْجِھَادِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (۱
’’(مسلمانو!) میں تمہیں پانچ باتوں کا حکم دے رہا ہوں‘ اللہ نے مجھے ان کا حکم دیا ہے : جماعت کا حکم‘ سننے کا حکم‘ اطاعت کا حکم‘ ہجرت کا حکم اور اللہ کی راہ میں جہاد کا حکم!‘‘

اس حدیث میں رسول اللہ نے سب سے پہلا حکم التزامِ جماعت کا دیا ہے. جماعتی نظم کی دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں. یعنی اگر تو اسلامی نظام حکومت قائم ہو تو خلیفۃ المسلمین کے ساتھ سمع و طاعت کا تعلق ہو گا. اور اگر ایسا نہیں ہے تو اس نظامِ حکومت کو قائم کرنے کی جدوجہد کے لیے جو جماعتی نظام قائم ہو گا اس کے امیر کے ساتھ وہی تعلق سمع و طاعت ہوگا. اس کے بعد دوسرا حکم سمع یعنی سننے کا اور تیسرا اطاعت کا دیا گیا. چوتھی اور 
(۱) سنن الترمذی‘ کتاب الامثال عن رسول اللہ ‘ باب ما جاء فی مثل الصلاۃ والصیام والصدقۃ. ومسند احمد‘ ح ۱۶۵۴۲ و ۱۷۱۳۲ و۲۱۸۳۵پانچویں چیزیں ہجرت اور جہاد فی سبیل اللہ ہیں. ہجرت کا مفہوم بہت وسیع ہے. اس ضمن میں رسول اللہ سے پوچھا گیا : يَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَیُّ الْھِجْرَۃِ اَفْضَلُ ؟ ’’اے اللہ کے رسول()‘ سب سے افضل ہجرت کونسی ہے؟‘‘ فرمایا: اَنْ تَھْجُرَ مَا کَرِہَ رَبُّکَ (۱’’یہ کہ تم ہر اُس چیز کو چھوڑ دو جو تمہارے ربّ کو پسند نہیں ہے!‘‘

یہ ہے ہجرت اور نیت یہ رہے کہ اگر اللہ کے دین کا تقاضا ہوتو انسان اپنا گھر بار‘ اہل و عیال اور مال و منال سب کچھ اس کی خاطر چھوڑنے کے لیے تیار ہو جائے. لیکن پہلا قدم یہی ہے کہ جو چیز اللہ کو پسند نہیں ہے‘ جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے‘ اس کو چھوڑ دیا جائے‘ اس سے ترکِ تعلق کر لیا جائے. اسی طرح ’’وَنَخْلَعُ وَنَتْرُکُ مَنْ یَفْجُرُکَ‘‘ کے مصداق ترکِ تعلق کی یہ قینچی علائق دُنیوی میں بھی چل جانی چاہیے کہ فساق و فجار کے ساتھ آپ کی دوستی اور محبت قلبی کا تعلق منقطع ہو جائے اور جہاد فی سبیل اللہ اس کا مثبت پہلو ہے. یعنی اللہ کی راہ میں محنت‘ جدوجہد ‘ ایثار و قربانی‘ انفاق اور قتال‘ یہ سب جہاد فی سبیل اللہ ہی کے مدارج و مراتب ہیں. لیکن بہرحال نیت میں یہ چیز لازمی طور پر شامل رہنی چاہیے کہ وہ وقت آئے کہ میں اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے جان کی بازی لگادوں اور اس راہ میں اپنی جان جان آفریں کے سپرد کر کے سرخرو ہو جاؤں‘ میری گردن اللہ کی راہ میں کٹ جائے. اگر کسی کے دل میں یہ نیت بھی موجود نہیں تو حدیث ِ نبویؐ کی رو سے ایسا شخص حالت ِنفاق میں مرتا ہے.حدیث کے الفاظ ہیں: 

مَنْ مَاتَ وَلَمْ یَغْزُ وَلَمْ یُحَدِّثْ بِہٖ نَفْسَہٗ مَاتَ عَلٰی شُعْبَۃٍ مِنْ نِـفَاقٍ (۲
’’جو شخص اس حال میں مرا کہ نہ تو اُس نے (اللہ کی راہ میں) جنگ کی اور نہ ہی دل میں اس کی آرزو رکھی تو اس کی موت ایک طرح کے نفاق پر ہوئی.‘‘