نُصرت و حفاظتِ خداوندی

قیامِ پاکستان کے بعد سے اب تک کے لگ بھگ اُنتالیس سالوں کے دَوران بھی متعدد مواقع پر پاکستان کی حفاظت و صیانت جس طرح ایک نادیدہ مگر قوی ہاتھ نے بالکل اس انداز میں کی کہ ؏ ’’دشمنوںاگر قوی ست نگہبان قوی تراست!‘‘

تو یہ بھی ایک واضح اور بیّن ثبوت ہے اِس کا کہ قدرت کو پاکستان کی بقا اپنے کسی منصوبے کی تکمیل کے لیے مطلوب ہے.

اس ضمن میں اوّلاً قیام پاکستان کے فوراً بعد کی پہاڑ جیسی مشکلات اور حدود درجہ پیچیدہ مسائل کا تصور کیا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ قطعاً بے سروسامانی کے عالم میں پاکستان نے ان کا مقابلہ و مواجہہ جس کامیابی کے ساتھ کیا، اُس کا اللہ تعالیٰ کی خصوصی تائید اور نصرت کے بغیر قطعاً کوئی امکان نہ تھا. 


مشترکہ دفاع کی پیشکش

خاص طور پر ۱۹۶۲ء کی چین بھارت جنگ کے فوراً بعد، جب کہ بھارت انتہائی ذلت و خفت کے ساتھ اپنے زخم چاٹ رہا تھا، سابق صدر پاکستان جنرل محمد ایوب خان کی جانب سے بھارت کو ’’مشترکہ دفاع‘‘ کی پیش کش کے معاملے پر غور کیا جائے تو ایک بار پھر کیبنٹ مشن پلان والا معاملہ نظر آتا ہے____ پاکستان پر اُس وقت تک ایوب خان کی گرفت بہت مضبوط تھی اور کم از کم بظاہر احوال اندرونِ ملک اس تجویز پر کسی شدید ردّ عمل کا کوئی اندیشہ نہ تھا اور اس تجویز پر عمل درآمد کے معنی قطعی طور پر یہ تھے کہ گویا ہم ایک بار پھر آزاد و خود مختار پاکستان سے از خود دستبردار ہو کر سجدۂ سہو ادا کرتے ہوئے کیبنٹ مشن پلان کی جانب سے رجوع کر رہے ہیں، اور اپنے عمل سے یہ ثابت کر رہے ہیں کہ مولانا ابوالکلام آزاد مرحوم کی وہ بات درست تھی جو میاں محمد شفیع (م.ش) کی روایت کے مطابق مولانا نے کچھ بھارتی ہندوئوں سے تسلی آمیز انداز میں کہی تھی کہ ’’پاکستان کے قیام کو ’’گئوماتا‘‘ کے ٹکڑے ہونے کے مترادف نہ سمجھو، بلکہ یوں سمجھو کہ بھارت کی گئو ماتا نے ایک بچہ دیا ہے جو اپنی ماں کے پیچھے پیچھے بالکل اُسی طرح چلے گا، جیسے بچھڑا گائے کے پیچھے پھرتا ہے.‘‘

اِس ضمن میں کسی کو یہ مغالطہ نہ ہو کہ پیش کش تو صرف مشترکہ دفاع کی تھی، اس سے کیبنٹ مشن پلان کی طرف رجوع کیسے ثابت ہو گیا جس میں پورے ہندوستان کی ایک مرکزی حکومت تجویز کی گئی تھی. اِس لیے کہ مشترکہ دفاع کے مضمرات اور مقدرات کا جائزہ لیا جائے تو اولاً____ اس کا لازمی مطلب مشترک خارجہ پالیسی ہے____ اور ثانیاًچونکہ قومی بجٹ کا سب سے بڑا حصہ دفاع سے متعلق ہوتا ہے لہٰذا مشترک دفاع کا لازمی نتیجہ مشترک بجٹ بھی ہے. اِس طرح مشترکہ دفاع میں وہ جملہ اُمور مضمر تھے جو کیبنٹ مشن کی تجویز کے مطابق ’’انڈین یونین‘‘ کو تفویض ہونے تھے، سوائے مواصلات کے جو بہرصورت دفاع اور خارجہ اُمور کے مقابلے میں بہت ہی ’’معصوم‘‘ سا معاملہ ہے. مزید برآں جنگ کی صورت میں چونکہ ذرائع رسل و رسائل اور وسائل حمل و نقل بھی لازماً دفاعی مشینری کا جزوِلاینفک بن جاتے ہیں، لہٰذا وہ بھی مشترکہ دفاع کی تجویز میں از خود شامل ہیں. گویا اگر بھارت اس تجویز کو قبول کر لیتا تو بالکل کیبنٹ مشن پلان والی صورت بن جاتی اور پاکستان کا آزاد خودو مختار وجود باقی نہ رہتا____ 

اس مرحلہ پر پھر مشیت و قدرتِ خداوندی کا خصوصی ظہور پنڈت نہرو ہی کے ذریعے ہوا، جنہوں نے نہایت رعونت کے ساتھ 
(Common Defence Against Whom) کہتے ہوئے فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کی پیش کش کو ٹھکرا دیا____ اور اِس طرح پاکستان کی آزادی و خود مختاری کی نائو بھنور سے نکل آئی اور بالکل ڈوبتے ڈوبتے بچی. 

۱۹۶۵ ء میں دشمنوں کی مرعوبیت

پاکستان کے ایسے ہی ’’معجزانہ‘‘تحفظ کا نظارہ پوری دنیا نے ۱۹۶۵ء کی جنگ کے موقع پربچشم سر کر لیا تھا. بھارت نے جس تیاری اور منصوبہ بندی کے ساتھ حملہ کیا تھا اُس کے پیش نظر بھارت کی فتح اور پاکستان کی شکست نہ صرف بھارت، بلکہ اُس کے سر پرستوں کے نزدیک بھی اتنی قطعی اور یقینی تھی کہ بی بی سی نے نہ صرف یہ کہ سقوط لاہور کی خبر نشر کر دی تھی، بلکہ اُس کا ’’منظر‘‘ بھی دنیا کو ٹی وی پر دکھادیا تھا____ اِدھر تقدیر الٰہی خندہ کناں تھی اور 
سَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ کَفَرُوا الرُّعْبَ 
(سورۂ انفال آیت: ۱۲
’’میں عنقریب کافروں کے دلوں میں رعب پیدا کر دوں گا.‘‘
کا بھر پور اعادہ ہو گیا تھا اور دشمنون کی افواج مزاحمت کی غیر متوقع حد تک کمی کی بناء پر اِس اندیشے اور خوف ہی میں مبتلا ہو کر ٹھٹھک کر رُکی رہ گئی تھیں کہ کہیں ہمیں کسی خوفناک زغے میں نہ لیا جار ہا ہو. 


۱۹۷ ۱ء میں مغربی پاکستان کی حفاظت

یہ درست ہے کہ ۱۹۷۱ء میں ہمیں قیامِ پاکستان کے اصل مقصد سے انحراف اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے ہوئے وعدوں کی خلاف ورزی کی سزا بھی بھرپور ملی اور بھارت کے ہاتھوں ایک ذلت آمیز شکست کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے مشرقی بازو کی علیحدگی کا صدمہ بھی جھیلنا پڑا، لیکن اس موقع پر بھی مغربی پاکستان کا بچ جانا خالص آسمانی تدبیر کے ذریعے ہوا____ ورنہ جائزہ لیجئے کہ سقوطِ مشرقی پاکستان کے بعد بھارت کا مورال (Morale) کس طرح ایک دَم آسمان پر پہنچ گیا تھا، جب کہ ہمارا مورال ’’اسفل سافلین‘‘ کے مصداق پاتال میں پہنچ گیا تھا، ہمارے ایک لاکھ کے لگ بھاگ جوان اور آفیسر بھارت کے اسیر ہو چکے تھے اور ہمارا کثیر تعداد میں اسلحہ اور دوسرا جنگی سازو سامان بھارت کے قبضے میں آ گیا تھا____ اوراب بھارت مشرقی محاذ سے فارغ ہو کر اپنی پوری عسکری قوت کو کامل یکسوئی کے ساتھ مغربی محاذ پر جھونک سکتا تھا____ اِدھرہمارا حال یہ تھا کہ ائیر فورس تقریباً مفلوج ہو چکی تھی، نیوی لنگر انداز تھی اور کیماڑی کی بندرگاہ تک دشمنوں کی دست بُرد سے محفوظ نہ رہی تھی____ رہے میدانی محاذ تو دو محاذوں پر بھارت کی پیش قدمی جاری تھی، یعنی راجستھان میں بھی اور سیالکوٹ کی جانب بھی____ لے دے کر صرف ایک سلیمانکی سیکٹر تھا جس میں ہماری ’’ٹاسک فورس‘‘ برقرار (Intact) تھی. ان حالات میں محتاط ترین اندازے کے مطابق مغربی پاکستان بھارت کے لیے زیادہ سے زیادہ چھ دن تک کی بات تھی.

اس مرحلے پر پھر اللہ تعالیٰ کی خصوصی مشیت کا ظہور ہوا اور امریکی صدر نکسن نے ہاٹ لائن پر روسی لیڈروں کو وارننگ دی اور اُن کے ’’حکم‘‘ پر اندرا گاندھی نے ’’یک طرفہ جنگ بندی‘‘ کا علان کر دیا. 
اور حال ہی کی بات ہے کہ صدر نکسن نے انکشاف کیا ہے کہ اُس موقع پر ہم ایٹمی قوت تک کے استعمال کے بارے میں سوچ رہے تھے!____ کم از کم راقم الحروف کو تو شدید احساس ہے کہ اُس موقع پر یہ ’’بچا کھچا‘‘ پاکستان بھی بالکل اُس طور پر بچا تھا جس طرح کبھی کسی انسان کے بالکل برابر سے کوئی تیز کاریاٹرک زناٹے کے ساتھ اِس طرح گذر جائے کہ موت اور زندگی میں بال بھر کا فاصلہ رہ جائے اور انسان یہ محسوس کرے کہ جیسے فی الواقع اُسے کسی نادیدہ ہاتھ نے ایک طرف کو دھکیل کر بچایا ہے. 

۱۹۸۳ ء کے اندرونِ سندھ کے ہنگامے

پنڈت نہرو کی بیٹی مسز اندرا گاندھی نے اگرچہ اپنے والد کو تو ’’صوفی‘‘ ہونے کا طعنہ دیا تھا، لیکن خود اُس کی دستبرد سے اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو اُس ہی کی ’’چوک‘‘ کے ذریعہ جس طرح بچایا اُس کا تلخ مزا اُس کے ذائقے میں دیر تک برقرار رہا ہو گا____ ۱۹۸۳ء کے دوران اندرونِ سندھ کے ہنگامے اپنی وسعت و شدت اور تیزی و تندی ہر اعتبار سے اکثر لوگوں کے نزدیک حیران کن اور تعجب خیز تھے. اُس وقت اگربراہ راست مداخلت نہ سہی ذرا سی مدد بھی بھارت کی جانب سے ہنگامہ کرنے والوں کو مل جاتی تو پاکستان کا وجود شدید خطرے میں پڑ جاتا____ اِس لیے کہ پاکستان کا وہ علاقہ جو ہنگاموں سے متاثر تھا، بالخصوص میر پور ماتھیلو سے خیر پور میرس تک کی پٹی پاکستان کے جسم کے نرم و نازک ’’پیٹ‘‘ (Soft Underbelly) کی حیثیت رکھتی ہے. چنانچہ اس علاقے میں اگر دو چار جگہوں پر ریلوے لائن اور ہائی وے کو کاٹ دیا جاتا تو گویا پاکستان کی شہ رگ (Life Line) کٹ کر رہ جاتی. چنانچہ اُن ہنگاموں کے دَوران اِس کی خبریں تو متعدد بار آئیں کہ گھوٹکی ریلوے اسٹیشن کو جلانے کے علاوہ متعدد مقامات پر ریل کی پٹڑیوں کو اکھاڑنے اور سلیپروں کو جلانے کی کوشش کی گئی، لیکن کہیں سے اِس کی اطلاع نہیں ملی کہ ریلوے لائن کو ڈائنا مائٹ سے اُڑانے کی سعی کی گئی ہو____ گویاوہاں جو کچھ ہوا خالص دیسی یا ’’خانہ زاد‘‘ (Indigenous) وسائل سے ہوا، بیرونی مداخلت یا امداد قطعاً موجود نہیں تھی____ گویامسز اندرا گاندھی صرف یہ انتظار ہی کرتی رہ گئیں کہ ہنگامے ذرا اور پھیل جائیں اور مداخلت کا واضح جواز پیدا ہو جائے تو اقدام کیا جائے____ اور ا ِدھر پاکستان کی فوج اور دوسرے دفاعی و حفاظتی اداروں نے ہنگاموں پر قابو پا لیا____ بعدمیں وہ ابھی اپنی اِس ’’چوک‘‘ کی تلافی کے لیے کسی بھرپور اقدام کی اسکیم بنا ہی رہی تھیں کہ خود اُن کی زندگی کا چراغ گل ہو گیا.

’’الغرض!____ نہ پاکستان کا قیام حالات و واقعات کی معمول 
(Routine) کے مطابق پیش رفت کا نتیجہ تھا نہ اِس بچے کھچے پاکستان کا اب تک قائم رہنا کسی عام حساب و کتاب کے مطابق ہے، بلکہ اصل پاکستان کا ظہور و قیام بھی ایک ’’معجزہ‘‘ تھا اور موجودہ پاکستان کی تا حال حفاظت وصیانت بھی اسباب وعلل کے عام سلسلے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی خصوصی تدبیر و تصرف ہی کی مرہون منت ہے____‘‘ 

’’جن کے رُتبے ہیں سوا…‘‘

رہا یہ سوال کہ پاکستان کے قیام اور بقاسے تدبیر الٰہی کا کون سا طویل المیعاد منصوبہ متعلق ہے تو اِس کے بارے میں تو گفتگو ان شاء اللہ آئندہ ہوگی____ موجودہ بحث کے تکملہ کے طور پر اِس حقیقت کی جانب توجہ دلانی ضروری ہے کہ اِس عام قاعدۂ کلیہ کے مطابق کہ ؏ ’’جن کے رتبے ہین سوا، ان کے سوا مشکل ہے!‘‘

اور اللہ تعالیٰ کی اُس مستقل سنت کی رو سے کہ: 

لَئِنۡ شَکَرۡتُمۡ لَاَزِیۡدَنَّکُمۡ وَ لَئِنۡ کَفَرۡتُمۡ اِنَّ عَذَابِیۡ لَشَدِیۡدٌ ﴿۷
’’اگر تم ہمارے (انعامات پر) قدر شناسی اور احسان مندی کی روش اختیار کرو گے تو ہم تمہیں مزید نوازیں گے، اور اگر تم نے ناقدری اور کفران نعمت کا رویہ اختیار کیا تو (جان لو کہ) ہماری سزا بھی بہت سخت ہوتی ہے.‘‘ (سورۂ ابراہیم، ؑ آیت نمبر : ۷

مسلمانانِ پاکستان بھی اللہ تعالیٰ کی جانب سے بڑے سخت اِمتحان اور کڑی آزمائش سے دو چار ہیں اور ہر حساب و کتاب سے ماوراء اور بڑی سے بڑی توقعات سے بھی بڑھ کر جو احسانِ عظیم قدرت نے کیا تھا اُس کی ناقدری و ناشکری اور صریح وعدہ خلافی پر سزا کا ایک بہت سخت کوڑا مشرقی پاکستان کے سقوط اور وہاں انتہائی ذلت آمیز شکست کی صورت میں ہماری پیٹھ پر پڑ چکا ہے____ تاہم واقعہ یہ ہے کہ یہ بھی اللہ تعالیٰ کے اُس قانون کا مظہر ہے کہ: 

وَ لَنُذِیۡقَنَّہُمۡ مِّنَ الۡعَذَابِ الۡاَدۡنٰی دُوۡنَ الۡعَذَابِ الۡاَکۡبَرِ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۲۱﴾ 

’’ہم اُنہیں (آخری اور) بڑے عذاب سے پہلے چھوٹے عذاب کا مزہ چکھائیں گے، شاید کہ یہ (اپنی روش سے) باز آ جائیں.‘‘ 
(سورۂ سجدہ، آیت نمبر :۲۱

اللہ تعالی ٰ 
نے ابھی آخری سزا نہیں دی اور تلافی مافات کی مہلت عطا کی ہوئی ہے. اس لیے کہ یہ بچا کھچا پاکستان بھی ہرگز کوئی حقیر شے نہیں ہے، بلکہ وسائل اور امکانات کے اعتبار سے اللہ تبارک و تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے. اور بفضلہٖ تعالیٰ ابھی مشرقی پاکستان بھی نام کی تبدیلی کے باوجود ایک آزاد اور خود مختار ملک کی حیثیت سے اُن ہی حدود کے ساتھ دنیا کے نقشے پر قائم ہے جن کے ساتھ۱۹۴۷ء میں اس کا ظہور ہوا تھا____ گویا ابھی موقع ہے کہ اگر جگر ؔ کے اس شعر کے مطابق کہ ؎

چمن کے مالی اگر بنا لیں موافق اپنا شعار اب بھی
چمن میں آ سکتی ہے پلٹ کر چمن سے روٹھی بہا راب بھی!

____ہم اپنی روش کو اُس آسمانی منصوبے کے مطابق اور موافق بنالیں جس کی ایک کڑی پاکستان کا قیام ہے تو کوئی عجب نہیں کہ برصغیر کے اُس گوشے میں اسلام کا ازسر نوتمکن و استحکام، جہاں آج سے تیرہ سو سال قبل صنم خانہ ہند کا اوّلین ’’دارالاسلام‘‘ قائم ہوا تھا، اُس کے کسی نئے عروج کا پیش خیمہ ثابت ہو . ؏ ’’راز خدائی ہے یہ، کہہ نہیں سکتی زبان!‘‘
بصورت دیگر ہمارا حشر اُس شخص کا سا ہو گا جس کا ذکر سورۂ اعراف کی آیات ۱۷۵، ۱۷۶ میں آیا ہے. ’’جسے ہم نے اپنی (خاص) نشانیاں عطا کی تھیں مگر وہ اُن سے بھاگ نکلا، تو پیچھے لگ گیا اُس کے شیطان اور شامل ہو کر رہا وہ سخت گمراہوں میں. اور اگر ہم چاہتے تو اُسے اپنی نشانیوں کے طفیل رفعتوں کا مکین بنا دیتے مگر وہ (بدبخت) تو زمین ہی کی جانب جھکتا چلا گیا.‘‘____ گویااِس صورت میں اندیشہ ہے کہ ؏ ہماری داستان تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں 

عیاذاً یا اللہ !! 

ڈاکٹر اسرار احمد
اپریل ۲۰۱۹
پیش نظرتالیف جن تحریروں پر مشتمل ہے وہ حیطۂ تحریر میں تو ۱۹۸۵ ءمیں آ ئیں لیکن کتابی صورت میں پہلی مرتبہ ۱۹۸۶ء اور چھٹی مرتبہ ۱۹۹۹ء میں شا ئع ہوئیں.