قومی و نسلی نہیں بلکہ حقیقی اور عملی

اس ضمن میں اوّلین اور اہم ترین حقیقت جو سامنے آتی ہے وہ یہ کہ وہ مذہبی جذبہ جو پاکستان کے بقا و استحکام کا ضامن بن سکتا ہے بنیادی طور پر مختلف ہے اُس مذہبی جذبے سے جو اُس کے وجود میں آنے کا سبب بنا تھا، اِس لیے کہ اُس وقت مقابلہ غیر مسلموں سے تھا. لہٰذا ہر وہ شخص جو مسلمانوں کے گھر میں پیدا ہوا اور مسلمانوں کا سا نام رکھتا تھا، قومی تحریک میں نہ صرف شامل اور شریک ہو سکتا تھا، بلکہ اُس کے قائدین تک کی صفوں میں بار پا سکتا تھا، قطع نظر اِس سے کہ اُس کے واقعی نظریات کیا تھے، اُس کے اخلاق اور کردار کا عالم کیا تھا اور وہ اسلام کے بنیادی احکام تک پر عمل پیرا تھا یا نہیں؟ حتیٰ کہ ارکانِ اسلام تک کا بھی پابند تھا یا نہیں؟ چنانچہ اُس وقت ’’پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ‘‘ کے بعد سب سے زیادہ مقبول نعرہ یہی تھا کہ ’’مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ‘‘

واقعہ یہ ہے کہ اُس وقت کی کشمکش میں ہمارے اندر اپنے مسلمان ہونے کا احساس زیادہ شدت کے ساتھ خود ہندوئوں کے طرزِ عمل اور رویے کے باعث پیدا ہو رہا تھا کہ جہاں کسی مسلمان کا ہاتھ اُن کے برتن کو چھو گیا وہ ’’بھرشٹ‘‘ یعنی ناپاک ہو گیا. خواہ وہ مسلمان کتنا ہی صاف ستھرا اور نہایا دھویا کیوں نہ ہو، اور وہ ہندو خود کتنے ہی گندے اور میلے کچیلے کیوں نہ ہوں. چنانچہ ہر ریلوے سٹیشن پر پینے کا پانی بھی اِس شان سے جدا تھا کہ اگر ’’مسلمان پانی‘‘ پلیٹ فارم کے ایک سرے پر ہوتا تھا تو ’’ہندوپانی‘‘ اُس کے بالکل بالمقابل دوسرے سرے پر.پھر خاص طور پر معاشی و اقتصادی میدان میں ہندوؤں کی جانب سے مسلمانوں پر جس طرح عرصۂ حیات تنگ کر نے کی کوششیں ہو رہی تھیں، اُن کی چھبن اور کسک کو ہر مسلمان تاجر، یہاں تک کہ کھوکھے والے اور خوانچہ فروش تک اور جملہ سرکاری ملازم یہاں تک کہ چوکیدار اور چپڑاسی تک محسوس کر رہے تھے. گویا کہ اُس وقت کے مسلم نیشنلزم میں جہاں مثبت اور حقیقی عوامل بھی کار فرما تھے، وہاں ایک اہم اور مؤثر عنصر ابنائے وطن کے رویے کا ردّ عمل 
(Reaction) بھی تھا.

اس ضمن میں نومبر ۱۹۲۵ء میں علماء ہند کے دوسرے کل ہند اجلاس کے موقع پر اپنے خطبہ صدارت میں جو کچھ فرمایا تھا مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ علیہ کے استاز اور مربی حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی رحمہ اللہ علیہ نے، اس کا مطالعہ بہت مفید اور بہت سوں کے لیے ’’انکشاف حقیقت‘‘ کا ذریعہ بنے گا. حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا تھا.

’’ہاں یہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں اور آج پھر کہتا ہوں کہ ان اقوام کی باہمی مصالحت اور آشتی کو اگر آپ پائیدار اور خوشگوار دیکھنا چاہتے ہیں تو اُن کی حدود کو خوب اچھی طرح دلنشیں کر لیجئے. اور وہ حدود یہی ہیں کہ خدا کی باندھی ہوئی حدود میں اُن سے کوئی رخنہ نہ پڑے، جس کی صورت بجز اس کے کچھ نہیں کہ صلح و آشتی کی تقریب سے فریقین کے مذہبی امور میں سے کسی ادنیٰ امر کو بھی ہاتھ نہ لگایا جائے اور دنیوی معاملات میں ہرگز کوئی طریقہ ایسا نہ اختیار کیا جائے جس سے کسی فریق کی ایذا رسانی اور دل آزاری مقصود ہو. مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اب تک بہت جگہ عمل اِس کے خلاف ہو رہا ہے. 
مذہبی معاملات میں تو بہت سے لوگ اتفاق ظاہر کرنے کے لیے اپنے مذہب کی حد سے گزر جاتے ہیں، لیکن محکموں اور ابوابِ معاش میں ایک دوسرے کی ایذا رسانی کے در پے رہتے ہیں. میں اِس وقت جمہور سے خطاب نہیں کر رہا ہوں، بلکہ میری گزارش دونوں قوموں کے زعماء (لیڈروں) سے ہے کہ ان کو جلسوں میں ہاتھ اُٹھانے والوں کی کثرت اور ریزولیوشنوں کی تعداد سے دھوکا نہ کھانا چاہئے کہ یہ طریقہ سطحی لوگوں کا ہے اور ان کو ہندو مسلمانوں کے نجی معاملات اور سرکاری محکموں میں متعصبانہ رقابتوں کا اندازہ کرنا چاہئے.‘‘ (۱

ذرا اندازہ فرمایئے حضرت شیخ الہندؒ کی دُور اندیشی اور ژرف نگاہی کا کہ یہ ۱۹۲۰ء کا دَور ہے. جب کہ ہندوستان میں ہندو اور مسلمان بظاہر شیر و شکر ہیں اورتحریک آزادی میں قدم بہ قدم اور شانہ بہ شانہ شریک ہیں. اور خود محمد علی جناح جو اُس وقت تک ’’قائداعظم‘‘ نہیں بنے تھے، ہندو مسلم اتحاد کے سفیر اور محبت و یگانگت کے سب سے بڑے داعی اور علمبردار ہیں، لیکن وہ مردِ درویش اُس ظاہری روا داری کے پردے میں ہندو کی اصل ذہنیت کا اندازہ کر چکا ہے اور واضح اور غیرمبہم الفاظ میں تنبیہہ کر رہا ہے کہ اگر برادرانِ وطن کا رویہ یہی رہا تو ہمیں بھی اپنے طرزِ عمل پر نظر ثانی کرنی ہو گی.

اس کے فوراً بعد آتا ہے تحریک خلافت کا طوفانی اور ہیجانی دَور جس میں ہندوؤں کو مسلمانوں کا حاشیہ بردار اور تابع 
(Camp Follower) بننے ہی میں عافیت نظر آتی ہے. چنانچہ اُس جذباتی اور ہنگامی دور میں تو مسلمان اور ہندو واقعتا شیر و شکر نظر آتے ہیں. لیکن جب تحریک خلافت دفعتاً بالکل اُسی انداز میں ختم ہو جاتی ہے جیسے تیز بخار پسینہ آنے سے یکدم اُتر جاتا ہے تو صورت حال میں ایک فوری تبدیلی آتی ہے کہ ایک جانب مسلمانوں میں شدید دل شکستگی کی کیفیت پیدا ہوئی، اُن کے ولولے سرد پڑے اور ایک عام بددلی اور مایوسی کی فضا طاری ہو گئی، اور دوسری جانب (غالباً مسلمانوں کی اِس عمومی کیفیت ہی سے حوصلہ پا کر) ہندو و ذہنیت کھل کر سامنے آئی. چنانچہ کہیں اُس نے ’’شدھی اور سنگھٹن‘‘ کا روپ دھارا تو کہیں ’’واردھا اسکیم‘‘ کی صورت اختیار کی، اور کہیں ’’ہندو مہاسبھا‘‘ کی شکل میں (۱) بحوالہ ’’بیس بڑے مسلمان‘‘ تالیف مولانا عبدالرشید ارشد‘‘ ص ۲۹۱ ظہور کیا تو کہیں راشٹریہ سیوک سنگھ کی صورت میں جلوہ گر ہوئی. نتیجتاً ہندوستان میں ہندو مسلم کشمکش کے شدید ترین دَور کا آغاز ہو گیا اور مسلم قوم پرست تحریک اپنے نقطۂ عروج کی جانب تیزی کے ساتھ منزلیں طے کرتے ہوئے بڑھنے لگی. اِس طرح کم از کم مسلمانانِ ہند کے ضمن میں ہندو کی تنگ نظری اور استحصالی ذہنیت کے بارے میں وہ بات کمالِ صداقت کے ساتھ کہی جا سکتی ہے، جو علامہ اقبال نے یورپی استعمار کے بارے میں کہی تھی: ؏ ’’مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفانِ مغرب نے!‘‘

اور قیام پاکستان کی ضمن میں ہندوؤں کے اِس طرزِ عمل پر بجا طور پر اُن کا شکریہ ادا کیا جا سکتا ہے کہ ؎

تو نے اچھا ہی کیا دوست سہارا نہ دیا مجھ کو لغزش کی ضرورت تھی سنبھلنے کے لیے بہرحال اِس گھمسان کے رَن میں ظاہر ہے کس کے پاس فرصت تھی اور کسے ہوش تھا کہ یہ دیکھے کہ کون اسلام پر واقعتا عمل پیرا ہے اور کون اُس کے کم از کم لوازم و شرائط پر بھی پورا نہیں اُترتا. اُس وقت تو واحد امتیاز کلمۂ شہادت کا تھا کہ کون کلمہ گو ہے اور کون نہیں! چنانچہ تحریک پاکستان کی اساس مسلم قومیت قرار پائی نہ کہ اسلام کے ساتھ واقعی اور عملی تعلق، اور یہ ہتھیار واقعتا اُس وقت بہت کارگر اور مؤثر ثابت ہوا. چنانچہ اُسی کی اساس پر تحریک نے عوامیت اختیار کی اور کامیابی حاصل کر لی اور قیام پاکستان کا ’’معجزہ‘‘ ظہور میں آ گیا.
تقسیم کے بعد حالات یکسر تبدیل ہو گئے. مغربی پاکستان میں ہندو نہ ہونے کے برابر رَہ گئے اور جورہ گئے انہوں نے بھی کم از کم وقتی طو رپر گویا دم سادھ لیا. چنانچہ ہندو مسلم کشمکش مغربی پاکستان کی حد تک بالکل ختم ہو گئی. رہے بھارت کے حالات تو وہ بین الاقوامی سرحدوں کے پردوں میں چھپ کر ’’آنکھ اوجھل پہاڑاوجھل‘‘ کے مصداق بن گئے. نتیجتاً جب تک تقسیم کے وقت کے زخموں میں ٹیسیں اُٹھتی رہیں اور کسک باقی رہی سابقہ کشمکش کی یاد بھی برقرار رہی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ رفتہ رفتہ اُس کے اثرات بھی زائل ہو گئے اور یاد بھی باقی نہ رہی. رہا مشرقی پاکستان تو وہاں اگرچہ ایک فعال اور مؤثر ہندو اقلیت قابل لحاظ تعداد میں موجود تھی، لیکن اُس نے کمال ہوشیاری اور چابکدستی سے کام لے کر وہاں کی مسلم اکثریت کے مسابقت اور مقابلے کے جذبے کا رُخ اپنی جانب سے پھر کر مغربی پاکستان کی طرف کر دیا اور خود خاموشی کے ساتھ ایک بغلی دشمن کے انداز میں ایک لسانی اور ثقافتی قومیت کے تصور کو اُبھارنے اور اُجاگر کرنے میں لگ گئے، جس کا نتیجہ پچیس سال کے اندر اندر پاکستان کی شکست اور بنگلہ دیش کے قیام کی صورت میں ظاہر ہوا، جس پر پاکستان اور نظریۂ پاکستان کے دشمنوں کے گھروں میں گھی کے چراغ جلے اور انہیں یہ کہنے کا موقع ملا کہ دوقومی نظریہ باطل (False) ثابت ہو گیا ہے. اور اس کے بعد یہی طریق کار____ (Strategy) ’’بچے کھچے پاکستان‘‘ میں چھوٹے صوبوں بالخصوص سندھ کی ہندو اقلیت اپنائے ہوئے ہے. چنانچہ اُس نے بھی سندھ کی قدیمی مسلمان آبادی کی اکثریت کی مخالفت اور نفرت کا رُخ پنجاب کی جانب موڑ کر خود ایک لسانی اور ثقافتی قومیت کے دامن میں پناہ لی ہوئی ہے اور بظاہر احوال تو یہی نظر آتا ہے کہ ’’سندھو دیش‘‘ کی تحریک بھی سندھ کی نوجوان نسل کے معتد بہ حصے کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے. واللہ اعلم. 

بنابریں اب وہ مسلم قوم پرستی جس کے شعور کی گیرائی و گہرائی میں ایک فیصلہ کن حصہ برصغیر کی ہندو مسلم کشمکش کی شدت کا تھا ایک مؤثر اور قابل لحاظ عامل کی حیثیت سے موجود ہی نہیں ہے. گویا مذہبی جذبے کی وہ قسم جو پاکستان کے قیام کا ذریعہ بنی تھی اب نہ صرف یہ کہ غیر مؤثر اور دُو راز کار____ 
(Obsolete) ہو چکی ہے بلکہ فی الواقع موجود ہی نہیں ہے. اس لیے کہ پاکستان کی نئی نسل کو نہ صرف یہ کہ ہندو ذہنیت کا کوئی تجربہ نہیں ہوا، بلکہ اِس کے برعکس اُسے تو آئے دن محبت کے اُن ’’زمزموں‘‘ سے سابقہ پیش آتا ہے، جو سرحد پار سے ہوا کے دوش پر ریڈیو اور ٹی وی کے ذریعے پہنچتے رہتے ہیں یا جن کی یلغار مسلسل دانشوروں، شاعروں ،ادیبوں اور صحافیوں____اور سب سے بڑھ کر ثقافتی طائفوں کے ذریعے ہوتی رہتی ہے.
صرف یہی نہیں، بلکہ اِس سے بڑھ کر یہ کہ اب پاکستان میں عمودی 
(Vertical) اور اُفقی (Horizontal) تقسیم اور محاذ آرائی (Polarisation) نے خود پاکستانی مسلمانوں کو باہم منقسم اور ایک دوسرے کے بالمقابل کھڑا کر دیا ہے. چنانچہ ایک جانب علاقائی، لسانی اور ثقافتی تقسیم کی گہرائی اور گیرائی میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے تو دوسری جانب طبقاتی تقسیم کا شعور بھی رفتہ رفتہ بڑھ رہا ہے. لہٰذا اب پاکستان کے مسلمانوں میں مقاصد کی یک جہتی اورہم آہنگی صرف مسلم قومیت کے تصور اور محض قوم پرستانہ جذبے کی بنیاد پرپیدا نہیں ہوسکتی، بلکہ اب انہیں کوئی شے ’’بنیان مرصوص‘‘ (یعنی سیسہ پلائی ہوئی دیوار) (۱بنا سکتی ہے تو صرف وہ مذہبی جذبہ ہو سکتا ہے جو اُس اسلام کے ساتھ حقیقی تعلق (۱) سورۃ الصف آیت نمبر۴ اور کردار و عمل کے واقعی رشتے سے پیدا ہو اور اُسی سے غذا حاصل کرے اور نشوونما پائے.
یہی بات راقم نے ایک ملاقات میں پاکستان کے بزرگ صحافی جناب زیڈ اے سلہری سے عرض کی تھی کہ آپ کا تقریباً ہر مضمون ’’دوقومی نظریے‘‘ 
(Two Nation Theory) پر مبنی ہوتا ہے، اور آپ کی ہر تحریر کی تان لازماً مسلم قومیت (Muslim Nationhood) پر ہی ٹوٹتی ہے____تو جہاں تک اِس حقیقت کا تعلق ہے کہ پاکستان اسی کی بنیاد پر قائم ہوا تھا تو میرے خیال میں کوئی نہایت ہی ڈھیٹ قسم کا انسان ہی ہو گا جو اِس سے انکار کی جرأت کرے. بلکہ واقعہ یہ ہے کہ جس انداز سے آپ اس کی تکرار کر رہے ہیں اُس سے تو اُلٹا اِس شک کے پیدا ہونے کا امکان ہے کہ پاکستان کی ’’ایجاد و تکوین‘‘ (Genisis) کے ضمن میں کوئی اور دوسرا قوی تر نظریہ بھی موجود ہے جس کی اِس تکرار اور اعادے اور شد و مد کے ساتھ نفی اور تردید کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے. اصل قابل غور اور اہمیت کی حامل حقیقت یہ ہے کہ محض مسلم قومیت اب پاکستان کے بقاء و استحکام کی ضامن نہیں بن سکتی، جب تک اُس میں حقیقت اور واقعیت کا رنگ نمایاں طور پر نظر نہ آئے اور فعل وعمل کی رُوح واضح طور پر جاری و ساری محسوس نہ ہو.