تعارفِ قرآن مع عظمتِ قرآن

تعارفِ قرآن مجید کے سلسلے میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ قرآن حکیم کے بارے میں ہمارا ایمان‘ یا اصطلاحِ عام میں ہمارا عقیدہ کیا ہے؟
قرآن حکیم کے متعلق اپنا عقیدہ ہم تین سادہ جملوں میں بیان کر سکتے ہیں:

۱) قرآن اللہ کا کلام ہے.
۲) یہ محمد رسول اللہ پر نازل ہوا ہے.
۳) یہ ہر اعتبار سے محفوظ ہے ‘اور کُل کا کُل مِن و عن موجود ہے‘ اور اس کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے لیا ہے.
یہ تین جملے ہمارے عقائد کی فہر ست کے اعتبار سے‘ قرآن حکیم کے بارے میں ہمارے عقیدے پر کفایت کریں گے .لیکن انہی تین جملوں کے بارے میں اگر ذراتفصیل سے گفتگو کی جائے اور دقّت نظر سے ان پر غور کیا جائے تو کچھ علمی حقائق سامنے آتے ہیں. تمہیدی گفتگو میں ان میں سے بعض کی طرف اجمالاً اشارہ مناسب معلوم ہوتا ہے. 


(۱) قرآن : اللہ تعالیٰ کا کلام


سب سے پہلی بات کہ قرآن مجید اللہ کا کلام ہے‘ خود قرآن مجید سے ثابت ہے. چنانچہ سورۃ التوبہ کی آیت ۶ میں اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم سے فرمایا: 

وَ اِنۡ اَحَدٌ مِّنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ اسۡتَجَارَکَ فَاَجِرۡہُ حَتّٰی یَسۡمَعَ کَلٰمَ اللّٰہِ ثُمَّ اَبۡلِغۡہُ مَاۡمَنَہٗ ؕ 
’’اور اگر مشرکین میں سے کوئی شخص پناہ مانگ کر تمہارے پاس آنا چاہے (تاکہ اللہ کا کلام سنے) تو اسے پناہ دے دو یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سن لے ‘ پھر اسے اس کی امن کی جگہ تک پہنچا دو.‘‘

جب سورۃ التوبہ کی پہلی چھ آیات نازل ہوئیں‘ جن میں مشرکین عرب کو آخری الٹی میٹم دے دیا گیا کہ اگر تم ایمان نہ لائے تو چار ماہ کی مدّت کے خاتمے کے بعد تمہارا قتل عام شروع ہو جائے گا ‘ تو اس ضمن میں نبی اکرم کو ایک ہدایت یہ بھی دی گئی کہ یہ اَلٹی میٹم دیے جانے کے بعد اگر مشرکین میں سے کوئی آپؐ ‘ کی پناہ طلب کرے تو وہ آپؐ کے پاس آ کر مقیم ہو اور کلام اللہ کو سنے‘ جس پر ایمان لانے کی دعوت دی جا رہی ہے‘ پھر اسے اس کی امن کی جگہ تک پہنچا دیا جائے. یعنی ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ وہیں اس سے مطالبہ کیا جائے کہ فیصلہ کرو کہ آیا تم ایمان لاتے ہو یا نہیں. اس وقت میں نے اس آیت کا حوالہ صرف ’’ کلام اللہ‘‘ کے الفاظ کے لیے شہادت کے طور پر دیا ہے.

کلام الٰہی : جملہ صفاتِ الٰہیہ کا مظہر

قرآن مجید کے کلام اللہ ہونے میں ہی اس کی اصل عظمت کا راز مضمر ہے. اس لیے کہ کلام متکلم کی صفت ہوتا ہے اور اس میں متکلم کی پوری شخصیت ہویدا ہوتی ہے. چنانچہ آپ کسی بھی شخص کا کلام سن کر اندازہ کر سکتے ہیں کہ اس کے علم اور فہم و شعور کی سطح کیا ہے. آیا وہ تعلیم یافتہ انسان ہے‘ مہذب ہے‘ متمدن ہے یا کوئی اجڈ یا گنوار ہے. اس اعتبار سے درحقیقت یہ کلام اللہ‘ اللہ تعالیٰ کی جملہ صفات کا مظہر ہے‘ اسی حقیقت کو علامہ اقبال نے نہایت خوبصورت انداز میں بیان کیا . ؎

فاش گویم آنچہ در دل مضمر است
ایں کتابے نیست‘ چیزے دیگر است
مثلِ حق پنہاں و ہم پیدا ست ایں!
زندہ و پائندہ و گویا ست ایں!

(جو بات میرے دل میں چھپی ہوئی ہے وہ میں صاف صاف کہہ دیتا ہوں کہ یہ (قرآن حکیم) کتاب نہیں ہے ‘کوئی اور ہی شے ہے. چنانچہ یہ حق تعالیٰ کی ذات کے مانند پوشیدہ بھی ہے اور ظاہر بھی ہے. نیز یہ ہمیشہ زندہ اور باقی رہنے والا بھی ہے اور یہ کلام بھی کرتاہے.)

مختلف مفاہیم و معانی کے لیے اس شعر کا حوالہ دے دیا جاتا ہے‘ لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ اس میں اس کے ’’چیزے دیگر‘‘ ہونے کا کون سا پہلو اُجاگر کیا جا رہا ہے.اس میں درحقیقت سورۃ الحدید کے اس مقام کی طرف اشارہ ہو گیا ہے کہ: 
ہُوَ الۡاَوَّلُ وَ الۡاٰخِرُ وَ الظَّاہِرُ وَ الۡبَاطِنُ ۚ (آیت ۳یعنی اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ وہ الاوَّل بھی ہے اور الآخر بھی ‘وہ الظاہر بھی ہے اور الباطن بھی. اسی طرح علامہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کی بھی یہی شان ہے. نیز جس طرح اللہ تعالیٰ کی صفت الحی ّ القیّوم (آیت الکرسی‘ سورۃ البقرۃ) ہے اسی طرح یہ کلام بھی زندہ و پائندہ ہے‘ ہمیشہ رہنے والا ہے. پھریہ صرف کلام نہیں‘ خود متکلم ہے. 

یہاں کلام اور متکلم کے مابین فرق کے حوالے سے متکلمین کی اس بحث کی طرف اشارہ کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ذاتِ حق کی صفات‘ ذات سے علیحدہ اور مستزاد ہیں یاعین ذات؟ علامہ اقبال نے بھی اپنی مشہور نظم ’’ابلیس کی مجلس شوریٰ‘‘ میں اس بحث کا ذکر کیا ہے ؎

ہیں صفاتِ ذاتِ حق‘ حق سے جدا یا عینِ ذات؟
اُمّتِ مرحوم کی ہے کس عقیدے میں نجات؟

یہ علم کلام کا ایک نہایت ہی پیچیدہ‘ غامض اور عمیق مسئلہ ہے‘ جس پر بڑی بحثیں ہوئیں اور بالآخر متکلمین کا اس پر تقریباً اجماع ہوا کہ ’’لَا عَیْنٌ وَلَا غَیْرٌ ‘‘ یعنی اللہ کی صفات کو نہ اس کی ذات کا عین قرار دیا جا سکتا ہے نہ اس کا غیر. اگر اس حوالے سے غور کریں تو قرآن حکیم بھی‘جو اللہ تعالیٰ کی صفت ہے‘ اسی کے ذیل میں آئے گا‘ یعنی نہ اسے اللہ کا غیر کہا جا سکتا ہے نہ اس کا عین. چنانچہ اس حوالے سے سورۃ الحشر کی آیت ۲۱قرآن مجید کی فی نفسہ عظمت کے ضمن میں اہم ترین ہے :

لَوۡ اَنۡزَلۡنَا ہٰذَا الۡقُرۡاٰنَ عَلٰی جَبَلٍ لَّرَاَیۡتَہٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنۡ خَشۡیَۃِ اللّٰہِ ؕ وَ تِلۡکَ الۡاَمۡثَالُ نَضۡرِبُہَا لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمۡ یَتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۲۱
’’اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر اتار دیتے تو تم دیکھتے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی خشیت اور خوف سے دب جاتا اور پھٹ جاتا‘ اور یہ مثالیں ہیں جو ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ غور کریں.‘‘ 

اس تمثیل کو سورۃ الاعراف کی آیت ۱۴۳ کے حوالے سے سمجھا جا سکتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی طلبی پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے کوہِ طور پر حاضر ہونے کا واقعہ بیان ہوا ہے. یہ وہی طلبی تھی جس میں آپؑ کو توراۃ عطا کی گئی. اس وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مخاطبہ و مکالمہ سے سرفراز فرمایا تو ان کی آتش شوق کچھ اور بھڑکی اور انہوں نے فرمائش کرتے ہوئے کہا: 
رَبِّ اَرِنِیۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَیۡکَ ؕ ’’اے پروردگار! مجھے اپنا دیدار عطا فرما‘‘.مخاطبہ و مکالمہ کے شرف سے تو نے مجھے مشرف فرمایا ہے ‘اب ذرا مزید کرم فرما. اس پر جواب ملا: لَنۡ تَرٰىنِیۡ ’’(موسیٰ )تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتے!‘‘ وَ لٰکِنِ انۡظُرۡ اِلَی الۡجَبَلِ ’’لیکن ذرا اس پہاڑ کی طرف دیکھو‘‘ مَیں اس پر اپنی ایک تجلی ڈالوں گا. فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَکَانَہٗ فَسَوۡفَ تَرٰىنِیۡ ۚ ’’چنانچہ اگر وہ پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے تو پھر تم بھی گمان کر لینا کہ تم مجھے دیکھ سکو گے ‘‘. فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّہٗ لِلۡجَبَلِ جَعَلَہٗ دَکًّا وَّ خَرَّ مُوۡسٰی صَعِقًا ۚ ’’پھرجب اللہ تعالیٰ نے اس پہاڑ پر اپنی تجلی ڈالی تو وہ ’’ دَکًّا دَکًّا ‘‘ ہو گیا اور موسیٰ ؑ بے ہوش ہو کر گر پڑے.‘‘ 

یہاں 
’’ دَکًّا ‘‘ کے دونوں ترجمے کیے جا سکتے ہیں‘ یعنی ریزہ ریزہ ہو جانا‘ ٹوٹ پھوٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جانا ‘یاکوٹ کوٹ کر کسی شے کو ہموار کر دینا‘ برابر کر دینا. جیسے سورۃ الفجر کی آیت کَلَّاۤ اِذَا دُکَّتِ الۡاَرۡضُ دَکًّا دَکًّا ﴿ۙ۲۱﴾ میں ان معنوں میں وارد ہوا ہے. وہی لفظ یہاں پہاڑ کے بارے میں آیا ہے. یعنی وہ پہاڑ ریزہ ریزہ ہو گیا یا دب گیا‘ زمین کے ساتھ بیٹھ گیا. موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی یہ تجلی دیکھی جو بالواسطہ تھی‘ یعنی براہِ راست حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نہیں بلکہ پہاڑ پر تھی اور حضرت موسٰی ؑبالواسطہ اس کا نظارہ کر رہے تھے‘ لیکن خود حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کیفیت یہ ہوئی کہ خَرَّ مُوۡسٰی صَعِقًا ۚ ’’حضرت موسیٰ (علیہ السلام)بے ہوش ہو کر گر پڑے.‘‘

یہاں ذات و صفاتِ باری تعالیٰ کی بحث کا ایک عقدہ حل ہو جاتا ہے کہ جیسے اللہ 
تعالیٰ نے اپنی ذات کی تجلی پہاڑ پر ڈالی تووہ پہاڑ دب گیا یا پھٹ گیا‘ ریزہ ریزہ ہو گیا‘ اسی طرح قرآن مجید کے متعلق فرمایا: 

لَوۡ اَنۡزَلۡنَا ہٰذَا الۡقُرۡاٰنَ عَلٰی جَبَلٍ لَّرَاَیۡتَہٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنۡ خَشۡیَۃِ اللّٰہِ ؕ
یعنی کلام اللہ کی بھی وہی کیفیت اور تاثیر ہے جو کیفیت و تاثیر تجلی ٔذاتِ الٰہی کی ہے. اس‘ کہ قرآن اللہ کاکلام اور اللہ کی صفت ہے .تو تجلی ٔصفات اور تجلی ٔ ذات میں کوئی فرق نہیں. 

البتہ علامہ اقبال نے ایک جگہ اس بارے میں ذرا مبالغہ آرائی سے کام لیا ہے. علامہ نے حضور کی مدح فرماتے ہوئے یہ الفاظ استعمال کیے کہ ؎ 

موسیٰ ز ہوش رفت بیک جلوۂ صفات 
تو عینِ ذات می نگری وتبسمی! 

علامہ حضرت محمد کا حضرت موسٰی علیہ السلام سے تقابل کر رہے ہیں کہ وہ تو تجلی ٔصفات کے بالواسطہ نظارے ہی سے بے ہوش ہو کر گر گئے‘ لیکن اے نبیؐ ! آپ نے عینِ ذات کا دیدار کیا اور تبسم کی کیفیت میں کیا. اس میں دو اعتبارات سے مغالطہ پایا جاتا ہے. اوّل تو وہ تجلی‘ تجلی ٔ صفات نہیں تجلی ٔذات تھی جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی فرمائش پر اللہ تعالیٰ نے پہاڑ پر ڈالی. جیسا کہ قرآن مجید میں ہے: فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّہٗ لِلۡجَبَلِ گویا یہاں اللہ تعالیٰ کے لیے یہ لفظ استعمال ہوا ہے کہ وہ خود متجلی ہوا. دوسرے یہ کہ یہ خیال بھی مختلف فیہ ہے کہ نبی اکرم  نے شب معراج میں ذاتِ الٰہی کا مشاہدہ کیا. اگرچہ ہمارے اسلاف میں یہ رائے بھی ہے کہ آپؐ نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے ‘لیکن اکثر و بیشتر کی رائے اس کے برعکس ہے‘ اس لیے کہ وہاں بھی ’’ آیات‘‘ کا ذکر ہے. جیسا کہ سورۃ النجم میں آیا: لَقَدۡ رَاٰی مِنۡ اٰیٰتِ رَبِّہِ الۡکُبۡرٰی ﴿۱۸﴾ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ آیات‘ جو وہاں حضور نبی اکرم نے دیکھیں‘ اللہ تعالیٰ کی عظیم ترین آیات میں سے ہیں. 

اِذۡ یَغۡشَی السِّدۡرَۃَ مَا یَغۡشٰی ﴿ۙ۱۶﴾مَا زَاغَ الۡبَصَرُ وَ مَا طَغٰی ﴿۱۷﴾لَقَدۡ رَاٰی مِنۡ اٰیٰتِ رَبِّہِ الۡکُبۡرٰی ﴿۱۸﴾ 
’’اُس وقت بیری پر چھا رہا تھا جو کچھ کہ چھا رہا تھا. نگاہ نہ چندھیائی نہ حد سے متجاوز ہوئی. اور اُس نے اپنے ربّ کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں‘‘.

اب اُس سے زیادہ بڑی آیات اور اس سے زیادہ بڑی تجلی ٔ الٰہی اور کہاں ہو گی؟ لیکن دونوں اعتبار سے اس شعر میں مبالغہ ہے. البتہ اس آیۂ مبارکہ کے حوالے سے علامہ کے اس شعر ؎ 

مثلِ حق پنہاں و ہم پیدا ست ایں!
زندہ و پائندہ و گویا ست ایں ! 

میں میرے نزدیک قطعاً کوئی مبالغہ نہیں ہے .اور اس آیت مبارکہ کے حوالے سے وہ بات کہی جا سکتی ہے جو علامہ اقبال نے اس شعر میں کہی ہے. 

تورات کی گواہی

اب ذرا قرآن مجید کے کلام اللہ ہونے کے حوالے سے ایک اور بات ذہن نشین کر لیجیے. تورات میں کتابِ استثناء یا سِفر استثناء جوصحف موسٰی میں سے ایک صحیفہ ہے‘ کے اٹھارہویں باب میں نبی اکرم کے لیے جو پیشین گوئی بیان کی گئی ہے اس میں الفاظ یہی ہیں کہ :
’’میں ان کے بھائیوں میں سے ان کے لیے تیری مانند ایک نبی برپا کروں گا اوراس کے مُنہ میں اپنا کلام ڈالوں گا اور وہ اُن سے وہی کچھ کہے گا جومَیں اس سے کہوں گا‘‘.

مَیں نے یہاں خاص طور پر ان الفاظ کا حوالہ دیا ہے کہ ’’مَیں اُس کے مُنہ میں اپنا کلام ڈالوں گا.‘‘ یہاں ایک تولفظ کلام آیا ہے جیسے کہ قرآن حکیم کی اس آیت میں آیا: 
حَتّٰی یَسۡمَعَ کَلٰمَ اللّٰہِ پھر ’’کلام مُنہ میں ڈالنا‘‘کے حوالے سے قرآن مجید میں ایک لفظ دو مرتبہ آیا ہے‘ وہ لفظ ’’قول‘‘ ہے‘ یعنی قرآن کو قول قرار دیا گیا ہے. 

سورۃ الحاقہ میں ہے:

اِنَّہٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ کَرِیۡمٍ ﴿ۚۙ۴۰﴾وَّ مَا ہُوَ بِقَوۡلِ شَاعِرٍ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تُؤۡمِنُوۡنَ ﴿ۙ۴۱﴾وَ لَا بِقَوۡلِ کَاہِنٍ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تَذَکَّرُوۡنَ ﴿ؕ۴۲﴾ 

اور سورۃ التکویر میں یہ الفاظ وارد ہوئے ہیں: 

اِنَّہٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ کَرِیۡمٍ ﴿ۙ۱۹﴾ذِیۡ قُوَّۃٍ عِنۡدَ ذِی الۡعَرۡشِ مَکِیۡنٍ ﴿ۙ۲۰﴾مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِیۡنٍ ﴿ؕ۲۱﴾وَ مَا صَاحِبُکُمۡ بِمَجۡنُوۡنٍ ﴿ۚ۲۲﴾ 

اور اسی میں آگے چل کر آیا:

وَ مَا ہُوَ بِقَوۡلِ شَیۡطٰنٍ رَّجِیۡمٍ ﴿ۙ۲۵﴾ 

قابل توجہ امر یہ ہے کہ ان دو مقامات میں سے مؤخرالذکر کے متعلق تقریباً اجماع ہے کہ یہاں حضرت جبرئیل علیہ السلام مراد ہیں. گویا قرآن کو اُن کا قول قرار دیا گیا. اور سورۃ الحاقہ میں اسے نبی اکرم کا قول قرار دیا جا رہا ہے. اب ظاہر ہے یہاں جن چیزوں کی نفی کی جا رہی ہے کہ’’ یہ کسی شاعر کا قول نہیں‘‘ اور ’’یہ کسی کاہن کا قول نہیں‘‘ ان سے یقیناً رسول کریم  مراد ہیں. یوں سمجھئے کہ اللہ کا کلام پہلے حضرت جبرئیل علیہ السلام پر نازل ہوا .اگر مَیں کتاب استثناء کے الفاظ استعمال کروں تو یہاں’’ اللہ نے اپنا کلام ان کے مُنہ میں ڈالا‘‘. تاہم ’’اُن کے مُنہ‘‘ کا ہم کوئی تصور نہیں کر سکتے‘ وہ نہایت جلیل القدر فرشتے ہیں. بہرحال قول کا لفظ قرآن مجید کے لیے استعمال ہوا ہے جس سے ظاہر ہے کہ ابتداء ً کلامِ الٰہی حضرت جبرئیل ؑکے قول کی شکل میں اترا اور پھر حضرت جبرئیل ؑکے ذریعے سے حضرت محمدٌ رسول اللہ کے مُنہ میں ڈالا گیا‘ اور وہاں سے یہ قولِ محمد کی صورت میں لوگوں کے سامنے آیا‘ اس لیے کہ یہ آپؐ ہی کی زبانِ مبارک سے ادا ہوا‘ لوگوں نے اُسے صرف آپ ہی کی زبانِ مبارک سے سنا. گویا یہ قول‘ قولِ شاعر نہیں‘ یہ قولِ کاہن نہیں‘ یہ قولِ شیطان رجیم نہیں‘ بلکہ یہ قولِ رسولِ کریم ہے اور رسولِ کریم اوّلاً محمد رسول اللہ ہیں‘ یہ لوگوں کے سامنے ان کے قول کی حیثیت سے آیا. پھر ثانیاً یہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کا قول ہے‘ اس لیے کہ انہوں نے یہ قول حضورؐ کو پہنچایا. اوراس کو آخری درجے تک پہنچانے پر یہ اللہ کا کلام ہے جس کے متعلق تورات میں الفاظ آئے کہ ’’ مَیں اس کے مُنہ میں اپنا کلام ڈالوں گا.‘‘ 

لوح ِ محفوظ اور مصحف میں مطابقت

کلام ہونے کے حوالے سے تیسری بات یہ نوٹ کیجئے کہ کلام اللہ کی صفت ہے اور اللہ کی صفات قدیم ہیں. اللہ کی ذات کی طرح اس کی صفات کا بھی یہی معاملہ ہے. ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ مادیت اور جسمانیت سے ماوراء ہے.یہی معاملہ اللہ کی صفات کا بھی ہے. چنانچہ کلام اللہ‘ جسے حرف و صوت کی محدودیت سے اعلیٰ و ارفع خیال کیا جاتا ہے ‘ اسے اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے حروف و اصوات کا جامہ پہنایا اور سید المرسلین کے قلبِ مبارک پر بطریقِ تنزیل نازل فرمایا. یہی کلام لوح ِ محفوظ میں اللہ کے پاس مندرج ہے جسے اُمّ الکتاب یا کتابِ مکنون بھی کہا گیا ہے. ہمارے پاس موجود قرآن مجید یا مصحف کی عبارت بعینہٖ وہی ہے جو لوح ِ محفوظ یا اُم الکتاب میں ہے‘ بالکل اسی طرح جیسے کسی دستاویز کی مصدقہ نقل ہو‘ جو بغیر کسی شوشے کے فرق کے اصل کے مطابق ہو. چنانچہ سورۃ البروج میں فرمایا:

بَلۡ ہُوَ قُرۡاٰنٌ مَّجِیۡدٌ ﴿ۙ۲۱﴾فِیۡ لَوۡحٍ مَّحۡفُوۡظٍ ﴿٪۲۲
’’یہ قرآن نہایت بزرگ و برتر ہے اور یہ لوح ِ محفوظ میں ہے.‘‘ 

اسی کے متعلق سورۃ الواقعہ میں ارشاد فرمایا گیا: 

اِنَّہٗ لَقُرۡاٰنٌ کَرِیۡمٌ ﴿ۙ۷۷﴾فِیۡ کِتٰبٍ مَّکۡنُوۡنٍ ﴿ۙ۷۸﴾لَّا یَمَسُّہٗۤ اِلَّا الۡمُطَہَّرُوۡنَ ﴿ؕ۷۹﴾ 
’’یہ تو ایک کتاب ہے بڑی کریم ‘بہت باعزت ‘اور ایک ایسی کتاب ہے جو چھپی ہوئی ہے. جسے چھو ہی نہیں سکتے مگر وہی جو بہت ہی پاک کر دیے گئے ہیں‘‘.

یعنی ملائکہ مقربین ‘جن کے بارے میں ایک اور مقام پر فرمایا گیا:

فِیۡ صُحُفٍ مُّکَرَّمَۃٍ ﴿ۙ۱۳﴾مَّرۡفُوۡعَۃٍ مُّطَہَّرَۃٍۭ ﴿ۙ۱۴﴾بِاَیۡدِیۡ سَفَرَۃٍ ﴿ۙ۱۵﴾کِرَامٍۭ بَرَرَۃٍ ﴿ؕ۱۶﴾ (عبس)
’’یہ ایسے صحیفوں میں درج ہے جو مکرم ہیں‘ بلند مرتبہ ہیں‘ پاکیزہ ہیں‘ معزز اور نیک کاتبوں کے ہاتھوں میں رہتے ہیں.‘‘

درحقیقت یہ کتاب مکنون ان فرشتوں کے پاس ہے‘ وہ تمہاری رسائی سے بعید و ماوراء ہے.
یہی بات سورۃ الزخرف میں کہی گئی ہے: 

وَ اِنَّہٗ فِیۡۤ اُمِّ الۡکِتٰبِ لَدَیۡنَا لَعَلِیٌّ حَکِیۡمٌ ؕ﴿۴
’’یہ تو درحقیقت اصل کتاب میں ہمارے پاس محفوظ ہے‘ بڑی بلند مرتبہ اور حکمت سے لبریز ‘‘.

اُمٌّ کا لفظ جڑ اور بنیاد کے لیے آتا ہے. اسی لیے ماں کے لیے بھی عربی میں لفظ ’’اُمّ‘‘ استعمال ہوتا ہے ‘کیونکہ اسی کے بطن سے اولاد کی ولادت ہوتی ہے‘ وہ گویا کہ بمنزلۂ اساس ہے. چنانچہ اس کتاب کی اصل اساس لوح ِ محفوظ میں ہے‘ کتابِ مکنون میں ہے. مزیدوضاحت کر دی گئی کہ ’’لَدَیْنَا‘‘ یعنی وہ اُمّ الکتاب جو ہمارے پاس ہے‘ اس میں یہ قرآن درج ہے. ’’لَعَلِیٌّ حَکِیْمٌ‘‘ اس قرآن کی صفات یہ ہیں کہ وہ بہت بلند و بالا اور حکمت والا ہے ‘ مستحکم ہے. وہ اللہ کا کلام اور نہایت محفوظ کتاب ہے. اسے لوح ِ محفوظ کہیں ‘ کتابِ مکنون کہیں‘ یا اُمّ الکتاب کہیں‘اصل کلام وہاں ہے اُسی عالم غیب میں‘ اُسی عالم امر میں جسے سوائے اُن پاک باز فرشتوں کے جن کی رسائی لوح ِ محفوظ تک ہو‘ کوئی مَس نہیں کر سکتا‘ یعنی اس لوحِ محفوظ کے مضامین پر مطلع نہیں ہو سکتا. البتہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے محمدٌ رسول اللہ پر اپنے اس کلام کی تنزیل فرمائی اور اس کی عبارت کو تاقیامِ قیامت مصاحف میں محفوظ فرما دیا اور ناپاک ہاتھوں سے چھونے سے منع فرما دیا. 

کلامِ الٰہی کی تین صورتیں


جب میں نے عرض کیا کہ قرآن اللہ کا کلام ہے تو یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان سے کس طرح ہم کلام ہوتا ہے! قرآن مجید میں اس کی تین شکلیں بیان ہوئی ہیں:

وَ مَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنۡ یُّکَلِّمَہُ اللّٰہُ اِلَّا وَحۡیًا اَوۡ مِنۡ وَّرَآیِٔ حِجَابٍ اَوۡ یُرۡسِلَ رَسُوۡلًا فَیُوۡحِیَ بِاِذۡنِہٖ مَا یَشَآءُ ؕ اِنَّہٗ عَلِیٌّ حَکِیۡمٌ ﴿۵۱﴾ (الشوریٰ)
’’کسی بشرکا یہ مقام نہیں ہے کہ اللہ اس سے روبرو بات کرے. اس کی بات یا تو وحی (اشارے) کے طور پر ہوتی ہے‘ یا پردے کے پیچھے سے‘ یا پھر وہ کوئی پیغامبر (فرشتہ) بھیجتا ہے اور وہ اس کے حکم سے جو کچھ وہ چاہتا ہے وحی کرتا ہے. یقینا وہ برتر اور صاحب حکمت ہے.‘‘

نوٹ کرنے کی بات یہ ہے کہ یہ نہیں فرمایا کہ اللہ کے لیے یہ ممکن نہیں ہے‘ اللہ تو ہر شے پر 
قادر ہے‘ وہ جو چاہے کر سکتا ہے‘ اللہ کی قدرت سے کوئی چیز بعید نہیں ہے ‘بلکہ کہا کہ انسان کا یہ مقام نہیں ہے کہ اللہ اس سے براہ راست کلام کرے‘ کسی بشر کا یہ مرتبہ نہیں ہے کہ اللہ اس سے کلام کرے‘ سوائے تین صورتوں کے‘ یا تو وحی یعنی مخفی اشارے کے ذریعے سے‘ یا پردے کے پیچھے سے یا وہ کسی رسول (رسولِ مَلَک) کو بھیجتا ہے جو وحی کرتا ہے اللہ کے حکم سے جو اللہ چاہتا ہے.

اب کلامِ الٰہی کی مذکورہ تین شکلیں ہمارے سامنے آئی ہیں. ان میں سے دو کے لیے لفظ وحی آیا ہے. درمیان میں ایک شکل 
’’ مِنۡ وَّرَآءِ حِجَابٍ ؕ ‘‘ بیان ہوئی ہے.اس کا تذکرہ سورۃ الاعراف کی آیت ۱۴۳ کے ذیل میں ہو چکا ہے. اور یہ تو امرواقعہ ہے ہی کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے متعدد مواقع پر اس صورت میں کلام فرمایا.

پہلی مرتبہ حضرت موسیٰ ؑ جب آگ کی تلاش میں کوہِ طور پر پہنچے تو وہاں مخاطبہ ہوا. یہ مخاطبہ اور مکالمۂ الٰہی حضرت موسٰی ؑ کے ساتھ 
’’ مِنۡ وَّرَآءِ حِجَابٍ ؕ ‘‘ ہوا تھا‘ اسی لیے تو وہ آتش شوق بھڑکی تھی کہ ؎

کیا قیامت ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں 
صاف چھپتے بھی نہیں ‘سامنے آتے بھی نہیں! 

ظاہر ہے کہ جب ہم کلام ہونے کا شرف حاصل ہو رہا ہے تو ایک قدم اور باقی ہے کہ مجھے دیدار بھی عطا ہو جائے ‘لیکن یہ مخاطبہ مِنۡ وَّرَآءِ حِجَابٍ ؕ تھا. نبی اکرم سے یہی مخاطبہ شب معراج میں پردے کے پیچھے سے ہوا. بعض حضرات کی رائے ہے کہ حضور کو اللہ تعالیٰ (یعنی ذاتِ الٰہی) کا دیدار حاصل ہوا‘ لیکن میری رائے سلف میں سے ان حضرات کے ساتھ ہے جو اس کے قائل نہیں ہیں. ان میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بڑی اہمیت کی حامل ہیں‘ انہوں نے حضور سے لازماً ان چیزوں کے بارے میں استفسار کیا ہو گا‘ چنانچہ ان کی بات کے متعلق تو ہم یقین کے درجے میں کہہ سکتے ہیں کہ وہ محمدٌرسول اللہ سے مرفوع ہے. حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ ’’نُوْرٌ اَ نّٰی یُرٰی؟‘‘ یعنی اللہ تو نور ہے ‘اسے کیسے دیکھا جا سکتا ہے؟ (مسلم‘ کتاب الایمان‘ عن ابی ذر رضی اللہ عنہ) نور تو دوسری چیزوں کو دیکھنے کا ذریعہ بنتا ہے‘ نور خود کیسے دیکھا جا سکتا ہے! بہرحال میری رائے ہے کہ یہ گفتگو بھی من وراء حجاب تھی. وہ وراء حجاب گفتگو جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کوہ طور پر مکالمہ و مخاطبہ میں نصیب ہوئی‘ اسی وراء حجاب ملاقات اور گفتگو سے اللہ تعالیٰ نے محمدٌ رسول اللہ  کو شب معراج میں ’’عِنۡدَ سِدۡرَۃِ الۡمُنۡتَہٰی‘‘ مشرف فرمایا . 

البتہ وحی براہِ راست بھی ہے‘ یعنی بغیر فرشتہ کے واسطہ کے. دوسری قسم کی وحی فرشتے کے ذریعے سے ہے اور قرآن مجید سے جس بات کی طرف زیادہ راہنمائی ملتی ہے وہ یہ ہے کہ قرآن وحی ہے بواسطہ 
’’مَلَک‘‘. جیسے قرآن مجید میں ہے: نَزَلَ بِہِ الرُّوۡحُ الۡاَمِیۡنُ ﴿۱۹۳﴾ۙعَلٰی قَلۡبِکَ... (الشعراء:۱۹۴)’’اسے لے کر آپ کے دل پر روح ِ امین اترا ہے…‘‘ اور: فَاِنَّہٗ نَزَّلَہٗ عَلٰی قَلۡبِکَ (البقرۃ:۹۷’’پس اسے جبریل نے ہی آپ کے قلب پر نازل کیا ہے‘‘. البتہ فرشتے کے بغیر وحی‘ یعنی دل میں کسی بات کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے براہ راست ڈال دیا جانا‘ یعنی ’’الہام‘‘ کا ذکر بھی حضور نے کیا ہے اور اس کے لیے حدیث میں ’’نَفَث فِی الرَّوع‘‘ کے الفاظ بھی آئے ہیں. یعنی کسی نے دل میں کوئی بات ڈال دی ‘ کسی نے پھونک مار دی بغیر اِس کے کہ کوئی آواز سننے میں آئی ہو. ایک کیفیت صلصلۃ الجرس کی بھی تھی. حضورؐ ‘ کو گھنٹیوں کی سی آواز آتی تھی اور اس کے بعد حضور کے قلبِ مبارک پر وحی نازل ہوجاتی تھی.

بہرحال تیقّن کے ساتھ تو مَیں نہیں کہہ سکتا ‘لیکن میرا گمانِ غالب ہے کہ دوسری قسم کی وحی (بذریعۂ فرشتہ) پر پورے کا پورا قرآن مشتمل ہے. اور وحی براہِ راست یعنی ’’القاء‘‘ تو درحقیقت وحی خفی ہے‘ جس کی وضاحت انگریزی کے دو الفاظ کے درمیان فرق سے بخوبی ہو جاتی ہے. ایک لفظ ہے‘
inspiration اور دوسرا‘ revelation‘ جس کے ساتھ ایک اور لفظ verbal revelation بھی اہم ہے. inspiration میں ایک مفہوم‘ ایک خیال یا تصور انسان کے ذہن و قلب میں آ جاتا ہے‘ جب کہ ‘ revelation باقاعدہ کسی چیز کے کسی پر reveal کیے جانے کو کہتے ہیں. اور اس میں بھی عیسائیوں کے ہاں ایک بڑی بحث چل رہی ہے. وہ revelation کو مانتے ہیں لیکن verbal revelation کو نہیں مانتے‘ بلکہ ان کے نزدیک صرف مفہوم ہی انبیاء کے قلوب پر نازل کیا جاتا تھا‘ جسے وہ اپنے الفاظ میں ادا کرتے تھے. جبکہ ہمارے ہاں اس بارے میں مستقل اجماعی عقیدہ ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے جو محمد رسول اللہ پر نازل ہوا .یہ لفظاً بھی وحی ہے اور معناً بھی‘ لفظاً بھی اللہ کا کلام ہے اور معناً بھی‘ یعنی یہ‘ verbal revelation ہے. 

اس ضمن میں ایک دلچسپ واقعہ لاہور ہی میں غالباً ایف سی کالج کے پرنسپل اور علامہ اقبال کے درمیان پیش آیا تھا. وہ دونوں کسی دعوت میں اکٹھے تھے کہ ان صاحب نے حضرتِ علامہ سے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ بھی 
verbal revelation کے قائل ہیں! اس پر علامہ نے اُس وقت جو جواب دیا وہ اُن کی ذہانت پر دلالت کرتا ہے. انہوں نے کہا کہ جی ہاں‘ میں‘ verbal revelation کو نہ صرف مانتا ہوں‘ بلکہ مجھے تو اس کا ذاتی تجربہ حاصل ہے .چنانچہ خود مجھ پر جب شعر نازل ہوتے ہیں تو وہ الفاظ کے جامے میں ڈھلے ہوئے آتے ہیں‘ میں کوئی لفظ بدلنا چاہوں تو بھی نہیں بدل سکتا‘ معلوم ہوتا ہے کہ وہ میری اپنی تخلیق نہیں ہیں بلکہ مجھ پر نازل کیے جاتے ہیں .تو یہ درحقیقت کسی کو جواب دینے کا وہ انداز ہے جس کو عربی میں ’’الاجوبۃ المُسکتۃ‘‘ یعنی چپ کرا دینے والا جواب کہا جاتا ہے. یہ وہ جواب ہے جس کے بعد فریق ثانی کے لیے کسی قیل و قال کا موقع ہی نہیں رہتا. 

بہرحال کلام الٰہی واقعتا 
verbal revelation ہے جس نے اوّلاً قولِ جبرائیل کی شکل اختیار کی.حضرت جبرائیل ؑ کے ذریعے قول کی شکل میں نازل ہوا . اور پھر زبانِ محمدیؐ سے قولِ محمدیؐ کی شکل میں ادا ہوا.تو یہ درحقیقت revelation ہے inspiration نہیں‘ اور محض revelation بھی نہیں بلکہ verbal revelation ہے‘ یعنی معانی‘ مفہوم اور الفاظ سب کے سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور یہ بحیثیت مجموعی اللہ کاکلام ہے. 

(۲) قرآن کا رسول اللہ پر نزول

قرآن مجید کے محمد رسول اللہ پر نزول کے ضمن میں بھی چند باتیں نوٹ کر لیں. پہلی بحث تو ’’ نزول‘‘ کی لغوی بحث سے متعلق ہے. یہ لفظ نَزَلَ‘ یَنْزِلُ ثلاثی مجرد میں بھی آتا ہے. تب یہ فعل لازم ہوتا ہے ‘یعنی ’’خود ا ترنا‘‘. قرآن مجید کے لیے ان معنوں میں یہ لفظ قرآن میں متعدد بار آیا ہے. مثلاً: وَ بِالۡحَقِّ اَنۡزَلۡنٰہُ وَ بِالۡحَقِّ نَزَلَ ؕ (بنی اسرائیل :۱۰۵’’ہم نے اس قرآن کو حق کے ساتھ نازل کیا ہے اور یہ حق کے ساتھ نازل ہوا ہے‘‘. یہاں یہ فعل لازم آ رہا ہے ‘یعنی نازل ہوا . عام طور پر فعل لازم کو متعدی بنانے کے لیے اس فعل کے ساتھ کسی صلہ ‘ (preposition) کا اضافہ کیا جاتا ہے. چنانچہ یہ فعل نَزَلَ ’’بِ‘‘ کے ساتھ متعدی ہو کر بھی قرآن مجید میں آیا ہے‘ بمعنی ٰ اُس نے اتارا‘ جیسے جَاءَ ’’وہ آیا‘‘ سیجَاءَ بِہٖ ’’وہ لایا‘‘. مثلاً: نَزَلَ بِہِ الرُّوۡحُ الۡاَمِیۡنُ ﴿۱۹۳﴾ۙعَلٰی قَلۡبِکَ... (الشعراء) یعنی رُوح الامین (جبرائیل) نے اس قرآن کو اُتارا ہے محمد کے قلبِ مبارک پر.

نزولِ قرآن کی دو کیفیتیں: اِنزال اور تنزیل

ثلاثی مزید فیہ کے دو ابواب یعنی بابِ افعال اور باب تفعیل سے یہ لفظ قرآن مجید میں بکثرت استعمال ہوا ہے. دونوں ابواب سے یہ فعل متعدی کے طور پر بمعنیٰ’’اتارنا‘‘ استعمال ہوتا ہے ‘یعنی اَنْزَلَ‘ یُنْزِلُ‘ اِنْزَالاً اور نَزَّلَ‘ یُنَزِّلُ‘ تَنْزِیْلًا. ان دونوں کے مابین فرق یہ ہے کہ بابِ افعال میں کوئی فعل دفعۃً اور یک دم کر دینے کے معنی ہوتے ہیں جبکہ باب تفعیل میں وہی فعل تدریجاً ‘اہتمام ‘توجہ اور محنت کے ساتھ کرنے کے معنی ہوتے ہیں. ان دونوں کے مابین فرق کو ’’اِعلام‘‘ اور ’’تعلیم‘‘ کے معنی کے فرق کے حوالے سے بہت ہی نمایاں طور پر اور جامعیت کے ساتھ سمجھا جا سکتا ہے. ’’اِعلام‘‘ کے معنی ہیں بتا دینا. یعنی آپ نے کوئی چیز پوچھی تو جواب دے دیا گیا. چنانچہ ’’Information Office‘‘ کو عربی میں ’’مکتب الاعلام‘‘ کہا جاتا ہے. جبکہ ’’تعلیم‘‘ کے معنی ذہن نشین کرانا اور تھوڑا تھوڑا کر کے بتانا ہے .یعنی پہلے ایک بات سمجھا دینا ‘ پھردوسری بات اس کے بعد بتانا اور اس طرح درجہ بدرجہ مخاطب کے فہم کی سطح بلند سے بلند تر کرنا. اگرچہ قرآن مجید کے لیے لفظ ’’اِنْزَال‘‘ اور اس سے مشتق مختلف الفاظ استعمال ہوئے ہیں ‘لیکن بکثرت لفظ ’’تنزیل‘‘ استعمال ہوا ہے. قرآن مجید کی اصل شان تنزیلی شان ہے ‘یعنی یہ کہ اس کو تدریجاً ‘رفتہ رفتہ‘ تھوڑا تھوڑااورنجماً نجماً نازل کیا گیا.چنانچہ قرآن مجید کے حضور پر نزول کے لیے صحیح تر اور زیادہ مستعمل لفظ قرآن حکیم میں تنزیل ہے‘ تاہم دو مقامات پر لَیْلَۃُ الْقَدْرِ اور لَیْلَۃٌ مُّبَارَکَۃٌ کے ساتھ انزال کا لفظ آیا ہے . فرمایا: اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰہُ فِیۡ لَیۡلَۃِ الۡقَدۡرِ ۚ﴿ۖ۱﴾ (القدر) اور: اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰہُ فِیۡ لَیۡلَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ (الدُّخان:۳اسی طرح شَہۡرُ رَمَضَانَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ فِیۡہِ الۡقُرۡاٰنُ (البقرۃ:۱۸۵میں بھی لفظ ’’انزال‘‘ استعمال ہوا ہے. پھر حضور پر نزول کے لیے بھی کہیں کہیں لفظ ’’انزال‘‘ آیا ہے ‘اگرچہ اکثر و بیشترلفظ ’’تنزیل‘‘ ہی آیا ہے. اس کی تقریباً مجمع علیہ تاویل یہ ہے کہ پورا قرآن دفعۃً لوح محفوظ سے سمائے دنیا تک لیلۃ القدر میں نازل کر دیا گیا‘ جسے ’’لیلۂ مبارکہ‘‘ بھی کہا گیا ہے جوکہ رمضان المبارک کی ایک رات ہے. لہذا جب رمضان مبارک کی لیلۃ القدر یا لیلۂ مبارکہ میں قرآن کے نزول کا ذکر ہوا تو لفظ انزال استعمال ہوا. قرآن مجید سمائے دنیا پر ایک ہی بار مکمل پور طور پر نازل ہونے کے بعد وہاں سے تدریجاً اور تھوڑا تھوڑا کرکے محمدٌ رسول اللہ پر نازل ہوا. لہذا حضور پر نزول کے لیے اکثر و بیشتر لفظ تنزیل استعمال ہوا ہے. 

لفظ تنزیل کے ضمن میں سورۃ النساء کی آیت ۱۳۶ نہایت اہم ہے. ارشاد ہوا: 

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اٰمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ الۡکِتٰبِ الَّذِیۡ نَزَّلَ عَلٰی رَسُوۡلِہٖ وَ الۡکِتٰبِ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ مِنۡ قَبۡلُ ؕ 
’’اے ایمان والو! ایمان لاؤ (جیسا کہ ایمان لانے کا حق ہے) اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اُس کتاب پر بھی جو اُس نے اپنے رسولؐ پر نازل فرمائی اور اس کتاب پر بھی جو اُس نے پہلے نازل کی.‘‘

توراۃ تختیوں پر لکھی ہوئی ‘ مکتوب شکل میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دی گئی تھی. وہ چونکہ 
دفعۃً اور جُملۃً واحدۃً دے دی گئی‘ اس لیے اِس کے لیے لفظ اِنزال آیا ہے‘ جبکہ قرآن تھوڑا تھوڑا کر کے بائیس تیئیس برس میں نازل ہوا. لہذا اسی کے ضمن میں لفظ ’’نَزَّلَ‘‘ استعمال ہوا. چنانچہ متذکرہ بالا آیت میں ’’تنزیل‘‘ اور ’’انزال‘‘ ایک دوسرے کے بالکل مقابلے میں آئے ہیں. گویایہاں ’’تُعْرَفُ الْاَشْیَاءُ بِاَضْدَادِھَا‘‘ (چیزیں اپنی اضداد سے پہچانی جاتی ہیں) کا اصول درست بیٹھتا ہے. 

حکمتِ تنزیل

اب ہم یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ تنزیل کی حکمت کیا ہے؟ یہ تھوڑا تھوڑا کر کے کیوں نازل کیا گیااور ایک ہی بار کیوں نہ نازل کر دیا گیا؟ قرآن مجید میں اس کی دو حکمتیں بیان ہوئی ہیں.

ایک تو یہ کہ لوگ شاید اس کا تحمل نہ کر سکتے .چنانچہ لوگوں کے تحمل کی خاطر تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا گیا تاکہ وہ اس کو اچھی طرح سمجھیں‘ اس پر غور کریں اور اسے حرزِجان بنائیں اور اسی کے مطابق ان کے ذہن و فکر کی سطح بلند ہو. یہ حکمت سورۃ بنی اسرائیل کی آیت ۱۰۶ میں بیان کی گئی ہے:

وَ قُرۡاٰنًا فَرَقۡنٰہُ لِتَقۡرَاَہٗ عَلَی النَّاسِ عَلٰی مُکۡثٍ وَّ نَزَّلۡنٰہُ تَنۡزِیۡلًا ﴿۱۰۶
’’اور ہم نے قرآن کو ٹکڑوں ٹکڑوں میں منقسم کر دیا تاکہ آپ تھوڑا تھوڑا کر کے اور وقفہ وقفہ سے لوگوں کو سناتے رہیں اور ہم نے اسے بتدریج اتارا.‘‘

اس حکمت کو سمجھنے کے لیے بارش کی مثال ملاحظہ کیجئے.بارش اگر ایک دم بہت موسلادھار ہو تو اس میں وہ برکات نہیں ہوتیں جو تھوڑی تھوڑی اور تدریجاً ہونے والی بارش میں ہوتی ہیں. بارش اگر تدریجاً ہو تو زمین کے اندر جذب ہوتی چلی جائے گی‘ لیکن اگر موسلا دھار بارش ہو رہی ہوتو اس کا اکثر و بیشتر حصہ بہتا چلا جائے گا. یہی معاملہ قرآن مجید کے انزال و تنزیل کا ہے.اس میں لوگوں کی مصلحت ہے کہ قرآن ان کے فہم میں ‘ان کے باطن میں‘ ان کی شخصیتوں میں تدریجاً سرایت کرتا چلا جائے. سرایت کے حوالے سے مجھے پھر علامہ اقبال کا شعر یاد آیا ہے. ؎

چوں بجاں در رفت جاں دیگر شود
جان چوں دیگر شد جہاں دیگر شود!

’’(یہ قرآن) جب کسی کے باطن میں سرایت کر جاتا ہے تو اس کے اندر ایک انقلاب برپا ہو جاتا ہے ‘ اور جب کسی کے اندر کی دنیا بدل جاتی ہے تو اس کے لیے پوری دنیا ہی انقلاب کی زد میں آ جاتی ہے!‘‘

توجب یہ قرآن کسی کے اندر اس طرح ا تر جاتا ہے جیسے بارش کا پانی زمین میں جذب ہوتا ہے تو اس کی شخصیت میں سرایت کر جاتا ہے اور اس کے سرایت کرنے کے لیے اس کا تدریجاً تھوڑا تھوڑا نازل کیا جانا ہی حکمت پر مبنی ہے .لیکن اس سے بھی زیادہ اہم بات سورۃ الفرقان میں کہی گئی ہے‘ اس لیے کہ وہاں کفارِ مکّہ بالخصوص سردارانِ قریش کا باقاعدہ ایک اعتراض نقل ہوا ہے.فرمایا:

وَ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَوۡ لَا نُزِّلَ عَلَیۡہِ الۡقُرۡاٰنُ جُمۡلَۃً وَّاحِدَۃً ۚۛ کَذٰلِکَ ۚۛ لِنُثَبِّتَ بِہٖ فُؤَادَکَ وَ رَتَّلۡنٰہُ تَرۡتِیۡلًا ﴿۳۲﴾وَ لَا یَاۡتُوۡنَکَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰکَ بِالۡحَقِّ وَ اَحۡسَنَ تَفۡسِیۡرًا ﴿ؕ۳۳
’’منکرین کہتے ہیں : اس شخص پر سارا قرآن ایک ہی وقت میں کیوں نہ اتار دیا گیا؟ ہاں‘ ایسااس لیے کیا گیا ہے کہ اس کو ہم اچھی طرح آپؐ کے ذہن نشین کرتے رہیں اور اس کو ہم نے بغرضِ ترتیل تھوڑا تھوڑا کر کے اتارا ہے. اور (اس میں یہ مصلحت بھی ہے کہ) جب کبھی وہ آپ کے سامنے کوئی نرالی بات (یاعجیب سوال) لے کر آئے ‘ اُس کا ٹھیک جواب بروقت ہم نے آپ کو دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کھول دی.‘‘

اعتراض یہ تھاکہ یہ پورا قرآن یک دم‘ یک بارگی کیوں نہیں نازل کر دیا گیا؟ اس اعتراض میں جو وزن تھا ‘پہلے اس کو سمجھ لیجیے. انہوں نے جو بات کی درحقیقت اس سے مراد یہ تھی کہ جیسے ہمارا ایک شاعر دفعۃً پورا دیوان لوگوں کو فراہم نہیں کر دیتا‘ بلکہ وہ ایک غزل کہتا ہے‘ قصیدہ کہتا ہے‘ پھر مزید محنت کرتا ہے‘ پھر کچھ اور طبع آزمائی کرتا ہے‘ پھر کچھ اور کہتا ہے‘ اس طرح تدریجاً دیوان بن جاتا ہے‘ اسی طریقے سے محمد( ) کر رہے ہیں. اگر یہ اللہ کا کلام ہوتا تو پورے کا پورا یک دم نازل ہو سکتا تھا. یہ تو درحقیقت انسان کی کیفیت ہے کہ پوری کتاب دفعۃً 
produce نہیں کر دیتا. پورا دیوان تو کسی شاعر نے ایک دن کے اندر نہیں کہا بلکہ اسے وقت لگتا ہے ‘وہ مسلسل محنت کرتا ہے‘ کچھ تکلف بھی کرتا ہے‘ کبھی آمد بھی ہو جاتی ہے ‘لیکن وہ کلام دیوان کی شکل میں تدریجاً مدوّن ہوتا ہے. تو یہ تو اسی طرح کی چیز ہے. لَوۡ لَا نُزِّلَ عَلَیۡہِ الۡقُرۡاٰنُ جُمۡلَۃً وَّاحِدَۃً ۚ ’’کیوں نہیں یہ قرآن اس پر یک دم نازل ہو گیا؟‘‘ 

اب اس کا جواب دیا گیا: 
کَذٰلِکَ ۚۛ لِنُثَبِّتَ بِہٖ فُؤَادَکَ ’’یہ اس لیے کیا ہے تاکہ اے نبیؐ ہم اس کے ذریعے سے آپ کے دل کو تثبیت(جماؤ) عطا کریں .‘‘ یعنی وہ بات جو عام انسانوں کی مصلحت میں ہے وہ خود محمد رسول اللہ کے لیے بھی مصلحت پر مبنی ہے کہ آپ کے لیے بھی شاید قرآن مجید کا یک بارگی تحمل کرنا مشکل ہو جاتا. سورۃ الحشر کے آخری رکوع میں یہ الفاظ وارد ہوئے ہیں: لَوۡ اَنۡزَلۡنَا ہٰذَا الۡقُرۡاٰنَ عَلٰی جَبَلٍ لَّرَاَیۡتَہٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنۡ خَشۡیَۃِ اللّٰہِ ؕ ’’ اگر ہم پورے کے پورے قرآن کو دفعۃً کسی پہاڑ پر نازل کر دیتے توتم دیکھتے کہ وہ اللہ کے خوف سے دب جاتا اور پھٹ جاتا‘‘. (نوٹ کیجئے کہ یہاں لفظ ’’انزال‘‘ آیا ہے) . معلوم ہوا کہ قلب محمدیؐ ‘کو جماؤ اور ٹھہراؤ عطا کرنے کے لیے اسے بتدریج نازل کیا گیا ہے. وَ رَتَّلۡنٰہُ تَرۡتِیۡلًا ’’اورہم نے اس کو بغرضِ ترتیل تھوڑا تھوڑا کر کے اُتارا ہے‘‘. ’’رتل‘‘ چھوٹے پیمانے کو‘ چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرنے کو کہتے ہیں. 

اگلی آیت میں جو ارشاد ہوا اس کے دونوں مفہوم ہو سکتے ہیں. ایک یہ کہ اے نبی! جو اعتراض بھی یہ ہم پر کریں گے ہم اس کا بہترین جواب آپ کو عطا کر دیں گے. لیکن دوسرا مفہوم یہ بھی ہے کہ یہ ایک مسلسل کشاکش ہے جو آپ کے اور مشرکین عرب کے درمیان چل رہی ہے. آج وہ ایک بات کہتے ہیں ‘ اگر اسی وقت اس کا جواب دیا جائے تو وہ درحقیقت آپ کی دعوت کے لیے موزوں ہے. اگر یہ سارے کا سارا کلامِ الٰہی ایک ہی مرتبہ نازل ہو جاتا تو حالات کے ساتھ اس کی مطابقت اور ان کی طرف سے پیش ہونے والے اعتراضات کا بروقت جواب نہ ہوتااور اس کے اندر جو اثرانداز ہونے کی کیفیت ہے وہ حاصل نہ ہوتی .اس تدریج میں اپنی جگہ موزونیت ہے اور اس کی اپنی 
تاثیر ہے. اس اعتبار سے قرآن مجید کو تدریجاً نازل کیا گیا. 

قرآن کریم کا زمانۂ نزول اور ارضِ نزول

رسول اللہ  پر قرآن کے نزول کے ضمن میں اب دو چھوٹی چھوٹی چیزیں اور نوٹ کر لیجیے. یہ صرف معلومات کے ضمن میں ہیں. اس کا زمانہ نزول کیا ہے؟ ہم جس حساب (سن عیسوی) سے بات کرنے کے عادی ہیں‘ اسی حساب سے ہمارے ذہن کا صغریٰ کبریٰ بنا ہوا ہے. اس اعتبار سے نوٹ کر لیجیے کہ قرآن حکیم کا زمانۂ نزول ۶۱۰ء سے ۶۳۲ء تک ۲۲ برس پر مشتمل ہے. قمری حساب سے یہ ۲۳برس بنیں گے. ۴۰ عام الفیل سے شروع کریں تو ۱۲ سال قبل ہجرت اور ۱۱ ہجری سال مل کر ۲۳ سال قمری بنیں گے‘ جن کے دوران یہ قرآن بطرزِ تنزیل تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہوا. صحیح احادیث میں یہ شہادت موجود ہے کہ پہلے سورۃ العلق کی پانچ آیات نازل ہوئیں ‘پھر تین سال کا وقفہ آیا . سورۃ العلق کی یہ پانچ آیات بھی چونکہ قرآن مجید کا حصہ ہیں‘ لہذا صحیح قول یہی ہے کہ قرآن حکیم کا زمانہ نزول ۲۳قمری یا۲۲ شمسی سال ہے.

اب یہ کہ نزول کی جگہ کون سی ہے؟ اس ضمن میں صرف ایک لفظ نوٹ کر لیجیے کہ تقریباً پورے کا پورا قرآن ’’حجاز ‘‘میں نازل ہوا. اس لیے کہ آغازِ وحی کے بعد حضور اکرم کا کوئی سفر حجاز سے باہر ثابت نہیں ہے . آغازِ وحی سے قبل آپ نے متعدد سفر کیے ہیں.آپؐ شام کا سفر کرتے تھے‘ یقینا یمن بھی آپؐ جاتے ہوں گے. اس لیے کہ الفاظِ قرآنی 
’’ رِحۡلَۃَ الشِّتَآءِ وَ الصَّیۡفِ‘‘ کی رو سے قریش کے سالانہ دوسفر ہوتے تھے. گرمیوں کے موسم میں شمال کی طرف جاتے تھے‘ اس لیے کہ فلسطین کا علاقہ نسبتاً ٹھنڈا ہے‘ اور سردیوں کے موسم میں وہ جنوب کی طرف (یمن ) جاتے تھے‘ اس لیے کہ وہ گرم علاقہ ہے. تو حضور اکرم نے بھی تجارتی سفر کیے ہیں. بعض محققین نے تو یہ امکان بھی ظاہر کیا ہے کہ آپؐ نے اُس زمانے میں کوئی بحری سفر بھی کیا اور گلف کو عبور کر کے مکران کے ساحل پر کسی جگہ آپؐ تشریف لائے (واللہ اعلم!). یہ بات میں نے ڈاکٹر حمید اللہ صاحب کے ایک لیکچر میں سنی تھی جو انہوں نے حیدرآباد (سندھ) میں دیا تھا‘ لیکن بعد میں اس پر جرح ہوئی کہ یہ بہت ہی کمزور قول ہے اور اس کے لیے کوئی سند موجود نہیں ہے.البتہ ’’الخُبر‘‘ جہاں آج آباد ہے وہاں پر تو ہر سال ایک بہت بڑا تجارتی میلہ لگتا تھا اور حضور کا وہاں تک آنا ثابت ہے. بہرحال آپ کو معلوم ہے کہ حضور آغازِ وحی کے بعد دس سال تک تو مکہ مکرمہ میں رہے ‘اس کے بعد طائف کا سفر کیا ہے. پھر آس پاس ’’عکاظ‘‘ کا میلہ لگتا تھا اور منڈیاں لگتی تھیں‘ ان میں آپ نے سفر کیے ہیں. پھر آپ نے مدینہ منورہ ہجرت فرمائی ہے. اس کے بعد سب جنگیں حجاز کے علاقے ہی میں ہوئیں‘ سوائے غزوۂ تبوک کے. لیکن تبوک بھی اصل میں حجاز ہی کا شمالی سرا ہے. اس اعتبار سے حجاز ہی کا علاقہ ہے جس میں قرآن کریم نازل ہوا تھا. تاہم دو آیتیں اس اعتبار سے مستثنیٰ قرار دی جا سکتی ہیں کہ وہ زمین پر نہیں بلکہ آسمان پر نازل ہوئیں . حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے صحیح مسلم میں روایت موجود ہے کہ شب معراج میں اللہ تعالیٰ نے آپ کوجو تین تحفے عطا کیے‘ ان میں نماز کی فرضیت اور دو آیاتِ قرآنی شامل ہیں. یہ سورۃ البقرۃ کی آخری دو آیات ہیں جو عرش کے دو خزانے ہیں جو محمد رسول اللہ کو شب معراج میں عطا ہوئے. تو یہ دو آیتیں مستثنیٰ ہیں کہ یہ زمین پر نازل نہیں ہوئیں بلکہ آپ کو سدرۃالمنتہیٰ پر دی گئیں اور خود آپؐ ساتویں آسمان پر تھے‘ جبکہ باقی پورا قرآن آسمان سے زمین پر نازل ہوا ہے. جغرافیائی اعتبار سے حجاز کا علاقہ مہبط وحی ہے. 

(۳) قرآن حکیم کی محفوظیت

میں نے عرض کیا تھا کہ قرآن کے بارے میں تین بنیادی اوراعتقادی چیزیں ہیں : اوّل‘ یہ اللہ کا کلام ہے . دوم‘ یہ محمدٌ رسول اللہ پر نازل ہوا. سوم‘یہ مِن وعَن کُل کاکُل محفوظ ہے. اس میں نہ کوئی کمی ہوئی ہے نہ کوئی بیشی ہوئی ہے. نہ کمی ہو سکتی ہے نہ بیشی ہو سکتی ہے. نہ کوئی تحریف ہوئی ہے نہ کوئی تبدیلی. یہ گویا ہمارے عقیدے کا جزوِ لاینفک ہے. اس میں کچھ اشتباہ اہل تشیع نے پیدا کیا ہے‘ لیکن ان کی بات بھی میں کچھ یقین کے ساتھ اس لیے نہیں کہہ سکتا کہ ان کا یہ قول بھی سامنے آتا ہے کہ ’’ہم اس قرآن کو محفوظ مانتے ہیں‘‘.البتہ عوام میں جو چیزیں مشہور ہیں کہ قرآن سے فلاں آیات نکال دی گئیں‘ فلاں سورت حضرت علی ؓ کی مدح اور شان میں تھی‘ وہ اس میں سے نکال دی گئی وغیرہ‘ ان کے بارے میں مَیں نہیں کہہ سکتا کہ یہ ان میں سے عوام کالانعام کی باتیں ہیں یا ان کے اعتقادات میں شامل ہیں. لیکن یہ کہ بہرحال اہل سنت کا اجماعی عقیدہ ہے کہ یہ قرآن حکیم محفوظ ہے اور کُل کا کُل مِن و عن ہمارے سامنے موجود ہے. اس کے لیے خود قرآن مجید سے جو گواہی ملتی ہے وہ سب سے زیادہ نمایاں ہو کر سورۃ القیامۃ میں آئی ہے. فرمایا: لَا تُحَرِّکۡ بِہٖ لِسَانَکَ لِتَعۡجَلَ بِہٖ ﴿ؕ۱۶﴾اِنَّ عَلَیۡنَا جَمۡعَہٗ وَ قُرۡاٰنَہٗ ﴿ۚۖ۱۷﴾ رسول اللہ کو اللہ تعالیٰ نے ازراہِ شفقت فرمایا کہ ’’ آپ اس قرآن کو یاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو تیزی سے حرکت نہ دیں.اس کو یاد کرا دینا اور پڑھوا دینا ہمارے ذمہ ہے‘‘. آپؐ مشقت نہ جھیلیں‘ یہ ذمہ داری ہماری ہے کہ ہم اسے آپؐ کے سینہ مبارک کے اندر جمع کر دیں گے اور اس کی ترتیب قائم کر دیں گے ‘اس کو پڑھوا دیں گے .جس ترتیب سے یہ نازل ہو رہا ہے اس کی زیادہ فکر نہ کیجئے. اصل ترتیب جس میں اس کا مرتب کیا جانا ہمارے پیش نظر ہے‘ جو ترتیب لوح ِ محفوظ کی ہے اسی ترتیب سے ہم پڑھوا دیں گے. ثُمَّ اِنَّ عَلَیۡنَا بَیَانَہٗ ﴿ؕ۱۹﴾ پھر اگر آپ کو کسی چیز میں ابہام محسوس ہو اور وضاحت کی ضرورت ہو تو اس کی توضیح اور تدوین بھی ہمارے ذمہ ہے.

یہ ساری ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے خود اپنے اوپر لی ہے. اگر ان آیات کو کوئی شخص قرآن مجید کی آیات مانتا ہے تو اس کو ماننا پڑے گا کہ قرآن مجید پورے کا پورا جمع ہے‘ اس کا کوئی حصہ ضائع نہیں ہوا. صراحت کے ساتھ یہ بات سورۃ الحجر کی آیت ۹ میں مذکور ہے.فرمایا: 
اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّکۡرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ ﴿۹﴾ ’’ہم نے ہی اس ’’الذکر‘‘ کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں‘‘. یہ گویا ہمیشہ ہمیش کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے گارنٹی ہے کہ ہم نے اسے نازل کیا اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں. اس حقیقت کو علامہ اقبال نے خوبصورت شعر میں بیان کیا ہے: ؏

حرفِ اُو را ریب نے ‘ تبدیل نے
آیہ اش شرمندۂ تاویل نے 

’’اس کے الفاظ میں نہ کسی شک و شبہ کا شائبہ ہے نہ رد ّ و بدل کی گنجائش. اور اس کی آیات کسی تاویل کی محتاج نہیں.‘‘
اس شعر میں تین اعتبارات سے نفی کی گئی ہے: (۱) قرآن کے حروف میں یعنی اس کے متن میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں. یہ مِن وعَن محفوظ ہے. (۲) اس میں کہیں کوئی تحریف ہوئی ہو ‘کہیں تبدیلی کی گئی ہو‘قطعاً ایسا نہیں.(۳) کیا اس کی آیات کی الٹ سلٹ تاویل بھی کی جا سکتی ہے؟ نہیں! یہ آخری بات بظاہر بہت بڑا دعویٰ معلوم ہوتا ہے‘ اس لیے کہ تاویل کے اعتبار سے قرآن مجید کے معنی میں لوگوں نے تحریف کی‘ لیکن واقعہ یہ ہے کہ قرآن مجید میں اگر کہیں معنوی تحریف کی کوشش بھی ہوئی ہے تو وہ قطعاً درجۂ استناد کو نہیں پہنچ سکی‘ اسے کبھی بھی استقلال اور دوام حاصل نہیں ہو سکا‘ قرآن نے خود اس کو ردّ کر دیا. جس طرح دودھ میں سے مکھی نکال کر پھینک دی جاتی ہے ‘ایسی تاویلات بھی اُمت کی تاریخ کے دوران کہیں بھی جڑ نہیں پکڑ سکی ہیں اور اسی طرح نکال دی گئی ہیں. اس بات کی سند بھی قرآن میں موجود ہے. سورۂ حٰم السجدۃ کی آیت ۴۲ میں ہے: 
لَّا یَاۡتِیۡہِ الۡبَاطِلُ مِنۡۢ بَیۡنِ یَدَیۡہِ وَ لَا مِنۡ خَلۡفِہٖ ؕ تَنۡزِیۡلٌ مِّنۡ حَکِیۡمٍ حَمِیۡدٍ ﴿۴۲﴾ ’’باطل اس (قرآن) پر حملہ آور نہیں ہو سکتا‘ نہ سامنے سے نہ پیچھے سے‘ یہ ایک حکیم و حمید کی نازل کردہ چیز ہے‘‘. 

یہ بات سرے سے خارج از امکان ہے کہ اس قرآن میں کوئی تحریف ہو جائے‘ اس کا کوئی حصہ نکال دیا جائے‘ اس میں کوئی غیر قرآن شامل کردیا جائے سورۃ الحاقۃ کی یہ آیات ملاحظہ کیجئے جہاں گویا اس امکان کی نفی میں مبالغے کا انداز ہے : 

وَ لَوۡ تَقَوَّلَ عَلَیۡنَا بَعۡضَ الۡاَقَاوِیۡلِ ﴿ۙ۴۴﴾لَاَخَذۡنَا مِنۡہُ بِالۡیَمِیۡنِ ﴿ۙ۴۵﴾ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡہُ الۡوَتِیۡنَ ﴿۫ۖ۴۶﴾فَمَا مِنۡکُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ عَنۡہُ حٰجِزِیۡنَ ﴿۴۷﴾ 
’’(کوئی اور تو اس میں اضافہ کیا کرے گا) اگر یہ (ہمارے نبی محمد  ) خود بھی (بفرضِ محال) اپنی طرف سے کچھ گھڑ کر اس میں شامل کر دیں تو ہم انہیں داہنے ہاتھ سے پکڑیں گے اور ان کی شہ رگ کاٹ دیں گے .پھر تم میں سے کوئی (بڑے سے بڑا محافظ ان کا حامی و مددگار) نہیں ہو گا کہ جو انہیں ہماری پکڑ سے بچا سکے.‘‘

یہاں تو محمدٌرسول اللہ کے لیے بھی اس شدت کے ساتھ نفی کر دی گئی. کفار و مشرکین کی طرف سے مطالبہ کیا جاتا تھا کہ آپ اس قرآن میں کچھ نرمی اور لچک دکھائیں‘ یہ تو بہت 
rigid ہے‘ بہت ہی uncompromising ہے‘ بہرحال دنیا میں معاملات ’’کچھ لو کچھ دو‘‘ (give and take) سے طے ہوتے ہیں‘ لہذا کچھ آپ نرم پڑیں کچھ ہم نرم پڑتے ہیں. اس کے بارے میں فرمایا: وَدُّوۡا لَوۡ تُدۡہِنُ فَیُدۡہِنُوۡنَ ﴿۹﴾ (القلم) ’’وہ تو چاہتے ہیں کہ آپ کچھ ڈھیلے ہو جائیں تو یہ بھی ڈھیلے ہو جائیں گے‘‘. اور سورۂ یونس میں ارشاد ہوا :

وَ اِذَا تُتۡلٰی عَلَیۡہِمۡ اٰیَاتُنَا بَیِّنٰتٍ ۙ قَالَ الَّذِیۡنَ لَا یَرۡجُوۡنَ لِقَآءَنَا ائۡتِ بِقُرۡاٰنٍ غَیۡرِ ہٰذَاۤ اَوۡ بَدِّلۡہُ ؕ قُلۡ مَا یَکُوۡنُ لِیۡۤ اَنۡ اُبَدِّلَہٗ مِنۡ تِلۡقَآیِٔ نَفۡسِیۡ ۚ اِنۡ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوۡحٰۤی اِلَیَّ ۚ اِنِّیۡۤ اَخَافُ اِنۡ عَصَیۡتُ رَبِّیۡ عَذَابَ یَوۡمٍ عَظِیۡمٍ ﴿۱۵
’’جب انہیں ہماری آیاتِ بیّنات سنائی جاتی ہیں تو وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے‘ کہتے ہیں کہ اس قرآن کے بجائے کوئی اور قرآن لایئے یا اس میں کچھ ترمیم کیجئے. (اے نبی! ان سے) کہہ دیجیے میرے لیے ہرگز ممکن نہیں ہے کہ میں اپنے خیال اور ارادے سے اس کے اندر کچھ تبدیلی کر سکوں. میں تو خود پابند ہوں اس کا جو مجھ پر وحی کیا جاتا ہے. اگر میں اپنے ربّ کی نافرمانی کروں تو مجھے ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب کا ڈر ہے.‘‘

یہ ہے قرآن مجید کی شان کہ یہ لفظا ً‘ معنا ً ‘ متناً کلی طور پر محفوظ ہے. oo