خلاصہ مباحث

استحکامِ پاکستان کا واحد ذریعہ اسلامی انقلاب

وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ لِلّٰہِ جَمِیْعًا وَّلاَ تَفَرَّقُوْاج

اور سب مل کر اللہ کی رسی کومضبوط پکڑو اور پھوٹ نہ ڈالو!..ایک فیصلہ کن دوراہا 
ان سطور کی تحریر کے وقت قمری حساب سے پاکستان کی عمر کے چالیسیوں سال کے مکمل ہونے میں چار ماہ سے بھی کم عرصہ باقی رہ گیا ہے. اور واقعہ یہ ہے کہ داخلی اور خارجی، اور دینی اور دنیوی جملہ اعتبارات سے پاکستان اِس وقت ایک نہایت اہم اور فیصلہ کن دوراہے پر کھڑا ہے.

دینی اعتبار سے اِس دوراہے کی اہمیت اور نزاکت قرآنِ حکیم کے دو مقامات کی روشنی میں سمجھ میں آ سکتی ہے:

۱) سورۂ بنی اسرائیل کی آیت نمبر ۸ میں وارد شدہ حسب ذیل الفاظ کی روشنی میں کہ: 

عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یَّرْحَمَکُمْ وَاِنْ عُدتُّمْ عُدْنَا 

’’قریب ہے کہ تمہارا رب تم پر رحمت نازل فرمائے، لیکن اگر تم نے پھر وہی کچھ کیا (جو پہلے کرتے رہے ہو) تو پھر ہم بھی دوبارہ وہی کچھ کریں گے. (جو پہلے کر چکے ہیں)‘‘

اِس ضمن میں ایک عام کہاوت کہ ’’زبان خلق کو نقارۂ خدا سمجھو‘‘ کے مطابق اور اُس اصول کے تحت جو ہم اِس سے قبل تفصیل سے بیان کر چکے ہیں کہ کبھی کبھی مشیت ایزدی کفار اور ملحدین کے ذریعے بھی پوری ہوتی ہے. رُوسی قائدین کے اُس قول کا ذکر نامناسب نہ ہوگا جو انہوں نے اب سے لگ بھگ پندرہ سال قبل سقوط ڈھاکہ کے حادثہ فاجعہ کے بعد ہمارے اُس وقت کے سربراہِ حکومت ذوالفقار علی بھٹو کے دَورۂ روس کے موقع پر ماسکو میں منعقدہ ایک سرکاری استقبالیہ میں، نہ صرف سفارتی آداب اور رکھ رکھائو بلکہ میزبانی کے عام دستور اور قواعد کی خلافت ورزی کرتے ہوئے کہی تھی کہ:

’’ہم نے جو کچھ مشرقی پاکستان کے معاملے میں کیا، ہمیں اُس پرہرگز کوئی پشمانی یا ندامت 
نہیں ہے، بلکہ ہم واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ اگر برصغیر میں دوبارہ اُسی قسم کے حالات پیدا ہوئے تو ہم پھر وہی کچھ کریں گے جو ہم نے اِس موقع پر کیا ہے.‘‘

۲) سورۂ محمد کی آخری آیت کے الفاظ کی روشنی میں کہ: 

وَاِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَکُمْ 

’’اگر تم پیٹھ موڑ لو گے تو اللہ تمہیں چھوڑ کر کسی اور قوم کو قبول فرمائے گا.‘‘

گویا مشیت ایزدی نے تو ملت اسلامیہ پاکستان کو اسلام کے عالمی غلبہ کا نقطۂ آغاز بننے کی سعادت حاصل کرنے کا بھرپور موقع عنایت فرما دیا ہے. اب یہ مسلمانانِ پاکستان کی سعادت یا شقاوت، اُن کے فکر وتخیل کی بلند پروازی یا پستی، اُن کی عالی حوصلگی یا کم ہمتی اور فی الجملہ اُن کی عزیمت یا سہل انگاری پر منحصر ہے کہ وہ 
’’وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰہُ بِھَا‘‘ کی عملی تصویر بنتے ہیں یا ’’وَلٰکِنَّہٗ اَخْلَدَ اِلَی الْاَرْضِ‘‘کی مجسم تصویر بن کر ؏ ’’تمہاری داستان تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں!‘‘

کا مصداق بن جاتے ہیں اور اسلام کے عالمی غلبے کیلئے اللہ تعالیٰ کسی اور قوم کو پسند فرما لیتا ہے. 
(۱

عجیب اتفاق ہے کہ عین اُس وقت جب راقم کے قلم سے مندرجہ بالا مصرعہ تحریر میں آیا، روزنامہ جنگ لاہور کا ۱۷/فروری ۸۶ء کا شمارہ آن پہنچا، جس کی رُو سے برصغیر پاک و ہند کے ’’باب الاسلام‘‘ (یعنی سندھ) کے ایک اتنے معمر سیاستدان نے کہ اُنہیں بقول خود اُن کے سابق وزیراعظم بھٹو مرحوم کے ختنہ کی تقریب میں شرکت کا دعوت نامہ ملا تھا، کہا ہے کہ:
’’میں مطمئن ہوں کہ پاکستان صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا کیونکہ یہ نفرت کا گہوارہ بن چکا ہے.‘‘چنانچہ واقعہ یہی ہے کہ اِس وقت ہم ایک نہایت فیصلہ کن دوراہے کے عین سرے پر کھڑے ہیں. اور ہر صاحب بصیرت کو بچشم سر نظر آ رہا ہے کہ:

ایک جانب ہمارے قومی وملی وجود کا موجودہ دینی ومذہبی، دستوری و سیاسی اور اخلاقی و عملی ’’منظر‘‘ اور اُس کا چالیس سالہ ’’پس منظر‘‘ ہے جو بظاہر شیکسپئیر کے الفاظ 
(To Be or Not to be is the Question) ____ کے سوالیہ نشان کے ساتھ ایک عقدۂ لاینحل کی صورت (۱) قرآنی آیت کے حوالے کے لیے دیکھئے سورۂ اعراف آیت ۱۷۶اختیار کر چکا ہے. نتیجتاًملک و ملت بالکل اُس کیفیت میں نظر آ رہے ہیں، جس کا نقشہ سورۂ آل عمران کی آیت نمبر ۱۰۳ میں ان الفاظ میں کھینچا گیا ہے کہ وَکُنْتُمْ عَلٰی شَفَا حُفْرَۃٍ مِّنَ النَّارِ ’’تم لوگ آگ کے ایک گڑھے کے بالکل کنارے پر تھے.‘‘ اور بظاہر یہ محسوس ہو رہا ہے کہ ، خاکم بدہن، مکمل تباہی ہمارا مقدر بن چکی ہے.
دوسری جانب امت مسلمہ کی چودہ سو سالہ تاریخ کا طویل پس منظر اور اس کا بالخصوص گزشتہ چار سو سال کا معاملہ ہے، جس کے حوالے سے دل کی آنکھوں کے سامنے ایک نہایت روشن اور تابناک رُخ سامنے آتا ہے اور باطن کے کانوں سے نہ صرف ’’اللہ کی رحمت نیکو کاروں کے بہت قریب ہے.‘‘ 
(۱کا مژدہ سنائی دیتا ہے بلکہ ’’اللہ کی جانب سے مدد اور فتح قریب ہی ہے.‘‘ (۲کی نوید جانفزا بھی سنائی دیتی ہے.

تاہم یہ واضح رہنا چاہئے کہ جب کہ متذکرہ بالا تاریک رُخ کے منفی نتائج اپنی منطقی انتہا کو پہنچ چکے ہیں، جو ٹھوس واقعات کی صورت میں بالفعل موجود ہیں، روشن رخ کی حیثیت صرف ایک ’’موقع‘‘ کی ہے جو اگر گنوا دیا گیا تو 
’’اَلْوَقْتُ سَیْفٌ قَاطِعٌ‘‘ (وقت ایک تیز دھار تلوار ہے)کے مطابق پھرکبھی ہاتھ نہ آ سکے گا اور ملت اسلامیہ پاکستان وَالْعَصْرِm اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍm یعنی ’’تیزی سے گزرنے والا زمانہ گواہ ہے کہ انسان گھاٹے اور خسارے میں ہے!‘‘ کی مجسم تفسیر بن کر رہ جائے گی. اعاذنا اللہ من ذلک! 

اساسی عقدہ اور اُس کے منفی نتائج

جیسے کہ ہم اس سے قبل واضح کر چکے ہیں، ہمارے قومی اور ملی وجود کا اساسی عقدہ (Dilemma) تو یہ ہے کہ ہم نے پاکستان کی صورت میں ایک ایسا ملک قائم کیا ہے جس کی اساس واحدبلکہ واحد منطقی جواز صرف اور صرف ’’اسلام‘‘ ہے، چنانچہ ایک عوامی اسلامی جذبے کے سوا اِس کے استحکام کی کوئی دوسری ٹھوس اساس موجود نہیں ہے، لیکن اسلام کے ساتھ بحیثیت مجموعی ہمارے واقعی اور عملی تعلق کا حال حد درجہ (۱) اِنَّ رَحْمَۃَ اللّٰہِ قَرِیْبٌ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ (سورۃ الاعراف، آیت: ۵۶

(۲) نَصْرٌ مِّنَ الّٰلِہ وَفَتْحٌ قَرِیْبٌ. 
(سورۃ الصف، آیت: ۱۳مایوس کن بلکہ ؏ ’’ہر چند کہیں کہ ہے، نہیں ہے!‘‘

کا مصداق کامل ہے!____ تاہم اِس ایک جملے 
(Statement) سے نہ صورتِ حال کی پوری نزاکت اور ’’گھمبیرتا‘‘ کا احساس ہوتا ہے، نہ اُن منفی اثرات کا پورا اندازہ ہوتا ہے جو اس اساسی عقدے کے منطقی نتائج کے طور پر ہمارے قومی وملی وجود پر دینی و مذہبی، اخلاقی و عملی، دستوری و ریاستی اور سیاسی و انتظامی ہر اعتبار سے مرتب ہوئے ہیں، اِن میں سے بعض پر اس سلسلہ ٔ مضامین میں اِس سے قبل تفصیلی گفتگو ہو چکی ہے، بعض کا ذکر اس لیے نہیں کیا گیا کہ وہ زیر بحث موضوع کے دائرے سے براہِ راست متعلق نہ تھے. ذیل میں اُن سب کا ایک مختصر خاکہ دیا جا رہا ہے:

۱) ریاست کی سطح پر ہمارا حال یہ ہے کہ تاحال کوئی متفق علیہ دستور موجود نہیں ہے. آج سے دو اڑھائی سال قبل تک ملک کے اکثر سیاسی حلقے ۷۳ء کے دستور پر اتفاق کا اظہار کر رہے تھے، لیکن اوّلاً مارشل لاء کی طوالت اور پھر ایک فردِ واحد کے آمرانہ اقدامات نے، جن کی ابتداء ’’ریفرنڈم‘‘ نامی ڈھونگ سے ہوئی تھی، شدید ردّ عمل پیدا کر دیا ہے اور اب متعدد طاقتور اور مؤثر حلقے ایک نئی دستوریہ کے انتخاب اور نئے دستور کی تدوین کے مطالبے با براہِ راست کنفیڈریشن کے نعرے کے ساتھ میدان میں اتر چکے ہیں.

۲) سیاسی سطح پر فوج کی مسلسل ’’سرپرستانہ نگرانی‘‘ نے قوم کو بحیثیت مجموعی تا حال ’’نابالغ‘‘ بنایا ہوا ہے. چنانچہ عوامی سطح پر سیاسی شعور کا خوفناک حد تک فقدان ہے جس کے نتیجے میں ملک بھر میں کوئی ایک بھی ایسی قومی سیاسی جماعت موجود نہیں ہے جو ایک طرف خود منظم بھی ہو اور ملک گیر بھی، دوسری طرف قومی نقطۂ نظر بھی رکھتی ہو اور واضح نظریاتی اساس بھی، تیسری طرف ایک مضبوط اور باصلاحیت قیادت بھی رکھتی ہو اور مخلص اور بے نفس کارکنوں کی معتدبہ تعداد بھی، اور چوتھی جانب عوام میں قابل لحاظ حد تک پذیرائی بھی رکھتی ہو اور اثر و نفوذ بھی.

۳) معاشی سطح پر شدید افراطِ زر اور اِس سے پیدا شدہ ہولناک گرانی کا سامنا ہے. اور ؎

’’چہروں پہ جو سرخی نظر آتی ہے سرشام
یا غازہ ہے یا ساغر و مینا کی کرامات!‘‘

کے مصداق جو مصنوعی خوشحالی نظر آتی ہے وہ غیر ملکی قرضوں کے ہمالہ ایسے پہاڑ کی ’’کرامت‘‘ ہے جو سیاسی اور معاشی اعتبار سے انتہائی تباہ کن ہے یا ملک سے باہر کام کرنے والوں کی خون پسینے کی کمائی کی فوری اور عارضی ’’برکت‘‘ ہے، جو مآل کار کے اعتبار سے اخلاقی اور سماجی سطح پر سخت مضر اور نقصان دہ ہے. پھر وہ عارضی برکت بھی اب ختم ہوا چاہتی ہے جس سے فوری معاشی بحران کا خطرہ محسوس کیا جا رہا ہے. 
۴) قومی سطح پر ہمارا شیرازہ سخت پراگندگی کے علام میں ہے اور مختلف النوع نسلی (Ethnic) ، لسانی (Linguistic) اور علاقائی (Regional) عصبیتوں کے فروغ نے قومی یکجہتی کو شدید ضعف سے دو چار کر دیا ہے.
۵) نظریاتی سطح پر قوم کے ذہین عناصر اور تعلیم یافتہ طبقات میں مغربی افکار و نظریات سے پیدا شدہ مادہ پرستانہ اور ملحدانہ اندازِ فکر اور جدید تہذیب و ثقافت کا پروردہ اباحیت پسندانہ نقطۂ نظر تو پہلے ہی سے موجود تھا، اب اُس کی منطقی انتہا یعنی مارکسزم اور کمیونزم نے بھی ہماری نوجوان نسل کے ایک خاص بڑے حلقے میں قدم جما لیے ہیں.

۶) اخلاقی سطح پر قوم کا دیوالہ نکلا ہوا ہے اور اخلاقیات کی اسلامی اور ایمانی سطح تو درکنار، عام انسانی سطح پر بھی ہم اخلاق کے بہران 
(Moral Crisis) سے دو چار ہیں. اور جیسے کہ اِس سے قبل تفصیل سے عرض کیا جا چکا ہے، دراصل ہم بحیثیت قوم اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے وعدہ کی خلاف ورزی کی سزا اور پاداش کے طور پر ’’نفاقِ عملی‘‘ میں مبتلا ہو چکے ہیں.

۷) دینی سطح پر اسلام کے ساتھ عملی تعلق کے اعتبار سے ہم جس ؏ ’’ہر چند کہیں کہ ہے، نہیں ہے!‘‘

کی کیفیت سے دو چار ہو چکے ہیں اُس کی تفصیل تو پہلے آ چکی ہے، ایمان کے اعتبار سے بھی حالت انتہائی دگر گوں ہے. اِس لیے کہ عوام کی سطح پر تو ’’ایمان‘‘ بالعموم ایک عقیدہ 
(Dogma) کی ایسی پوٹلی کے مشابہ ہے جو ذہن کے کسی ایک کونے میں رکھی ہوئی ہو اور جس سے انسان کے اخلاقی رویے اور عملی اقدار (Value Structure) کا کوئی تعلق نہ ہو.اور خواص میں سے جدید تعلیم یافتہ لوگوں کی اکثریت یا باضابطہ الحاد (Atheism) کی شکار ہے یا کم از کم تشکک (Scepticism) اور لاادریت (Agnosticism) سے دو چار ہے، اور علمائِ دین کے حلقے میں ایک کثیر تعداد اُن علماء سوء کی موجود ہے جن کی عملی روش سے ہویدا حب دنیا، حب مال اور حب جاہ اُن کے ’‘ایمان‘‘ کی ناگفتہ بہ حالت کی غمازی کر رہی ہے، مزید برآں اُن کی پیدا کردہ فرقہ واریت کی ہولناکی روز بروز بڑھ رہی ہے اور قومی سطح پر تشتت و انتشار (Chaos) میں ایک مزید اور حد درجہ تشویشناک سمت (Dimension) کا اضافہ کر رہی ہے.

۸) داخلی احوال و کوائف کی ان تہہ برتہہ تاریکیوں ﷲ 
ظُلُمٰتٌ بَعْضُھَا فَوْقَ بَعْضٍ سورۂ نور آیت ۴۰ پر مستزاد ہیں. بین الاقوامی سیاست، خارجی تعلقات اور خاص طور پر اردگرد کے حالات اور اِس خطے کی علاقائی سیاست (Geo-Politics) کی شدید تشویشناک کیفیات جن کی بناء پر جو شدید خطرہ (Challenge) پاکستان کے وجود کو اِس وقت لاحق ہے وہ اِس سے قبل کبھی نہ ہوا تھا. اس لیے کہ اصلاً اپنی د اخلی کمزوریوں کے باعث اور ثانیاً بھارت کی پیدائشی دشمنی کی بناء پر ہم ایک سپر پاور کا سہارا لینے پر تو ہمیشہ ہی مجبور رہے ہیں. جس کے عین وقت پر دھوکہ دینے کا نہایت تلخ تجربہ ہمیں ۱۹۶۵ء تا۱۹۷۱ء ہو چکا ہے، تاہم ۱۹۷۹ء میں افغانستان میں روسی فوجوں کے داخلے کے بعد اُس نے ایک بار پھر ہمیں ’’ محاذ پر سینہ سپر ریاست‘‘ (Fron Line State) ____ کی حیثیت سے اہمیت دینی شروع کر دی تھی، اور اس میں ہرگز کوئی شک نہیں کہ ایک مرتبہ پھر امریکہ کے سابق سیکرٹری آف سٹیٹ مسٹر ڈلس کے نام سے معنون دور (Dulles Era) ____ کی یاد تازہ کر دی تھی. لیکن اب وہ صورت حال تبدیل ہو رہی ہے اور ایک جانب افغانستان کے مسئلے پر امریکہ اور روس کے مابین مفاہمت کے اندیشے نے ہمارے پائوں تلے کی زمین کو سرکانا اور کھسکانا شروع کر دیا ہے، تو دوسری جانب راجیوگاندھی کے برسراقتدار آنے کے بعد سے امریکہ نے بھارت کی خوشنودی حاصل کرنے کی جو سر توڑ کوشش شروع کی ہے اُس کی بناء پر ہمیں فی الواقع دن میں تارے نظر آنے لگے ہیں، اور بھارت کے سفارتی عہدیداروں اور سیکرٹریوں کے اندازِ تخاطب میں بھی ’’ایاز قدرِ خود بشناس!‘‘ کا سا انداز پیدا ہو چکا ہے.

الغرض! ’’عین پیری میں ہلال آسا کمر خم کھا گئی!‘‘ کے مصداق عین اُس وقت جب کہ خارجی حالات کے پیش نظر ہمیں کامل قومی یکجہتی و ہم آہنگی، بلند حوصلگی اور عالی ہمتی اور قوت عزیمت و مقاومت کی شدید ضرورت ہے، ملک و ملت کا داخلی منظر ؏ ’’دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا!‘‘

کا نقشہ پیش کر رہا ہے اور شدید اندیشہ ہے کہ مارشل لاء کے ’’خاتمے‘‘ (یا’’نیم خاتمے‘‘) پر جو سیاسی سرگرمی شروع ہوئی ہے وہ ایک دو ماہ تک گھمسان کے رن کی صورت اختیار کر لے گی اور اِس کے نتیجے میں ملک یا باضابطہ خانہ جنگی اورسول وار سے دو چار ہو جائے گا یا چوتھا مارشل لاء نا فذ ہو جائے گا، اور یہ دونوں ہی صورتیں ملک و قوم کے مستقبل کے اعتبار سے سخت خوفناک اور حد درجہ تباہ کن ہوں گی. 
اعاذنا اللّٰہُ مِنْ ذالِک! 

پاکستان کے بقا و استحکام کے لوازم

اِس پس منظر میں ہر صاحب فہم و شعور انسان لا محالہ اسی نتیجے تک پہنچے گا کہ ملک و ملت کے استحکام ہی نہیں بقا تک کے لیے حسب ذیل چیزیں ناگزیر اور لازمی ہیں:
۱) ایک ایسا طاقتور انسانی جذبہ جو جملہ حیوانی جبلتوں پر غالب آ جائے اور قوم کے افراد میں کسی مقصد کے لیے تن من لگا دینے حتیٰ کہ جان تک قربان کر دینے کا مضبوط ارادہ اور قوی داعیہ پیدا کر دے. 

۲) ایک ایسا ہمہ گیر نظر یہ جو افرادِ قوم کو ایک ایسے مضبوط ذہنی و فکری رشتے میں منسلک کر کے بنیانِ مرصوص بنا دے جو رنگ، نسل، زبان اور زمین کے تمام رشتوں پر حاوی ہو جائے اور اس طرح قومی یک جہتی اور ہم آہنگی کا ضامن بن جائے.

۳) عام انسانی سطح پر اخلاق کی تعمیر نو، جو صداقت، امانت، دیانت اور ایفاء عہد کی اساسات کو از سر نو مضبوط کر دے اور قومی و ملی زندگی کو رشوت، خیانت، ملاوٹ، جھوٹ، فریب، ناانصافی، جانبداری، ناجائز اقربا پروری اور وعدہ خلافی ایسی تباہ کن برائیوں سے پاک کر دے.

۴) ایک ایسا نظام عدل اجتماعی 
(System of Social Justice) جو مرد اور عورت، فرو اور ریاست اور سرمایہ اور محنت کے مابین عدل و اعتدال اور قسط و انصاف، اور فی الجملہ حقوق و فرائض کا صحیح و حسین توازن پیدا کر دے.
۵) ایک ایسی مخلص قیادت جس کے اپنے قول و فعل میں تضاد نہ آئے اور جس کے خلوص و اخلاص پر عوام اعتماد کر سکیں.

تحریک پاکستان کے تاریخی اور واقعاتی پس منظر، اور پاکستان میں بسنے والوں کی عظیم اکثریت کی فکری و جذباتی ساخت، دونوں کے اعتبار سے یہ بات بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ اِس ملک میں یہ تمام تقاضے صرف اور صرف دین و مذہب کے ذریعے اور اسلام کے حوالے اور ناتے سے پورے کیے جا سکتے ہیں، کیونکہ، جیسے کہ ہم ناقابل تردید دلائل اور شواہد سے ثابت کر چکے ہیں علامہ اقبال مرحوم کے حسب ذیل اشعار خواہِ اِس وقت دنیا کی کسی دوسری مسلمان قوم پر پوری طور پر صادق نہ آتے ہوں، ملت 
اسلامیہ پاکستان کے ضمن میں صد فی صد درست اور کمالِ صداقت و حقانیت کے مظہر ہیںکہ ؎

اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمیؐ !
اُن کی جمعیت کا ہے ملک و نسب پر انحصار
قوت مذہب سے مستحکم ہے جمعیت تری 
دامن دیں ہاتھ سے چھوٹا تو جمعیت کہاں؟
اور جمعیت ہوئی رخصت تو ملت بھی گئی!

پاکستان کی سالمیت کے خواہشمند لوگوں کو دعوتِ فکر

مرزا غالب کے اس شعر کے مصداق کہ ؎

’’تجھ سے تو کچھ کلام نہیں لیکن اے ندیم میرا سلام کہو اگر نامہ بر ملے!‘‘

ہمیں اِس مرحلے پر اُن لوگوں سے تو کچھ نہیں کہنا جو یا کسی حقیقی و واقعی یا مزعومہ و موہومہ ظلم اور زیادتی کے ردّ عمل کے طور پر پاکستان کو توڑنے کے درپے ہو گئے ہوں، یا کسی سبب سے اِس نتیجے پر پہنچ چکے ہوں کہ ؏ ’’مری تعمیر میں مضمرتھی ایک صورت خرابی کی!‘‘

کے مصداق پاکستان کا معرضِ وجود میں آنا ہی غلط تھا، لہٰذا اِسے بالفعل یا بالقوہ معدوم کر دینا ہی مناسب ہے. ایسے لوگوں سے گفتگو کا صغریٰ کبریٰ ظاہر ہے کہ مختلف ہو گا. سردست اُن سے صرفِ نظر کرتے ہوئے ہم اُن تمام لوگوں کو جو پاکستان کی بقا اور سالمیت کے دل سے خواہشمند ہوں، دعوت دیتے ہیں کہ پوری دیانت داری کے ساتھ اِمکانی حد تک غور کریں کہ آیا متذکرہ بالا پانچ اُمور پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لوازم ہیں یا نہیں؟ اور آیا اُن میں سے کوئی تقاضا بھی اسلام کے سوا کسی اور نظریے یا نظام کے حوالے سے پورا ہونے کا کوئی امکان ہے ؟؟
اِس ضمن میں حسب ذیل حقائق روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں:

۱) تحریک پاکستان سے قطع نظر کہ اُس کا تو نعرہ ہی یہ تھا کہ ’’پاکستان کا مطلب کیا؟ 
’’لا الہ الا اللہ!‘‘ پاکستان کی لگ بھگ چالیس سالہ تاریخ کے دوران میں بھی واقعہ یہ ہے کہ جو بھی عوامی تحریک اُٹھی صرف اور صرف دین و مذہب کے حوالے سے اٹھی. ۱۹۵۳ء اور ۱۹۷۴ء کی ختم نبوت کی تحریکیں تو اس کی ’’خالص‘‘ مثالیں ہیں ہی، ۷۱؍۱۹۷۰ء کی بھٹو صاحب کی عوامی تحریک کو بھی فی الواقع ’’عوامی‘‘ بننے کے لیے سوشلزم کو ’’مشرف بہ اسلام‘‘ کرنا پڑا تھا اور خالص مساوات کی بجائے ’’مساواتِ محمدیؐ ‘‘ کی اصطلاح استعمال کرنی پڑی تھی، جس کا شکوہ اب اُن کے بعض رفقاءِ کارکر رہے ہیں. پھر ۱۹۷۷ء کی ’’پاکستان قومی اتحاد‘‘ (P.N.A) کی تحریک بھی جو ابتداء ً خالص سیاسی اور جمہوری تھی ’’عوامی‘‘ تب ہی بنی تھی جب اُس نے ’’تحریک نظام مصطفی‘‘ کا عنوان اختیار کر لیا تھا.

اِس ضمن میں اگرچہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ گزشتہ (یا حالیہ؟) مارشل لاء نے اپنے ساڑھے آٹھ سالہ دور میں اِس جذبے کو مضمحل کرنے اور اس تلوار کو ’’کند‘‘ کرنے یا عوامی زبان میں اِس غبارے کی ہوا نکالنے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کی ہے لیکن اب بھی یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ پاکستان میں کوئی منفی اور یُخۡرِبُوۡنَ بُیُوۡتَہُمۡ بِاَیۡدِیۡہِمۡ (۱کے مصداق تخریبی تحریک تو کسی دوسری اساس پر اُٹھ سکتی ہے لیکن پاکستان کی سالمیت کو بطور اُصول موضوعہ تسلیم کرنے والی مثبت تعمیری تحریک سوائے مذہبی جذبے کے اور کسی بنیاد پر نہیں اُٹھ سکتی.

۲) یہی معاملہ ’’نظریہ جامعہ‘‘ کا ہے کہ پاکستان میں بسنے والوں کی عظیم اکثریت کو ایک بنیان مرصوص بنانے کی صلاحیت رکھنے والا ’’نظریہ‘‘ صرف اور صرف ’’ایمان‘‘ ہے، اِس لیے کہ ایک رشتہ اخوت ایمانی ہی ہے جو رنگ، نسل،زبان اور زمین کے تمام رشتوں سے بالا تر ہو کہ پاکستان کے مسلمانوں کو ایک ’’قوم‘‘ ہی نہیں، ایک امت بلکہ ایک ’’حزب‘‘ (پارٹی) بنا سکتا ہے اور پاکستان میں قومی یک جہتی اور ہم آہنگی کا ضامن بن سکتا ہے. یہ بات اِس سلسلہ مضامین میں تفصیل کے ساتھ عرض کی جا چکی ہے کہ یہاں کوئی نسلی یا لسانی عصبیت ایسی موجود ہی نہیں ہے جو کل پاکستان سطح پر بروئے کار آ سکے.

یہاں یہ وضاحت بھی نامناسب نہ ہو گی کہ الحمد للہ کہ پاکستانی قوم عمل کے اعتبار سے خواہ کتنی ہی تہی دامن اور کوتاہ دست کیوں نہ ہو، اسی طرح فقہ کی جزئیات میں اُن کے مابین خواہ کتنا ہی اختلاف کیوں نہ ہو، جہاں تک اساسی نظریے یعنی ایمان کا تعلق ہے اُس کے ضمن میں اختلاف بھی نہ ہونے کے برابر ہے، اور خصوصاً اُس کے منبع و سرچشمہ یعنی قرآنِ حکیم کے متن کے ضمن میں توسِرے سے 
(۱) سورۂ حشر آیت نبر۲. ترجمہ: ’’اپنے گھروں کو اپنے ہاتھوں سے ڈھاتے ہوئے.‘‘ کوئی اختلاف ہے ہی نہیں. یہی وجہ ہے کہ سورۂ آل عمران کی آیت نمبر ۱۰۳ جس کا حوالہ اِسی باب میں پہلے بھی آ چکا ہے، مسلمانوں کو جس ’’حبل اللہ‘‘ یعنی اللہ کی رسی کو تھامنے کی تاکید کرتی ہے، (۱اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد احادیث مبارکہ میں صراحت فرما دی ہے کہ وہ قرآن حکیم ہے. چنانچہ اِسی حقیقت کو علامہ اقبال مرحوم نے اِن الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ ؎

’’ازیک آئینی مسلماں زندہ است پیکر ملت زِ قرآں زندہ است!
ماہمہ خاک و دل آگاہ اُوست اعتصامش کن کہ حبل اللہ اوست‘‘
(۲

۳) اِسی طرح مسلمانوں کے بارے میں یہ حقیقت بالکل قطعی اور حمتی ہے کہ اخلاقیات کے ضمن میں اُن کے یہاں علم وظائف الاعضاء 
(Physiology) کا ’’سب کچھ یا کچھ نہیں والا قانون‘‘ (All or None Alaw) کار فرما ہے، یعنی یہاں کسی قوم پرستانہ (Nationalistic) ، یا مصلحت پرستانہ (Utilitarian) ، یا مسرت پسندانہ (Hedonistic) اساس پربنیادی انسانی اخلاقیات کی تعمیر بھی بالفعل ممکن نہیں ہے اِس لیے کہ یہاں اخلاق کی واحد ممکن اساس ’’ایمان‘‘ ہے. وہ اگربالفعل موجود ہو گا تو عام انسانی ہی نہیں اِسلامی اور ایمانی اخلاق عالیہ بھی وجود میں آ جائیں گے بلکہ روحانیت کی بلند ترین منزلیں بھی تعمیر ہو جائیں گی، اور اگر وہ موجود نہیں ہوگا یا نہایت کمزور اور ضعیف ہو گا تو کسی دوسری اساس پر بنیادی انسانی اخلاق بھی وجود میں نہ آ سکیں گے.

۴) یہ بات البتہ تفصیل طلب ہے کہ وہ واحد نظامِ زندگی جو ایک جانب افراد کی سیرت و کردار کی تعمیر کے لیے مناسب فضا فراہم کر سکتا ہو اور دوسری طرف فرد بمقابلہ معاشرہ و ریاست، مرد بمقابلہ عورت، اور سرمایہ بمقالہ محنت ہر سطح پر اور جہت سی عدل و قسط پر مبنی ہو اور سب کے مابین حقوق و فرائض 
(۱) وَ اعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰہِ جَمِیۡعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوۡا ۪ 

’’سب مل جل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں مبتلا ہو.‘‘

(۲) یعنی مسلمانوں کی حیات ملی کا راز یہی ہے کہ وہ ایک آئین پر متفق ہیں، گویا پیکر ملت کے لیے رُوحِ حیات قرآنِ حکیم ہے. ہم تمام مسلمان تو دراصل پیکر خاکی کی حیثیت رکھتے ہیں جس میں دھڑکنے والے دِل کی حیثیت قرآن کی ہے. لہٰذا اے مسلمان! اُسے مضبوطی سے تھام لے، اِس لیے کہ ’’حبل اللہ‘‘ یعنی اللہ کی مضبوط رسی وہی ہے. (اس ضمن میں قائداعظم مرحوم کے یہ الفاظ بھی یاد رکھنے کے قابل ہیں کہ ’’ہمارا ’’آئین‘‘ چودہ سو سال قبل طے ہو گیا تھا.‘‘). 
کے عادلانہ توازن کا ضامن بن سکتا ہو، اللہ کے عطا کردہ ’’دین حق‘‘ کے سوا اور کوئی نہیں ہے اور اگرچہ اِس دعویٰ کی حقانیت کے تفصیلی دلائل و شواہد اِس تحریر کے دائرہ بحث سے خارج ہیں، تاہم موضوع زیر بحث کے اعتبار سے یہ حقیقت اہمیت کی حامل ہے کہ پاکستان کی مسلمان قوم کے طبقہ متوسط میں،جو کسی قوم کی اصل ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، ایسے لوگوں کی تعداد بحمد اللہ بہت کثیر ہے، جو دل و دماغ کے متفقہ فیصلے کے ساتھ اس کے شدت کے ساتھ قائل ہیں اور یہ چیز کسی اسلامی انقلابی جدوجہد کے آغاز کے لیے یقینا ابتدائی سرمایہ (Initial Capital) کی حیثیت رکھتی ہے.

۵) گویا ؏ ’’کافر نتوانی شد ناچار مسلمان شو!‘‘

کے مصداق ہمارے قومی و ملی وجود کے جملہ عوارض و امراض کے ازالے اور معالجے، اور پاکستان کے بقا و استحکام کے لیے جو امور لازمی اور ناگزیر ہیں وہ سب کے سب ایک ہی سمت میں اشارہ کر رہے ہیں اور وہ ہے ’’اسلامی انقلاب‘‘ کی سمت. البتہ ایک قیادت کا مسئلہ ایسا ہے جو بظاہر ’’ٹیڑھی کھیر‘‘ بھی نظر آتا ہے اور بلی کی گردن میں گھنٹی باندھنے کے مترادف بھی محسوس ہوتا ہے. اِس لیے کہ اسلامی انقلاب کے لیے لامحالہ ایک ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو ایک جانب مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علمائِ حق کا اِعتماد حاصل کر سکے. دوسری جانب جدید تعلیم یافتہ لوگوں کو بھی مطمئن کر سکے اور تیسری جانب عوام میں بھی مقبولیت حاصل کر سکے، اور فی الوقت بظاہر احوال جو کچھ نظر آ رہا ہے، وہ یہ ہے کہ ؎

’’نشانِ راہ دکھاتے تھے جو ستاروں کو
ترس گئے ہیں کسی مرد راہ داں کے لیے!‘‘

کے مصداق شاید امت مسلمہ کی کوکھ ایسے سپوتوں کے اعتبار سے بانجھ ہو گئی ہے تاہم نوید قرآنی: 

اِعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ یُحۡیِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا ؕ 

’’جان لو کہ اللہ زمین کو مردہ ہو جانے کے بعد زندہ کر دیتا ہے.‘‘ 
(سورہ ٔحدید، آیت: ۱۷

کی رو سے اُمید رکھنی چاہے کہ امت کی سوکھی کوکھ بھی از سر نو ہری ہو سکتی ہے. بہرحال اس ضمن میں یہ بات واضح رہنی چاہئے کہ ایسی قیادت نہ آسمان سے نازل ہو گی نہ ہی کہیں سے ’’درآمد‘‘ کی جا سکتی ہے، بلکہ اُس کے وجود میں آنے کی واحد صورت یہی ہے کہ اللہ کے بھروسے پر ایک اسلامی انقلابی جدوجہد کا آغاز کر دیا جائے، اگر اللہ کو منظور ہوا تو اِسی جدوجہد کے دَوران وہ قیادت بھی اُبھر کر سامنے آ جائے گی اور اُسے عوام و خواص سب کا اعتماد بھی حاصل ہو جائے گا. 

کامیابی کی اصل ضمانت

اِس جدوجہد کی کامیابی کی اصل ضمانت وہ حقیقت ہے جو ہم ’’تصویر کا روشن رُخ‘‘ اور بالخصوص ’’اسلام کی نشاۃ ثانیہ اور پاکستان‘‘ کے عنوان کے تحت عرض کر چکے ہیں، یعنی یہ کہ پاکستان میں اسلامی انقلاب کی جدوجہد ارادۂ خداوندی کے ساتھ ہم آہنگی، تدبیر الٰہی کے ساتھ سازگاری اور بقول علامہ اقبال ؔ مرحوم ’’فطرت کے مقاصد کی نگہبانی‘‘ کے مترادف ہو گی. اِس صورت میں مندرجہ ذیل حدیث قدسی کے مطابق اُس جدوجہد کو اللہ تعالیٰ کی نصرت و تائید لازماً حاصل ہو گی اور وہ کیفیت پیدا ہو کر رہے گی کہ ؏ ’’ہاتھ ہے اللہ کا بندۂ مومن کا ہاتھ!‘‘
’’میرا بندہ مجھ سے نوافل کے ذریعے قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اُس سے محبت کرنے لگتا ہوں اور جب میں اُس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو میں اُس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اور اُس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اور اُس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اور اُس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے.‘‘ 
(بخاریؒ ، عن ابی ہریرہ ؓ ) 

تاہم اس جدوجہد میں اپنے آپ کو کھپانے کا عزم رکھنے والوں کو کامیابی کی اصل ضمانت صرف اپنے خلوص و اخلاص اور اس جدوجہد میں اپنی استقامت کو سمجھنا چاہئے، اس لیے کہ اسلامی انقلابی جدوجہد وہ واحد جدوجہد ہے جس میں شریک افراد کے لیے ناکامی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، کیونکہ بالفرض اجتماعی سطح پر اُس تحریک کی کامیابی سردست اللہ کی حکمت میں نہ ہو تب بھی ؎

’’شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن نہ مال غنیمت، نہ کشور کشائی!‘‘

کے مصداق اُن کا اصل مقصود تو شہادت علی الناس کے فریضے کی ادائیگی اور شہادت کی موت کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا. 
اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ! 

اگلا سوال: ہماری اب تک کی کل گزارشات کا لب لباب اور حاصل کلام صرف یہ ایک جملہ ہے کہ: 

’’پاکستان کے استحکام کا واحد ذریعہ اسلامی انقلاب ہے!‘‘ 

اور اسی پر ہم اس کتاب کو ختم کر رہے ہیں. 
اِس مرحلے پر ایک نہایت اہم اور بنیادی سوال یہ سامنے آتا ہے کہ وہ اسلامی انقلاب کیسے آئے گا؟اُس کے اساسی لوازم کیا ہیں؟ بنیادی طریق کار کیا ہے؟ ابتدائی مراحل کیا ہیں؟ اور تکمیلی اقدامات کیا ہوں گے؟

بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اِن امور کی بھی تفصیلی وضاحت کی ضرورت ہے کہ اسلامی انقلاب سے مراد کیا ہے؟ اور اِس کے نتیجے میں جو سماجی، معاشی اور سیاسی نظام وجود میں آئے گا اُس کے اہم خدوخال کیا ہوں گے؟

چنانچہ 
پاکستان میں اسلامی انقلاب : کیا اور کیسے؟ کے موضوع پر راقم الحروف ان شاء اللہ جلد ہی اپنی دوسری تالیف کا آغاز کر دے گا.

وما توفیقی الا باللہ العلی العظیم!! 
خاکسار اسرار احمد عفی عنہ
لاہور: ۱۷ فروری ۸۶ء
ڈاکٹر اسرار احمد
اپریل ۲۰۱۹
پیش نظرتالیف جن تحریروں پر مشتمل ہے وہ حیطۂ تحریر میں تو ۱۹۸۵ ءمیں آ ئیں لیکن کتابی صورت میں پہلی مرتبہ ۱۹۸۶ء اور چھٹی مرتبہ ۱۹۹۹ء میں شا ئع ہوئیں.