مقدمہ

 پاکستان کی عمر کا چالیسواں سال اور اس کی دینی اور تاریخی اہمیت
٭ چند ذاتی وضاحتیں



بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ 
حَتّٰۤی اِذَا بَلَغَ اَشُدَّہٗ وَ بَلَغَ اَرۡبَعِیۡنَ سَنَۃً ۙ قَالَ رَبِّ اَوۡزِعۡنِیۡۤ اَنۡ اَشۡکُرَ نِعۡمَتَکَ الَّتِیۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَیَّ وَ عَلٰی وَالِدَیَّ وَ اَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰہُ وَ اَصۡلِحۡ لِیۡ فِیۡ ذُرِّیَّتِیۡ ۚؕ اِنِّیۡ تُبۡتُ اِلَیۡکَ وَ اِنِّیۡ مِنَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿۱۵﴾ 
سورۂ احقاف، آیت: ۱۵ 

یہاں تک کہ جب وہ اپنی پوری پختگی کو پہنچتا ہے اور چالیس برس کا ہو جاتا ہے تو کہتا ہے کہ اے میرے پروردگار! مجھے توفیق دے کہ میں ان انعامات کا شکر ادا کروں جو تونے مجھے اور میرے والدین پر کئے اور ایسے نیک اعمال کروجو تجھے پسند ہوں اور میری اولاد کو میرے لیے بھلائی کا ذریعہ بنا میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں…اور… میں فرمانبرداروں میں سے ہوں!