پندرہ سال قبل اور آج

اتفاق کی بات ہے کہ راقم اپنے پیش نظر سلسلۂ مضامین کے ضمن میں جب اُس مقا م پر پہنچا تو اچانک ذہن منتقل ہوا کہ اِسی موضوع پر راقم نے آج سے لگ بھگ پندرہ سال قبل پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی لاہور برانچ کی ایک تقریب میں تقریر کے دَوران اپنا جائزہ اور تجزیہ ایک تمثیل کے پیرائے میں پیش کیا تھا. ساتھ ہی یہ بھی یاد آیا کہ تقریر کا وہ حصہ ماہنامہ ’’میثاق‘‘ لاہور میں شائع بھی ہو گیا تھا . اس موقعے پر اُس پر نظر ڈالنے سے ایک تو یہ احساس ہوا کہ اِس تمثیل کے ذریعے ہمارے معاشرے کی اسلام کے ساتھ عملی تعلق کی نہایت صحیح تصویر پوری وضاحت کے ساتھ ہمارے سامنے آ جاتی ہے. اور دوسرے یہ حیرتناک اور افسوسناک انکشاف بھی ہوا کہ اِس کے باوجود کہ ہمارے معاشرہ میں متعدد دینی جماعتیں اور تحریکیں اپنے اپنے انداز میں کام کر رہی ہیں اور ہماری آبادی کے طبقہ متوسط (Middle Class) کا خاصا قابل لحاظ حصہ ان کے زیر اثر آیا ہے تاہم پندرہ سال سے زیادہ عرصہ گذر جانے کے باوجود بحیثیت مجموعی ہمارے موجودہ مسلمان معاشرے کے اسلام کے ساتھ عملی تعلق میں نہ نوعیت و کیفیت کے اعتبار سے (Qualitatively) کوئی تبدیلی واقعی ہوئی ہے، نہ ہی تناسب اور کمیت کے اعتبار سے (Quantitatively) کوئی فرق پیدا ہوا ہے. اس لیے کہ جہاں ہماری قوم کے درمیانی طبقے میں مختلف ذہنی و مذہبی تحریکوں کے زیر اثر دین و مذہب کے ساتھ عملی لگاؤ کے تناسب میں کسی قدر اضافہ ہوا ہے، وہاں عوام کے طبقۂ زیریں (Lower Class) میں اُس کیفیت کے بالکل برعکس جو علامہ اقبال نے اب سے پون صدی قبل اِس شعر میں بیان کی تھی کہ ؎

آکے ہوتے ہیں مساجد میں صف آرا تو غریب
پردہ رکھتے ہیں اگر کوئی تمہارا تو غریب

نہ صرف یہ کہ دین و مذہب کے ساتھ عملی لگائو میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، بلکہ لادینی طرزِ فکر 
(Secular Thinking) اور مادہ پرستانہ اقدار (Materialistic Values) کا تناسب بہت بڑھ گیا ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ملحدانہ افکار و نظریات اور اُس مادہ پرستانہ طرزِ عمل کے اثرات جو پہلے صرف اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقات (Educated Elite) تک محدود تھے، گزشتہ پندرہ سالو ں میں اولاً ٹرانسسٹر اور بعد ازاں ٹیلی ویژن ایسے مؤثر اور طاقتور ذرائع ابلاغ (Media) کے ذریعے ہمارے معاشرہ کی سب سے تحتانی سطح یعنی (Grass Root Level) تک پہنچ گئے ہیں، جن سے نہ صرف یہ کہ طبقۂ متوسط میں دین و مذہب کا اثر و نفوذ غیر مؤثر (Neutralise) ہو گیا ہے، بلکہ نسبت و تناسب کے پلڑے کا جھکاؤ مزید فیصلہ کن انداز میں لادینیت کی جانب ہو گیا ہے. واللہ اعلم!