قرآن مجید کی زبان

اب آئیے اگلی بحث کی طرف کہ قرآن مجید کی زبان کیا ہے اور اس زبان کی شان کیا ہے. یہ بات بھی قرآن مجید نے بہت تکرار و اعادہ کے ساتھ بیان کی ہے کہ یہ قرآن عربی مبین میں ہے ‘یعنی شستہ ‘صاف ‘سلیس‘ کھلی اور واضح عربی میں ہے.
قرآن مجید اللہ کا کلام ہے. اس نے جن حروف و اصوات کا جامہ پہنا‘ وہ حروف و اصوات لوح ِ محفوظ میں ہیں. اس کے بعد وہ کلامِ الٰہی ‘قولِ جبرائیل علیہ السلام اور قولِ محمد بن کر نازل ہوا اور لوگوں کے سامنے آیا. چنانچہ سورۃ الزخرف کے آغاز میں ارشاد ہوا:

حٰمٓ ۚ﴿ۛ۱﴾وَ الۡکِتٰبِ الۡمُبِیۡنِ ۙ﴿ۛ۲﴾اِنَّا جَعَلۡنٰہُ قُرۡءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّکُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ۚ﴿۳

’’حٰم . قسم ہے اس واضح کتاب کی! ہم نے اسے قرآنِ عربی بنایا ہے تاکہ تم سمجھ سکو‘‘ .
قرآن کی مخاطب اوّل قوم حجاز میں آباد تھی .اس سے کہا جا رہا ہے کہ ہم نے اس قرآن کو تمہاری زبان میں بنایا. اس نے اوّلاً حروف و اصوات کا جامہ پہنا ہے‘ پھر تمہاری زبان عربی کا جامہ پہن کر تمہارے سامنے نازل کیا گیا ہے تاکہ تم اس کو سمجھ سکو. یہی بات سورۃ یوسف کے شروع میں کہی گئی ہے:

الٓرٰ ۟ تِلۡکَ اٰیٰتُ الۡکِتٰبِ الۡمُبِیۡنِ ۟﴿۱﴾اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰہُ قُرۡءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّکُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۲
’’ا ‘ ل‘ ر . یہ اس کتاب کی آیات ہیں جو اپنا مدعا صاف صاف بیان کرتی ہے. ہم نے اسے نازل کیا ہے قرآن بنا کر عربی زبان میں تاکہ تم سمجھ سکو.‘‘

سورۃ الشعراء میں فرمایا:

بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیۡنٍ ﴿۱۹۵﴾ؕ
’’صاف صاف عربی زبان میں (نازل کیا گیا).‘‘

سورۃ الزمر میں ارشاد فرمایا:

قُرۡاٰنًا عَرَبِیًّا غَیۡرَ ذِیۡ عِوَجٍ لَّعَلَّہُمۡ یَتَّقُوۡنَ ﴿۲۸
’’ایسا قرآن جو عربی زبان میں ہے‘ جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ہے‘ تاکہ وہ بچ کرچلیں.‘‘

اس میں کہیں کجی نہیں ‘ کہیں کوئی ایچ پیچ نہیں‘ اس کی زبان بہت سلیس‘ شستہ اور بالکل واضح زبان ہے. اس میں کہیں پہیلیاں بجھوانے کا انداز نہیں ہے. 

اب نوٹ کیجیے کہ قرآن کی عربی کون سی عربی ہے؟ اس لیے کہ عربی زبان ایک ہے مگر اس کے dialects اور اس کی بولیاں بے شمار ہیں. خود جزیرہ نمائے عرب میں متعدد بولیاں تھیں‘ تلفظ اور لہجے مختلف تھے. بعض الفاظ کسی خاص علاقے میں مستعمل تھے اور دوسرے علاقے کے لوگ ان الفاظ کو جانتے ہی نہیں تھے. آج بھی کہنے کو تو مصر‘ لیبیا‘ الجزائر ‘ موریطانیہ اور حجاز کی زبان عربی ہے‘ لیکن اُن کے ہاں جوفصیح عربی کہلاتی ہے وہ تو ایک ہی ہے . وہ درحقیقت ایک اس لیے ہے کہ قرآن مجید نے اسے دوام عطا کیا ہے. یہ قرآن مجید کا عربی زبان پر عظیم احسان ہے .اس لیے کہ دنیا میں دوسری کوئی زبان بھی ایسی نہیں ہے جو چودہ سو برس سے ایک ہی شان اور ایک ہی کیفیت کے ساتھ باقی ہو.اردو زبان ہی کو دیکھئے. ۱۰۰ اور ۲۰۰ برس پرانی اردو آج ہمارے لیے ناقابل فہم ہے. دکن کی اردو ہمیں سمجھ میں نہیں آ سکتی‘ اس میں کتنی تبدیلی ہوئی ہے. اسی طرح فارسی زبان کا معاملہ ہے. ایک وہ فارسی تھی جو عربوں کی آمد اور اسلام کے ظہور کے وقت تھی. عربوں کے ہاتھوں ایران فتح ہوا تو رفتہ رفتہ اس فارسی کا رنگ بدلتا گیا. اب اس کو پھر بدلا گیا ہے اور اس میں سے عربی الفاظ نکال کر اس کے لہجے بھی بدل دیے گئے ہیں. ایک فارسی وہ ہے جو افغانستان میں بولی جاتی ہے‘ وہ ہماری سمجھ میں آتی ہے. اس لیے کہ جوفارسی یہاں پڑھائی جاتی تھی وہ یہی فارسی تھی. آج جو فارسی ایران میں پڑھائی جا رہی ہے وہ بہت مختلف ہے‘ اپنے لہجے میں بھی اور اپنے الفاظ کے اعتبار سے بھی.لیکن عربی ’’فصیح زبان‘‘ ایک ہے.یہ اصل میں حجاز کے بدوؤں کی زبان تھی. پورا قرآن حکیم حجاز میں نازل ہوا. حجاز میں بادیہ نشین تھے. عربوں کا کہنا تھا کہ خالص زبان بادیہ نشینوں کی ہے ‘شہر والوں کی نہیں. جبکہ مکہ شہر تھا اور وہاں باہر سے بھی لوگ آتے رہتے تھے. قافلے آ رہے ہیں‘ جا رہے ہیں‘ ٹھہر رہے ہیں. جہاں اس طرح کی آمدورفت ہو وہاں زبان خالص نہیں رہتی اور اس میں غیر زبانوں کے الفاظ شامل ہو کر مستعمل ہو جاتے ہیں اور بول چال میں آ جاتے ہیں. خاص اسی وجہ سے مکّہ کے شرفاء اپنے بچوں کو پیدائش کے فوراً بعد بادیہ نشینوں کے پاس بھیج دیتے تھے. ایک تو دودھ پلانے کا معاملہ تھا.دوسرا یہ کہ ان کی زبان صاف رہے‘ خالص عربی زبان رہے اور وہ ہر ملاوٹ سے پاک رہے. تو قرآن مجید حجاز کے بادیہ نشینوں کی زبان میں نازل ہوا. 

البتہ یہ ثابت ہے کہ قرآن مجید میں کچھ الفاظ دوسرے قبائل اور دوسرے علاقوں کی زبانوں کے بھی آئے ہیں . علامہ جلال الدین سیوطی نے ایسے الفاظ کی فہرست مرتب کی ہے. اس کے علاوہ کچھ غیر عربی الفاظ بھی قرآن مجید میں آئے ہیں جو مُعرّب ہو گئے ہیں. ابراہیم‘ اسمٰعیل ‘ اسرائیل‘ اسحاق‘ یہ تمام نام درحقیقت عبرانی زبان کے الفاظ ہیں. لفظ ’’اِیل‘‘ عبرانی زبان میں اللہ کے لیے آتاہے اور یہ لفظ ہمارے ہاں قرآن مجید کے ذریعے آیا ہے. اسی طریقے سے ’’سِجِّیْل‘‘ کا لفظ فارسی سے آیا ہے. صحر امیں کہیں بارش کے نتیجے میں ہلکی سی پھوار پڑی ہو تو بارش کے قطروں کے ساتھ ریت کے چھوٹے چھوٹے دانے بن جاتے ہیں اور پھر تیز دھوپ پڑنے پر وہ ایسے پک جاتے ہیں جیسے بھٹے میں اینٹوں کو پکا دیا گیا ہو. یہ کنکر ’’سجیل‘‘ کہلاتے ہیں جو ’’سنگِ گل‘‘ کا معرب ہے.باقی اکثر و بیشتر قرآن مجید کی زبان جس میں یہ نازل ہوا‘ وہ حجاز کے علاقے کے بادیہ نشینوں کی عربی ہے‘ جس میں فصاحت و بلاغت نقطۂ عروج پر ہے اور اس کا لوہا 
ماناگیا ہے. 

اس کے علاوہ قرآن مجید میں ایک صوتی آہنگ ہے. اس کا ایک ’’ملکوتی غنا‘‘ 
(Divine Music) ہے‘ اس کی ایک عذوبت اور مٹھاس ہے . یہ دونوں چیزیں عرب میں پورے طور پر تسلیم کی گئی ہیں اور لوگوں پر سب سے زیادہ مرعوبیت قرآن حکیم کی فصاحت‘ بلاغت اور عذوبت ہی سے طاری ہوئی . ان کی اپنی زبان میں ہونے کے اعتبار سے ظاہر بات ہے کہ قرآن کے بہترین ناقد بھی وہی ہو سکتے تھے.واضح رہے کہ ادب میں ’’تنقید‘‘ دونوں پہلوؤں کو محیط ہوتی ہے. کسی چیز کی قدر و قیمت کااندازہ لگانا‘ اسے جانچنا‘ پرکھنا. اس میں کوئی خامی ہو تو اس کو نمایاں کرنا‘ اور اگر کوئی محاسن ہوں تو ان کو سمجھنا اور بیان کرنا. اس اعتبار سے اس کی فصاحت و بلاغت کو تسلیم کیاگیا ہے.

میں عرض کر چکا ہوں کہ عربی زبان آج بھی مختلف علاقوں میں مختلف لہجوں اور بولیوں کی شکل اختیار کر چکی ہے.ایک علاقے کی عامی 
(colloquial) ربی دوسرے لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتی تھی. خود نزولِ قرآن کے زمانے میں نجد کے لوگوں کی زبان حجاز کے لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتی تھی. اس کی وضاحت ایک حدیث میں بھی ملتی ہے کہ نجد سے کچھ لوگ آئے اور وہ حضور سے گفتگو کر رہے تھے جو بڑی مشکل سے سمجھ میں آ رہی تھی اور لوگ اسے سمجھ نہیں پا رہے تھے. آج بھی نجد کے لوگ جو گفتگو کرتے ہیں تو واقعہ یہ ہے کہ عربی سے واقفیت ہونے کے باوجود ان کی عربی ہماری سمجھ میں نہیں آتی‘ ان کا لب و لہجہ بالکل مختلف ہے. قرآن حکیم کی زبان حجاز کے بادیہ نشینوں کی ہے. لہذا اگر تحقیق و تدبر قرآن کا حق ادا کرنا ہو تو جاہلیت کی شاعری پڑھنا ضروری ہے. ائمہ لغت نے ایک ایک لفظ کی تحقیق کر کے اور بڑی گہرائیوں میں اتر کر جاہلی شاعری کے حوالے سے جتنے بھی استشہاد ہو سکتے تھے ان کو کھنگال کر قرآن میں مستعمل الفاظ کے مادوں کے مفہوم معین کر دیے ہیں. ایک عام قاری کو‘ جو قرآن سے تذکر کرنا چاہے‘ صرف ہدایت حاصل کرنا چاہے‘ اس کھکیڑ میں پڑنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے.البتہ تدبر قرآن کے لیے جب تحقیق کی جاتی ہے تو جب تک کسی ایک لفظ کی اصل پوری طرح معلوم نہ کی جائے اور اس کے بال کی کھال نہ اتار لی جائے تحقیق کا حق ادا نہیں ہوتا. اس اعتبار سے شعر جاہلی کی زبان کو سمجھنا تدبر قرآن کے لیے یقینا ضروری ہے. 

قرآن کے اَسماء و صفات

اگلی بحث قرآن حکیم کے اسماء وصفات کی ہے. علامہ جلال الدین سیوطی ؒ نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب ’’الاتقان فی علوم القرآن‘‘ میں قرآن حکیم کے اسماء و صفات قرآن حکیم ہی سے لے کر پچپن (۵۵) ناموں کی فہرست مرتب کی ہے. میں نے جب اس پر غور کیا تو اندازہ ہوا کہ وہ بھی کامل نہیں ہے ‘مثلاً لفظ ’’برہان‘‘ ان کی فہرست میں شامل نہیں ہے. درحقیقت قرآن مجید کی صفات‘ اس کی شانوں اور اس کی تاثیر کے لیے مختلف الفاظ کو جمع کیا جائے تو ۵۵ ہی نہیں اس سے زیادہ الفاظ بن جائیں گے‘ لیکن میں نے انہیں دو حصّوں میں تقسیم کیا ہے. ایک تووہ الفاظ ہیں جو مفرد کی حیثیت سے اور معرفہ کی شکل میں قرآن مجید میں قرآن کے لیے وارد ہوئے ہیں‘جبکہ کچھ صفات ہیں جو موصوف کے ساتھ آ رہی ہیں.مثلاً ’’قرآن مجید‘‘ میں ’’مجید‘‘ قرآن کا نام نہیں ہے‘ درحقیقت صفت ہے. اسی طرح ’’القرآن المجید‘‘ میں اگرچہ ’’الف لام‘‘ کے ساتھ ’’المجید‘‘ آتا ہے‘ لیکن یہ چونکہ موصوف کے ساتھ مل کر آیا ہے لہذا یہ بھی صفت ہے. 

قرآن مجید کے لیے جو الفاظ بطور اسم آئے ہیں‘ ان میں سے اکثر و بیشتر وہ ہیں جن کے ساتھ لام تعریف لگا ہوا ہے. قرآن کے لیے اہم ترین نام جو اس کا امتیازی اور اختصاصی 
(The exclusive) نام ہے ’’القرآن‘‘ ہے. (میں بعد میں اس کی وضاحت کروں گا). اس کے بعد کثرت سے استعمال ہونے والا نام ’’الکتاب‘‘ ہے. قرآن کی اصل حقیقت پر روشنی ڈالنے والا اہم ترین نام ’’الذکر‘‘ ہے.قرآن مجید کی افادیت کے لیے سب سے زیادہ جامع نام ’’الہدیٰ‘‘ ہے. قرآن مجید کی نوعیت اور حیثیت کے اعتبار سے اہم ترین نام ’’النور‘‘ ہے.قرآن مجید کی ایک انتہائی اہم شان جو ایک لفظ کے طور پر آئی ہے ’’الفرقان‘‘ ہے. یعنی (حق و باطل میں) فرق کر دینے والی شے‘ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی جدا کر دینے والی شے. قرآن کا ایک نام ’’الوحی‘‘ بھی آیا ہے: قُلۡ اِنَّمَاۤ اُنۡذِرُکُمۡ بِالۡوَحۡیِ ۫ (الانبیاء:۴۵. اسی طرح ’’ کلام اللہ‘‘ کا لفظ بھی خود قرآن میں آیا ہے : حَتّٰی یَسۡمَعَ کَلٰمَ اللّٰہِ (التوبۃ:۶چونکہ یہاں کلام مضاف واقع ہوا ہے‘ لہذا یہ بھی معرفہ بن گیا. میرے نزدیک جنہیں ہم قرآن کے نام قرارد دیں‘ وہ تو یہی بنتے ہیں. اگرچہ‘جیسا کہ میں نے عرض کیا‘ جو لفظ بھی قرآن کے لیے صفت کے طور پر یااس کی شان کو بیان کرنے کے لیے قرآن میں آ گیا ہے علامہ جلال الدین سیوطی نے اس کو فہرست میں شامل کر کے ۵۵ نام گنوائے ہیں‘ لیکن یہ فہرست بھی مکمل نہیں.

قرآن کریم کی مختلف شانوں اور صفات کے لیے یہ الفاظ آئے ہیں: (۱
کَرِیۡمٌ : اِنَّہٗ لَقُرۡاٰنٌ کَرِیۡمٌ ﴿ۙ۷۷﴾ (الواقعۃ) (۲الۡحَکِیۡمِ : یٰسٓ ۚ﴿۱﴾وَ الۡقُرۡاٰنِ الۡحَکِیۡمِ ۙ﴿۲﴾ (یٰسٓ) (۳الۡعَظِیۡمَ : وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنٰکَ سَبۡعًا مِّنَ الۡمَثَانِیۡ وَ الۡقُرۡاٰنَ الۡعَظِیۡمَ ﴿۸۷﴾ (الحجر) (۴مَّجِیۡدٌ اور الۡمَجِیۡدِ: بَلۡ ہُوَ قُرۡاٰنٌ مَّجِیۡدٌ ﴿ۙ۲۱﴾ (البروج) اورقٓ ۟ۚ وَ الۡقُرۡاٰنِ الۡمَجِیۡدِ ۚ﴿۱﴾ (قٓ) (۵الۡمُبِیۡنِ: حٰمٓ ۚ﴿ۛ۱﴾وَ الۡکِتٰبِ الۡمُبِیۡنِ ۙ﴿ۛ۲﴾ (الزخرف) (۶رَحۡمَۃٌ: ہُدًی وَّ رَحۡمَۃٌ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۵۷﴾ (یونس) (۷عَلِیٌّ : وَ اِنَّہٗ فِیۡۤ اُمِّ الۡکِتٰبِ لَدَیۡنَا لَعَلِیٌّ حَکِیۡمٌ ؕ﴿۴﴾ (الزخرف) (۸بَصَآئِرُ : قَدۡ جَآءَکُمۡ بَصَآئِرُ مِنۡ رَّبِّکُمۡ ۚ (الانعام:۱۰۴(۹۱۰بَشِیۡرًا وَّ نَذِیۡرًا: (حٰم السجدۃ:۴[اگرچہ یہ الفاظ انبیاء کے لیے آتے ہیں لیکن یہاں خود قرآن کے لیے بھی آئے ہیں. قرآن اپنی ذات میں فی نفسہٖ بشیر بھی ہے‘ نذیر بھی ہے] (۱۱بُشۡرٰی: وَّ بُشۡرٰی لِلۡمُسۡلِمِیۡنَ (النحل:۸۹۱۰۲(۱۲عَزِیۡزٌ : وَ اِنَّہٗ لَکِتٰبٌ عَزِیۡزٌ ﴿ۙ۴۱﴾ (حٰم السجدۃ) (۱۳بَلٰغٌ : ہٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ (ابراھیم:۵۲(۱۴بَیَانٌ: ہٰذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ (آل عمران:۱۳۸(۱۵مَّوۡعِظَۃٌ (۱۶شِفَآءٌ : قَدۡ جَآءَتۡکُمۡ مَّوۡعِظَۃٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوۡرِ (یونس:۵۷(۱۷اَحۡسَنَ الۡقَصَصِ: نَحۡنُ نَقُصُّ عَلَیۡکَ اَحۡسَنَ الۡقَصَصِ (یوسف:۳(۱۸اَحۡسَنَ الۡحَدِیۡثِ (۱۹مُّتَشَابِہ (۲۰مَّثَانِیَ: اَللّٰہُ نَزَّلَ اَحۡسَنَ الۡحَدِیۡثِ کِتٰبًا مُّتَشَابِہًا مَّثَانِیَ (الزمر:۲۳(۲۱مُبٰرَکٌ: کِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰہُ اِلَیۡکَ مُبٰرَکٌ(ص:۲۹(۲۲مُصَدِّقٌ (۲۳مُہَیۡمِنٌ: مُصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیۡہِ مِنَ الۡکِتٰبِ وَ مُہَیۡمِنًا عَلَیۡہِ (المائدۃ:۴۸(۲۴قَیِّم: قَیِّمًا لِّیُنۡذِرَ بَاۡسًا شَدِیۡدًا مِّنۡ لَّدُنۡہُ (الکہف:۲یہ مختلف الفاظ ہیں جو قرآن حکیم کی مختلف شانوں کے لیے آئے ہیں. جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے (۹۹) نام ہیں ‘ جو اس کی مختلف شانوں کو ظاہر کرتے ہیں‘ اسی طرح حضور کے ناموں کی فہرست بھی آپ نے پڑھی ہو گی. آپ کی مختلف شانیں ہیں ‘ اس کے اعتبار سے آپ بشیر بھی ہیں‘ نذیر بھی ہیں‘ ہادی بھی ہیں‘ معلم بھی ہیں. قرآن مجید کے بھی مختلف اسماء و صفات ہیں. 

لفظ ’’ قرآن‘‘ کی لغوی بحث:

قرآن مجید کے ناموں میں سب سے اہم نام ’’القرآن‘‘ ہے‘ جس کے لیے میں نے لفظ exclusive استعمال کیا تھا کہ یہ کسی اور کتاب کے لیے استعمال نہیں ہوا‘ ورنہ تورات کتاب بھی ہے‘ ہدایت بھی تھی‘ اور اس کے لیے لفظ نوربھی آیا ہے. ارشاد ہوا: اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنَا التَّوۡرٰىۃَ فِیۡہَا ہُدًی وَّ نُوۡرٌ ۚ (المائدۃ:۴۴)’’ہم نے تورات نازل کی جس میں ہدایت بھی ہے اور نور بھی‘‘.خود قرآن مجید ہدایت بھی ہے‘ نور بھی ہے‘ رحمت بھی ہے .تو بقیہ تمام اوصاف تو مشترک ہیں ‘لیکن القرآن کے لفظ کا اطلاق کتب سماویہ میں سے کسی اور کتاب پر نہیں ہوتا. یہ امتیازی ‘ اختصاصی اور استثنائی نام صرف قرآن مجید کے لیے ہے. اسی لیے ایک رائے یہ ہے کہ یہ اسم علَم ہے ‘اور اسم جامد ہے‘ اسم مشتق نہیں ہے. اللہ تعالیٰ کے نام ’’اللہ‘‘ کے بارے میں بھی ایک رائے یہ ہے کہ یہ اسم ذات ہے‘ اسم علم ہے‘ اسم جامد ہے‘ مشتق نہیں ہے‘ یہ کسی اور مادے سے نکلا ہوا نہیں ہے. جبکہ ایک رائے یہ ہے کہ یہ بھی صفت ہے‘ جیسے اللہ تعالیٰ کے دوسرے صفاتی نام ہیں. جیسے ’’علیم‘‘ اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اور ’’العلیم‘‘ نام ہے‘ رحیم صفت ہے اور ’’الرحیم‘‘ نام ہے‘ اسی طرح الٰہ پر ’’ال‘‘ داخل ہوا تو ’’الالٰہ‘‘ بن گیا اور دو لام مدغم ہونے سے یہ ’’اللہ‘‘ بن گیا. یہ دوسری رائے ہے. جو معاملہ لفظ اللہ کے بارے میں اختلافی ہے بعینہٖ وہی اختلاف لفظ قرآن کے بارے میں ہے. ایک رائے یہ ہے کہ یہ اسم جامد اور اسم علم ہے‘ اس کا کوئی اور مادہ نہیں ہے ‘جبکہ دوسری رائے یہ ہے کہ یہ اسم مشتق ہے. لیکن پھر اس کے مادے کی تعیین میں اختلاف ہے. 

ایک رائے کے مطابق اس کا مادہ ’’ قرن‘‘ ہے ‘ یعنی قرآن میں جو ’’ن‘‘ ہے وہ بھی حرفِ اصلی ہے. دوسری رائے کے مطابق اس کا مادہ ’’ق ر ء‘‘ ہے. یہ گویا مہموز ہے.میں یہ باتیں اہل علم کی دلچسپی کے لیے عرض کر رہا ہوں. جن لوگوں نے اس کا مادہ ’’ قرن‘‘ مانا ہے ‘ اُن کی بھی دو رائیں ہیں. ایک رائے یہ ہے کہ جیسے عرب کہتے ہیں 
’’قَرَنَ الشَّیئَ بِالشَّیْئِ‘‘ (کوئی شے کسی دوسرے کے ساتھ شامل کر دی گئی )تو اس سے قرآن بنا ہے. اللہ تعالیٰ کی آیات‘ اللہ تعالیٰ کا کلام جو وقتاً فوقتاً نازل ہوا‘ اس کو جب جمع کر دیا گیا تو وہ’’ قرآن‘‘ بن گیا.امام اشعری بھی اس رائے کے قائل ہیں. جبکہ ایک رائے امام فراء کی ہے ‘جو لغت کے بہت بڑے امام ہیں ‘ کہ یہ قرینہ اور قرائن سے بنا ہے. قرائن کچھ چیزوں کے آثار ہوتے ہیں. قرآن مجید کی آیات چونکہ ایک دوسرے سے مشابہ ہیں‘ جیسا کہ سورۃ الزمر میں قرآن مجید کی یہ صفت وارد ہوئی ہے ’’کِتٰبًا مُّتَشَابِہًا مَّثَانِیَ ‘‘ . اس اعتبار سے آپس میں یہ آیات قرناء ہیں. چنانچہ قرینہ سے قرآن بن گیا ہے.

جو لوگ کہتے ہیں کہ اس کا مادہ ق ر ء ہے وہ قرآن کو مصدر مانتے ہیں. 
قَرَأَ‘ یَقْرَأُ‘ قَرْأً ‘ وَقِرَاءَ ۃً وَقُرْآنًا. یہ اگرچہ مصدر کا معروف وزن نہیں ہے لیکن اس کی مثالیں عربی میں موجود ہیں . جیسے رَجَحَ سے رُجحان اور غَفَرَ سے غُفران. ان کے مادہ میں ’’ن‘‘ شامل نہیں ہے. تو جیسے غفران اور رجحان مصدر ہیں‘ ایسے ہی قرأ سے مصدر قرآن ہے‘ یعنی پڑھنا. اور مصدر بسا اوقات مفعول کا مفہوم دیتا ہے. تو قرآن کا مفہوم ہو گا پڑھی جانے والی شے‘ پڑھی گئی شے. ’’قَرَأَ‘‘ میں جمع کرنے کا مفہوم بھی ہے. عرب کہتے ہیں : قرأتُ المَاءَ فِی الْحَوْضِ ’’میں نے حوض کے اندر پانی جمع کر لیا ‘‘. اسی سے قریہ بنا ہے ‘یعنی ایسی جگہ جہاں لوگ جمع ہو جائیں. گویا قرآن کامطلب ہے اللہ کا کلام جہاں جمع کر دیا گیا. تمام آیات جب جمع کر لی گئیں تو یہ قرآن بن گیا. جیسے قریہ وہ جگہ ہے جہاں لوگ آباد ہو جائیں‘ مل جل کر رہ رہے ہوں. تو جمع کرنے کا مفہوم قَرَءَ میں بھی ہے اور قرن میں بھی ہے .یہ دونوں مادے ایک دوسرے سے بہت قریب ہیں. بہرحال یہ اس لفظ کی لغوی بحث ہے. 

قرآن کا اسلوبِ کلام

اب میں اگلی بحث پر آ رہا ہوں کہ اس کا اسلوب کلام کیا ہے! قرآن مجید نے شد و مد کے ساتھ جس بات کی نفی کی ہے وہ یہ ہے کہ یہ شعر نہیں ہے. وَ مَا عَلَّمۡنٰہُ الشِّعۡرَ وَ مَا یَنۡۢبَغِیۡ لَہٗ ؕ (یٰسٓ :۶۹’’ہم نے اپنے اس رسول کو شعر سکھایا ہی نہیں‘ نہ ان کے یہ شایانِ شان ہے‘‘. شعراء کے بارے میں سورۃ الشعراء میں آیا ہے: 

وَ الشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُہُمُ الۡغَاوٗنَ ﴿۲۲۴﴾ؕاَلَمۡ تَرَ اَنَّہُمۡ فِیۡ کُلِّ وَادٍ یَّہِیۡمُوۡنَ ﴿۲۲۵﴾ۙوَ اَنَّہُمۡ یَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا یَفۡعَلُوۡنَ ﴿۲۲۶﴾ۙ 
’’اور شاعروں کی پیروی تو وہی لوگ کرتے ہیں جو گمراہ ہوں. کیا تو نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر وادی میں گھومتے رہتے ہیں (ہر میدان میں سرگرداں رہتے ہیں) اور یہ کہ وہ کہتے ہیں جو نہیں کرتے.‘‘

اگلی آیت میں 
اِلَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ... کے الفاظ کے ساتھ استثناء بھی آیا ہے‘ اور استثناء قاعدہ کلیہ کی توثیق کرتا ہے (Exception proves the rule) چنانچہ قرآن مجید کے اعتبار سے شعر گوئی کوئی اچھی شے نہیں‘ کوئی ایسی محمود صفت نہیں ہے کہ جو اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو عطا فرماتا. بلکہ حضور اکرم کا معاملہ تو یہ تھا کہ آپؐ کبھی کوئی شعر پڑھتے بھی تھے تو غلطی ہو جاتی تھی. اس لیے کہ نبی اکرم پر سے اللہ تعالیٰ شاعری کی تہمت ہٹانا چاہتا تھا‘ لہذا آپ کے اندر شاعری کا وصف ہی پیدا نہیں کیا گیا . سیرت کا ایک دلچسپ واقعہ آتا ہے کہ حضور نے ایک مرتبہ ایک شعر پڑھا اور اس میں غلطی ہوئی. اس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ مسکرائے اور عرض کی : ’’اَشْھَدُ اَنَّکَ لَرَسُوْلُ اللّٰہِ‘‘ ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ یقینا آپ اللہ کے رسول ہیں‘‘.اس لیے کہ اللہ نے فرمایا ہے : وَ مَا عَلَّمۡنٰہُ الشِّعۡرَ وَ مَا یَنۡۢبَغِیۡ لَہٗ ؕ . تو واقعتا آپ کو شعر سے یعنی شعر کے وزن اور اس کی بحر وغیرہ سے مناسبت نہیں تھی. باقی جہاں تک شعرکے مفہوم کا اور اعلیٰ مضامین کا تعلق ہے تو خود حضور کا فرمان ہے کہ : اِنَّ مِنَ الْبَیَانِ لَسِحْرًا وَاِنَّ مِنَ الشِّعْرِ لَحِکْمَۃً یعنی بہت سے بیان‘ بہت سے خطبے اور تقریریں جادواثر ہوتے ہیں اور بہت سے اشعار کے اندر حکمت کے خزانے ہوتے ہیں. بعض شعراء کے اشعار حضور نے خود پڑھے بھی ہیں اور ان کی تحسین فرمائی ہے‘ لیکن قرآن بہرحال شعر نہیں ہے. 

البتہ ایک بات کہنے کی جرأت کر رہا ہوں کہ قدیم زمانے کی شاعری جس میں بحر‘ وزن اور ردیف و قافیہ کی پابندیاں سختی کے ساتھ ہوتی تھیں‘ اس کے اعتبار سے یقیناقرآن شعر نہیں ہے‘ لیکن ایک شاعری جس کا رواج عصر حاضر میں ہوا ہے اور اس کے لیے غالباً قرآن ہی کے اسلوب کو چرایا گیا ہے ‘جسے آپ ’’ آزاد نظم‘‘ 
(Blank Verse) کہتے ہیں ‘اس کے اندر جو صفات اور خصوصیات آج کل ہوتی ہیں اُن کا منبع اور سرچشمہ قرآن حکیم ہے. اس لیے کہ اس میں ایک ردھم (Rythm) بھی ہوتاہے‘ اس میں فواصل بھی ہیں‘ قوافی کی طرز پر صوتی آہنگ بھی ہے‘ لیکن وہ جو معروف شاعری تھی اس کے اعتبار سے قرآن بڑی تاکید کے ساتھ کہتا ہے کہ قرآن شعر نہیں ہے. 

قرآن کے اسلوب کے ضمن میں دوسری اہم بات یہ ہے کہ عام معانی میں قرآن کتاب بھی نہیں ہے . میں یہاں اقبال کا مصرعہ 
quote کر رہا ہوں‘ اگرچہ اس کے وہ معانی نہیں ؏ عایں کتابے نیست چیزے دیگر است! 

آج ہمارا کتاب کا تصور یہ ہے کہ اس کے مختلف ابواب ہوتے ہیں. آپ کسی 
کتاب یا تصنیف میں ایک موضوع کو ایک باب (Chapter) کی شکل دیتے ہیں. ایک باب میں ایک بات مکمل ہو جانی چاہئے. اگلے باب میں بات آگے چلے گی‘ کوئی پچھلی بات نہیں دہرائی جائے گی. تیسرے باب میں بات اور آگے چلے گی. پھر ایک کتاب مضمون کے اعتبار سے ایک وحدت بنے گی اور اس کے اندر موضوعات اورعنوانات کے حوالے سے ابواب (Chapters) تقسیم ہو جائیں گے. گویا ہمارے ہاں معروف معنی میں کتاب کا اطلاق جس چیز پر کیا جاتا ہے‘ اس معنی میں قرآن کتاب نہیں ہے. البتہ یہ ’’الکتاب‘‘ ہے بمعنی لکھی ہوئی شے. اللہ تعالیٰ نے اسے کتاب قرار دیا ہے اور اس کے لیے سب سے زیادہ کثرت سے یہی لفظ ’’ کتاب‘‘ ہی قرآن میں آیا ہے. یہ لفظ ساڑھے تین سو(۳۵۰) جگہ آیا ہے. قرآن اور قرآ نًا تقریباً ۷۰ مقامات پر آیا ہے. لیکن ’’ قرآن‘‘ exclusive آیا ہے ‘جبکہ کتاب کا لفظ توراۃ ‘ انجیل ‘ علم خداوندی اور تقدیر کے لیے بھی آیا ہے اور قرآن مجید کے حصّوں اور احکام کے لیے بھی آیا ہے. بہرحال کتاب اس معنی میں تو ہے. معاذ اللہ‘ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ قرآن کتاب نہیں ہے‘ لیکن جس معنی میں ہم لفظ کتاب بولتے ہیں اس معنی میں قرآن کتاب نہیں ہے. 

تیسری بات یہ کہ یہ مجموعہ ٔ مقالات 
(Collection of Essays) بھی نہیں ہے. اس لیے کہ ہر مقالہ اپنی جگہ پر خود مکتفی اور ایک مکمل شے ہوتا ہے. لیکن قرآن مجید کے بارے میں ہم یہ بات نہیں کہہ سکتے. توپھر یہ ہے کیا؟ پہلی بات تو یہ نوٹ کیجیے کہ اس کا اسلوب خطبے کا ہے. عرب میں دو ہی چیزیں زیادہ معروف تھیں‘ خطابت یا شاعری. شعراء ان کے ہاں بڑے محبوب تھے. شاعری کا ان کو بڑا ذوق تھااور وہ شعراء کی بڑی قدر کرتے تھے. ان کے ہاں قصیدہ گوئی کے مقابلے ہوتے تھے. پھر ہر سال جو سب سے بڑا شاعر شمار ہوتا تھا اس کی عظمت کو تسلیم کرنے کی علامت کے طور پر سب شاعر اس کے سامنے باقاعدہ سجدہ کرتے تھے. پھر اس کا قصیدہ بیت اللہ پر لٹکا دیا جاتا تھا. یہی قصائد ’’سبعۃ معلّقۃ‘‘ کے نام سے معروف ہیں. چنانچہ عرب یا تو شعروں سے واقف تھے یا خطبوں سے .تو قرآن مجید اُس دور کی دو سب سے زیادہ معروف اصناف (شاعری اور خطبہ) میں خطبے کے اسلوب پر ہے. اس اعتبار سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ قرآن حکیم مجموعۂ خطباتِ الٰہیہ (A Collection of Divine Orations) ہے‘ جس میں ہر سورت ایک خطبے کی مانند ہے.

خطبے کے اعتبار سے چند باتیں نوٹ کر لیں. خطبے میں مخاطب اور خطیب کے درمیان ایک ذہنی رشتہ ہوتا ہے . مخاطب کو معلوم ہوتا ہے کہ میرے سامنے کون لوگ بیٹھے ہیں‘ ان کی فکر کیا ہے‘ ان کی سوچ کیا ہے‘ ان کے عقائد کیا ہیں‘ ان کے نظریات کیا ہیں. وہ ان کا حوالہ دیے بغیر اپنی گفتگو کے اندر اُن پر تنقید بھی کرے گا‘ ان کی تصحیح بھی کرے گا‘ لیکن کوئی تمہیدی کلمات نہیں ہوں گے کہ اب میں تمہاری فلاں غلطی کی تصحیح کرنا چاہتا ہوں‘ میں اب تمہارے اس خیال کی نفی کرنا چاہتا ہوں. یہ انداز نہیں ہو گا بلکہ وہ روانی کے ساتھ آگے چلے گا. مخاطِب اور مخاطَب کے مابین ایک ذہنی ہم آہنگی ہوتی ہے‘ وہ ایک دوسرے سے واقف ہوتے ہیں ‘اور خاص طور پر مخاطبین کے فہم‘ اُن کی سمجھ‘ اُن کے عقائد‘ اُن کے نظریات سے خطیب واقف ہوتا ہے. یہ در حقیقت خطبے کی شان ہے. یہی وجہ ہے کہ اس میں تحویل خطاب ہوتی ہے اور بغیر وارننگ کے ہوتی ہے. بسا اوقات غائب کو حاضر فرض کر کے اس سے خطاب کیا جاتا ہے. چنانچہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک خطیب مسجد میں خطبہ دے رہا ہے اور وہ مخاطب کر رہا ہے صدرمملکت کو‘حالانکہ وہ وہاں موجود نہیں ہوتے. اسی طرح جو لوگ بیٹھے ہوئے ہیں بسا اوقات ان سے صیغہ غائب میں گفتگو شروع ہو جائے گی ‘اور یہ بھی بلاغت کا انداز ہے. کبھی وہ ایک طرف بات کر رہا ہے‘ کبھی دوسری طرف کر رہا ہے‘ کبھی کسی غائب سے بات کر رہا ہے اور خطابت کا وہی انداز ہو گا اگرچہ وہ غائب وہاں موجود نہیں ہے. اس کو تحویل خطاب کہتے ہیں. قرآن مجید پر غور کرنے کے ضمن میں اس کی بہت اہمیت ہوتی ہے. اگر خطاب کا رُخ معین ہو کہ یہ بات کس سے کہی جا رہی ہے‘ مخاطب کون ہے‘تو اس بات کا اصل مفہوم اجاگر ہو کر سامنے آتا ہے ‘ورنہ اگر مخاطب کا تعین نہ ہو تو بہت سے بڑے بڑے مغالطے جنم لے سکتے ہیں. 
خطبے اور مقالے میں ایک واضح فرق یہ ہوتا ہے کہ مقالے میں عام طور پر صرف 
عقل سے اپیل کی جاتی ہے. اس میں منطق اور عقلی دلائل ہوتے ہیں‘ جبکہ خطبے میں عقل کے ساتھ ساتھ جذبات سے بھی اپیل ہوتی ہے .گویا کہ انسان کے اندر جھانک کر بات کی جاتی ہے. لوگوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ اپنے اندر جھانکو. 

وَ فِیۡۤ اَنۡفُسِکُمۡ ؕ اَفَلَا تُبۡصِرُوۡنَ ﴿۲۱﴾ (الذّٰریٰت) ’’ اور خود تمہارے اندر بھی (نشانیاں ہیں) تو کیا تم کو سوجھتا نہیں ہے؟‘‘ اَفِی اللّٰہِ شَکٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ (ابراھیم:۱۰’’(ذرا غور کرو) کیا اللہ کے بارے میں شک کرتے ہوجوزمین و آسمان کا بنانے والا ہے؟‘‘یہ انداز بہرحال کسی تحریر یا مقالے میں نہیں ہو گا‘ یہ خطبے کا انداز ہے.

ایک اور بات جو خطبے کے اعتبار سے اس کے خصائص میں سے ہے وہ یہ کہ ایک مؤثر خطبے کے شروع میں بہت جامع گفتگو ہو تی ہے. کامیاب خطبہ وہی ہو گا جس کا آغاز ایسا ہو کہ مقرر اور خطیب اپنے مخاطبین اور سامعین کی توجہ اپنی طرف مبذول کرا لے. اور پھر اگرچہ خطبے کے دوران مضمون دائیں بائیں پھیلے گا‘ اِدھر جائے گا‘ اُدھر جائے گا‘ لیکن آخر میں آ کر وہ پھر کسی مضمون کے اوپر مرتکز ہو جائے گا. یہ اگر نہیں ہے تو گویا کہ وقت ضائع ہو گیا. ہمارے ہاں بڑے بڑے خطیب پیدا ہوئے ہیں. خاص طور پر مجلسِ احرار نے بڑے عوامی خطیب پیدا کیے‘ جن میں سے عطاء اللہ شاہ بخاریؒ بہت بڑے خطیب تھے. ان کی تقریر کا یہ عالَم ہوتا تھا کہ گفتگو چار چار گھنٹے ‘پانچ پانچ گھنٹے چل رہی ہے. اس میں کبھی مشرق کی ‘کبھی مغرب کی ‘کبھی شمال کی اورکبھی جنوب کی بات آ جاتی. کبھی ہنسانے کا اور کبھی رلانے کا انداز ہوتا‘ کہیں لطیفہ گوئی بھی ہو جاتی.لیکن اوّل و آخر بات بالکل واضح ہوتی. خوب گھما پھرا کر بھی مخاطب کو کسی ایک بات پر لے آنا کہ اٹھے تو کوئی ایک بات ‘کوئی ایک پیغام لے کر اٹھے‘ کوئی ایک جذبہ اس کے اندر جاگ چکا ہو‘ ایک پیغام اس تک پہنچ چکا ہو‘ یہ خطبے کے اوصاف ہیں. 

آپ کو معلوم ہے خواہ غزل ہو یا قصیدہ‘ شاعری میں مطلع اور مقطع دونوں کی بڑی اہمیت ہے. مطلع جاندار ہے تو آپ پوری غزل پڑھیں گے اور اگر مطلع ہی پھسپھسا ہے تو 
آگے آپ کیا پڑھیں گے!اسی طرح مقطع بھی جاندار ہونا چاہئے. اسی لیے مقطع اور مطلع کے الفاظ علیحدہ سے وضع کیے گئے ہیں. خطبات کے اندر بھی ابتدا اور اختتام پر نہایت جامع اور اہم مضمون ہوتا ہے. قرآن مجید کی سورتوں کی ابتدا اور اختتام بھی نہایت جامع مضامین پر ہوتی ہے. چنانچہ قرآن مجید کی سورتوں کی ابتدائی آیات اور اختتامی آیات کی فضیلت پر بہت سی احادیث ملتی ہیں. سورۃ البقرہ کی ابتدائی آیات اور اختتامی آیات‘ اسی طرح سورۃ آل عمران کی شروع کی آیات اورپھر اختتامی آیات نہایت جامع ہیں. یہ اندازاکثر و بیشتر سورتوں میں ملے گا. یہ ہے اصل میں بالعموم قرآن مجید کا اسلوب‘جو ظاہر بات ہے شاعری کا نہیں ہے. عام معانی میں وہ کتاب نہیں ‘مجموعۂ مقالات نہیں. اس کا اسلوب اگر ہے تو وہ خطبے سے ملتا ہے. یہ گویا خطباتِ الہٰیہ ہیں جن کا مجموعہ ہے قرآن!