مذہب کے متوسلین کی اکثریت کا تصور ِدین محدود بھی ہے اور مسخ شدہ بھی

اِس بڑے دائرے کے اندر ایک نسبتاً چھوٹا دائرہ ہے جو ایسے لوگوں پر مشتمل ہے جو دین و مذہب سے عملی دلچسپی رکھتے ہیں____ چنانچہ انہی کے دم سے مساجد تعمیر ہوتی ہیں اور آباد رہتی ہیں، مدارس و مکاتب اور دارالعلوم قائم ہوتے ہیں اور جا ری رہتے ہیں. جمعہ و جماعت کا نظام قائم ہے، ماہِ صیام کی رونق اور گہماگہمی ہے، حج اور عمرہ کے لیے آمد و رفت کا سلسلہ جاری ہے____ الغرض مذہب کا پورا ڈھانچہ قائم ہے.لیکن ذرا بنظر غائر جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اِس طبقے کی ایک عظیم اکثریت کا تصورِ دین نہ صرف یہ کہ نہایت محدود (Limted) ہے، بلکہ اکثر و بیشتر حالتوں میں سخت مسخ شدہ (Perverted) بھی ہے. چنانچہ اُن کے نزدیک مذہب صرف بعض علامات (Symbols) اور رُسومات (Rituals) کا مجموعہ بن کر رہ گیا ہے، اور اُس کا کوئی تعلق نہ انسان کی انفرادی سیرت و کردارسے رَہ گیا ہے نہ قومی و ملی اُمور اور اجتماعی معاملات سے. نتیجتاً وہ دین جو اپنی اصل فطرت کے اعتبار سے پوری انسانی زندگی پر حکمرانی چاہتا ہے، اُن کے یہاں زندگی کے بہت ہی چھوٹے سے گوشے میں محدود ہو کر رہ گیا ہے اور اس کے وسیع تر تقاضوں کا انہیں سرے سے کوئی احساس ہی نہیں رہا.

یہی وجہ ہے کہ اِس حلقے کی ایک غالب اکثریت کا حال یہ ہے کہ دینداری کے جملہ مظاہر 
یعنی نماز، زکوٰۃ، روزہ اور حج، حتیٰ کہ پوری شرعی وضع قطع کے ساتھ ساتھ بلیک مارکیٹنگ بھی چلتی ہے اور ذخیرہ اندوزی بھی، اسمگلنگ بھی جاری رہتی ہے اور کرنسی کا غیر قانونی لین دین بھی____ اشیاء خورد و نوش ہی نہیں ادویات تک ان میں سے بعض کے ہاتھوں ملاوٹ ایسی حد درجہ مکروہ حرکت سے محفوظ نہیں رہتیں. انکم ٹیکس، کسٹم اور ایکسائز ڈیوٹی وغیرہ سرکاری محصولات کی چوری کو مباح کا مقام دینے میں انہیں ذرا باک نہیں. رشوت دی بھی جاتی ہے اور لی بھی____ سودی رقوم سے کاروبار کو وسیع تر کرنا اور مکان تعمیر کرنا تو شیر مادر ہے ہی، جہاں موقع ملے سٹے وغیرہ سے بھی اجتناب نہیں. ان سب پر مستزادیہ کہ الا ماشا اللہ اِس حلقے کی اکثریت ذاتی اخلاق اور بین الانسانی معاملات کے دائرے میں بالعموم بہت پستی کردار کا مظاہرہ کرتی ہے. خشونت، درشتی اور سنگ دلی بالعموم ان کی طبیعت ثانیہ بن گئے ہیں اور ہمدردی اور دل کی نرمی سے اِنہیں دُور کا بھی واسطہ نہیں، الاماشاء اللہ. اِن تمام باتوں کا مجموعی نتیجہ یہ ہے کہ ہماری نوجوان نسل ان لوگوں سے متنفر ہو کر سرے سے دین ومذہب ہی سے بدظن ہوتی چلی جا رہی ہے.

تصورمذہب کی اِسی محدودیت کا ایک نتیجہ یہ نکلا ہے کہ مذہب کے نام پر نت نئی رسومات ایجاد ہو رہی ہیں اور بدعات و رسومات کا بازار ہے کہ گرم سے گرم تر ہوتا چلا جا رہا ہے اور اسلام جو انتہائی سادہ دین فطرت ہے، روز بروز اوہام کے پلندے اور بدعات و رسومات کے طومار کی شکل اختیار کرتا چلا جا رہا ہے ____ اس کی وجہ بالکل واضح ہے، یعنی یہ کہ وہ دینی و مذہبی جذبہ جسے انسان کی پوری زندگی میں سرایت کر جانا چاہئے تھا، جب سمٹ کر صرف ایک گوشے میں مقید ہو گیا اور اُسے اپنی تسکین صرف اِسی چھوٹے سے گوشہ ہی سے حاصل کرنی پڑی تو اس نے زور لگا کر اسی گوشہ میں غیر متناسب طور پر 
(Out of Proportion) بڑھنا شروع کر دیا. چنانچہ مثال کے طور پر ایک طرف میت کی رسومات کا سلسلہ ہے کہ ربڑ کی طرح کھینچتا چلا جارہا ہے اور دوسری طرف تہواروں کا معاملہ ہے کہ ان کی فہرست بڑھتی چلی جا رہی ہے. وقس علیٰ ہذا.

مختصر یہ کہ دین و مذہب سے دلچسپی رکھنے والے لوگوں کی ایک غالب اکثریت کا تصور مذہب نہایت محدود بھی ہے اور مسخ شدہ بھی!