ہمارے تصورِ دین کی کوتاہی

حضرت حارث اشعری رضی اللہ عنہ والی حدیث کی روشنی میں ذرا اپنے اس وقت کے تصورِ (۱) سنن النسائی‘ کتاب البیعۃ‘ باب ھجرۃ البادی.

(۲) صحیح مسلم‘ کتاب الامارۃ‘ باب ذم من مات ولم یغز ولم یحدث نفسہ بالغزو. عن ابی ھریرۃ ؓ 
دین کا جائزہ لیجیے تو آپ کو بہت فرق و تفاوت نظر آئے گا. ہمارے تصورِ دین میں تو یہ چیزیں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں.ہمارے تصور دین میں وہ پانچ چیزیں تو ہیں جنہیں ایک دوسری حدیث میں ارکانِ اسلام فرمایا گیا ہے‘ یعنی کلمہ ٔشہادت‘ نماز‘ روزہ‘ حج اور زکوٰۃ لیکن ان پانچ چیزوں کا ہمیں کچھ پتہ ہی نہیں. اس حدیث کے الفاظ ہیں: 

بُنِیَ الْاِسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ‘ شَھَادَۃِ اَنْ لاَّ اِلٰـــہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُـہٗ وَاِقَامِ الصَّلَاۃِ وَاِیْتَائِ الزَّکَاۃِ وَحَجِّ الْبَیْتِ وَصَوْمِ رَمَضَانَ (۱
’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے : گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد ( ) اس کے بندے اور رسول ہیں‘ نماز قائم کرنا‘ زکوٰۃ ادا کرنا‘ بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا.‘‘

اس حدیث میں رسول اللہ نے پانچ ارکانِ اسلام بیان فرمائے ہیں جو ہر مسلمان کو یاد ہیں‘ لیکن دوسری پانچ چیزوں کا حکم بھی محمد رسول اللہ ہی نے دیا ہے ‘تو ان سے بے اعتنائی چہ معنی دارد!

’’اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ‘‘ کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ ان پانچ چیزوں کو بھی لازم سمجھا جائے.