قُرآنِ حکیم کی قوّتِ تسخیر

مرکزی انجمن خدام القرآن لاہور کا سالانہ اجلاسِ عام ۲۰/اپریل (۱۹۹۲ء)کی شام کو منعقد ہوا اور اس سے قبل مسلسل چار دن تک تنظیم اسلامی کا سترہواں سالانہ اجتماع جاری رہا. یوں سمجھئے کہ تحریک ِقرآنی کے اس قافلے نے جو مرکزی انجمن خدام القرآن کے نام سے محو ِسفر ہے‘ اپنی زندگی کے بیس برس مکمل کر لیے. اسی طرح تنظیم اسلامی کی عمر بھی اب سترہ برس ہو گئی ہے. اس عرصے کے دوران جو خیر بھی بن آیا ظاہر بات ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تائید و توفیق اور اُس کی نصرت و اعانت کے طفیل ہوا‘ اِس پر اُس کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے. احباب جانتے ہیں کہ گزشتہ ایک سال کے دوران متعدد مواقع پرمیں چند خاص حقائق کے حوالے سے بعض امور پر اللہ تعالیٰ کا خصوصی شکر ادا کرتا رہاہوں. آج پھر میں چاہتا ہوں کہ انہیں یکجا کر کے اور مرتب انداز میں آپ کے سامنے پیش کروں. 

تحریک میں تسلسل اور دوام ایک لائق شکر بات

سب سے پہلا شکر ہم پر اس اعتبار سے واجب ہے کہ ہمارے اس کام میں‘ جس کے یہ دو نمایاں تنظیمی مظہر ہیں‘ یعنی انجمن خدام القرآن اور تنظیم اسلامی ‘ الحمد للہ کہ گزشتہ بیس برس سے تسلسل بھی ہے اور تواتر بھی. گو ہماری رفتار کوئی بہت زیادہ تیز نہیں رہی‘ لیکن اس میں جو تسلسل اور تواتر کا پہلو ہے وہ میرے نزدیک بہت اہمیت کا حامل ہے. طوفان کی طرح اٹھنے والی تحریکیں بسا اوقات بہت جلد جھاگ کی مانندبیٹہ بھی جاتی ہیں‘ لیکن جس کام میں تسلسل اور دوام ہو اور جو پیہم کیا جائے اصل میں وہی پائیدار بھی ہوتا ہے اور اسی کے نتیجے میں کوئی حقیقتاً مؤثر اور وقیع کام سرانجام پا سکتا ہے. میں نے حالیہ سالانہ اجتماع کے دوران بھی اس ضمن میں دو الفاظ ایک انگریزی محاورے کے حوالے سے استعمال کیے تھے : 

slow (i اور steady (ii . ہمارے اب تک کے کام پر یہ دونوں الفاظ منطبق ہوتے ہیں. اس میں یقینا ہمارے لیے اطمینان بلکہ بشارت کا بہت کچھ سامان موجود ہے اور ہمیں اس پر تہہ دل سے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے.

اسی طرح شکر کے لائق ایک اور بات یہ ہے کہ ہماری اس اجتماعیت میں اس بیس سال کے عرصے میں کوئی ہنگامہ برپا نہیں ہوا‘ کوئی بڑا اختلاف رونما نہیں ہوا. انجمنوں اور اداروں کی زندگیوں میں بڑے بڑے طوفان آتے ہیں اور ایسے بڑے اختلافات اور جھگڑے پیدا ہوتے ہیں کہ بعض اوقات ادارے کی بساط تک لپیٹنے کی نوبت آ جاتی ہے. اس لیے کہ عام طو رپر انجمنوں کا نظام بڑا ڈھیلا ڈھالا ہوتا ہے‘ اس میں بالعموم کچھ سرکردہ شخصیتوں کا ٹکراؤ ہو جایاکرتا ہے اور باہم کھینچ تان عام طو رپر جاری رہتی ہے جو نہایت مضر اثرات کی حامل ہوتی ہے. الحمد للہ‘ ثم الحمد للہ ہمارا یہ ادارہ اس نوع کی خرابیوں سے بالکل محفوظ رہا ہے. یہ قرآن اکیڈمی انجمن کی سرگرمیوں کا سب سے بڑا مرکز رہی ہے اور یہاں آس پاس کے رہنے والے بخوبی واقف ہیں کہ ایسا کوئی ناخوشگوار واقعہ الحمد للہ یہاں کبھی پیش نہیں آیا. گزشتہ بیس سال کے دوران مرکزی انجمن کے کسی بھی فنکشن میں‘ خواہ وہ عمومی اجلاس ہو اور خواہ مجلس منتظمہ کی خصوصی میٹنگ ہو‘ کبھی کوئی تلخی نہیں ہوئی‘ کبھی کسی توتکار کی نوبت نہیں آئی. یہ اللہ کا بہت بڑا فضل و کرم ہے شکر کے بارے میں میں نے بارہااس حقیقت کو بیان کیا ہے کہ جب تک انسان کو پورا شعور حاصل نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر کتنابڑا فضل اور انعام ہوا ہے‘ اس وقت تک اس کے متناسب اور 
proportionate شکر ادا نہیں کیا جا سکتا. یہ ادراک اور شعور کہ مجھ پر اللہ کا کتنا بڑا احسان اور کتنا عظیم فضل ہوا ہے ‘ بڑی اہمیت کا حامل ہے. جتنا یہ شعوراور احساس گہرا ہو گاجذبہ تشکر بھی اتنی ہی گہرائی سے برآمد ہوگا اور اسی قدر قوت کے ساتھ یہ جذبہ تشکر ایک چشمہ کی مانند قلب کی گہرائیوں سے اُبلے گا.

کم و بیش اسی طرح کا معاملہ الحمد للہ تنظیم اسلامی کا بھی ہے کہ کوئی بڑا اختلاف اور 
انتشار وہاں بھی رونما نہیں ہوا. ظاہر بات ہے کہ انسانوں کی جماعت میں کچھ نہ کچھ لوگوں کا اختلاف کرنا یا اِکا دُ کا لوگوں کا جماعت سے علیحدہ ہو جانا بالکل فطری امر ہے‘ کوئی بھی جماعت اس سے خالی نہیں رہی‘ یہاں تک کہ انبیاء کرام علیہم السلام کی جماعتوں میں بھی ایسے لوگ نکل آتے تھے کہ جو ساتھ چھوڑ جاتے تھے‘ تو تنظیم اسلامی کے اندر بھی اس طرح کے چند واقعات کا ہونا موجب حیرت یا باعث تشویش نہیں ہونا چاہیے. آنحضور کی حیاتِ طیبہ میں کئی مواقع ایسے آئے کہ بعض لوگ متزلزل ہوئے یا ساتھ چھوڑ گئے. سیرت کی کتابوں میں یہ بات مذکور ہے کہ واقعہ معراج کے بعد ایسے متعدد مسلمان جو نئے نئے ایمان لائے تھے اور ابھی ایمان میں پختہ نہیں ہوئے تھے ‘ متزلزل ہوگئے تھے. اسی طرح حضرت اُمِّ حبیبہ رضی اللہ عنہاکے شوہر جو صاحب ایمان تھے اور اپنی اہلیہ سمیت حبشہ کی جانب ہجرت کر گئے تھے‘ وہاں جا کر مرتد ہوگئے. شوہر کے مرتد ہو جانے کے بعد حضرت اُمّ حبیبہ رضی اللہ عنہاچونکہ اس کے نکاح میں نہیں رہیں تو پھر حضور نے ان کی دلجوئی کے لیے مدینہ منورہ سے نکاح کا پیغام بھجوایا‘ اس لیے کہ وہ قریش کے ایک بہت بڑے سردار ابوسفیان (رضی اللہ عنہ) کی صاحبزادی تھیں اور اس حوالے سے ان کا جومقام و مرتبہ تھا اس کے پیش نظر حضور نے مناسب سمجھا کہ ان سے خود نکاح کریں. آپ کے علم میں ہو گا کہ حضور کی طرف سے مہر بھی حضرت نجاشی رحمہ اللہ علیہ نے ادا کیاتھا. اس لیے کہ بوقت ِنکاح حضور مدینہ میں تھے اور حضرت اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا ابھی حبشہ ہی میں تھیں‘ وہ پھر بعد میں مدینہ تشریف لائی تھیں. 

بہرحال میں نے یہ چند مثالیں دی ہیں کہ تحریکوں اور جماعتوں میں کچھ نہ کچھ لوگوں کی تو اس طرح آمد و رفت رہتی ہے. نبی اکرم کے دور میں یہ بہت کم تھی اور آج کے دور میں غلبہ و اقامت ِدین کے لیے جو بھی تحریک اٹھے گی اس میں یقیناایسے واقعات نسبتاً زیادہ ہوں گے‘ لیکن الحمد للہ تنظیم اسلامی کو قائم ہوئے سترہ برس ہو چکے ہیں‘ اس میں کوئی بڑا ہنگامہ یا کوئی بڑا اختلاف رونما نہیں ہوا‘ کسی بڑی تعداد میں لوگوں کی اس سے علیحدگی کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا‘ اور یہ چیز یقینا ایسی ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کےاس 
احسان کا ادراک اور شعور کرتے ہوئے کہ ہمارے اس کام کی رفتار گو کم رہی لیکن اس میں دوام‘ تسلسل اور تواتر رہا ہے‘ اپنے قلب کی گہرائیوں سے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے. اس لیے کہ اگر یہ قافلہ اسی دوام اور تسلسل سے چلتا رہے تو میں سمجھتا ہوں کہ زیادہ پائیدار نتائج کے برآمد ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے. 

توازن و اعتدال ایک اہم وصف

دوسری بات جس پر ہمیں صمیم قلب کے ساتھ اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور خاص طورپر میں اپنی ذات کے حوالے سے بار بار اس پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں‘ یہ ہے کہ جیسے ہماری تنظیم میں تسلسل اور تواتر موجود ہے اسی طرح یہاں توازن اور اعتدال کا وصف بھی الحمد للہ پایا جاتا ہے. یہ وصف اپنی جگہ نہایت ضروری بھی ہے اور اہم بھی. اکثر تحریکوں میں یہ ہوتا ہے کہ ایک مرحلے کے بعد جب وہ تحریک دوسرے مرحلے میں داخل ہوتی ہے تو پہلے مرحلے کی اہمیت نگاہوں سے اوجھل ہو جاتی ہے. جیسے ایک انسان جب سیڑھی کے ذریعے چھت پر چڑھ جائے تو پھر سیڑھی کی اہمیت اس کی نگاہ میں نہیں رہتی‘ اس لیے کہ جو مقصد اس سے حاصل کرناتھا وہ حاصل کر لیا. الحمد للہ کہ ذاتی طور پر میں اس معاملے کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں. میں نے دعوت رجوع الی القرآن کا جو کام شروع کیا تھا اس میں ابتدائی چھ سات برس میں نے تن تنہا کام کیا. اُس وقت انجمن خدام القرآن کا وجود نہیں تھا. اس کے بعد ۱۹۷۲ء میں یہ انجمن قائم ہوئی. پھر ۱۹۷۵ء میں تنظیم اسلامی کا قیام عمل میں آیا. تو درحقیقت میرے پیش نظر یہ دو کام ہیں جو قریباً متوازی اور متساوی ہیں. میں نہیں کہہ سکتا کہ میری زندگی میں ان میں سے کس کو زیادہ اہمیت حاصل ہے‘ بلکہ یہ کہنا شاید زیادہ مناسب ہو گا کہ ان کا معاملہ ایسے ہی ہے جیسے کہ ایک گاڑی کے دو پہیے ہوتے ہیں. ان میں سے پہلے کام کا عنوان ’’دعوت رجوع الی القرآن‘‘ ہے جس کے لیے مرکزی انجمن خدام القرآن وجود میں آئی اور دوسرا کام جس کے لیے تنظیم اسلامی تشکیل دی گئی ہے ‘ غلبہ و اقامت دین کی جدوجہد سے عبارت ہے. رفقاء و احباب جانتے ہیں کہ اب بھی میری توانائیوں کا کافی بڑا حصہ پہلے کام یعنی دعوت رجوع الی القرآن میں کھپ رہا ہے. ایسا نہیں ہوا کہ میں نے سمجھا ہو کہ اس کام کا تعلق تو میرے جہادِ زندگانی کے ابتدائی مرحلے سے تھا اور اب مجھے تحریک‘ تنظیم اور انقلاب ہی کی طرف پوری طرح متوجہ ہوجانا چاہیے. الحمد للہ کہ اس معاملے میں میرا طرزِ عمل توازن واعتدال پر مبنی رہا ہے. 

’’اتمامِ نور‘‘ اور ’’غلبہ ٔدین حق‘‘ : گاڑی کے دو پہیے

اس سال ملتان میں دورۂ ترجمہ قرآن کے دوران پہلی مرتبہ میرا ذہن اس حقیقت کی جانب منتقل ہوا کہ قرآن مجید میں دو مقامات پر گاڑی کے ان دو پہیوں کا ذکر ساتھ ساتھ آیا ہے. یہ محاورہ کہ گاڑی دو پہیوں پر چلتی ہے اس اعتبار سے بڑا معنی خیز ہے کہ اگر ایک پہیہ جام ہو جائے تو گاڑی گھومنے لگے گی‘ آگے نہیں بڑھے گی. اس کے دونوں پہیے چل رہے ہوں تو پھر گاڑی کے لیے ممکن ہو گا کہ وہ ایک خط ِمستقیم میں آگے کی طرف پیش قدمی کر سکے. گاڑی کے جن دو پہیوں کا میں نے ذکر کیا ہے ان کا تذکرہ سورۃ التوبہ میں بھی اور سورۃ الصف میں بھی بالکل ساتھ ساتھ آیا ہے. سورۃ الصف کی یہ آیات تو اکثر حضرات کو یاد ہوں گی اور ان کا مفہوم بھی ذہن میں ہو گا: 

یُرِیۡدُوۡنَ لِیُطۡفِـُٔوۡا نُوۡرَ اللّٰہِ بِاَفۡوَاہِہِمۡ وَ اللّٰہُ مُتِمُّ نُوۡرِہٖ وَ لَوۡ کَرِہَ الۡکٰفِرُوۡنَ ﴿۸﴾ہُوَ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَہٗ بِالۡہُدٰی وَ دِیۡنِ الۡحَقِّ لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ وَ لَوۡ کَرِہَ الۡمُشۡرِکُوۡنَ ٪﴿۹﴾ 

اور سورۃ التوبہ کے الفاظ یہ ہیں: 

یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یُّطۡفِـُٔوۡا نُوۡرَ اللّٰہِ بِاَفۡوَاہِہِمۡ وَ یَاۡبَی اللّٰہُ اِلَّاۤ اَنۡ یُّتِمَّ نُوۡرَہٗ وَ لَوۡ کَرِہَ الۡکٰفِرُوۡنَ ﴿۳۲﴾ہُوَ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَہٗ بِالۡہُدٰی وَ دِیۡنِ الۡحَقِّ لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ ۙ وَ لَوۡ کَرِہَ الۡمُشۡرِکُوۡنَ ﴿۳۳
ذرا غور کیجیے‘ قرآن حکیم کے یہ دونوں مقامات اسلوب کے اعتبار سے کتنے مشابہ ہیں‘ بلکہ الفاظ بھی کم و بیش بالکل ایک سے ہیں‘ صرف پہلی آیت کے بعض الفاظ ایک دوسرے سے کچھ مختلف نظر آتے ہیں ‘ ورنہ آیت کا مفہوم ایک ہی ہے. یہاں دو مقاصدکا ذکر ہے اور اللہ تعالیٰ نے دو ٹوک الفاظ میں فرمایا کہ یہ دونوں کام اب پورے ہو کر رہیں گے‘ چاہے مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار ہواور چاہے کافروں کو کتنا ہی ناپسند ہو!! ایک مقصد ہے اتمامِ نور‘ جس کے لیے سورۃ الصف میں الفاظ آئے : ’’وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ‘‘ کہ اللہ اپنے نور کا اتمام فرما کر رہے گا خواہ یہ بات کافروں کو کتنی ہی ناپسند ہو. اور دوسرا کام یا دوسرا مقصد اگلی آیت میں بیان ہوا‘ جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ نے اپنے رسول کو اس لیے بھیجا ہے کہ وہ دین حق کو غالب کرے خواہ یہ چیز مشرکوں کو کتنی ہی ناپسند ہو! مؤخر الذکر بات سورۃ التوبہ میں بھی بعینہٖ انہی الفاظ میں آئی ہے‘ ایک شوشے کا بھی فرق نہیں ہے: ہُوَ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَہٗ بِالۡہُدٰی وَ دِیۡنِ الۡحَقِّ لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ ۙ وَ لَوۡ کَرِہَ الۡمُشۡرِکُوۡنَ ﴿۳۳﴾ پہلی آیت میں تھوڑا سا لفظی فرق موجود ہے . سورۃ الصف میں فرمایا: 

’’یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِئُوْا‘‘ جبکہ سورۃ التوبہ میں ’’یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِئُوْا‘‘ کے الفاظ آئے . یعنی ایک حرفِ ناصب کی جگہ دوسرا حرفِ ناصب آ گیا.اسی طرح سورۃ الصف میں ’’وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ‘‘ کے الفاظ ہیں جبکہ سورۃ التوبہ میں اسی مفہوم کو ’’وَیَاْبَی اللّٰہُ اِلَّآ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَہٗ‘‘ کے الفاظ میں بیان فرمایا گیا‘ جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ بہرطور اپنے نور کا اتمام فرما کر رہے گا‘ خواہ یہ کافروں کو کتنا ہی ناپسندہو! 

گاڑی کے انہی دونوں پہیوں کو سورۃ المائدۃ کی اس عظیم آیت میں بھی جمع کیا گیاجو بڑی مشہور ہے اور جس کے بارے میں یہود کے بعض علماء نے کہا تھا کہ اے مسلمانو‘ یہ آیت جو تمہیں عطا ہوئی ہے اگر ہمیں عطا ہوتی تو ہم اس کے یومِ نزول کو اپنا سالانہ جشن اور سالانہ عید قرار دیتے. اس آیت کے الفاظ پر توجہ مرکوز کیجیے. فرمایا: 
اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ وَ اَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ وَ رَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسۡلَامَ دِیۡنًا ؕ (آیت۳وہی دونوں چیزیں یہاں جمع کر دی گئیں: ’’اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَـکُمْ دِیْنَـکُمْ‘‘ کہ آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارے ’’دین‘‘ کو کامل کر دیا‘ یعنی وہ دین حق جس کا غلبہ و اظہار بعثت محمدیؐ کا اصل مقصد ہے‘ آج مکمل ہو گیا ’’وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ‘‘ اور تم پر اپنی نعمت کا اتمام فرما دیا. اس سے مراد نورِ ہدایت کا اتمام اور تکمیل ہے جس کا ذکر سورۃ الصف میں ’’وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ‘‘ کے الفاظ میں وارد ہوا تھا. معلوم ہوا کہ اتمامِ نور یعنی اتمامِ ہدایت ہی درحقیقت اتمامِ نعمت ہے. گویا اصل نعمت ہے ہی نعمت ِہدایت! دنیا کی کوئی شے نعمت نہیں ہے جب تک نعمت ہدایت اس کے ساتھ شامل نہ ہو. نعمت ِہدایت کے بغیر دولت‘ صحت‘ اولاد‘ اقتدار غرضیکہ کوئی شے نعمت نہیں ہے‘ بلکہ یہ سب عذاب کا موجب بن جانے والی چیزیں ہیں‘ ان کا غلط استعمال انسان کو ہلاکت و بربادی سے دوچار کر دے گا. ہاں اگر ہدایت موجود ہو تو پھر اولاد بھی نعمت ہے‘ پھر دولت بھی ایک عظیم نعمت سے کم نہیں کہ انسان اسے زیادہ سے زیادہ اللہ کی راہ میں خرچ کرے گا. اسی طرح ہدایت اگر موجود ہو تو صحت بھی نعمت ہے کہ انسان اللہ کے دین کے لیے بھاگ دوڑ کرے گا‘ محنت اور مجاہدہ کرے گا. نعمت ِہدایت کے ساتھ ذہانت بھی ایک نعمت شمار ہوگی کہ اس کا استعمال اللہ کے دین کے لیے ہو گا‘ ورنہ یہی ذہانت انسان کو evil genius بنا دے گی اور انسان کی اُخروی تباہی کا ذریعہ بن جائے گی تو معلوم ہوا کہ اصل نعمت ہے ہی نعمت ِہدایت! 

ایک قابل ِلحاظ فرق

اب یہ بات نوٹ کیجیے کہ حضو رنبی اکرم کے زمانے میں تونورِ ہدایت بھی مکمل ہو گیا اور دین حق کا غلبہ و اظہار بھی سرزمین عرب کی حد تک مکمل ہو گیا‘ گویا گاڑی کے یہ دونوں پہیے مساوی انداز میں ساتھ ساتھ چلتے اور آگے بڑھتے رہے‘ لیکن حضور اکرم کے دور کے بعد ان دونوں چیزوں کے درمیان ایک فرق واقع ہو گیا. اس فرق کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے. 

دیکھئے اتمامِ نور تو قرآن کی شکل میں ہوا کہ ۲۳ برس میں قرآن حکیم کا نزول مکمل ہوا. اس طرح اتمام نور ہو گیا اور اس نور کو قیامت تک کے لیے محفوظ کر لیا گیا ‘اس میں اب کہیں کوئی تحریف نہیں ہو سکتی. لیکن اقامت دین کے مرحلہ کی تکمیل کا کام جس کے لیے سورۃ الصف میں 
’’اظھار دین الحقِّ علی الدِّین کُلِّہ‘‘ کی اصطلاح آئی ہے‘حضور کے زمانے میں ایک حد تک مکمل ہو گیا تھا کہ اندرونِ ملک عرب دین حق کا پرچم لہرانے لگا. پھر دورِ خلافت راشدہ میں اس کی توسیع بڑے بھرپور انداز میں ہوئی. لیکن پھر ایک وقت آیا کہ یہ عمل رک گیا‘ بلکہ رفتہ رفتہ دین کی یہ عالیشان عمارت منہدم ہونے لگی‘ یہاں تک کہ بالکل زمین بوس ہو گئی. اب صورت یہ ہے کہ اسلام محض ایک مذہب کے طور پر تو باقی ہے لیکن دین حق اور نظامِ اسلام اپنی صحیح صورت میں زمین کے کسی ایک خطے میں بھی قائم و نافذ نہیں‘ اور اب غلبہ و اقامت دین کی جدوجہد ہمیں از سرنو کرنی ہو گی تو یہ ہے وہ بڑا فرق جو اس معاملے میں واقع ہوا کہ دونوں کام جو نبی اکرم کے دور میں گاڑی کے دو پہیوں کی مانند ساتھ ساتھ چل رہے تھے ‘ بعد میں ہم آہنگ نہ رہ سکے. 

اِتمام نور کے ضمن میں ہماری ذمہ داری

جہاں تک نورِ ہدایت کے اتمام کا تعلق ہے ہم مسلمانوں کے لیے یہ کتنی بڑی سہولت ہے کہ ہمیں پورا یقین اور اعتماد ہے کہ اس ’’ کتاب ‘‘ میں جو کچھ ہے وہ اللہ کا کلام ہے اور اس کا ایک حرف بھی ضائع نہیں ہوا. اس لیے کہ اس کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ نے لیا ہے : اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّکۡرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ ﴿۹﴾ (الحجر) ’’ہم ہی نے اس قرآن کو نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں‘‘.قرآن حکیم اپنی جگہ خود بھی اللہ تعالیٰ کی عظیم ترین نعمت ہے اور اللہ کا مزید فضل و کرم ہم پر یہ ہوا کہ اس کی حفاظت کا ذمہ بھی اُس نے لے لیا. یہ الگ بات ہے کہ ہمیں اس نعمت کی قدر نہیں ہے اور ہم دنیا کی حقیر سی چیزوں کو اس نعمت عظمیٰ پر ترجیح دیتے ہیں. بہرکیف پہلے کام یعنی ’’اِتمامِ نور‘‘کے ضمن میں ہمارے ذمے صرف ایک کام باقی رہ جاتا ہے اور وہ یہ کہ نورِ ہدایت موجود ہے‘ اسے عام کیا جائے‘ اس کا افشا کیا جائے. حضرت مسیح علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ چراغ جلا کر بلندی پر رکھا جاتاہے‘ اسے نیچے کہیں چھپا کر نہیں رکھا کرتے. چراغ اگر بلندی پر ہو گا تو ماحول کو منور کرے گا ‘ اس کی روشنی پھیلے گی. تو نورِ ہدایت کا عام کرنا‘ اس سے ماحول کو منور کرنا اور اس کا افشا کرنا ہمارے ذمے ہے. یہی بات اس حدیث نبویؐ میں آ ئی ہے جو حضرت عبیدہ ملیکی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے. آپ نے فرمایا: یَا اَھْلَ الْقُرْآنِ لَا تَتَوَسَّدُوا الْقُرْآنَ ’’اے قرآن والو‘ قرآن کو تکیہ نہ بنا لینا‘‘. اسے محض ذہنی سہارا نہ بنا لینا. بلکہ وَاتْلُوْہُ حَقَّ تِلَاوَتِہٖ مِنْ آنَاءِ اللَّـیْلِ وَالنَّھَارِ ’’ اوراس کی تلاوت کیاکرو جیسے کہ اس کی تلاوت کا حق ہے‘رات اور دن کے اوقات میں‘‘. وَأَفْشُوْہُ ’’اور اسے عام کرو‘‘. اسے پھیلاؤ‘ چہار دانگ عالم تک اس کا نور پہنچا دو! وَتَغَنَّوْہُ ’’اور اس کو خوش الحانی سے حظ لیتے ہوئے پڑھا کرو‘‘. وَتَدَبَّرُوْا مَا فِیْہِ لَعَلَّـکُمْ تُفْلِحُوْنَ (۱’’اور اس پر غور و فکر کرو‘ تاکہ تم فلاح پاؤ.‘‘ 

اسی بات کا ایک منطقی نتیجہ اور بھی نکلتا ہے جس کا ذکر عظمت قرآن کے بیان میں اس طویل حدیث میں آیا ہے جس کے راوی حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں. اس میں یہ الفاظ بھی آئے ہیں: 
وَمَنِ ابْتَغَی الْھُدٰی مِنْ غَیْرِہٖ اَضَلَّہُ اللّٰہ (۲کہ جو شخص اس قرآن کو چھوڑ کر کہیں اور ہدایت تلاش کرے گا اللہ اسے لازماً گمراہ کر دے گا. جب ہدایت و رہنمائی کا اتنا حتمی اور یقینی منبع و سرچشمہ اور اتنا مکمل ذریعہ (source) تمہارے پاس موجود ہے ‘تو اس کے ہوتے ہوئے ہدایت و رہنمائی کے لیے دائیں بائیں دیکھنا گویا انتہا درجے کی ناقدری ہی نہیں قرآن مجید کی توہین کے مترادف ہے. البتہ اس کا یہ مفہوم سمجھنا بھی درست نہ ہوگا کہ قرآن کے سوا اور کچھ پڑھنا ہی نہیں چاہیے! اور چیزوں کا مطالعہ کیجیے‘ تورات پڑھیے‘ انجیل پڑھیے‘ لیکن انہیں منبع و سرچشمہ ٔہدایت سمجھ کر نہیں بلکہ محض اپنی معلومات میں اضافے کے لیے ان کا مطالعہ کیجیے. وہ اسی کتاب ہدایت کے سابقہ ایڈیشن ہیں جس کا تکمیلی ایڈیشن قرآن حکیم ہے. اسی طرح دوسرے علوم بھی اپنی معلومات میں اضافے کے لیے پڑھے جا سکتے ہیں‘ بلکہ دوسرے علوم کو قرآن مجید کے فہم کاذریعہ سمجھ کر سیکھئے اور پڑھیے‘ اس لیے کہ انسانی ذہن کا ظرف جتنا وسیع اور کشادہ ہو گا اسی کی مناسبت سے قرآن مجید سے ہدایت اور علم و معرفت کے موتی انسان اپنے دامن میں سمیٹ سکے گا. دامن ہی اگر تنگ ہو تو انسان کے حصے میں حکمت و معرفت کے موتی 

(۱) رواہ البیھقی فی شعب الایمان. مشکاۃ المصابیح ‘ کتاب فضائل القرآن‘ باب آداب التلاوۃ ودروس القرآن. 

(۲) سنن الترمذی‘ ابواب فضائل القرآن‘ باب ما جاء فی فضل القرآن. وسنن الدارمی‘ کتاب فضائل القرآن‘ باب فضل من قرء القرآن. 
بھی کم ہی آئیں گے. گویا ؏ ’’پھول کھلے ہیں گلشن گلشن‘ لیکن اپنا اپنا دامن!‘‘ قرآن مجید کے اندر تو ہدایت‘ علم اور معرفت کی کوئی کمی نہیں‘ ان کے جواہر سے یہ معدن بھرا پڑا ہے ‘لیکن تمہاری اپنی تنگ دامانی آڑے آجائے تو اس کا کیا علاج؟ 

واضح رہے کہ دوسرے علوم کے ذریعے سے قرآن مجید کی حقانیت کا مزید مبرہن ہوجانا خود قرآن مجید سے ثابت ہے. سورۃ حٰم السجدۃ میں فرمایاگیا: 
سَنُرِیۡہِمۡ اٰیٰتِنَا فِی الۡاٰفَاقِ وَ فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَہُمۡ اَنَّہُ الۡحَقُّ ؕ (آیت ۵۳’’ہم انہیں اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور انفس میں بھی‘ حتیٰ کہ یہ بات بالکل واضح ہوجائے گی کہ یہ (قرآن مجید) ہی سراسر حق ہے‘‘. گویا جتنا انسان کے علم کا دائرہ وسیع ہوگا قرآن مجید کی حقانیت اسی درجے میں مزید مبرہن ہو جائے گی‘ اسی قدر اس کا اثبات زیادہ ہو گا. ان اعتبارات سے دوسرے علوم سے اعتنا کرنے یا ان سے دلچسپی رکھنے میں کوئی حرج نہیں. لیکن ایک بندۂ مؤمن کے لیے یہ احساس و شعور لازم ہے کہ منبع ہدایت سوائے قرآن کے اور کوئی نہیں! حضوراکرم کی یہ وارننگ ہمیشہ اس کے پیش نظر رہنی چاہیے : وَمَنِ ابْتَغَی الْھُدٰی مِنْ غَیْرِہٖ اَضَلَّہُ اللّٰہُ

خلاصۂ کلام یہ کہ اس اعتبار سے تو اتمامِ نور ہو گیا کہ قرآن حکیم کا نزول حضور اکرم پر مکمل ہوا اور اللہ نے قیامت تک کے لیے اس کی حفاظت کا ذمہ لے لیا‘ لیکن اس ضمن میں ایک کام ہمارے ذمے باقی ہے اور وہ ہے اس نورِ ہدایت کا عام کرنا‘ جس کے لیے حدیث میں 
’’وَاَفْشُوْہُ‘‘ کا لفظ آیا ہے کہ اسے پھیلاؤ اور عام کرو اور یہ افشا ہر سطح پر ہو گا‘ عوام کی سطح پر بھی اسے پھیلانا ہو گا اور خواص کی سطح پر بھی‘ فلسفیوں اور دانشوروں تک بھی اس کے ابلاغ کا حق ادا کرنا ہو گا اور شریر اور جھگڑالو لوگوں پر بھی مجادلہ ٔحسنہ کے ذریعے حجت قائم کرنی ہو گی. یہ سب افشا ہی کی مختلف سطحیں ہیں! 

گاڑی کا دوسرا پہیّہ : غلبہ ٔدین کی جدّوجُہد

اس گاڑی کا جو دوسرا پہیہ ہے یعنی غلبہ ٔدین حق‘ اس کا معاملہ اس سے مختلف ہے. جزیرہ نمائے عرب کی حد تک نبی اکرم کی حیاتِ طیبہ میں ’’وَیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہ ٗ لِلّٰہِ‘‘ کی شان ظاہر ہوئی اور دین حق کا غلبہ ملک عرب کی حد تک مکمل ہو گیا.پھر خلافت راشدہ کے دوران کرۂ ارضی کے ایک بہت بڑے رقبے پر دین حق غالب و نافذ ہوا اور اسلام کا پرچم لہرانے لگا. لیکن پھر اس معاملے میں زوال کا آغاز ہوگیا اور تدریجاً زوال کے سائے گہرے ہوتے چلے گئے . یوں سمجھئے کہ سب سے پہلے قصر ِاسلام کی چھٹی منزل گری‘ پھر پانچویں منزل منہدم ہوئی‘ پھر چوتھی اور پھرتیسری‘ اور اس طرح آج سے قریباً ڈیڑھ دو سو برس قبل پوری عمارت زمین بوس ہو گئی. چنانچہ اب اس کی تعمیر ازسرنو کرنی ہوگی. بہرکیف اس وقت صرف اسی نکتے کی جانب متوجہ کرنا مقصود تھا کہ یہ دو کام بالکل متوازی (parallel) ہیں‘ قرآن مجید نے دونوں مقامات پر یعنی سورۃ التوبہ اور سورۃ الصف میں ان دونوں کو باہتمام یکجا بیان کیا ہے‘ اور اس کا نتیجہ یہ نکلنا چاہیے کہ ان دونوں کو متوازی اور متساوی انداز میں آگے بڑھایا جائے. ان میں توازن و اعتدال برقرار رہنا چاہیے. اس پر بھی میں اللہ کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے کہ اُس کے فضل و کرم کے طفیل یہ دونوں چیزیں ہمارے یہاں بالکل متساوی اور متوازی شکل میں چل رہی ہیں. مرکزی انجمن خدام القرآن اور اس کے تحت قائم ہونے والی قرآن اکیڈمی اور اسی طرح ذیلی انجمنیں اور ذیلی اکیڈمیزجو وجود میں آ رہی ہیں ‘یہ سب درحقیقت ہماری گاڑی کے ایک پہیے کے مظاہر ہیں ‘جو الحمد للہ نہ صرف یہ کہ ایک تسلسل کے ساتھ رواں دواں ہے بلکہ اس کی رفتار میں بتدریج اضافہ بھی ہو رہا ہے. دوسرا پہیہ تنظیم اسلامی سے عبارت ہے جس کی حرکت کو تیز کرنے کے لیے ہم نے ’’تحریک خلافت‘‘ کا عنوان اختیار کیا ہے. لیکن تنظیم اسلامی اور تحریک خلافت اصلاً ایک ہی کام کے دو گوشے یا دو مرحلے ہیں اور اس تمام تر کام کا ہدف ایک ہی ہے ‘ یعنی دین حق کا غلبہ و اقامت. چنانچہ فی الاصل کام دو ہی ہیں جو ایک دوسرے کے متوازی ہیں. ایک ہے رجوع الی القرآن کی دعوت جس کے لیے مرکزی انجمن سرگرم عمل ہے اور دوسرا ہے اقامت دین کی جدوجہد جس کی خاطر تنظیم اسلامی اور تحریک خلافت برسرِعمل ہیں. 

تحریک رجوع الی القرآن کا تسلسل برقرار رہے گا!

ایک اور لائق ِشکر اور قابل ِاطمینان پہلو


تیسری بات جس پر میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہتا ہوں اور جس کا میں نے بارہا ذکر بھی کیا ہے‘ یہ ہے کہ اس کام کے باقی اور جاری رہنے کا اہتمام اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہو گیا ہے. مجھے اپنی زندگی میں یہ نظرآ رہا ہے اور مجھے یہ اطمینان حاصل ہے کہ اس کام کا تسلسل ان شاء اللہ برقرار رہے گا. یہ بھی یقینا اللہ کا بہت بڑا فضل ہے‘ ورنہ بعض بڑی نامور ہستیاں ایسی ہو گزری ہیں کہ جنہوں نے اپنی زندگیوںمیں بڑے بڑے کام کرکے دکھائے لیکن ان کے جانے کے بعد اس کام کا تسلسل قائم نہیں رہ سکا. ایک آدمی منظر سے ہٹا اور کام ختم ہو گیا. تو میرے لیے یہ بات بڑے اطمینان کی ہے اور اس پر بھی میں جتنا اللہ کاشکر ادا کروں کم ہے اور میرے ساتھیوں کو بھی اس پر اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرنا چاہیے. بالخصوص یہ جو بنیادی کام دعوت رجوع الی القرآن کا ہے اس کے حوالے سے میں سمجھتا ہوں کہ بحمداللہ اب ایک ایسی نسل ثانی تیار ہو چکی ہے اور کم و بیش چالیس پچاس نوجوانوں پر مشتمل ایک ایسی ٹیم وجود میں آ چکی ہے جو درسِ قرآن کے اس تسلسل کو ان شاء اللہ برقرار رکھے گی جس کا میں نے کبھی ۱۹۶۵ء میں آغاز کیا تھا. مجھے اطمینان ہے کہ دروس قرآن کے حوالے سے قرآن کا انقلابی فکر اور اس کا صغریٰ کبریٰ ان کے ذہن و فکر کی گرفت میں آ چکا ہے‘ اس میں جو منطقی ترتیب (logical sequence) ہے اسے انہوں نے خوب اچھی طرح سے سمجھ لیا ہے اور وہ اب اس قابل ہیں کہ اسے بیان بھی کر سکیں.ظاہر بات ہے کہ صلاحیت ِبیان میں نکھار تو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اور اس صلاحیت کو زیادہ سے زیادہ بروئے کار لانے ہی سے پیدا ہو گا‘ لیکن اصل شے بنیادی فکر اور اس کے طرزِ استدلال کا ذہن کی گرفت میں آنا ہے ‘جو الحمد للہ انہیں حاصل ہے. اس کے بعد تو پھر اپنی اپنی محنت اور کوشش ہے. اس فکر قرآنی کو عام کرنے اور بیان کرنے میں جتنی محنت اور جس درجےپیہم کوشش ہو گی اسی نسبت سے ان کی صلاحیت نکھرے گی. چنانچہ گزشتہ سالانہ اجتماع کے موقع پر میرا کوئی درسِ قرآن نہیں ہوا تھا‘بلکہ درسِ قرآن میرے نوجوان ساتھیوں نے دیا. اس سال بھی سالانہ اجتماع میں انہی نوجوان ساتھیوں نے دروسِ قرآن دیے. 

ذیلی انجمنوں اور ان کے تحت اکیڈمیز کا قیام

اسی طرح یہ بات بھی بڑی خوش آئند اور لائق تشکر ہے کہ مرکزی انجمن کی کوکھ سے اب تک کئی منسلک اور ذیلی انجمنیں برآمد ہو چکی ہیں. اس سال ۲۰ /اپریل(۱۹۹۲ء) کو مرکزی انجمن کا جو اجلاس عام ہوا اس میں پہلی مرتبہ بہت سے حضرات کے سامنے یہ بات آئی ہو گی کہ پاکستان کے کئی شہروں میں مرکزی انجمن کے طرز پر منسلک انجمنیں قائم ہو چکی ہیں. یہ پہلی بار ہوا کہ ہمارے اس اجلاسِ عام میں ذیلی انجمنوں کے نمائندے بھی شریک ہوئے اور انہوں نے بھی اپنے اپنے علاقے کی انجمن خدام القرآن کا مختصر تعارف کرایا اور خدمت قرآنی کے میدان میں اپنی پیش رفت کا بھی اختصار کے ساتھ ذکر کیا. اس سے بھی بڑھ کر مقامِ شکر یہ ہے کہ ان انجمنوں کے زیراہتمام قرآن اکیڈمیز کی تعمیر کا کام بھی شروع ہو چکا ہے. قرآن اکیڈمی کراچی کی نہ صرف یہ کہ تعمیر ایک حد تک مکمل ہو چکی ہے بلکہ وہاں دینی تعلیم کے ایک سالہ کورس کی تدریس کا آغاز بھی ہو چکا ہے. 

یہ حقیقت ہے کہ پہلی مرتبہ کسی کام کا شروع کرنا مشکل ہوتا ہے‘ لیکن ایک بار محنت کرنے سے جب ایک 
pattern اور عملی نمونہ سامنے آ جاتا ہے تو اس کام کا کرنا مشکل نہیں رہتا. اس اعتبار سے ظاہر بات ہے کہ مرکزی انجمن خدام القرآن لاہور کی تشکیل اور قرآن اکیڈمی کے قیام میں محنت بھی زیادہ صرف ہوئی اور وقت بھی بہت لگا. لاہور میں مسلسل پانچ چھ برس میں نے فکر قرآنی کی اشاعت کا کام تن تنہا کیا جس کے نتیجے میں بحمد اللہ ۱۹۷۲ء میں مرکزی انجمن خدام القرآن وجود میں آئی. پھر مزید پانچ سال بعدقرآن اکیڈمی کی پہلی اینٹ رکھنے کی نوبت آئی. عمارت کی تعمیر بھی مرحلہ وار ہوئی. آغاز میں صرف دفاتر یا رہائشی بلاک کی تعمیر عمل میں آئی. پھر کئی برس بعد جا کر قرآن اکیڈمی میں دینی تعلیم کے دوسالہ کورس کا آغاز ہوا. اس طرح یہ داستان برسوں پر محیط ہے. اس لیے کہ یہ کام پہلی بار ہو رہا تھا. لیکن اب جبکہ اس کام کا ایک ہیولیٰ اور ابتدائی خاکہ بن چکا ہے اور اس کے بہت سے مراحل طے ہو چکے ہیں تو قوی امید ہے کہ بقیہ جگہوں پر مرکزی انجمن کی نہج پر جو کام ہو رہے ہیں ان میں اتنا وقت نہیں لگے گا بلکہ تیز رفتاری کے ساتھ انجمن کی تاسیس سے لے کر قرآن اکیڈمی کی تعمیر اور آغازِ تدریس تک کے مراحل طے کیے جا سکیں گے. چنانچہ کراچی میں بحمداللہ کام کی رفتار تیز ہے. اب ملتان میں بھی اللہ کے فضل و کرم سے ایک اکیڈمی وجود میں آ چکی ہے‘ اس سال رمضان میں وہاں میرا دورۂ ترجمہ ٔ قرآن بھی ہوا ہے اور اب امید ہے کہ زیادہ سے زیادہ ایک سال میں وہاں قرآن کالج کا آغاز ہو جائے گا. فیصل آباد میں منسلک انجمن موجود ہے. وہاں اکیڈمی کے لیے بعض مخیر خواتین نے ایک خاصا وسیع قطعہ زمین ہمیں ہبہ کیا ہے اور اب وہاں بھی تعمیر کا کام شروع ہوا چاہتا ہے. مجھے پوری توقع ہے کہ اس سالانہ اجلاس عام کا یہ نتیجہ نکلے گا کہ ان شاء اللہ العزیز پشاور‘ رحیم یار خان ‘ حیدر آباد اور اسلام آباد میں بھی بہت جلد ذیلی انجمنوں کا قیام عمل میں آجائے گا. اور ہو سکتا ہے کہ اسی سال کے دوران وہاں اکیڈمیز کا کام بھی شروع ہو جائے . وَمَا ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ بِعَزِیْزٍ! 

دورۂ ترجمہ قرآن : تحریک رجوع الی القرآن کا ایک اہم سنگ میل


اسی طرح یہ بات بھی بڑی خوش آئند ہے کہ اس سال ماہِ رمضان المبارک میں دورۂ ترجمۂ قرآن کا پروگرام قریباً گیارہ بارہ جگہوں پر ہوا ہے. اس کے ضمن میں تو مجھے کبھی کبھی حفیظ کا یہ شعر یاد آتا ہے کہ ؎ 

کیا پابند ِنَے نالے کو میں نے
یہ طرزِ خاص ہے ایجاد میری! 

یہ بات میں نے بغیر کسی عُجب کے محض امر ِواقعہ کے طور پر عرض کی ہے‘ ورنہ واقعہ یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ ہی کا فضل ہے کہ اس نے میرے ذہن کو ادھر منتقل کیا. ہم نے جب نمازِ تراویح کے ساتھ بیان القرآن کا آغاز کیا تو شروع میں تراویح کے اختتام پر یا کبھی بیچ بیچ میں پندرہ بیس منٹ یاآدھ گھنٹے کا بیان ہوتا تھا. اس کے بعد میرا ذہن اس حقیقت کی جانب منتقل ہوا کہ احادیث مبارکہ میں تو رمضان المبارک کے دو گونہ پروگرام کا ذکر ملتا ہے ‘یعنی دن کا روزہ اور رات کا قیام قرآن حکیم کے ساتھ‘ یہ دونوں بالکل متوازی پروگرام ہیں. اس پہلو سے محض نماز تراویح ادا کرنے یا ایک آدھ گھنٹے میں خلاصۂ مضامین کے بیان سے تو رمضان المبارک کا حق ادا نہیں ہوتا. چنانچہ پھر (۱۹۸۴ء میں) دورۂ ترجمہ قرآن کا پروگرام شروع کیا گیا ‘اور بحمد اللہ اس بار آٹھواں یا نواں موقع تھا کہ مجھے دورۂ ترجمہ ٔ قرآن کی تکمیل کی سعادت حاصل ہوئی اس سال یہ پروگرام پانچ جگہوں پر ہوا. ایک جگہ میں نے قرآن کا ترجمہ بیان کیا اور چار دیگر جگہوں پر میرے شاگردوں نے مکمل ترجمۂ قرآن بیان کیا. مزید برآں دوران رمضان نماز تراویح کے ساتھ چار پانچ جگہوں پر ویڈیو کے ذریعے یہ پروگرام لوگوں نے دیکھا اور سنا. رجوع الی القران کی یہ لہر الحمد للہ بڑھ رہی ہے اور اس میں لوگوں کا قرآن سے شغف اور تعلق بڑھ رہا ہے. پوری رات قرآن حکیم اور اس کا مفہوم سننے اور سمجھنے میں جو لذت ہے اس کا اس سے پہلے لوگوں کو تجربہ نہیں تھا. ؏ ’’چوں معاملہ نہ دارد سخن آشنا نہ باشد!‘‘جب تک باہم محبت کا رشتہ نہ ہو اس وقت تک گفتگو کے اندر بھی وہ لوچ اور مٹھاس پیدا نہیں ہوتی. ہاں جب قرآن پاک سے تعارف ہوجائے اور اس سے ایک تعلق خاطر پیدا ہو جائے تو معاملہ بالکل مختلف ہو جاتاہے‘ پھر پوری رات انسان قرآن پڑھنے پڑھانے یا سننے سنانے میں گزار دیتا ہے اور یہ چیز اس پر ہرگز گراں نہیں گزرتی! 

اب تک کی گفتگو کا خلاصہ


اب تک کی گفتگو کا حاصل یہ ہے کہ الحمد للہ ہمارے اس کام میں پیش رفت ہو رہی ہے اور تین اعتبارات سے معاملہ بہت اطمینان بخش ہے. ایک یہ کہ گو ہمارے کام کی رفتار کچھ زیادہ تیز نہیں رہی تاہم الحمد للہ‘ ثم الحمد للہ‘ اس میں تسلسل اور تواتر موجود ہے. طوفان کے مانند اٹھنے اور بگولے کی طرح رخصت ہو جانے کے مقابلے میں یہ سست رفتاری کہیں بہتر ہے اور ’’سہج پکے سو میٹھا ہو‘‘ کے مصداق توقع ہے کہ اس سے ان شاء اللہ پائیدار نتائج پیدا ہوں گے.دوسری بات یہ کہ گاڑی کے دو پہیوں کی مانند ہمارے اس کام کے بھی دو بڑے بڑے گوشے ہیں اور الحمد للہ کہ ان کے مابین توازن و اعتدال برقرار ہے. ایک گوشہ رجوع الی القرآن کی تحریک کا ہے‘ جس کے پیش نظر قرآن حکیم کے نورِ ہدایت کو پھیلانا اور اس کے انقلابی فکر کو عام کرناہے. اس نور کا اتمام اللہ تعالیٰ نے فرمادیا اور اس کی حفاظت کا ذمہ بھی لے لیا ‘ اب ہمارا کام اس کا افشا کرنا ہے. یعنی اسے چہاردانگ عالم تک پھیلانا اور ہر ممکن طریقے سے اس کا ابلاغ کرنا اب ہمارے ذمے ہے. اس کے لیے جہاں عوامی سطح پر قرآن کے ذریعے وعظ و نصیحت کا کام ضروری ہے وہاں دانشوروں اور intellectuals کے لیے ان کی علمی سطح کے مطابق اس کا ابلاغ بھی اسی قدر ضروری اور لازمی ہے دوسرا گوشہ اقامت دین کی جدوجہد کا ہے کہ قرآن کا پڑھنا پڑھانا اور سیکھنا سکھانا محض ایک مشغلہ بن کر نہ رہ جائے بلکہ اس تعلیم و تعلّم قرآن کے ساتھ ساتھ اس کا دوسرا پہیہ بھی متوازی چلنا چاہیے. غلبہ و اقامت دین کی جدوجہد اور اس کے لیے تنظیم اور تحریک کا کام بھی متوازن انداز میں آگے بڑھنا چاہیے. الحمد للہ کہ یہ دونوں کام بہت حد تک متوازن انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں.

تیسری بات یہ کہ آئندہ کے تسلسل کے بارے میں بھی مجھے اطمینان ہے کہ یہ کام ان شاء اللہ العزیز جاری رہے گا. ویسے بھی میں یہ سمجھتا ہوں کہ میں اب عمر کے جس حصے میں ہوں اس کے بعد تو 
’’نَافِلَۃً لَّکَ‘‘ کا درجہ رہ جاتا ہے.اس لیے کہ ۲۶/اپریل کو میری عمر کے ساٹھ برس مکمل ہو رہے ہیں اور مسنون عمر تو کل اکسٹھ یا ساڑھے اکسٹھ برس ہی بنتی ہے. نبی اکرم کی عمر ۶۳ برس قمری حساب سے تھی‘ شمسی حساب سے یہ قریباً ۶۱برس بنتے ہیں. میری اس بات کو غلط مفہوم میں نہ لیاجائے کہ معاذ اللہ میں حضور اکرم کے ساتھ اپنی کوئی مشابہت ثابت کرنا چاہتا ہوں‘ بلکہ میں دیانتاً یہ سمجھتا ہوں اور اپنے ان قریبی ساتھیوں سے اکثر یہ بات کہتا ہوں جو اس عمر کو پہنچے ہوئے ہوں ساٹھ اکسٹھ برس کی عمر کو پہنچنے کے بعد آدمی کو یہ سمجھنا چاہیے کہ مسنون عمر تو پوری ہوئی‘ اب بقیہ زندگی بونس ہے‘ یہ ’’نَافِلَۃً لَّکَ‘‘ کے درجے کی چیز ہے. اس کا ایک ایک لمحہ اللہ کے دین کی خدمت کے لیے صرف ہونا چاہیے.

ہماری تحریک اور شجرۂ طیبہ کی مثال

اس ضمن میں ایک اور نکتہ اشارتاً عرض کیے دیتا ہوں اور اس میں بھی میرے لیے اطمینان کا بہت کچھ ساما ن مضمر ہے. سورۃ ابراہیم میں ایک پاکیزہ درخت کی جو مثال آئی ہے وہ ہمارے اس کام پر بحمد اللہ بہت حد تک صادق آتی ہے : اَلَمْ تَرَ کَیْفَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلاً کَلِمَۃً طَیِّبَۃً کَشَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ اَصْلُھَا ثَابِتٌ وَّفَرْعُھَا فِی السَّمَآءِ کسی بھی شجرۂ طیبہ یعنی پاکیزہ درخت کی یہ مثال ہے کہ اس کی جڑ مضبوطی کے ساتھ زمین میں قائم ہو اور اس کی شاخیں آسمان سے باتیں کر رہی ہوں . الحمد للہ کہ ہمارے کام کی بھی یہی شان ہے. دعوت رجوع الی القرآن کا کام اس پوری تحریک کی جڑ کے مانند ہے جو مضبوطی کے ساتھ زمین میں پیوست ہے. اس میں ہماری صلاحیتیں اور ہمارے وسائل بھرپور طور پر صرف ہو رہے ہیں. تنظیم اسلامی اس شجرٔہ طیبہ کے تنے کی حیثیت رکھتی ہے اور اس کے برگ و بار اور اس کی شاخوں کا مقام تحریک خلافت کو حاصل ہے. اللہ کو اگر منظور ہوا تو یہ کام ضرور آگے بڑھے گا. 

میں نے اپنا یہ تجزیہ کئی مواقع پر آپ کے سامنے رکھا ہے کہ پاکستان کے استحکام اور اس کے بقا کا اگر کوئی راستہ ہے تو یہی ہے کہ یہاں وہ صحیح اور مکمل اسلامی نظام قائم ہو جس کا عنوان ’’نظامِ خلافت‘‘ ہے. اگر پاکستان اور اہل پاکستان کے لیے اللہ نے کسی خیر کا ارادہ فرمایا ہے تو قوی امید ہے کہ یہ تحریک آگے بڑھے گی اور سرزمین پاکستان پر نظامِ خلافت کا قیام و نفاذ ہو گا. اس لیے کہ پوری دنیا کے اوپر اسلام کا جو غلبہ ہونا ہے جس کی صریح پیشین گوئیاں حضوراکرم کی احادیث میں موجود ہیں ‘ ظاہر بات ہے کہ اس عمل کا آغاز کسی ایک خطہ ٔزمین ہی سے ہو گا‘ اور اگر یہ اللہ کی مشیت میں ہے کہ اس عمل کا نقطہ ٔ آغاز سرزمین پاکستان بنے تو یقینا ً غلبہ و اقامت دین کی یہ جدوجہد آگے بڑھے گی اور اس کی شاخیں آسمان سے باتیں کریں گی. ہاں ہم میں سے ہر شخص کو اپنی انفرادی حیثیت میں یہ ضرور سوچناچاہیے کہ اس جدوجہد میں اس کا ذاتی حصہ 
(contribution) کتنا ہے. اس لیے کہ اللہ کے ہاں تو حساب کتاب انفرادی بنیادوں پر ہو گا : وَکُلُّھُمْ اٰتِیْہِ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ فَرۡدًا ﴿۹۵﴾ (مریم) وہاں تو ہر شخص انفرادی حیثیت میں پیش ہو گا. ہر شخص کو اس کا اعمال نامہ اس کے ہاتھ میں تھما دیا جائے گا اور حکم ہو گا : اِقۡرَاۡ کِتٰبَکَ ؕ کَفٰی بِنَفۡسِکَ الۡیَوۡمَ عَلَیۡکَ حَسِیۡبًا ﴿ؕ۱۴﴾ . (بنی اسرائیل) یہ تمہاری بیلنس شیٹ موجود ہے‘ اسے پڑھو اور آج اپنے حساب کے لیے تم خود ہی کافی ہو. تو ہم میں سے ہر شخص کو اپنا جائزہ لینا چاہیے کہ دین کی جانب سے اس پر جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں وہ انہیں ادا کر رہا ہے یا نہیں!


قرآن حکیم کی بے مثال تاثیر اور قوتِ تسخیر

اب تک جو باتیں میں نے عرض کی ہیں وہ اس سے پہلے بھی مختلف مواقع پر‘ بالخصوص ماہِ رمضان المبارک کے دوران مختلف اجتماعات میں ‘بیان کر چکا ہوں. آج میں ایک اور اہم بات آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں جو مرکزی انجمن خدام القرآن کے حالیہ سالانہ اجلاس کے موقع پر میں بطورِ تحفہ شرکاء اجتماع کے سامنے رکھنا چاہتا تھا‘ لیکن چونکہ وہاں ذیلی انجمنوں کے نمائندگان کی تقاریر زیادہ طویل ہو گئیں تو وقت کی کمی کے پیش نظر میں نے اپنی اس گفتگو کو ملتوی کر دیا. چنانچہ وہ تحفہ میں آپ کی خدمت میں اب پیش کر رہا ہوں‘ اور اس کا تعلق قرآن مجید کی قوتِ تسخیر اور اس پر اعتماد اور توکل سے ہے. 

یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ بندۂ مؤمن کے لیے اصل سہارا اللہ کی ذات ہے‘ اور خواہ کوئی ظاہری اور مادی سہارا موجود نہ ہو اور بظاہر ہر طرف سے مایوسی نظر آتی ہو‘ ایک بندۂ مؤمن اللہ ہی پر توکل کرتا ہے اور اس کی رحمت کی آس لگائے رکھتا ہے. قرآن حکیم میں جابجا اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے : 
وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ یعنی اہل ِایمان کو تواللہ ہی پر توکل کرنا چاہیے. لیکن میں آج جان بوجھ کر قرآن حکیم پر اعتماد اور توکل کے الفاظ استعمال کر رہا ہوں تاکہ لوگ چونکیں‘ ان کے ذہنوں میں سوال اٹھے اور وہ توجہ سے اس بات کو سنیں کہ قرآن کی قوتِ تسخیر اور اس پر توکل و اعتماد کے بارے میں وہ کیا بشارتیں ہیں کہ جو خود قرآن مجید میں وارد ہوئی ہیں.

قرآن حکیم کی شان

کچھ لوگوں کے ذہن میں یہ بات آ سکتی ہے کہ توکل کے لفظ کا قرآن حکیم کے ساتھ اس طور پراستعمال شاید کچھ غیر مناسب ہے. چنانچہ میں چاہتا ہوں کہ اس بات کو پوری وضاحت سے بیان کروں. دیکھئے‘ قرآن مجید ہی سے یہ بات ثابت ہے کہ جو تاثیر تجلی ذاتِ باری تعالیٰ کی ہے وہی تاثیر قرآن مجید کی بھی ہے. سورۃ الاعراف میں یہ واقعہ مذکور ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بارگاہِ ربّ العزت میں درخواست کی : رَبِّ اَرِنِیْٓ اَنْظُرْ اِلَیْکَ کہ اے پروردگار !میں تجھے بچشم سر دیکھنا چاہتا ہوں. اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ سلام کو یہ بات سمجھانے کی غرض سے کہ وہ تجلی ٔذاتِ حق کا تحمل نہ کر پائیں گے‘ اپنی ایک تجلی پہاڑ پرڈالی. قرآن حکیم نے اس کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا ہے: فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّہٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَہٗ دَکًّا وَّخَرَّ مُوْسٰی صَعِقًا (آیت ۱۴۳کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی تجلی ذات کے بالواسطہ مشاہدے کا تحمل بھی نہ کر سکے اور بے ہوش ہو کر گرپڑے. یہی بات قرآن مجید کی عظمت کے بارے میں ایک تمثیل کے پیرائے میں سورۃ الحشر میں آئی ہے : لَـوْ اَنْزَلْنَا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰی جَبَلٍ لَّـرَاَیْتَہٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ (الحشر:۲۱’’اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر اُتار دیتے تو تم دیکھتے کہ وہ دب جاتا اور پھٹ جاتا اللہ کی خشیت سے‘‘. تو درحقیقت جو تاثیر تجلی ٔباری تعالیٰ کی ہے وہی ہیبت اور وہی دبدبہ کلامِ باری تعالیٰ کا ہے. ان دونوں میں اس اعتبار سے کوئی فرق نہیں.اس حقیقت کو بھی علامہ اقبال نے خوب سمجھا اور بڑی خوبصورتی سے اشعار کے قالب میں ڈھالا ہے. میرے علم کی حد تک اس دور میں اور کوئی شخص ایسا نہیں ہے جس کے ذہن کی رسائی یہاں تک ہوئی ہو. فرماتے ہیں: ؎

فاش گویم آنچہ در دل مضمر است
ایں کتابے نیست چیزے دیگر است
مثل ِحق پنہاں و ہم پیداست ایں
زندہ و پائندہ و گویاست ایں

کہ میں تم سے صاف ہی کہہ دوں جو کچھ میرے دل میں ہے‘ یہ کتاب نہیں کچھ اور شے ہے. اسے عام معنوں میں کتاب نہ سمجھو‘ یہ ’’چیزے دگر‘‘ ہے. یعنی جیسے اللہ تعالیٰ کی ذات الظاہر بھی ہے اور الباطن بھی ‘ اسی طرح یہ کتاب بھی بیک وقت ان دونوں متضاد صفات کی حامل ہے. اور جیسے اللہ تعالیٰ کی ذات الحی اور القیوم ہے اسی طرح اس کا کلام بھی زندہ و پائندہ ہے. قرآن حکیم کے لیے ’’ کتاب زندہ‘‘ کے الفاظ تو اقبال نے اور بھی کئی مقامات پر استعمال کیے ہیں. مثلاً ؎ 
ایں کتابِ زندہ قرآنِ حکیم
حکمت اُو لایزال است و قدیم 
بہرحال حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید کی قوت تسخیر کے بارے میں ہم نے بڑی ناقدری کا معاملہ کیا ہے. ہمیں نہ تو قرآن حکیم کی عظمت کا ادراک حاصل ہے اور نہ اس کی قوت تسخیر پر اعتماد. ہمیں اندازہ ہی نہیں ہے کہ کتنی بڑی نعمت اور کیسی عظیم قوت ہے جو اللہ نے قرآن حکیم کی صورت میں ہمیں عطا فرمائی ہے. 

دو آیات دو عظیم بشارتیں

اسی ضمن میں سورۃ طٰہٰ کی ابتدائی دو آیات اور سورۃالقصص کی آیت ۸۵ کے حوالے سے بھی میں ایک بات عرض کرنا چاہتا ہوں. سورۃ طٰہٰ کی پہلی آیت حروف مقطعات پر مشتمل ہے: طٰہٰ ۚ﴿۱﴾ جبکہ دوسری آیت: مَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡکَ الۡقُرۡاٰنَ لِتَشۡقٰۤی ۙ﴿۲﴾ میں ایک عظیم حقیقت کا بیان ہے. یہاں خطاب نبی اکرم سے ہے کہ اے نبیؐ ‘ ہم نے آپ پر یہ قرآن اس لیے نازل نہیں کیا کہ آپ ناکام ہوں یا بے مراد ہوں یہاں ایک تھوڑی سی تفسیری وضاحت ضروری ہے.اکثر مفسرین نے اس آیت کا ترجمہ یوں کیا ہے: ’’اے نبیؐ ‘ یہ قرآن ہم نے آپ پر اس لیے نازل نہیں کیا کہ آپ مشقت میں پڑ جائیں‘‘. لفظ ’’تَشْقٰی‘‘ کا مادہ ’’ش ق ی‘‘ ہے جس سے ’’شقی‘‘ کا لفظ بنا ہے. یہ لفظ ’’سعید‘‘ کے مقابلے میں آتا ہے. چنانچہ شقی اس کو کہتے ہیں جو بدبخت ہو‘ ناکام ہو‘ بے مراد ہو. یعنی وہ شخص جس کی جدوجہد لاحاصل رہے‘ نتیجہ خیز نہ ہو رہی ہو‘ وہ شقی ہے. جبکہ مشقت کا لفظ ’’ش ق ق‘‘ کے مادے سے بنتا ہے. یہ دونوں مادے چونکہ ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں اور اسی قرب کے باعث ایک دوسرے کی جگہ بھی استعمال ہو جاتے ہیں‘ شاید یہی وجہ ہے کہ اکثر مترجمین نے ’’لِتَشقیٰ‘‘ کا ترجمہ ’’مشقت‘‘ سے کیا ہے . تاہم مجھے ان سے اختلاف ہے. یہاں درحقیقت یہ بات کہی جا رہی ہے کہ اے محمد ( ) یہ قرآن آپؐ پر اس لیے نازل نہیں ہوا کہ آپؐ ناکام ہوں‘ یہ تو کامیابی کی ضمانت ہے. اس قرآن میں جو قوت تسخیر اور جو تاثیر مضمر ہے اس کے پیش نظر یہ ممکن نہیں ہے کہ اس سب کے ہوتے ہوئے آپؐ ناکامی سے دوچار ہوجائیں. آپؐ یقینا کامیاب ہوں گے اور منزل مراد تک پہنچیں گے. اس دنیا میں بھی آپؐ کی جدوجہد کامیابی سے ہم کنار ہو گی اور آخرت میں بھی آپؐ کے مراتب بلند سے بلند تر ہوں گے. شقاوت آپؐ کے حصے میں نہیں آسکتی‘ نہ اس دنیا میں اور نہ آخرت میں. یہ قرآن آپؐ کی کامیابی کی ضمانت ہے‘ یہ شقاوت کی ہر اعتبار سے نفی کرنے والا ہے. اب آپ غور کیجیے کہ اس میں ہر اس شخص کے لیے جو قرآن مجید کی کسی بھی درجے میں خدمت کر رہا ہو‘ کس قدر بشارت ہے اور اس کی دلجوئی کا کتنا کچھ سامان اس میں مضمر ہے : مَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡکَ الۡقُرۡاٰنَ لِتَشۡقٰۤی ۙ﴿۲﴾ اس قرآن کی شمشیر کو ہاتھ میں لو‘ اس کے حقوق کوادا کرنے کے لیے کمر بستہ ہو جاؤ‘ تم خود اپنی آنکھوں سے اس کی قوتِ تسخیر کا مشاہدہ کرو گے. اس کے اندر جو ہیبت پنہاں ہے اور اس میں جوبے پناہ تاثیر پوشیدہ ہے‘ قدم قدم پر اس کے مظاہر تمہارے سامنے آئیں گے اور تم بچشم سر ان کا مشاہدہ کر سکو گے. 
اس ضمن میں تیسری آیت جس کا میں حوالہ دینا چاہتا ہوں‘ سورۃ القصص کے آخری حصے میں وارد ہوئی ہے. تفسیری اعتبار سے اس آیت کے مفہوم کی تعیین میں بھی کچھ اختلاف کیا گیا ہے.فرمایا: 
اِنَّ الَّذِیۡ فَرَضَ عَلَیۡکَ الۡقُرۡاٰنَ لَرَآدُّکَ اِلٰی مَعَادٍ ؕ (آیت۸۵’’( اے نبی !) جس ہستی نے آپ پر یہ قرآن لازم کیا ہے‘ (اس قرآن کی تبلیغ اور اس کے ابلاغ کا فرض جس نے آپ پر عائد کیا ہے ) وہ آپ کو لازماً لوٹائے گا ایک اعلیٰ لوٹنے کی جگہ کی جانب‘‘ بعض حضرات نے یہاں اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ ’’معاد‘‘ سے مراد مکہ مکرمہ ہے.ان حضرات کے نزدیک اس آیت کا تعلق آپؐ کے سفر ہجرت سے ہے کہ جب آپؐ ہجرت کے لیے مدینہ تشریف لے جا رہے تھے تو مشرکین مکہ کے تعاقب سے بچنے کے لیے کچھ دور تک آپؐ نے عام شاہراہ سے ہٹ کر ایک مشکل راستہ اختیار کیا تھا. اس لیے کہ اگر آپؐ عام شاہراہ پر سفر کرتے تو تعاقب کرنے والوں کی نگاہ میں آتے جاتے . چنانچہ آپؐ نے وہ پہاڑی راستہ اختیار کیا جو بالکل غیر مستعمل اور غیر مانوس تھا. لیکن تقریباً ایک تہائی سفر طے کرنے کے بعد آپؐ پھر اسی شاہراہ پرآ گئے جو مکہ سے مدینہ کی طرف جاتی تھی. جب آپؐ وہاں پہنچے تو چونکہ وہاں آپؐ کے لیے ایک دوراہے کی صورت بن گئی تھی کہ ایک راستہ مکہ کو جاتا تھا اور دوسرا مدینہ کی جانب‘ تو دل میں ہوک سی اٹھی‘ گویامکہ نے پھر اپنی طرف کھینچا‘ بیت اللہ اور حرم مکی سے جو محبت محمد رسول اللہ کو تھی‘ اس نے آپؐ کو وقتی طو رپر بے چین کیا‘ اُس وقت دلجوئی کے لیے یہ آیت نازل ہوئی : اِنَّ الَّذِیۡ فَرَضَ عَلَیۡکَ الۡقُرۡاٰنَ لَرَآدُّکَ اِلٰی مَعَادٍ ؕ کہ اے نبی ! آپ گھبرایئے نہیں‘ مکہ اور بیت اللہ سے آپ کی یہ جدائی عارضی ہوگی‘ ہجر کا یہ معاملہ مستقل نہیں رہے گا‘ یقینا وہ ربّ جس نے آپؐ پر قرآن مجید کی تبلیغ اور اس کی دعوت کا فریضہ عائد کیا ہے وہ آپ کو لوٹا کر لے جائے گا لوٹنے کی جگہ یعنی مکہ مکرمہ! 

میرے نزدیک یہ بات اپنی جگہ ایک لطیف خیال کے درجے میں تو صحیح ہے‘ لیکن اگر سورۃ القصص کے زمانہ ٔ نزول کو دیکھا جائے اور بعض دیگر قرائن کو پیش نظر رکھا جائے تو اس آیت کی یہ تاویل مطابق ِواقعہ معلوم نہیں ہوتی. سورۃ القصص اپنے مضامین اوراسلوب کے اعتبار سے ان سورتوں میں شمار ہوتی ہے جو حضور اکرم کے مکی دور کے درمیانی عرصے میں نازل ہوئیں. پھر یہ بات بھی بڑی قابل لحاظ ہے کہ فتح مکہ کے بعد بھی رسول اللہ نے دوبارہ مکہ میں قیام اختیار نہیں فرمایا‘ حالانکہ فتح مکہ کے بعد اگر آپؐ چاہتے تو وہیں قیام فرماتے‘ مدینہ مراجعت اختیار نہ فرماتے. اس اعتبار سے بھی وہ تاویل خلافِ واقعہ بنتی ہے. صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ 
’’معاد‘‘ سے مراد ہے آپؐ کا 
مقام‘ آپؐ کے لوٹنے کی جگہ‘ اعلیٰ انجام. جیسے کہ سورۃ بنی اسرائیل میں بشارت کے طور پر فرمایا گیا: عَسٰۤی اَنۡ یَّبۡعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحۡمُوۡدًا ﴿۷۹﴾ کہ آپؐ کو تو آپ کا رب مقامِ محمود پر فائز فرمائے گا.اس لیے کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ ایک شخص قرآن کی دعوت و تبلیغ میں لگا ہوا ہو‘ لوگوں کو قرآن حکیم کی طرف بلانے میں وہ رات دن ایک کر رہا ہو اور پھر وہ ناکام ہو جائے ! نہیں‘ ایسا نہیں ہے‘ بلکہ اِنَّ الَّذِیۡ فَرَضَ عَلَیۡکَ الۡقُرۡاٰنَ لَرَآدُّکَ اِلٰی مَعَادٍ ؕ اے نبی ! یقینا آپؐ بہت اعلیٰ انجام سے دوچار ہوں گے‘ آپؐ کی جدوجہد کا بہت اعلیٰ نتیجہ نکلے گا جس سے کہ آپ ہم کنار ہوں گے. حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں آیات قرآن مجید کے بارے میں بڑی عظیم بشارتوں پر مشتمل ہیں. 

میری زندگی کے دو عجیب واقعات

اس دوسری آیت کے بارے میں غور وفکر کرتے ہوئے مجھے اپنی زندگی کا ایک واقعہ یاد آیا. بلکہ چونکہ آج دو چیزوں کا تذکرہ چل رہاہے یعنی مرکزی انجمن اور تنظیم اسلامی تو اس مناسبت سے دو ہی واقعات کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں. ان دونوں کا تعلق ۱۹۷۲ء سے ۱۹۷۵ء تک کے عرصے سے ہے ‘جب مرکزی انجمن خدام القرآن قائم ہوئی اور تنظیم اسلامی کے قیام کے لیے میدان ہموار ہو رہا تھا. ان میں سے ایک واقعہ دراصل ایک خواب ہے جس کا تذکرہ میں کچھ ڈرتے اور جھجکتے ہوئے کر رہا ہوں کہ کہیں لوگ یہ خیال نہ کریں کہ اب یہ بھی خوابوں کی دنیا میں آ گیا. یہ خواب آج سے بیس برس پہلے کا ہے اور اس سے قبل میں نے بعض قریبی احباب کو سنایا بھی ہے. جس زمانے میں‘میں تنظیم ِاسلامی کے قیام کے بارے میں سوچ بچار کر رہا تھا اور تقریباً اس کے قیام کافیصلہ کر چکا تھا میں نے یہ عجیب و غریب خواب دیکھا. خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں مر گیا ہوں اور میں اپنے جنازے کا منظر بھی ایک چشم دید گواہ کی حیثیت سے خود کھڑادیکھ رہا ہوں. میں اپنی موت کے تمام مراحل یہاں تک کہ قبر میں اتارے جانے کا بھی خود مشاہدہ کر رہا ہوں. یہ ایک عجیب تجربہ تھا کہ میری نگاہوں کے سامنے مجھے قبر میں اتارا جارہا تھا.میں نے اسی وقت بعض بزرگوں سے اس خواب کا تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا کہ یہ ایک بہت بڑی بشارت ہے. یہ اس بات کی علامت ہے کہ تمہاری زندگی کا ایک دور ختم ہو گیا ہے اور دوسرا دور اب شروع ہو ا چاہتا ہے. یعنی ایک عزم مصمم کے ساتھ اقامت دین کی تحریک کے از سر نو آغاز کا جو ارادہ کر لیا ہے یہ درحقیقت اس بات کے مترادف ہے کہ ایک زندگی ختم ہوئی اور ایک بالکل نیا دور اب شروع ہو رہا ہے. (واللہ اعلم!) 

دوسراواقعہ بھی میری ایک ایسی کیفیت سے متعلق ہے جو بیداری اور نیند کے بین بین تھی. واقعے کے سرور اور لذت کا ابھی تک مجھے احساس ہوتا ہے. یہ خواب نہیں تھا بلکہ ایک خاص کیفیت تھی جو نیم غنودگی کی حالت میں مجھ پر طاری ہوئی. کچھ 
’’بَیْنَ النَّوْمِ وَالْـیَقْظَۃ‘‘ کا سا معاملہ تھا. نیند اور بیداری کے مابین ایک کیفیت میں‘ میں محسوس کرتا ہوں کہ لگاتار ایک آواز میرے کان میں آ رہی ہے. کوئی مسلسل مجھے یہ الفاظِ قرآنی سنا رہا ہے : اِنَّ الَّذِیۡ فَرَضَ عَلَیۡکَ الۡقُرۡاٰنَ لَرَآدُّکَ اِلٰی مَعَادٍ ؕ . اس کے بعد جب میں پوری طرح بیدار ہوا تو ایک عجیب سرور‘ انبساط اور انشراح کی کیفیت جس کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں‘ مسلسل کئی روز تک بلکہ کافی عرصے تک مجھ پر طاری رہی. مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اُس وقت مجھے تلاش کرنا پڑا تھا کہ یہ آیت قرآن حکیم کے کس حصے اور کس سورۃ میں ہے. اس لیے کہ میرا معاملہ یہ ہے کہ قرآن مجید کا باضابطہ مطالعہ تو اگرچہ بحمد اللہ زمانہ طالب علمی سے جاری ہے لیکن زیادہ تفصیلی غور وفکر کا اصل موقع مجھے اپنے سلسلہ وار درسِ قرآن حکیم کے ساتھ ملا‘ بالخصوص تفسیری اختلافات اور مختلف آراء کے مابین اپنی آخری رائے میں نے زیادہ تر اپنے مسلسل درس کے دوران ہی قائم کی ہے. اور اُس وقت جبکہ میں اِس دلفریب تجربے سے گزرا میرا درس‘ قرآن حکیم کے اس مقام تک نہیں پہنچا تھا. اگر تو ایسا ہوتا کہ سورۃ القصص انہی دنوں میرے زیر درس آئی ہوتی اور اس وجہ سے میرے ذہن پر یہ کیفیت طاری ہوتی تو شاید میں اس کی کوئی دوسری تاویل کرتا‘ لیکن چونکہ یہ بات نہیں تھی لہذا اسے میں نے اپنے حق میں بہت بڑی بشارت سمجھا. سرور و انبساط کی کیفیت دیر تک مجھ پر طاری رہی اور ان الفاظِ قرآنی کی مٹھاس اور حلاوت کا تاثرایک عرصے تک میرے قلب و ذہن کو فرحت بخشتا رہا.

ذہن و قلب پر قرآن حکیم کا تسلط اور اس کے مظاہر

قرآن حکیم کی قوتِ تسخیر کے ضمن میں میں ایک اصطلاح استعمال کیا کرتا ہوں کہ قرآن اپنے طالب کو possess کر لیتا ہے‘ اس کے ذہن و قلب کو اپنی گرفت میں لے لیتاہے. میرے بعض ساتھی یہی لفظ میرے لیے استعمال کرتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ میرا اپنا احساس یہ ہے کہ میں اگر اس کیفیت سے نکلنا یا نکلنے کی غرض سے ہلنا بھی چاہوں تو ہل نہیں سکتا. اس لیے کہ اللہ کے فضل و کرم سے میں جس طرح اس کام میں لگا ہوں اس طور سے کام اپنے کسی ارادے اور منصوبے کے تحت نہیں ہوا کرتے. ایسی کیفیت تو اسی شخص کی ہوسکتی ہے جو کسی عظیم قوتِ تسخیر کے زیراثر کسی شکنجے میں آ گیا ہو‘ جکڑا گیا ہو. حالانکہ ایسا بھی ہوا کہ کئی کام جو میں نے بالا رادہ شروع کیے‘ کوشش کے باوجود میں انہیں مکمل نہیں کر سکا.مثلاً ایک موقع پر میں نے اپنے ذاتی حالات لکھنے شروع کیے لیکن وہ سلسلہ بیچ ہی میں کہیں رک گیا. خدمت قرآنی کا کام بھی اگر میں محض اپنے ارادے کے تحت کرتا تو اس طور سے ہرگز نہ کر پاتا جیسا کہ اللہ نے مجھ سے کروایا ہے. اللہ کی تائید و توفیق قدم قدم پر میرے شامل حال رہی. میں نے جب اپنی میڈیکل پریکٹس بند کی تو کوئی ذریعہ معاش تھا نہ کوئی جائیداد میرے پاس موجود تھی. لیکن میں نے توفیق الٰہی سے یہ طے کر لیا تھا کہ اب جسم و جان میں جو بھی توانائی کی رمق باقی ہے وہ اسی کام میں لگے گی. میرے پاس کرشن نگر میں اپنی رہائش کے لیے بس ایک مکان تھا (جسے بعد میں بیچ کر قرآن اکیڈمی کے سامنے مکان بنوایا) اس کے سوا اور کوئی جائیداد میرے پاس موجود نہیں تھی‘ لیکن اللہ نے ہمت دی ا ور میں نے طے کر لیا کہ آئندہ زندگی کا کوئی لمحہ اب تلاش معاش میں صرف نہیں ہوگا‘ سارا وقت اور صلاحیتیں ’’معاد‘‘ کے حصول میں صرف ہوں گی. 

ظاہر بات ہے کہ یہ فیصلہ آسان نہیں تھا. میرے پاس اگر وسائل ہوتے‘ جاگیریں ہوتیں اور ان کے بل پر میں یہ فیصلہ کرتا تو معاملہ مختلف ہوتا. الحمد للہ میرے چار بھائی ہیں اور بعض نے مختلف مواقع پر مجھ سے تعاون بھی کیا ہے‘ لیکن اتفاق کی بات ہے کہ اُس وقت بھائیوں میں سے کسی کا بھی تعاون مجھے حاصل نہیں تھا. البتہ چھوٹے 
بھائی اقتدار احمد نے تعاون کیا‘ لیکن ا س کی نوبت بہت بعد میں آئی. (۱انہوں نے بعدمیں ایک موقع پر جب مجھے یہ پیشکش کی کہ میں آپ کے کام میں شریک ہونا چاہتا اور آپ کے ساتھ تعاون کرنا چاہتا ہوں تو پہلی بات میں نے ان سے یہ کہی کہ اگر تو صرف بھائی ہونے کے ناطے سے تعاون کرنا چاہتے ہو تو مجھے قبول نہیں‘ ہاں اگر تمہیں میرے اس مشن کے ساتھ کوئی دلچسپی ہے اور اس میں تعاون کرنا چاہتے ہو تو سر آنکھوں پر. بہرحال میں سمجھتا ہوں کہ یہ قرآن کی قوتِ تسخیر ہی کا اثر تھا کہ کسی قسم کے معاشی وسائل نہ رکھتے ہوئے بھی اور کسی دُنیوی سہارے کے موجود نہ ہوتے ہوئے بھی میں نے اپنی میڈیکل پریکٹس کو خیرباد کہنے کا فیصلہ کر لیا اور دعوت رجوع الی القرآن کے کام میں ہمہ وقت مشغول ہو گیا. اسے اس کے سوا اور کیاکہا جا سکتا ہے کہ قرآن ہی نے مجھے possess کر لیا تھا اور میرے ذہن و قلب کو پورے طور پر اپنی گرفت میں لے لیا تھا! 

رسول اور کتاب ایک حیاتیاتی وحدت

اسی ضمن میں ایک اور بات کی طرف توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں‘ اگرچہ یہ ایک نازک سا مسئلہ ہے . میرے درسِ قرآن سننے والے اکثر حضرات کے علم میں ہے کہ اہم مضامین قرآن مجید میں تھوڑے سے لفظی فرق کے ساتھ کم از کم دو مرتبہ ضرور آتے ہیں. ان میں سے ایک اہم مضمون یہ بھی ہے کہ ’’رسول‘‘ اور ’’ کتاب‘‘ دونوں مل کر ایک حیاتیاتی اکائی (organic whole) کی مانند ایک وحدت بنتے ہیں‘اور دنیا میں جو بھی خیر وجودمیں آتا ہے اور جو بھی انفرادی یا اجتماعی تبدیلی رونما ہوتی ہے وہ درحقیقت ان دونوں کی مشترک تاثیر کا نتیجہ ہے. اب میں قرآن حکیم کے ان دو مقامات کا حوالہ دوں گا جہاں رسول اور کتاب کو ایک وحدت کے طو رپر بیان کیا گیا ہے. سورۃ البینہ میں فرمایا گیا: لَمۡ یَکُنِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ وَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ مُنۡفَکِّیۡنَ حَتّٰی تَاۡتِیَہُمُ الۡبَیِّنَۃُ ۙ﴿۱﴾ ’’نہیں تھے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا مشرکین میں سے اور اہل ِکتاب میں (۱) واضح رہے کہ یہ خطاب ۱۹۹۲ء کا ہے. تاہم بعد ازاں بحمد اللہ وبعونہ تمام بھائیوں نے دعوتِ قرآنی کی اس تحریک میں اپنے اپنے انداز سے اپنا اپنا حصہ ڈالا. سے باز آنے والے جب تک کہ ان کے پاس ’’بیّنہ‘‘ (یعنی واضح دلیل) نہ آ جاتی‘‘. اگلی آیت ’’بیّنہ‘‘ کی وضاحت پر مشتمل ہے: رَسُوۡلٌ مِّنَ اللّٰہِ یَتۡلُوۡا صُحُفًا مُّطَہَّرَۃً ۙ﴿۲﴾فِیۡہَا کُتُبٌ قَیِّمَۃٌ ؕ﴿۳﴾ ’’(یعنی) ایک رسول اللہ کی طرف سے پڑھتا ہوا (اللہ کے) پاکیزہ صحیفوں کوجن میں محکم کتابیں ہیں.‘‘

گویا 
’’رَسُوْلٌ مِّنَ اللّٰہِ‘‘ اور ’’صُحُفًا مُّطَھَّرَۃً فِیْھَا کُتُبٌ قَـیِّمَۃٌ‘‘ یہ دونوں مل کر ’’بیّنہ‘‘ بنتے ہیں. اس کی دوسری مثال سورۃ الطلاق میں ہے‘ جہاں فرمایا گیا:

قَدۡ اَنۡزَلَ اللّٰہُ اِلَیۡکُمۡ ذِکۡرًا ﴿ۙ۱۰﴾رَّسُوۡلًا یَّتۡلُوۡا عَلَیۡکُمۡ اٰیٰتِ اللّٰہِ مُبَیِّنٰتٍ لِّیُخۡرِجَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ ؕ (آیت۱۱
’’ہم نے تمہاری طرف ایک ذکر نازل کر دیا ہے (یعنی) ایک رسول جو تمہیں پڑھ کر سناتا ہے اللہ کی واضح آیات تاکہ وہ ان لوگوں کو جو ایمان اور عمل صالح کا حق ادا کریں تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آئے!‘‘

تو معلوم ہوا کہ 
’’ذکر‘‘ بھی رسول اور کتاب دونوں کا مرکب ہے اور ’’بیّنہ‘‘ بھی. اور یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ دو اجزاء پر مشتمل کسی مرکب کے ایک جزو کو اگر آپ زیادہ اہمیت دے دیں گے تو دوسرے جزو کی اہمیت اسی نسبت سے کم ہو جائے گی. اگر آپ ایک جزو کو زیادہ emphasize کر دیں گے تو اس کا منطقی نتیجہ نکلے گا کہ دوسرا جزو پس منظر میں چلا جائے گا اور ان دونوں اجزاء کی جو مشترک تاثیر ہے وہ برقرار نہیں رہے گی. یہی حادثہ اس اُمت کے اندر بھی پیش آیا اور ’’رسول‘‘ اور ’’کتاب‘‘ پر مشتمل مرکب کے دونوں اجزاء کی اہمیت میں دو اعتبارات سے کمی بیشی کی کوشش کی گئی. چنانچہ ایک انتہا پر منکرین حدیث اور منکرین سنت ہیں جو رسول کی اہمیت کم کر دیتے ہیں. ان کے نزدیک اصل شے کتاب ہی ہے اور رسول کی حیثیت گویا محض ڈاک کے ہرکارے کی ہے. جیسے چٹھی رسان کا کام چٹھی پہنچانا ہوتا ہے جو اصل اہمیت کی حامل ہوتی ہے‘ اسی طرح رسول کا کام اللہ کا پیغام پہنچا دینا ہے سو وہ اس نے پہنچا دیا‘ اب اصل شے یہ قرآن ہے‘ لہذا اصل اہمیت اسی کی ہے. یہ بات بظاہر بڑی دل کو لگتی ہے ‘ لیکن یہ درحقیقت ’’کَلمۃُ حَقٍّ اُرید بہِ الباطل‘‘ والا معاملہ ہے‘ یعنی بات تو درست ہے‘ لیکن اس سے جو نتیجہ نکالا جانا مقصود ہے وہ باطل ہے. اس لیے کہ اس طرح نبی مکرم کی ذات کی نفی کی جا رہی ہے‘ ان کی سنت کی حجیت کا انکار کیا جا رہا ہے‘ اور قرآن کی جو تشریح و توضیح آپ نے اپنے قول و عمل سے فرمائی ہے اس کو نظر انداز کیا جا رہا ہے. 

اس مسئلہ کا دوسرا پہلو بھی اسی درجے انتہا پسندانہ ہے. یہ بات ڈاکٹر برہان احمد فاروقی صاحب نے اپنی کتاب میں بڑی خوبصورتی کے ساتھ بیان کی ہے کہ یہ جو مرکب ہے رسول اور قرآن کا‘ عام مسلمانوں نے اس میں سے رسول کی ذات کو اتنی زیادہ اہمیت دی ہے کہ دوسرے جزو یعنی قرآن کی اہمیت کی نفی ہو گئی ہے. سمجھا یہ جاتا ہے کہ جو بھی تربیتی‘ اصلاحی اور انقلابی کام ہواوہ رسول کی صحبت ہی سے ہوا. اس تاثر سے قرآن کی تاثیر کی نفی ہوجاتی ہے. یہ بات ذرا باریک بھی ہے اور نازک اور حساس بھی‘لیکن میں چاہتا ہوں کہ ان حقائق کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے. اس سے ایک مسلمان کو یہ مغالطہ لاحق ہو سکتا ہے کہ شاید اس طرح حضور کی توہین کی جا رہی ہے‘ معاذ اللہ ثم معاذ اللہ‘ لیکن دراصل اس معاملے میں توازن کی ضرورت ہے. 

دیوانہ بکارِ خویش ہوشیار!

عوامی سطح پر ہمارے جو دینی تصورات ہیں ان میں عمل سے فرار کا عنصر بہت نمایاں ہے. اس کا ایک مظہر یہ ہے کہ نبی مکرم کو اتنا اونچا کرو‘ اتنا اونچا کرو‘ کہ خدا کے برابر بٹھا دو. تو جب خدا کے برابر بٹھا دو گے تو اب اتباع کا سوال ہی نہیں ہے. اب تو حمد ہی ہو سکتی ہے‘ تعریف ہی ہو سکتی ہے‘ آپؐ کی شان میں نعت کہی جا سکتی ہے‘ لیکن آپؐ کا اتباع تو نہیں ہو سکتا. اتباع تو کسی انسان ہی کا ہو سکتا ہے‘ کسی معبود کا تو نہیں ہو سکتا. آپ اللہ کی اطاعت کریں گے‘ عبادت کریں گے‘ اتباع تو نہیں کر سکتے. چنانچہ یہ جو کیا گیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو خدا بنا دیا گیا یہ بھی درحقیقت انسان کی وہی چالاکی ہے کہ اگر ہم نے انہیں انسان کی سطح پر رکھا پھر تو ان کی پیروی لازم ہو جائے گی. اگر وہ انسان ہی تھے پھر تو ان کا اتباع ضروری ہے‘ پھر تو ان کے نقش قدم پر چلنا لازم ہو گا. لہذا انہیں اٹھاؤ اور اٹھا کر معبودوں کی فہرست میں شامل کر دو. اسے کہتے ہیں ’’دیوانہ بکارِ خویش ہوشیار!‘‘ چنانچہ یہ یوں ہی نہیں ہوا ہے کہ بس نعتیں پڑھ لیں تو حضور کا حق ادا ہو گیا‘ باقی کہاں ہم کہاں حضور کا مقام! ہم سے آپؐ کا اتباع کیسے ممکن ہے؟ یہ کہا اور فارغ ہوئے. ؏ ’’عمل سے فارغ ہوا مسلماں بنا کے تقدیر کا بہانہ!‘‘ 

قرآن سے بے اعتنائی کی مختلف وجوہات

اس کے علاوہ متعدد دیگر عوامل ہیں جو قرآن کریم کی اہمیت کو کم کرنے اور اسے مسلمانوں کی نگاہوں سے اوجھل رکھنے کا سبب بنے ہیں اور یہ ایک منظم سازش کے تحت کیا گیا ہے. پروفیسر یوسف سلیم چشتی مرحوم نے ’’مسلمانوں کے قرآن حکیم سے بُعد و بیگانگی کے اسباب‘‘ کے عنوان سے ایک مقالہ تحریر کیا تھا جو ماہنامہ میثاق میں شائع بھی ہوا تھا‘جس میں انہوں نے دلائل سے یہ بات ثابت کی تھی کہ یہ معاملہ از خود نہیں ہوا بلکہ قرآن کو منظر سے ہٹانے کی اور اس کی تعلیمات کو مسلمانوں کی نگاہوں سے پوشیدہ رکھنے کی دانستہ کوششیں کی گئیں. عوام الناس پر ظلم ڈھانے والے اور ان کے حقوق غصب کرکے خود عیاشیاں کرنے والے سلاطین و ملوک اور جاگیردار و سرمایہ دار نہیں چاہتے تھے کہ قرآن کا انقلابی فکر لوگوں کے سامنے آئے . é؏ ’’چشم عالم سے رہے پوشیدہ یہ آئیں تو خوب!‘‘انہیں اندازہ تھا کہ اگر یہ کتاب اور اس کی روشن تعلیمات لوگوں کی نگاہوں میں آ گئیں تو ہم ننگے ہو جائیں گے‘ لوگوں کی آنکھیں کھل جائیں گی اور ہمارے استحصالی نظام کے بخیے اُدھڑ جائیں گے. لہذا بہتر یہی ہے کہ اسے بند رکھو‘ اسے صرف حصولِ ثواب کا ذریعہ بنادو ‘ گاہے بگاہے ختم قرآن یا ایصالِ ثواب کی محفلیں منعقد کر لی جائیں‘ کچھ کھانے پینے کا سلسلہ ہوجائے‘ اللہ اللہ اور خیر سلا! تو یہ سب کچھ درحقیقت ایک سازش کے تحت ہوا ہے.
اس کے ساتھ ہی ایک معاملہ یہ بھی ہوا کہ جب تاثیر قرآن کی طرف سے توجہ ہٹ گئی اور ایمان کے حصول کا صرف ایک ہی ذریعہ یعنی تاثیر صحبت محمدی ذہنوں میں باقی رہ گیا تو یہ مسئلہ کھڑا ہوا کہ صحبت محمدی تو ہمیں حاصل نہیں ہے‘ اب کیا کیا 
جائے!چنانچہ اس کی تلافی کے لیے یہ مراقبے‘ یہ سارے اوراد و اَشغال اور یہ تپسیائیں اور ریاضتیں‘ غرضیکہ ایک لمبا چوڑا طومار وجود میں لایا گیا. یہ سب کچھ محض اس دلیل پر ہوا کہ جو اصل عامل تھا یعنی تاثیر صحبت نبویؐ وہ تو ہمیں حاصل نہیں ہے‘ لہذا اس کا کوئی نہ کوئی بدل ہونا چاہیے. نتیجہ یہ نکلا کہ یہ اَشغال اور ریاضتیں اور یہ چالیس چالیس برس کی بادیہ پیمائی اور نفس کشی کے یہ مختلف انداز‘ یہ سب چیزیں ہمارے عوام میں اعلیٰ اقدار شمار ہونے لگیں. لوگوں کی دینداری کو اسی پیمانے سے ناپاجانے لگا اور اس چیز نے ہمارے دینی فکر کو اس کے اصل مرکز و محور یعنی قرآن حکیم سے ہٹا دیا. اس کا اصل سبب یہی ہے کہ ہم نے رسول اور کتاب کے مرکب میں سے کتاب کی قوتِ تاثیر کو منہا کر دیا. یہ ہم سب کے لیے ایک لمحہ ٔفکریہ ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے. 

اصل فیصلہ کن شے قرآن ہے!

اب آیئے اس سلسلے کی تیسری آیت کی طرف جو سورۃ بنی اسرائیل کے آخری حصے میں وارد ہوئی ہے: 

وَ بِالۡحَقِّ اَنۡزَلۡنٰہُ وَ بِالۡحَقِّ نَزَلَ ؕ وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیۡرًا ﴿۱۰۵﴾ۘ 
’’(اے نبی !) ہم نے اس قرآن کو حق کے ساتھ نازل کیا اور یہ حق کے ساتھ ہی نازل ہوا ہے‘ اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو مگر بشیر اور نذیر بنا کر.‘‘ 

یہاں بھی آپ دیکھئے کہ قرآن حکیم اور نبی اکرم دونوں کا ذکر ساتھ ساتھ ہے.بالخصوص قرآن حکیم کا ذکر جس زوردار اور فیصلہ کن انداز میں یہاں آیا ہے وہ بہت قابل توجہ ہے. قرآن حکیم کے لیے 
’’بِالْحَقِّ‘‘ کی تکرار اس کی غیر معمولی اہمیت و عظمت کو ظاہر کر رہی ہے. اس حوالے سے میں آپ کو اسی نکتے کی جانب متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ اصل فیصلہ کن شے یہ قرآن ہے. چنانچہ یہی وہ شے ہے جس کے لیے بقا اور دوام ہے. نبی اکرم کے بارے میں قرآن حکیم میں ایک مقام پر یہ الفاظ بھی آئے ہیں: اِنَّکَ مَیِّتٌ وَّ اِنَّہُمۡ مَّیِّتُوۡنَ ﴿۫۳۰﴾ (الزمر) ’’(اے نبی) آپؐ کا بھی انتقال ہو جائے گا اور یہ لوگ بھی مر جائیں گے‘‘. لیکن نوعِ انسانی کا تسلسل تو قیامت تک باقی ہے‘ ان کی ہدایت و رہنمائی کے لیے اصل شے کون سی شے ہے؟ یہی قرآن‘ جس کو بقا اور دوام حاصل ہے. اصل قوت تسخیر اس قرآن میں ہے. یہ قرآن لوگوں کو possess کرے گا. ان کے ذہنوں کو اپنی گرفت میں لے کر ان کے باطن میں انقلاب برپا کر ے گا. جو اس قرآن کی راہنمائی سے فائدہ اٹھائیں ان کے لیے بشارتیں بھی اس قرآن میں موجود ہیں اور جو اس سرچشمہ ٔہدایت کو ردّ کر دیں ان کے لیے تنبیہ اور وارننگ ہے کہ ایک دردناک عذاب ان کامنتظر ہے:

اِنَّ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنَ یَہۡدِیۡ لِلَّتِیۡ ہِیَ اَقۡوَمُ وَ یُبَشِّرُ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ الَّذِیۡنَ یَعۡمَلُوۡنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَہُمۡ اَجۡرًا کَبِیۡرًا ۙ﴿۹﴾ وَّ اَنَّ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ اَعۡتَدۡنَا لَہُمۡ عَذَابًا اَلِیۡمًا ﴿٪۱۰﴾ (بنی اسرائیل) 
حاصل کلام یہ ہے کہ اصل تاثیر اور قوت تسخیر اس قرآن میں ہے جس کے لیے الفاظ آئے: وَ بِالۡحَقِّ اَنۡزَلۡنٰہُ وَ بِالۡحَقِّ نَزَلَ ؕ اور حضور اکرم کے بارے میں فرمایا: وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیۡرًا ﴿۱۰۵﴾ۘ کہ اے نبی بشارت دینا اور انذار کرنا آپ کا کام ہے. گویا اصل قوت اورطاقت اس قرآن میں ہے جو اللہ کا کلام ہے! 

در بغل داری کتاب زندۂ

قرآن حکیم کی قوت تسخیر کے حوالے سے ایک آخری بات مجھے مزید عرض کرنی ہے.دیکھئے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جو معجزات عطا ہوئے ان میں اہم ترین عصا کا معجزہ تھا کہ موسیٰ علیہ السلام جب اسے زمین پر ڈالتے تھے تو وہ ایک بڑے سانپ یا اژدھے کی صورت اختیار کر لیتا تھا. قرآن حکیم میں یہ واقعہ مذکور ہے کہ فرعون نے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے کے لیے جادوگروں کو جمع کیا توانہوں نے بھی تقریباً وہی کچھ کر کے دکھا دیا. حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا سانپ بن جاتا تھا. جادوگروں نے جب اپنی رسیاں اور چھڑیاں پھینکیں تو وہ بھی سانپ بن کر جنبش کرنے لگیں. اُس وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وقتی طو رپر خوف طاری ہوگیا اور تھوڑی دیر کے لیے یہ حقیقت ان کے ذہن سے محو ہو گئی کہ ان کی اپنی بغل میں اللہ کا عطا کردہ ایک عظیم معجزہ یعنی عصا موجودہے. اس کی قوتِ تسخیر کا خیال ان کے ذہن سے نکل گیا. تاہم یہ ایک عارضی سی کیفیت تھی جو جادوگروں کے باندھے ہوئے سحر کے زیر اثر ان پر طاری ہوئی. 

اس واقعے سے میرا ذہن اس بات کی طرف منتقل ہوا کہ ہمارے آج کل کے جدید دانشور اور منکرین حدیث بڑے شدومد کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ نبی پر جادو کا اثر نہیں ہوتا‘ حالانکہ بخاری شریف میں حضور اکرم پر جادو کی روایت موجود ہے. ان کا موقف یہ ہے کہ یہ بات عصمت انبیاء کے منافی ہے کہ نبی پر جادو کا کچھ اثر واقع ہو‘ لہذا یہ حدیث صحیح نہیں ہو سکتی. اس طرح کے بے بنیاد استدلال قائم کر کے وہ صحیح بخاری ہی نہیں پورے ذخیرۂ احادیث پر سے عوام الناس کا اعتماد ختم کرنے کے درپے ہیں. یہ وہ ہتھکنڈے ہیں جو آج کل منکرین حدیث کی جانب سے استعمال ہو رہے ہیں. میں اس کا جواب قرآن سے دیتا ہوں. قرآن حکیم سے ثابت ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر جادو کا اثر ہوا. دوسرے لوگوں کی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھی وہ چھڑیاں اور رسیاں دوڑتے ہوئے سانپوں ہی کی صورت میں نظر آئیں. یہی تو جادو کا اثر تھا‘ اسی کا نام نظر بندی ہے. سورۃ طٰہٰ میں صراحت موجود ہے : 
فَاَوۡجَسَ فِیۡ نَفۡسِہٖ خِیۡفَۃً مُّوۡسٰی ﴿۶۷﴾ ’’پس موسیٰ علیہ السلام نے اپنے دل میں خوف محسوس کیا‘‘. آپ اس صورتِ حال کو اپنے اوپر طاری کر کے سوچیے. دل میں خیال آیا ہو گا کہ یہی تو میرے پاس اصل ہتھیار تھا‘ ان جادوگروں نےبھی وہی کچھ کر کے دکھا دیا جو میں عصا کے حوالے سے پیش کرتا ہوں. اب تو لوگوں کے سامنے زیادہ سے زیادہ یہ بات آئے گی کہ یہ بڑ ا جادو گرہے اور وہ چھوٹے جادوگر. چنانچہ ان پر خوف طاری ہوا. قُلۡنَا لَا تَخَفۡ اِنَّکَ اَنۡتَ الۡاَعۡلٰی ﴿۶۸﴾ ’’ہم نے فرمایا :اے موسی ٰ ؑ ! مت ڈرو‘ یقینا تم ہی سربلند ہو گے‘‘.یعنی کامیابی تمہارے قدم چومے گی. وَ اَلۡقِ مَا فِیۡ یَمِیۡنِکَ تَلۡقَفۡ مَا صَنَعُوۡا ؕ (آیت ۶۹’’اور ذرا زمین پر ڈالو تو سہی اس چیز کو جو تمہارے داہنے ہاتھ میں ہے‘ یہ (عصا )ان سب کو نگل جائے گا (اور یہ سوانگ جو انہوں نے رچایا ہے اس کی قلعی کھل جائے گی)‘‘. یہی اسلوب اقبال نے بھی مستعار لیا ہے اور اپنے اس شعر میں یہی پیغام اُمت کو پہنچایا ہے ؎ 

اے چو شبنم بر زمیں افتندۂ
در بغل داری کتابِِ زندۂ! 

کہ جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بغل میں عصا موجود تھا‘ لیکن جادوگروں کی رسیوں اور چھڑیوں سے وقتی طور پر جو ایک منظر سامنے آیا اس سے ان پر خوف طاری ہوگیا‘ آج بعینہ وہی حال اُمت مسلمہ کا ہے کہ اس کے پاس قرآن مجید کی شکل میں سب سے بڑا ’’ایٹم بم‘‘ موجود ہے ‘ لیکن انہیں شعور ہی نہیں کہ اللہ کا کتنا عظیم معجزہ ان کی بغل میں موجود ہے‘ جس کی قوت ِتسخیر کے سامنے کوئی شے نہیں ٹھہر سکتی! حقیقت یہ ہے کہ بحیثیت مسلمان ہمارے تمام مسائل کا حل اگر کسی ایک شے میں ہے تو وہ اللہ کی کتاب ہے. آپ حضرات یہ حدیث متعدد مرتبہ سن چکے ہوں گے جس کے راوی حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہیں کہ نبی اکرم نے ارشاد فرمایا: اِنَّ اللّٰہَ یَرْفَعُ بِھٰذَا الْکِتَابِ اَقْوَامًا وَیَضَعُ بِہٖ آخَرِیْنَ (۱کہ اللہ تعالیٰ اسی کتاب کی بدولت بہت سی اقوام کو بلندی عطا کرے گا اور اس کے ترک کرنے کی پاداش میں بہت سی قوموں کو زوال سے دوچار کرے گا. یہ وہی بات ہے جو سورۃ بنی اسرائیل میں ان الفاظ میں وارد ہوئی : وَ بِالۡحَقِّ اَنۡزَلۡنٰہُ وَ بِالۡحَقِّ نَزَلَ ؕ (آیت ۱۰۵اور سورۃ الطارق میں بایں الفاظ بیان ہوئی: اِنَّہٗ لَقَوۡلٌ فَصۡلٌ ﴿ۙ۱۳﴾وَّ مَا ہُوَ بِالۡہَزۡلِ ﴿ؕ۱۴﴾ کہ یہ تو قولِ فیصل ہے‘فیصلہ کن کلام ہے‘ کوئی شاعرانہ تک بندی نہیں ہے. یہ ہے درحقیقت قرآن کی تاثیر اور قوت تسخیر ہمارا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم قرآن حکیم پر اعتماد نہیں کرتے. قرآن مجید کی عظمت سے اگر ہم حقیقتاً واقف ہو جائیں اور اس کے اندرجو قوتِ تسخیرپنہاں ہے اس کا ہمیں کسی درجے میں اندازہ ہو جائے تو ہمارے تمام مسائل حل ہو جائیں. 

جہاد بالقرآن وقت کی اہم ضرورت

اسی حوالے سے میرا ذہن منتقل ہوا کہ چند سال قبل میں نے جہاد بالقرآن کے موضوع (۱) صحیح مسلم‘ کتاب صلاۃ المسافرین وقصرھا‘ باب فضل من یقوم بالقرآن ویعلمہ وفضل من تعلم حکمۃ. وسنن الدارمی‘ کتاب فضائل القرآن‘ باب ان اللّٰہ یرفع بھٰذا القرآن اقواما ویضع بہ آخرین. پر دو تقریریں کی تھیں.سورۃ الفرقان میں نبی اکرم کو جہاد بالقرآن کا حکم بایں الفاظ دیا گیا ہے : فَلَا تُطِعِ الۡکٰفِرِیۡنَ وَ جَاہِدۡہُمۡ بِہٖ جِہَادًا کَبِیۡرًا ﴿۵۲﴾ کہ اے نبی ! ان کافروں کی باتوں پر آپ توجہ نہ دیجیے‘ ان کی پیروی کا خیال دل میں نہ لایئے اور ان کے ساتھ جہاد کرتے رہیے اس قرآن کے ذریعے سے بڑا جہاد!اپنی توانائیاں اور اپنی قوتیں اس قرآن کے افشا اور اس کے ابلاغ پر لگا دیجیے‘ کھپا دیجیے‘ لگے رہیے اسی کام میں.یہی درحقیقت آپ کی طاقت کا اصل راز ہے‘ آپ کی کامیابی کی اصل ضمانت یہی قرآن مجید ہے. اِنَّ الَّذِیۡ فَرَضَ عَلَیۡکَ الۡقُرۡاٰنَ لَرَآدُّکَ اِلٰی مَعَادٍ ؕ 

جہاد بالقرآن ہی کے موضوع پر بعد میں‘ میں نے ایک اور تقریر کی تھی اور اس میں جہاد بالقرآن کے پانچ محاذ معین کیے تھے. اگر آپ اپنے ماحول کا جائزہ لیں تو آپ دیکھیں گے کہ ہمار ے معاشرے میں ایک محاذ تو جدید ملحدانہ نظریات کا ہے. اس زہر کا توڑ اسی قرآن مجید میں ہے. پھر ہمارے عوام کی ایک عظیم اکثریت مشرکانہ اوہام اور عقائد کاشکار ہے. اس کا توڑ بھی یہی قرآن ہے‘ بلکہ اس گمراہی کا توڑ تو اس میں زیادہ نمایاں اور جلی انداز میں ہے. اس لیے کہ جب قرآن نازل ہوا تو وہاں یہی گمراہی سب سے زیادہ تھی‘ لہذا اس کی نفی اور تردید بھی سب سے زیادہ وضاحت کے ساتھ ہوئی. باقی جہاں تک جدید باطل نظریات اور ملحدانہ افکار و خیالات کا تعلق ہے تو ظاہر بات ہے کہ اس کے توڑ کےلیے تو قرآن حکیم میں غوطہ زنی کرنی پڑے گی‘ کچھ گہرائی میں اتر کر حکمت و معرفت کے موتی اور ہیرے نکالنے ہوں گے. لیکن قدیم جاہلیت کا توڑ تو اس میں گویا بالکل سطح پر (on the surface) موجود ہے.

ہمارا تیسرا سب سے بڑا مسئلہ تفرقہ اور فرقہ واریت ہے. اس تفرقے کا ایک ہی علاج ہے : 
وَ اعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰہِ جَمِیۡعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوۡا ۪ (آل عمران:۱۰۳جتنا اس قرآن کے قریب آئیں گے اتنی ہی باہمی ہم آہنگی ہوگی. یوں بھی سوچا جائے کہ انسان چونکہ حیوانِ ناطق ہے اور عقل رکھنے والا حیوان ہے‘ لہذا انسانوں کے درمیان ذہنی ہم آہنگی اگر ہو گی تو باہم اتحاد بھی ہو گا‘ ورنہ آپ اتحاد کے موضوع پر وعظ کہتے رہیے‘ اتحاد کے لیکچر دیتے رہیے‘ اس پر مضامین لکھ کر چھاپتے رہیے‘ اتحاد نہیں ہو سکتا. باہم ذہنی اور فکری ہم آہنگی اگر پیدا ہو گی تو بامعنی اور پائیدار اتحاد جنم لے گا اور اس کا واحد ذریعہ یہی ہے کہ اللہ کی رسی یعنی قرآن کو مل جل کر مضبوطی سے تھام لیا جائے ؎ 

ما ہمہ خاک و دلِ آگاہ اوست 
اعتصامش کن کہ حبل اللہ اوست!

ہمارا ایک مرض اور بھی ہے ‘ اور وہ ہے بے یقینی. یعنی باطل نظریات کا بھی اگرچہ ذہن پر تسلط نہیں ہے‘ کوئی گمراہ کن اوہام بھی نہیں ہیں‘ لیکن جسے یقین کہتے ہیں وہ شے موجود نہیں ہے‘ اور یقین کی پونجی اگر پاس نہ ہو تو عمل کا کیا سوال؟ قرآن حکیم میں کچھ لوگوں کا قول نقل ہوا ہے : اِنۡ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّ مَا نَحۡنُ بِمُسۡتَیۡقِنِیۡنَ ﴿۳۲﴾ (الجاثیۃ) کہ اے محمد( ) جو کچھ تم کہہ رہے ہو لگتا ہے کہ ٹھیک کہہ رہے ہو‘بات وزنی معلوم ہوتی ہے لیکن یقین نہیں آتا‘ اس پر دل نہیں ٹھکتا!اور ظاہر بات ہے کہ عمل تو یقین کے تابع ہے ‘ یقین بدلے گا تو عمل بدلے گا. بقول اقبال ؎ 

یقیں پیدا کر اے ناداں ‘ یقیں سے ہاتھ آتی ہے 
وہ درویشی کہ جس کے سامنے جھکتی ہے فغفوری! 

جان لیجیے کہ اس یقین کا سرچشمہ اور منبع بھی یہی قرآن ہے اور یہی ہے کہ جو ’’شِفَاءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْر‘‘ ہے. یعنی باطنی اور روحانی بیماریوں کا مؤثر اور تیربهدف علاج یہی قرآن حکیم ہے. یہ وہ باتیں ہیں جن پر میں نے ’’جہادبالقرآن کے پانچ محاذ‘‘ کے موضوع پر اپنے خطابات میں تفصیل سے گفتگو کی ہے. میری یہ دونوں تقریریں اب کتابی صورت میں شائع ہوتی ہیں.
نبی اکرم نے فریضۂ رسالت کی ادائیگی اور غلبہ و اقامت دین کے مشن کے لیے جو بے مثال جدوجہد کی اسے دو عنوانات کے تحت تقسیم کیا جا سکتا ہے. آپؐ نے مسلسل بارہ برس مکہ مکرمہ میں قرآن کے ساتھ جہاد کیا اور پھر دس برس مدینہ منورہ میں یہ جہاد تلوار کے ساتھ ہوا!یہ دو ہی تو جہاد ہیں جو محمد عربی کے جہادِ زندگانی میں 
سب سے نمایاں ہیں. ایک کا عنوان جہاد بالقرآن ہے جو بارہ یا تیرہ برس مکہ میں ہوا کہ جس میں شمشیر قرآنی کے سوا اور کوئی دوسری شمشیر نبی اکرم اور مسلمانوں کے ہاتھ میں نظر نہیں آتی‘ اور دوسرا جہاد بالسیف ہے‘ جس کا آغاز ہجرت کے بعد ہوا اور جو آپؐ کی حیاتِ طیبہ کے آخری سانس تک جاری رہا. یہ بات نوٹ کیجیے کہ جہاد بالسیف کے لیے جو طاقت درکار ہوتی ہے ‘ فدائین کی جو جمعیت اور سرفروشوں کی جو جماعت درکار ہوتی ہے‘ وہ کہاں سے آئے گی؟ یہ سرفروش جہاد بالقرآن کے نتیجے میں فراہم ہوں گے. قرآن حکیم اگر انہیں مسخر کر لے اور ان کے اندر سرایت کر جائے تو یہی لوگ ہیں جو باطل کے مقابلے میں بنیانِ مرصوص ثابت ہوں گے اور باطل نظام کو الٹ کر رکھ دیں گے ؎ 

چوں بجاں در رفت جاں دیگر شود 
جاں چو دیگر شد جہاں دیگر شود! 

اس اعتبار سے جہاد بالقرآن گویا جہاد بالسیف سے اہم تر ہے. اس لیے کہ پہلی منزل اہم تر ہوتی ہے. پہلی منزل موجود ہوگی تو اس کے اوپر دوسری منزل کی تعمیر ممکن ہو گی. جہاد بالقرآن ہو گا تو جہاد بالسیف کا امکان ہو گا! 

بھارت کے خلاف ہمارا اصل ہتھیار شمشیر قرآنی

اس ضمن میں ایک بات میں مزید کہنا چاہتا ہوں . میں نے داخلی طور پر تو پانچ محاذ گنوا دیے جن کے لیے قرآن ہمارا سب سے بڑا اور مؤثر ہتھیار ہے‘ خارجی اعتبار سے ہمارے لیے اہم ترین مسئلہ بھارت کا ہے. آج سے دو یا تین سال قبل میں نے مرکزی انجمن کے سالانہ اجلاس عام ہی میں اس ایشو پر ایک تقریر کی تھی‘ میں نے عرض کیا تھا کہ بھارت کے مقابلے میں بھی ہمارا سب سے بڑا ہتھیار قرآن حکیم ہے. اس لیے کہ فکر اور نظریے کے میدان میں بھارت کے پاس کچھ نہیں ہے. ہندو قوم کے پاس اپنا کوئی جاندار نظریہ نہیں ہے‘ نہ مذہب کے میدان میں اور نہ فلسفے کے میدان میں. مذہب کے نام پر ان کے ہاں جو ایک تحریک چل رہی ہے وہ محض چند سیاسی مقاصد کے لیے چلائی گئی ہے‘ ورنہ دراصل ہندو ازم صرف ایک کلچر ہے‘ کچھ رسومات ہیں اور کچھ ایسی سماجی تقریبات ہیں جن کے حوالے سے وہ کچھ جشن منالیتے ہیں‘ باقی کوئی شے ان کے پاس نہیں ہے. یہی وجہ ہے کہ وہ پورے طور پر مغرب کے رنگ میں رنگے ہوئے ہیں‘ فلسفہ و فکر بھی انہوں نے مغرب سے مستعار لیا ہے اور ان کے تہذیب و تمدن پر بھی مغرب کا رنگ غالب ہے. چنانچہ ان کا نظامِ حکومت ہو یا تصورِ قانون سارے کا سارا اور جوں کا توں مغرب سے درآمد شدہ ہے. یہی سبب تھا کہ متحدہ ہندوستان میں دُنیوی اعتبار سے ہندو ہم سے آگے نکل گیا تھا. اس لیے کہ اس کے باوجود کہ مسلمانوں میں بہت سے لوگ مغربی رو کے اندر بہہ گئے تھے لیکن ان میں ایک بڑا مؤثر طبقہ ایسا بھی تھا جن کے ذہنوں میں مغربی تہذیب کے خلاف ایک ردِّعمل پروان چڑھا اور انہوں نے اس تہذیب کو ذہناً اور عملاً قبول نہیں کیا. نتیجہ یہ نکلا کہ ہماری قوتیں منقسم ہو گئیں. علماء دیوبند ڈٹ گئے کہ نہ انگریزی پڑھیں گے نہ انگریزی تہذیب اختیار کریں گے. انہوں نے انگریز‘ انگریزی تعلیم اور انگریزی تہذیب سب سے لاتعلقی اور بیزاری کا اعلان کیا. گویا مکمل بائیکاٹ کی صورت بن گئی. ہندو کے لیے ظاہر بات ہے کہ ایسی کوئی رکاوٹ موجود نہیں تھی. اس کا کوئی تمدن تھانہ تہذیب‘ ان کے ہاں اپنے کوئی نظریات تھے نہ افکار‘لہذا انہوں نے بلاجھجک اور بلاتوقف انگریز کی تہذیب‘ اس کے تمدن‘ اس کی زبان‘ ہر شے کواختیار کرلیا. انہیں اس کا اضافی فائدہ یہ ہوا کہ انہیں انگریز کا قرب بھی حاصل ہو گیا. ظاہر بات ہے کہ حکمرانوں کا قرب حاصل کرنے کا اس سے بہتر راستہ کوئی نہیں کہ آپ انہی کے رنگ میں اپنے آپ کو رنگ دیں. جبکہ مسلمانوں کا معاملہ اس سے مختلف تھا.

بہرحال یہ تو ایک ماضی کا معاملہ تھا‘ مجھے اصلاً مستقبل کے حوالے سے بات کرنی ہے. سب جانتے ہیں کہ بحیثیت ملک پاکستان کا اصل مقابلہ بھارت کے ساتھ ہے‘ بھارت وہ ملک ہے جس کے ساتھ ہماری پیدائشی دشمنی ہے. مادی قوت کے اعتبار سے اگرچہ ہم بھارت سے بہت پیچھے ہیں ‘لیکن واقعہ یہ ہے کہ اس کے خلاف نظریاتی طو رپر ہمارے پاس بہت بڑی قوت موجود ہے. اس فکر کو اگر ہم پھیلا سکیں تو اس شمشیر قرآنی سے ہم دشمن کو گھائل کرسکتے ہیں. اور یہ بات اللہ تعالیٰ کی طرف سے بڑے فضل و کرم کی 
ہے کہ ہمارے اور ہندوستانی قوم کے درمیان زبان کی کوئی لمبی چوڑی خلیج حائل نہیں ہے. حالانکہ اگر ہم مغرب کی طرف چلے جائیں‘ ایران یا عرب ممالک میں جا کر اپنی بات پہنچانا چاہیں تو وہاں اردو زبان ابلاغ کاذریعہ نہیں بنتی. لیکن یہ جو ایک بہت بڑا ملک ہے‘ پوری نوع انسانی کی ۱/۵ تعداد جہاں آباد ہے‘ آج بھی اس ملک کے کونے کونے میں اردو زبان سمجھی اور بولی جاتی ہے. خواہ وہ تامل ناڈو کا علاقہ ہو خواہ ملیالم کا‘ اور خواہ بنگال کا خطہ ہو‘ ہر جگہ اردو سمجھنے والے موجود ہیں. اس بات کو میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہی مظاہر میں سے شمار کرتا ہوں جن کی بنا پر میں سمجھتا ہوں کہ اس برعظیم پاک و ہند سے اللہ تعالیٰ کو کوئی خاص خدمت لینی ہے‘ اور مستقبل کی جو بھی اس کی منصوبہ بندی ہے اس میں کوئی نہ کوئی اہم مقام اور اہم رول اس خطے کا ضرور ہے کہ یہیں شاہ ولی اللہ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ پیدا ہوئے‘ اسی خطے سے اس عظیم قرآنی تحریک کا آغاز ہوا جو تین سو برس پرانی تحریک ہے‘ کوئی آج کی تحریک نہیں ہے. اس کا آغاز تو شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے فارسی ترجمے اور ان کی ’’الفوز الکبیر‘‘ سے ہوا تھا.

پھر ان کے چاروں بیٹوں( رحمہم اللہ) کے تراجم قرآن اور تفسیروں سے یہ تحریک آگے بڑھی. اُس وقت سے جو سلسلہ شروع ہوا تو درحقیقت یہی ہے کہ جو بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچا کہ آج ہم بھی اس تحریک میں بقدرہمت اپنا حصہ ادا کر رہے ہیں اور خدمت قرآنی کے اس کام میں اپنی بساط کے مطابق شریک ِعمل ہیں. اللہ تعالیٰ اسے شرفِ قبول فرمائے. بہرکیف اردو زبان کو ذریعہ ابلاغ بنا کر اگر قرآن کے فکر و فلسفہ اور قرآن کی حکمت و ہدایت کو ہندوستان میں بسنے والے لوگوں میں بھرپور طریقے سے پیش کیا جا سکے تو اس سے بڑااور کوئی ہتھیار نہیں !شاہ ولی اللہ ؒ ہی نے ’’تفہیماتِ الٰہیہ‘‘ میں یہ بات لکھی ہے کہ ایک وقت آئے گا کہ ہندوستان کے اونچی ذات کے ہندوؤں کی اکثریت اسلام قبول کر لے گی. یہ ایک پیشین گوئی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس کے حق میں تمام شواہد موجود ہیں.

بدقسمتی سے ہندوستان کے ساتھ آج تک ہماری قومی جنگ جس نوعیت کی رہی ہے اس میں مادی نقطۂ نظر اور جذباتیت پسندی کو زیادہ دخل رہا ہے‘ چنانچہ اس کے نتیجے میں ہم 
خود ہندو قوم اور قرآن کے درمیان اپنے وجود سے ایک آڑ اور حجاب بن گئے ہیں. وہ قرآن مجید کی ہدایت کی طرف رجوع کیسے کریں جبکہ وہ ایک دشمن قوم کی کتاب ہے. یہ وہ حجاب اور barrier ہے جس کی وجہ سے نوع انسانی کی ایک بہت بڑی تعداد قرآن مجید سے محجوب ہے. اگر ہم کسی طریقے سے اس بیریرکو ختم کر کے قرآن کے پیغام اور اس میں مضمر ہدایت کو بیک وقت اعلیٰ ترین علمی سطح پر بھی اور عوام الناس کی سطح پر بھی پیش کر سکیں تو واقعہ یہ ہے کہ ہماری سب سے بڑی قوتِ تسخیر یہی ہے. بدقسمتی یہ ہے کہ اس کی طرف سے ہم غافل ہیں اور مغربی افکار و نظریات اور تہذیب و تمدن کی ظاہری چمک دمک نے خود ہماری آنکھوں کو خیرہ کر رکھا ہے. جیسے عارضی طور پر حضرت موسیٰ علیہ السلام جادوگروں کی ڈالی ہوئی رسیوں اور چھڑیوں کو سانپوں کی شکل میں دیکھ کر ڈر گئے تھے‘ آج ہم بھی اہل مغرب کی ڈالی ہوئی ان رسیوں اور چھڑیوں کے بنے ہوئے سانپوں سے مرعوب اور خوف زدہ ہیں. یہ رسیاں چاہے افکار اور نظریات کی ہوں‘ خواہ تہذیب و تمدن کی ہوں اور خواہ سائنسی ترقی کے روپ میں ہمیں مرعوب کر رہی ہوں‘ سب انسانی ذہن کی تراشیدہ ہیں. اس سے کہیں بڑھ کر وہ قوتِ تسخیر ہے جو قرآن حکیم کی شکل میں ہمارے پاس موجود ہے. الحمد للہ ہماری یہ تحریک قرآنی جو انجمن خدام القرآن کے نام سے برسرعمل ہے‘ اسی قرآن کےپیغام اور اس کی ہدایت کو عام کرنے کے لیے کوشاں ہے. اور فی الاصل‘ جیساکہ میں نے شروع میں عرض کیا تھا‘ میری یہ تقریر اللہ تعالیٰ کی جناب میں ہدیۂ تشکر پیش کرنے کے لیے ہے کہ اس انجمن کو قائم ہوئے بیس برس ہو گئے‘ اس دوران جو کام اب تک ہم سے ہوا اسی کے فضل سے ہوا. تو جہاں ہمیں اپنے قلب کی گہرائیوں سے اللہ تعالیٰ کا شکر بجالانا چاہیے وہاں ہمیں اس کام کی اہمیت کا صحیح صحیح شعور بھی ہونا چاہیے اور اس حوالے سے قرآن مجید کی قوت تسخیر پر اعتما داور توکل میں مزید پختگی آنی چاہیے کہ اصل شے یہ ہے‘ اس پر محنت کرو‘ اسے عام کرنے اور پھیلانے کے لیے جدوجہد کرو: وَ فِیۡ ذٰلِکَ فَلۡیَتَنَافَسِ الۡمُتَنَافِسُوۡنَ ﴿ؕ۲۶﴾ (المطففین)چاہیے کہ اربابِ ہمت و عزیمت اپنی عزیمتوں اور ہمتوں کے اظہار کے لیے اس میدان کا انتخاب کریں اور اپنی سعی وجہد کا مرکز و محور قرآن حکیم کو بنائیں.

چند عملی نکات

اب میں وہ چند عملی باتیں آپ سے عرض کروں گا جو میں نے انجمن کے سالانہ اجلاس میں بھی کہی تھیں پہلی بات یہ کہ اس انجمن میں آپ کی شمولیت (participation) عملاً بڑھنی چاہیے. بطور خاص آپ سے یہ بات اس لیے کہہ رہا ہوں کہ‘ جیسا کہ میں نے دورانِ تقریر بھی عرض کیا‘ بہرحال اب میں تو آخرت کی دہلیز پر کھڑاہوں. بحمداللہ بیس برس میں نے اس ادارے کو چلایا ہے اور یہ سب کچھ اسی کے فضل و کرم سے ہوا. اس میں عافیت یہ بھی رہی ہے کہ صدر مؤسس ہونے کے ناطے اس ادارے میں مجھے خصوصی اختیارات حاصل تھے‘ میرے پاس ویٹو کا حق تھااور اب بھی ہے. لہذا کسی بڑے ہنگامے کے کھڑا ہونے یا بحران کے پیدا ہونے کا یہاں کوئی امکان ہی نہیں تھا.لیکن آئندہ اس کا امکان یقینا ہو گا‘ اس لیے کہ میرے بغیر کسی صدر کو ویٹوپاور حاصل نہیں ہوگی. آئندہ کا نظام طے شدہ دستور کے مطابق چلے گا. لہذا جن حضرات کو بھی اس کام اور اس قرآنی فکر سے دلچسپی ہے اور جو چاہتے ہیں کہ پچھلے بیس برس میں جو کام ہوا ہے وہ کہیں غلط رخ پر نہ پڑ جائے یا غلط ہاتھوں میں نہ چلا جائے توانہیں چاہیے کہ اس انجمن کے ساتھ اپنی وابستگی کو فعال بنائیں. اپنے اوقات کا کچھ حصہ اس کے لیے ضرور نکالیں اور یہ خیال ذہن میں نہ لائیں کہ یہ کام تو خود بخود چل رہا ہے ہماری اس میں کیا ضرورت ہے! جن حضرات کے ذہنوںمیں بھی ایسا کوئی خیال تھا انہیں اس خیال کو اپنے ذہن سے نکال دینا چاہیے اور اس کام سے دلچسپی رکھنے والے تمام حضرات کو چاہیے کہ اس کام میں عملی شمولیت کو بڑھانے کی طرف توجہ دیں. کیا عجب کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس کام کے لیے قبول فرمائے!

دوسری بات اور یہ بات مجھے خاص طور پر انجمن کے پرانے وابستگان سے کہنی ہے کہ ان میں وہ بھی ہیں کہ جو میرے دروسِ قرآن اور تقاریر کی مجالس میں پہلی صفوں میں بیٹھے نظر آتے ہیں ‘لیکن مجال ہے کہ انہوں نے تنظیم اسلامی یا تحریک خلافت کی جانب ایک قدم بھی آگے بڑھایا ہو. ان حضرات کو اپنے طرزِ عمل پر نظر ثانی کرنی 
چاہیے اور سوچنا چاہیے کہ یہ سارا کام کیا محض مشغلے کے طور پر ہو رہا ہے؟ یہ ہرگز کوئی فرقہ (cult) نہیں ہے!یہ کوئی ہندوؤں کے طریقے پر رشی منی کا کوئی سلسلہ نہیں ہے!! یہ ایک اہم دینی کام ہے‘ یہ ایک انقلابی مشن ہے. اور کوئی بھی ایسا کام کہ جس میں انقلاب کے بیج موجود ہوں لیکن وہ پھلیں پھولیں نہیں‘ برگ و بار نہ لائیں تو وہ کام اپنی معنویت کھو دے گا. محض پڑھنے پڑھانے تک خود کو محدود رکھنا اور اس کے عملی تقاضوں سے گریز کرنا دینی اعتبار سے نفع بخش نہیں ہے. الحمد للہ کہ میری زندگی میں صرف پڑھناپڑھانانہیں رہا بلکہ میں نے اللہ کے فضل و کرم سے آگے قدم بڑھایا اور اسی اعتبار سے اس کام میں معنویت برقرار رہی. تو جو لوگ بھی اس کام میں ذہنی دلچسپی رکھتے ہیں انہیں چاہیے کہ آگے بڑھیں‘تنظیم اور تحریک کی طرف عملاً پیش قدمی کریں اور اس میں شمولیت اختیار کریں. 

تیسری بات جو میں خاص طو رپر نوٹ کرارہا ہوں وہ یہ ہے کہ دعوت رجوع الی القرآن کے ایک سالہ کورس کی میرے نزدیک خصوصی اہمیت ہے. میں اراکین انجمن اور خصوصی طور پر اس آبادی کے لوگوں کی توجہ اس طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ انہیں زیادہ سے زیادہ تعداد میں اس کورس میں شمولیت کرنی چاہیے.ہمارا یہ کورس چار چار ماہ کے دو سمسٹرز پر مشتمل ہے. چنانچہ جو حضرات پورا سال فارغ نہ کر سکتے ہوں وہ چار مہینے تو ضرور نکالیں اور پہلا سمسٹر کر لیں‘ دوسرا سمسٹر اگر کچھ وقفے کے بعد بھی ہوسکے تو کوئی بات نہیں ہے. لیکن بہرحال اس کے لیے ایک سال کا ارادہ ضرور کرلیں ہم میں سے ہر شخص کو‘ خاص طو ر پر پڑھے لکھے لوگوں کو سوچنا چاہیے کہ ہمیں اللہ کے حضور اس بات کی جواب دہی کرنا ہو گی کہ ہم نے سب کچھ پڑھا‘ لیکن اتنی عربی نہ سیکھی کہ اس کے کلام کو براہِ راست سمجھ سکتے. اس کوتاہی کا ہمارے پاس کیا جواز ہے؟ ہم نے انگریزی اتنی پڑھ لی کہ انگریزوں کو پڑھا سکتے ہیں‘ مختلف فنون حاصل کر لیے‘ سائنسی علوم میں بڑی سے بڑی ڈگریاں حاصل کر لیں‘ لیکن نہیں پڑھی تو عربی نہیں پڑھی. ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کے اس سوال کا کیا جواب ہو گا کہ تم نے میرے کلام کی کیا 
قدر کی؟ خود میری کیا قدر کی؟؟ قرآن حکیم میں مشرکین کے بارے میں فرمایا گیاہے:مَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ (الانعام:۹۱کہ انہوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جیسی کہ اس کی قدر کرنی چاہیے. ہمیں اس بات کی فکر کرنی چاہیے کہ ہم کہیں ان الفاظ کا مصداق نہ ٹھہریں. چنانچہ اس ضمن میں جو بھی کمی رہ گئی ہے ہمیں اس کی تلافی کرنی چاہیے. اگر کسی کے والدین کی کوتاہی ہو اور وہ اللہ کے ہاں پہنچ گئے ہوں تو میں سمجھتا ہوں کہ ان کی تلافی وہ اب بھی کر سکتا ہے. آپ اب اس کام کے لیے وقت فارغ کریں اور اللہ کے حضور یہ دعا کریں کہ اے اللہ‘ میں اپنے والدین کی کوتاہی کی اب تلافی کر رہا ہوں‘ میرے والدین کو بخش دے‘ انہیں معاف فرما دے. اے اللہ‘ میں اب اس کے لیے وقت نکال رہا ہوں ‘ میری اس جدوجہد کو اور میرے اس وقت کو جو میں صرف کر رہا ہوں میرے والدین کی طرف سے کفارے کے طور پر قبول کر لے! میں بتکرار و اعادہ توجہ دلا رہا ہوں کہ یہ کام کرنے کا ہے‘ اس میں دیر نہ کیجیے‘ تاخیر نہ کیجیے!! 

اقول قولی ھذا واستغفر اللّٰہ لی ولکم ولسائر المُسلمین والمُسلمات