وسیع تر تصور کے حامل لوگوں کی اکثریت خود کچھ کرنے کو تیار نہیں!!

اس دوسرے دائرے کے اندر ایک تیسرا چھوٹا دائرہ ہے جو اُن لوگوں پر مشتمل ہے جن کا تصور دین و مذہب خاصا وسیع ہے اور وہ جانتے ہیں کہ اسلام صرف چند عقائد اور رسومات کا مجموعہ نہیں بلکہ اس کی بنیاد کائنات، انسان اور حیات انسانی کے بارے میں ایک خاص نقطۂ نظر پر قائم ہے اور وہ انسان کی پوری زندگی کو اپنے احاطہ میں لینا چاہتا ہے اور حیاتِ انسانی کے تمام گوشوں پر تسلط اور حکمرانی کا طالب ہے. برصغیر میں یہ فکر ماضیٔ قریب میں اولاً علامہ اقبال مرحوم کے اشعار سے پروان چڑھا اور ان کے بعد مولانا مودودی مرحوم اور بعض دوسرے اصحابِ علم کی تحریروں نے اِسے مزید واضح بھی کیا اور زیادہ بڑے حلقہ میں عام بھی کیا. چنانچہ اب یہ ایک واقعہ ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں کی موجودہ نسل کا ایک خاصا قابل ذکر حصہ اِس فکر سے متأثر ہے اور اُس کے دل میں اِحیائے اِسلام کی آرزو اور اقامت دین کی تمنا بھی موجود ہے____ اوراسلام کی عظمت گذشتہ اور مسلمانوں کی سطوتِ پارینہ کی بازیافت کی خواہش بھی____ لیکن یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اِس طبقۂ کی ایک بڑی اکثریت محض حسین تمنائوں اور خوشنما آرزؤں کے سہارے جی رہی ہے، خود کچھ کرنے کو تیار نہیں. اِن کی خواہش غالباً یہ ہے کہ یہ سارے کام کوئی اور کر دے اور وہ خود اپنی اپنی دلچسپیوں اور پیشہ ورانہ مصروفیتوں میں مگن رہیں، خود اُنہیں نہ کوئی ایثار کرنا پڑے، نہ قربانی دینی پڑے، نہ کوئی تکلیف برداشت کرنی ہو اور نہ کسی محنت و مشقت کا سامنا ہو. وہ بہت زور لگائیں گے تو کسی جماعت کے لیے تائید و تحسین کے چند جملے زبان سے ادا کردیں گے، یا اُسے کوئی مالی امداد بہم پہنچا دیں گے اور وہ بھی اپنی آمدنیوں کے اعتبار سے آٹے میں نمک کے برابر. اللہ اللہ خیر سلا____ اِس سے آگے بڑھ کر نہ اُن کی زندگیوں کا رُخ تبدیل ہو گا، نہ دلچسپیوں میں کمی آئے گی اور نہ ہی شب و روز کے مشاغل میں کوئی فرق واقع ہوگا.

الغرض____ یہ ہے میرے تجزیہ کے مطابق ہماری موجودہ سوسائٹی کا دائرہ ثالث، جو دین و مذہب کے لیے زبانی جمع خرچ 
(Lip Service) میں تو بہت آگے ہیں لیکن اِس کے لیے کسی عملی جدوجہد میں شرکت کے لیے قطعاً آمادہ نہیں. حالانکہ میرے نزدیک اسلام کی نشأۃ ثانیہ کا کٹھن مرحلہ اگر سر ہو سکتا ہے تو اِسی حلقہ کی محنت و مشقت اور ایثار و قربانی سے____ اوراگر اِس طبقہ کو آمادۂ عمل(Activate) نہ کیا جا سکا تو میرے نزدیک اِس منزل کی طرف قدم اُٹھنا بہت مشکل ہے، اس لیے کہ اگرچہ یہ دائرہ پہلے دونوں دائروں سے تو بہت چھوٹا ہے لیکن ہے نہایت اہم.