مستشرقین کی کوتاہ نظری

یہاں میں آپ کو بتاتا چلا ہوں کہ مستشرقین نے اپنی کوتاہ نظری کے باعث رسول اللہ کی حیاتِ طیبہ کے مکی اور مدنی دور کے طرزِ عمل کو متضاد قرار دیا ہے. چنانچہ ٹائن بی (Toynbee) نے حضور کے بارے میں ایک بڑا زہر بھرا جملہ کہا تھا :

".Muhammad failed as a prophet but succeeded as a statesmen"

یعنی محمد ( ) نبی کی حیثیت سے تو ناکام ہو گئے‘ لیکن بحیثیت سیاست دان کامیاب ہوئے‘‘. مکے میں دعوت و تربیت‘ تزکیہ اور صبر محض کا جو نقشہ تھا اس کے نزدیک انبیاء کا کام یہی ہوتا ہے. یہی کام تین سال تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کیا. اس کا کہنا یہ ہے کہ محمد ( ) جب مکے میں ناکام ہو گئے تو انہوں نے (معاذ اللہ) مدینہ کی طرف راہِ فرار اختیار کی. مستشرقین ہجرت مدینہ کو"Flight to Madina" کہتے ہیں‘ حالانکہ یہ فرار نہیں تھا‘ بلکہ ایک متبادل مرکز (Alternate Base) کی طرف منتقلی تھی. پہلے آپؐ نے متبادل مرکز کی تلاش میں طائف کا سفر اختیار فرمایا تھا‘لیکن مشیت ایزدی کچھ اور تھی. چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ متبادل مرکز (Alternate Base) مدینے کی شکل میں عطا کیا. انقلابی جدوجہد میں اقدام کے مرحلہ کے آغاز کے لیے مدینہ کی حیثیت ایک Base کی تھی.

برطانوی پروفیسر منٹگمری واٹ‘ جسے ضیاء الحق صاحب نے خاص طور پر پاکستان بلایا تھا‘ نے سیرت محمدی پر دو کتابیں لکھی ہیں:

1- Muhammad at Makka
2- Muhammad at Madina

اس نے ان دونوں کتابوں میں اپنے تئیں رسول اللہ کی زندگی کے متضاد پہلوؤں کو نمایاں کیا ہے. اس کا کہنا یہ ہے کہ مکے والا محمد ( ) کچھ اور ہے‘ مدینے والا کچھ اور. مکے والا محمد ( ) تو داعی‘ مزکی‘ مبلغ‘ اور درویش ہے اور اس کی سیرت میں واقعتا نبیوں والا نقشہ نظر آتا ہے جبکہ مدینے والا محمد تو ایک مدبر‘ منتظم‘ سٹیٹسمین‘ سیاست دان اور سپہ سالار ہے. اس کے نزدیک یہ دونوں شخصیتیں بالکل علیحدہ علیحدہ ہیں. اس سے قطع نظر کہ "Muhammad at Madina" میں اس نے حضور کے لیے مدح اور تعریف کے تمام ممکنہ الفاظ کو جمع کر لیا ہے.آپؐ کی دور اندیشی‘ معاملہ فہمی‘ آپؐ کی صحیح صحیح صورت حال کے بارے میں صحیح صحیح اقدام کی صلاحیت‘ آپؐ کی انسان شناسی اور ہر انسان کی ذہنی سطح کا اندازہ کرتے ہوئے اس سے اس کی سطح پر بات کرنا اور ہر انسان سے اس کی صلاحیت و استعداد کے مطابق کام لے لینا جیسی تمام خصوصیات کا تذکرہ اس نے کھلے دل کے ساتھ کیا ہے. اس نے حضور کی موقع شناسی‘ تدبر اور سیاست وغیرہ کے جتنے بھی اعلیٰ ترین اوصاف ہیں ان کا ذکر افعل التفضیل (Superlative) کے صیغے میں کیا ہے. اس سے ایک مسلمان دھوکا کھاتا ہے کہ یہ کتاب حضور کی تعریف میں لکھی گئی ہے‘ حالانکہ درحقیقت وہ تضاد (contrast) بیان کر رہا ہے کہ بحیثیت سیاست دان (statesman) تو آپؐ کے یہ اوصاف ہیں جبکہ بحیثیت نبی آپؐ ناکام ہو گئے اور آپؐ کو مکے سے بھاگ کر مدینے میں پناہ لینی پڑی. یہ وہ زہر ہے جو اس نے گھولا ہے. لیکن حضور کی معاملہ فہمی‘ دور اندیشی اور statesmanship کا اس نے گھٹنے ٹیک کر اعتراف کیا ہے. حضور کے انہی اوصافِ عالیہ کا شاہکار میثاق مدینہ تھا‘ جس میں آپؐ نے مدینہ میں آباد یہودیوں کے تینوں قبیلوں کو پابند کر لیا. اگرچہ بعد میں وہ ایک ایک کر کے غداری کے مرتکب ہوتے رہے‘ لیکن ظاہر بات ہے کہ جب وہ غداری بھی کرتے تھے تو چھپ چھپ کر اور ڈرتے ڈرتے‘ کیونکہ وہ اس معاہدے میں جکڑے ہوتے تھے‘ کھلے عام انہیں ان سرگرمیوں کی جرأت نہیں تھی. لہذا درپردہ سازشیں کرتے رہے‘ وہ کبھی مکے والوں کو ابھارتے‘ کبھی کسی اور کو. بعد میں اس معاہدے کی خلاف ورزیوں کے سبب یہودیوں کے تینوں قبائل بنوقینقاع‘ بنوقریظہ اور بنونضیر مدینے سے نکال دیئے گئے.

رسول اللہ کی طرف سے چھاپہ مار مہموں کا آغاز

حضور نے مدینے میں ابتدائی چھ مہینے مذکورہ بالا تین کاموں کے لیے صرف کیے اور ساتویں مہینے آپؐ نے چھوٹے چھوٹے چھاپہ مار دستے مکے کی طرف بھیجنے شروع کر دیئے. اب یہ باطل کو چیلنج دینے کا انداز ہے. غزوۂ بدر سے پہلے پہلے آپؐ نے ایسی آٹھ مہمیں روانہ کیں. بدقسمتی سے سیرت کی وہ کتابیں جو انگریزی دور میں لکھی گئیں ان کے مؤلفین نے ان واقعات کو اہمیت نہیں دی اور انہیں چھپایا ہے. یہاں تک کہ علامہ شبلی نعمانی نے بھی ان کو نقل نہیں کیا. اس کی وجہ کیا ہے؟ یہ کہ رسول اللہ کے ان اقدامات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہجرت کے بعد جنگ کا آغاز محمد رسول اللہ کی طرف سے ہوا‘ قریش مکہ کی طرف سے نہیں. جبکہ یورپی استعمار کے دور میں ہمارے اوپر یہ تنقید ہوتی تھی کہ اسلام تو تلوار سے پھیلا ہے ع

’’بوئے خون آتی ہے اس قوم کے افسانوں سے!‘‘

اور یہ تو خونی اور جنونی لوگ ہیں‘ یہ دلیل سے بات نہیں کرتے‘ طاقت سے بات کرتے ہیں. مغرب کی طرف سے چونکہ مسلسل یہ پروپیگنڈہ ہو رہا تھا لہذا ہمارا انداز معذرت خواہانہ سا ہو گیا تھا کہ ’’نہیں! حضور نے تو جنگ نہیں کی‘ آپؐ نے تو دفاع کیا ہے‘ آغاز تو کفار کی طرف سے ہوا تھا‘‘. یہ بات صد فیصد غلط ہے.اس لیے کہ حضور کو اللہ نے دین کو غالب کرنے کے لیے بھیجا تھا.آپؐ مکے سے مدینے وہاں کے نخلستانوں کی ٹھنڈی چھاؤں میں آرام کرنے تو نہیں آئے تھے‘ وہ تو اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر اس جدوجہد کے اگلے مرحلے یعنی اقدام کی تیاری کے لیے Base فراہم کیا تھا. آپؐ اگلے مرحلے کا آغاز زیادہ سے زیادہ چھ مہینے مؤخر کر سکتے تھے تاکہ وہاں اپنی پوزیشن کو مستحکم کریں‘ اس سے زیادہ آپ کے لیے ممکن ہی نہیں تھا. لہذا آپؐ نے اپنی پوزیشن مستحکم ہوتے ہی اقدام کا آغاز فرما دیا‘ اور یہ سلسلہ آپؐ کی جانب سے شروع ہوا. آپؐ کی آٹھ مہمات غزوۂ بدر سے پہلے ہیں. ان میں چار غزوات ہیں جن میں حضور خود بھی شریک ہوئے اور چار سرایا ہیں جن میں حضور خود شریک نہیں ہوئے.

ان مہمات کا مقصد ایک تو قریش کو چیلنج کرنا اور دوسرے مکہ کی معاشی ناکہ بندی (Economic Blockade) تھا کیونکہ اہل مکہ کی معاش کا دار و مدار کلیتاً تجارت پر تھا.ان کے تجارتی قافلے شمالاً جنوباً سفر کرتے تھے. شمال میں شام کی طرف جانے والا قافلہ بدر سے ہو کر گزرتا تھا. بدر مدینے سے اسّی (۸۰) میل کے فاصلے پر ہے اور مکے سے دو سو میل کے فاصلے پر. لہذا یہ مسلمانوں کی زد میں تھا. ادھر جنوب کی سمت میں جو قافلہ یمن کی طرف جاتا تھا وہ وادی ٔ نخلہ سے ہو کر گزرتا تھا جو مکہ کے جنوب مشرق میں واقع ہے اور مدینہ سے اس کا فاصلہ کم از کم تین سو میل کا ہے. لیکن آپؐ نے وادی ٔ نخلہ میں بھی ایک مہم روانہ فرمائی. ان مہموں کا مقصد قریش کو یہ بتا دینا تھا کہ اب تمہاری لائف لائن ہمارے ہاتھ میں ہے. اس کو جدید اصطلاح میں مکہ کی معاشی ناکہ بندی کہیں گے.

ان مہمات سے آپؐ نے جو دوسرا مقصد حاصل فرمایا وہ قریش کو سیاسی طور پر الگ تھلگ کرنا (Political Isolation) تھا. حضور ان چار مہموں کے دوران جن میں آپؐ بنفس نفیس شریک تھے‘ جہاں بھی گئے آپؐ نے علاقائی قبائل سے معاہدے کیے. چنانچہ وہ قبائل جو پہلے قریش کے اتحادی تھے اب یا تو حضور کے اتحادی ہو گئے‘ یا انہوں نے غیر جانبداری کا معاملہ کیا کہ ہم نہ قریش کے خلاف آپؐکے ساتھ دیں گے اور نہ آپؐ کے خلاف قریش کی مدد کریں گے. لیکن ان دونوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ قریش کے سیاسی اثر و رسوخ کا دائرہ سکڑنے لگا اور محمد کے سیاسی اثر و رسوخ کا دائرہ بتدریج پھیلنے لگا. قرآن مجید میں جو درمیانی دور کی مکی سورتیں ہیں ان میں سے سورۃ الانبیاء میں یہ آیت آئی ہے :

اَفَلَا یَرَوْنَ اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُھَا مِنْ اَطرَافِھَا (آیت ۴۴)
’’کیا ان کو نظر نہیں آتا کہ ہم زمین کو مختلف سمتوں سے گھٹاتے چلے آ رہے ہیں؟‘‘

یعنی ہم زمین کو چاروں طرف سے گھیرتے ہوئے مکے کی طرف لا رہے ہیں. مکی دور ہی میں ان قبائل میں بھی اسلام پھیلنا شروع ہو گیا تھا. اب گویا کہ اسلام مکے کی طرف دوسرے قبائل سے پیش رفت کر رہا تھا. اب اس کی صورت یہ بنی کہ حضور نے ان قبائل کے ساتھ معاہدے کر لیے تو حضور کا سیاسی اثر و رسوخ بڑھتا چلا گیا اور قریش کا گھٹتا چلا گیا.