تقدیم

معزز حاضرین!

آپ کو معلوم ہے میرا آج کا موضوع ’’عظمت ِ مصطفی  ‘‘ ہے. اس موضوع پر سب سے پہلے مجھے یہ تمہیدی بات آپ کے گوش گزار کرنی ہے کہ نبی اکرم کی شخصیت کی عظمت کے مختلف پہلو ہیں. ایک تو آپؐ ‘کا مقام و مرتبہ اور آپؐ کی عظمت بحیثیت نبی ہے اور ایک آپؐ ‘ کی عظمت اور آپؐ ‘کا مقامِ رفیع و بلند بحیثیت انسان ہے. پھر انسان کی حیثیت سے بھی ایک پہلو روحانیات کا ہے‘ یعنی آپ کا مقام و مرتبہ روحانی اعتبار سے اور دوسرا پہلو عام عام انسانی معاملات کا ہے‘ جن میں سے انسان اپنی زندگی کے دوران لامحالہ گزرتا ہے اور مختلف حیثیتوں سے اس دنیا میں کام کرتا ہے. عظمت محمدیؐ کے یہ جو مختلف پہلو ہیں‘ ان میں بعض پہلوؤں کے اعتبار سے یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ آپ کی عظمت کا بیان تو درکنار اس کا ادراک و شعور اور فہم بھی ہمارے لیے ناممکنات میں سے ہے.

سادہ سی مثال ہے کہ ایک معالج‘ ڈاکٹر یا حکیم کا اپنے فن میں کیا مقام و مرتبہ ہے‘ ظاہر ہے اسے صرف کوئی ڈاکٹر‘ حکیم یا معالج ہی جان سکتا ہے. اسی طرح ایک انجینئر کا اپنے فن میں کیا مقام و مرتبہ ہے‘ ظاہر ہے اس سے کوئی انجینئر ہی واقف ہو سکتا ہے لہذا ایک نبی کی حیثیت سے نبی اکرم کا کیا مقام و مرتبہ ہے؟ یہ صرف کسی نبی ہی کے لیے ممکن ہے کہ اس کا اندازہ کر سکے‘ کسی غیر نبی کے لیے یہ محالِ عقلی ہے. مزید برآں کسی انسان کا کسی ادارے یا فرم میں کیا مقام و مرتبہ ہے اس کا صحیح تعین وہی شخص کر سکتا ہے جو اس ادارے میں اس سے بالاتر ہو‘ اس لیے کہ نیچے والا تو اوپر کی طرف صرف دیکھے گا‘ اس کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ اپنے سے بلند مقام کے حامل شخص کا اصل مقام و مرتبہ معین کر سکے. ظاہر بات ہے نبی اکرم سے بالاتر مقام کسی نبی کا نہیں‘ لہٰذا کسی نبی کے لیے بھی یہ محالِ عقلی ہے کہ حضور کے اصل مقام و مرتبہ کو سمجھ سکے‘ کجا یہ کہ کوئی عام انسان اور غیر نبی حضور کے مقام کا تعین کرے. اسی طرح روحانی اعتبار سے حضور کا مقام کیا ہے؟ ظاہر بات ہے ہم جیسے لوگوں کے لیے اس کا ادراک و شعور ممکن نہیں.

بعض اعتبارات سے خود حضور نے اسے واضح کیا ہے کہ یہ تمہارے لیے ناممکن ہے کہ تم ان مقامات کو سمجھ سکو! مثال کے طور پر حضور صومِ وصال رکھتے تھے. صومِ وصال یہ ہے کہ آج روزہ رکھا اور شام کو افطار نہیں کیا اور وہی روزہ رات سے گزر کر اگلے دن تک چلا ‘ اور اگر اگلے دن شام کو افطار کیا گیا تو یہ دودن کا صومِ وصال ہوا‘ اور اگر یہی روزہ تیسرے دن تک چلا تو وہ تین دن کا صومِ وصال ہو گا. نبی اکرم خو د صومِ وصال رکھتے تھے لیکن آپ نے اپنے ساتھیوں (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) کو یہ روزہ رکھنے سے روکے رکھا. اس پر کسی صحابیؓنے سوال کر لیا تو آپؐ نے فرمایا: وَاَیُّــکُمْ مِّثْلِیْ ’’تم میں سے کون ہے جو میرے مانند ہو؟‘‘ اِنِّیْ اَبِیْتُ یُطْعِمُنِیْ رَبِّیْ وَیَسْقِیْنِیْ ’’میں تو اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ میرا ربّ مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے‘‘. (۱)ہمارے لیے کس طرح ممکن ہے کہ آپ کی اس شب بسری کا تصور کر سکیں جو اللہ کے ہاں ہوتی تھی‘ اس کی نوعیت اور اس کی کیفیت کیا تھی! وہ کھلانا اور پلانا کس نوعیت کا تھا! معلوم ہوا کہ یہ چیز ہمارے دائرے سے خارج ہے. میں سمجھتا ہوںبڑے سے بڑے صوفی اور بڑے سے بڑے ولی اللہ کے لیے بھی ممکن نہیں ہے کہ حضور کے روحانی مقام کا پورا پورا ادراک کر سکے.

ان دونوں پہلوؤں سے جب ہماری عقلیں‘ ہمارا فہم اور شعور و ادراک عاجز ہے تو اس کا مفہوم یہ ہوا کہ اس کو بیان کرنے کی کوشش کرنا بھی بہت بڑی خطا ہے. یہ بڑی خطا کس اعتبارسے ہے؟ ایک سادہ سی مثال سے بات سمجھ میں آجائے گی. کسی دیہاتی کی کوئی مشکل تھی جسے کس شہری بابو نے حل کر دیا‘ وہ شہری شخص ڈپٹی کمشنر تھا‘ لیکن اس دیہاتی نے اسے دعا دی کہ خدا تجھے پٹواری بنا دے.اس لیے کہ اس دیہاتی کے نزدیک تو سب سے بڑا عہدہ اور سب سے زیادہ صاحبِ اختیار ہستی پٹواری کی تھی‘ کیونکہ اس کی ذرا سی جنبش قلم سے زمین کسی اور کے نام ہو جاتی ہے اور اسی کی قلم جنبش سے مالیانہ معاف ہو جاتا ہے. اس کاشت کار اور دیہاتی سے متعلق سارے اختیارات تو پٹواری کے ہاتھ میں ہوتے ہیں. اسے کیا معلوم کہ پٹواری سے لے کر ڈپٹی کمشنر تک کتنے عہدے درمیان میں ہیں اور وہ شخص کس بلند مقام پر فائز ہے جسے وہ دیہاتی پٹواری بننے کی دعا دے رہا ہے.چنانچہ اگر ہم حضور کے مقاماتِ عالیہ کو بیان کرنے کی کوشش کریں گے تو شدید خطرہ ہے کہ ہم حضور کی توہین کے مرتکب ہو جائیں. اس لیے کہ آپ کے مقام کا کماحقہ ٗ بیان ممکن نہیں. اور جب کماحقہ ٗ بیان ممکن نہیں ہے تو ہم اپنے تصور کے مطابق بیان کریں گے‘ جو حضور کے اصل مقام و مرتبہ سے بہت کمتر ہو گا. اور اسی کا نام توہین ہے. شیخ سعدیؒ نے نہایت سادگی کے ساتھ اس ساری بحث کو ایک رباعی میں سمو دیا ہے ؎

یَا صَاحِبَ الْجَمَالِ وَ یَا سَیِّدَ البَشر
مِن وَجْھِکَ الْمُنِیْر لَقَدْ نُوِّرَ القَمر
لَا یُمْکِنُ الثَّناءَ کَمَا کَانَ حَقَّہٗ
بعد از خدا بزرگ توئی قِصّہ مختصر

حضور کی ثناء کا جتنا حق ہے وہ ہمارے لئے ممکن ہی نہیں ہے‘ لہذا ’’لَا یُمْکِنُ الثَّـنَائَ کَمَا کَانَ حَقَّہٗ‘‘ ہمیں بس یہ کہہ کر اس بات کے دامن میں پناہ لینی ہے کہ ’’بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر‘‘. اللہ کے بعد آپ ہی کی ہستی عظیم ترین و بلند ترین ہے‘ ہم اسے کس طرح اور کیا بیان کریں؟ ہمارا تصور بلکہ ہمارا تخیل بھی سرنگوں ہے کہ وہ اس بلند و رفیع مقام کا ادراک اور شعور کر سکے. اسی بات کو نہایت خوبصورت انداز میں غالبؔ نے بایں طو رپر بیان کیا ہے ؎

غالب ثنائے خواجہ بیزداں گزاشتیم
کاں ذاتِ پاک مرتبہ دانِ محمد  است!

کہ ہم نے آنحضور کی ثنا و حمد کو خدا (یزداں) کے حوالے کر دیا ہے. ہم اس کی کوشش ہی نہیں کرتے‘ اس لیے کہ وہی ذاتِ پاک ہے جو محمد رسول اللہ کے اصل مقام و مرتبہ سے واقف ہے.