اسلام ‘ایمان اور احسان (۱)

حدیث ِ جبرائیل ؑ کی روشنی میں

۸جون۲۰۰۷ء کا خطابِ جمعہ
خطبہ ٔ‘مسنونہ کے بعد: 

اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ 

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اٰمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ الۡکِتٰبِ الَّذِیۡ نَزَّلَ عَلٰی رَسُوۡلِہٖ وَ الۡکِتٰبِ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ مِنۡ قَبۡلُ ؕ 
(النسائ:۱۳۶
لَیۡسَ عَلَی الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیۡمَا طَعِمُوۡۤا اِذَا مَا اتَّقَوۡا وَّ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوۡا وَّ اٰمَنُوۡا ثُمَّ اتَّقَوۡا وَّ اَحۡسَنُوۡا ؕ وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿٪۹۳﴾ 
(المائدۃ) 
قَالَتِ الۡاَعۡرَابُ اٰمَنَّا ؕ قُلۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا وَ لٰکِنۡ قُوۡلُوۡۤا اَسۡلَمۡنَا وَ لَمَّا یَدۡخُلِ الۡاِیۡمَانُ فِیۡ قُلُوۡبِکُمۡ ؕ 
(الحُجُرٰت:۱۴
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : 

بَیْنَمَا نَحْنُ جُلُوْسٌ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ  ذَاتَ یَوْمٍ اِذْ طَلَعَ عَلَیْنَا رَجُلٌ شَدِیْدُ بَیَاضِ الثِّیَابِ شَدِیْدُ سَوَادِ الشَّعْرِ لَا یُرٰی عَلَیْہِ اَثَرُ السَّفَرِ وَلَا یَعْرِفُہٗ مِنَّا اَحَدٌ‘ حَتّٰی جَلَسَ اِلَی النَّبِیِّ  فَاَسْنَدَ رُکْبَتَیْہِ اِلٰی رُکْبَتَیْہِ وَوَضَعَ کَفَّیْہِ عَلٰی فَخِذَیْہِ ‘ وَقَالَ : یَا مُحَمَّدُ اَخْبِرْنِیْ عَنِ الْاِسْلَامِ! فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ  :
 اَلْاِسْلَامُ اَنْ تَشْھَدَ اَنْ لاَّ اِلٰــــہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ‘ وَتُقِیْمَ الصَّلَاۃَ‘ وَتُؤْتِیَ الزَّکَاۃَ‘ وَتَصُوْمَ رَمَضَانَ‘ وَتَحُجَّ الْبَیْتَ اِنِ اسْتَطَعْتَاِلَیْہِ سَبِیْلًا قَالَ : صَدَقْتَ‘ قَالَ : فَعَجِبْنَا لَــہٗ یَسْاَلُہٗ وَیُصَدِّقُہٗ‘ قَالَ : فَاَخْبِرْنِیْ عَنِ الْاِیْمَانِ! قَالَ : اَنْ تُؤْمِنَ بِاللّٰہِ‘ وَمَلَائِکَتِہٖ ‘ وَکُتُبِہٖ ‘ وَرُسُلِہٖ ‘ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ‘ وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَیْرِہٖ وَشَرِّہٖ قَالَ: صَدَقْتَ‘ قَالَ: فَاَخْبِرْنِیْ عَنِ الْاِحْسَانِ! قَالَ: اَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَاَنَّکَ تَرَاہُ ‘ فَاِنْ لَمْ تَــکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہٗ یَرَاکَ قَالَ : فَاَخْبِرْنِیْ عَنِ السَّاعَۃِ! قَالَ : مَا الْمَسْئُوْلُ عَنْھَا بِاَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ قَالَ : فَاَخْبِرْنِیْ عَنْ اَمَارَاتِھَا! قَالَ : اَنْ تَلِدَ الْاَمَۃُ رَبَّـتَھَا‘ وَاَنْ تَرَی الْحُفَاۃَ الْعُرَاۃَ الْعَالَۃَ رِعَائَ الشَّائِ یَتَطَاوَلُوْنَ فِی الْبُنْیَانِ ثُمَّ انْطَلَقَ‘ فَلَبِثْتُ مَلِیًّا ثُمَّ قَالَ لِیْ: یَا عُمَرُ اَتَدْرِیْ مَنِ السَّائِلُ؟ قُلْتُ : اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ‘ قَالَ : فَاِنَّہٗ جِبْرِیْلُ‘ اَتَاکُمْ یُعَلِّمُکُمْ دِیْـنَـکُمْ (رواہ مسلم) 

آج جو حدیث ہمارے زیر مطالعہ ہے اور جس کا متن میں نے آپ کو پڑھ کر سنایا ہے ‘اس کو ’’حدیث ِجبرائیل‘‘ کہا جاتا ہے اور اسے 
’’اُمّ السنۃ‘‘ قرار دیا گیا ہے‘ یعنی سنت کی جڑاوربنیاد. جیسے سورۃ الفاتحہ کو ’’اُمّ القرآن‘‘ قرار دیا گیا ہے‘ یعنی قرآن مجید کے فلسفہ و حکمت کی جڑ اور بنیاد .اس حدیث کی عظمت کو عہد ِحاضر میں دو اشخاص نے پورے طو رپر پہچانا ہے‘ ان میں سے ایک سفید فام امریکی William C.Chittick اوردوسری اس کی جاپانی بیوی Sachiko Murata ہے . ان کے بارے میں ابھی تک کوئی اطلاع نہیں ہے کہ انہوں نے اسلام قبول کر لیا ہے یا نہیں‘ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ وہ ذہناً اور قلباًمسلمان ہیں اگرچہ انہوں نے اعلان نہ کیا ہو. اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ انہوں نے اسلام قبول کر لیا ہو‘ کیونکہ ہماری معلومات کا دائرہ اتنا وسیع نہیں ہے. واللہ اعلم! ان دونوں نے انتہائی گہرے مطالعے کے بعد اِس حدیث کی روشنی میں ایک کتاب شائع کی ہے جس کا عنوان ہے : "Vision of Islam" یہ کتاب تقریباً ڈھائی تین سو صفحات پرمشتمل ہے.ہمارے ہاں بھی یہ کتاب سہیل اکیڈمی لاہور نے شائعکی ہے جو بازار میں دستیاب ہے.جو لوگ علمی ذوق رکھتے ہوں وہ اسے حاصل کر کے پڑھیں.

یہ حدیث احادیث کی پانچ کتابوں میں ہے اور پانچ ہی صحابہؓ سے منقول ہے‘ یعنی 
حضراتِ عمر بن خطاب‘ ابوہریرہ‘ عبداللہ بن عباس‘ عبداللہ بن عمر اور ابوعامررضی اللہ عنہم اجمعین. یہ حدیث حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہماسے چار طرق سے مروی ہے. ان میں سے جو متفق علیہ روایت ہے وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہسے مروی روایت ہے‘ لیکن جو مقبول ترین روایت ہے‘ جس کا متن اوپر پیش کیا گیا ہے‘ یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور صحیح مسلم (کتاب الایمان ‘باب بیان الایمان والاسلام والاحسان )میں ہے.

مراتب میں تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین برابر نہیں تھے‘ سب کے اپنے اپنے مراتب تھے. کچھ صحابہؓ ‘ کو فقہائے صحابہ کہا جاتا تھا‘ اس لیے کہ وہ فہم ِدین میں دوسروں سے زیادہ مرتبہ رکھتے تھے. ان میں حضرت عمر رضی اللہ عنہچوٹی کے مقام پر ہیں. اسی طرح حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمابھی چوٹی کے فقہاءِ صحابہؓ میں شمار ہوتے ہیں.ان صحابہؓ سے مروی احادیث کو زیادہ اہمیت دی گئی ہے.

اس پر اتفاق ہے کہ یہ واقعہ جو اِس حدیث مبارک میں بیان ہو رہا ہے‘ یہ رسول‘اللہ کی زندگی کے آخری ایام میں پیش آیا ہے. فتح الباری اور عمدۃ القاری دونوں میں ہے کہ یہ آپؐ کی زندگی کے آخری دنوںکاواقعہ ہے. مولانا بدرِ عالم میرٹھی مہاجر مدنی نے‘ جن کا انتقال مدینہ منورہ میں ہوا‘ اس حدیث کے تمام طرق اپنی کتاب 
’’ترجمان السنۃ‘‘ میں تفصیلاً بیان کیے ہیں. اس حدیث میں جو واقعہ بیان ہوا ہے وہ اصل میں تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے‘ لیکن واقعہ کی تفصیلات کے ضمن میں کچھ مزید پہلو دوسری روایات میں آئے ہیں اور وہ بھی یہاں بیان کیے جائیں گے. ان میں یقینا متن کے الفاظ میں بھی کچھ فرق ہے‘ لیکن واقعاتی تفصیل میں کچھ زیادہ فرق ہے. قرآن اور حدیث میں بنیادی فرق میں بارہا بیان کر چکا ہوں کہ قرآن وحی‘ٔ جلی پر مشتمل ہے اور وحی باللفظ ہے‘ یعنی الفاظ اللہ تعالیٰ کے ہیں جبکہ حدیث ِنبوی ؐ ‘بھی اگرچہ وحی پر مبنی ہے لیکن وحی ٔ خفی ہے. اس کے الفاظ متفق علیہ اور محفوظ نہیں ہیں. اس لیے کہ راویوں کے بیان میں لفظی طور پر فرق واقع ہو جاتا ہے. اس کی سادہ سی مثال ہے کہ آپ کسی محفل میں چند جملے بولیے اور پھر تھوڑی دیر بعد حاضرین ِمحفل سے پوچھئے کہ میں نے کیا کہا تھا‘ تو ہر ایک کے بیان میں کچھ نہ کچھ فرق واقع ہو جائے گا. البتہ حدیث اپنی روح‘ اپنے ہدف اور مضمون کے اعتبار سے متفق علیہ ہے‘ اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے.

اب ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی اس روایت کا سلسلہ وار مطالعہ کرتے ہیں. اسے پڑھتے ہوئے اگر ہم اپنے آپ کو اُس ماحول کا حصہ سمجھیں تو اس واقعے کو چشم ِتصور سے دیکھ سکتے ہیں. حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: 
بَیْنَمَا نَحْنُ جُلُوْسٌ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ  ذَاتَ یَوْمٍ ’’اس اثنا میں کہ ایک دن ہم رسول اللہ کے پاس بیٹھے تھے‘‘. اِذْ طَلَعَ عَلَیْنَا رَجُلٌ شَدِیْدُ بَیَاضِ الثِّیَابِ‘ شَدِیْدُ سَوَادِ الشَّعْرِ ’’کہ اچانک ایک شخص نمودار ہوا. اس کے کپڑے انتہائی سفید اور اس کے بال انتہائی سیاہ تھے (میل اور گرد و غبار کے کوئی آثار نہیں تھے) ‘‘. ایک روایت میں حَسَنُ الْوَجْہِ ’’نہایت خوبصورت انسان‘‘کے الفاظ بھی ہیں. لوگوں نے اُس وقت سوچا ہو گا کہ یہ کون ہیں؟ لَا یُرٰی عَلَیْہِ اَثَرُ السَّفَرِ ’’اس شخص پر سفر کے کوئی آثار نہیں تھے‘‘.اگر وہ باہر سے آیا ہوتا تو اُس کے کپڑے گرد آلود ہوتے‘ بالوں میں کچھ غبار ہوتا. تو معلوم ہوا کہ یہ باہر سے نہیں آیا ہے. وَلَا یَعْرِفُہٗ مِنَّا اَحَدٌ ’’اور ہم میں سے کوئی اسے پہچانتا بھی نہیں تھا‘‘. ایک روایت میں اضافہ ہے: فَنَظَرَ الْقَوْمُ بَعْضُھُمْ اِلٰی بَعْضٍ ’’تو لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے‘‘. گویا اشاروں سے ہی ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہ یہ کون ہیں؟ تو معلوم ہوا کہ پوری مجلس میں ان کا کوئی شناسا نہیں. اگر وہ شخص کسی کے ہاں مہمان آیا ہوتا تو وہ میزبان اشارہ کر کے کہہ دیتے کہ یہ میرے مہمان ہیں‘ اور اگر براہِ راست آئے ہوتے تو ان کے بالوں اور کپڑوں پر سفر کے کچھ آثار ہوتے. ایک روایت میں ہے کہ’’ ان کی داڑھی کے بال نہایت سیاہ تھے‘‘ .عام بالوں کی بجائے داڑھی کے بالوں کے تذکرے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ عام طور پر عرب اپنے سر کو ڈھانپے ہوئے رکھتے تھے.اس لیے اس شخصیت کے داڑھی کے بالوں کا تذکرہ ہے کہ وہ انتہائی سیاہ تھے. 

حَتّٰی جَلَسَ اِلَی النَّبِیِّ  
’’یہاں تک کہ وہ نبی اکرم کے پاس آبیٹھا‘‘. ایک روایت میں ہے : قَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ آتِیْکَ؟ ’’ اُس نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا میں حاضر ہو جاؤں؟‘‘ قَالَ:نَـعَمْ ’’آپؐ نے فرمایا:’’ہاں آؤ‘‘. بلکہ اس روایت میں ہے کہ آپؐ نے لوگوں سے کہا : اَدِّنُوْہُ ’’اسے قریب آنے دو‘‘. تو معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ کے حکم سے مجمع چھٹ گیا ہو گااور راستہ بن گیا ہو گا‘ لہٰذا وہ تیر کی طرح سیدھا آیا اور آپؐ کے سامنے آ کر بیٹھ گیا. فَاَسْنَدَ رُکْبَتَیْہِ اِلٰی رُکْبَتَیْہِ ’’پس اس نے اپنے دونوں گھٹنے رسول اللہ کے دونوں گھٹنوں سے ملا دیے‘‘. آنجناب بھی دوزانو تشریف فرما ہوں گے اور وہ بھی دو زانو ہو گئے ‘لہٰذا دونوں کے گھٹنے ایک دوسرے کو چھونے لگے. وَوَضَعَ کَفَّیْہِ عَلٰی فَخِذَیْہِ. اس جزو کے دو ترجمے ہو سکتے ہیں‘ یعنی ’’اُس نے اپنی دونوں ہتھیلیاں اپنے زانوؤں پر رکھ دیں‘‘ یا ’’اُس نے اپنی دونوں ہتھیلیاں آنحضور کے دونوںزانوؤں پر رکھ دیں‘‘. اس لیے کہ فَخِذَیْہِ میں ضمیر ’’ہُ‘‘ دونوں طرف ہو سکتی ہے. لیکن ایک دوسری روایت میں وضاحت ہے: عَلٰی رُکْبَتَیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ’’اس نے اپنی دونوں ہتھیلیاں رسول اللہ کے گھٹنوں پر رکھ دیں‘‘. وَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ ’’اور اس نے کہا: اے محمد( )‘‘. ایک روایت میں ’’ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ‘‘ کے الفاظ ہیں کہ اُس نے کہا: ’’اے اللہ کے رسول!‘‘ اَخْبِرْنِیْ عَنِ الْاِسْلَامِ ’’مجھے اسلام کے بارے میں بتایئے!‘‘ ایک روایت میں ہے: حَدِّثْنِیْ عَنِ الْاِسْلَامِ یا حَدِّثْنِیْ بِالْاِسْلَامِ ’’میرے لیے بیان فرمایئے کہ اسلام کیا ہے!‘‘ 

فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ  :
 اَلْاِسْلَامُ اَنْ تَشْھَدَ اَنْ لاَّ اِلٰــــہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ‘ وَتُقِیْمَ الصَّلَاۃَ‘ وَتُؤْتِیَ الزَّکَاۃَ‘ وَتَصُوْمَ رَمَضَانَ‘ وَتَحُجَّ الْبَیْتَ اِنِ اسْتَطَعْتَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا ’’تورسول اللہ نے فرمایا :اسلام یہ ہے کہ تو گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ( ) اللہ کے رسول ہیں‘ اور تو نماز قائم کرے‘ زکوٰۃ ادا کرے‘ رمضان کے روزے رکھے اور بیت اللہ کا حج کرے اگر تجھے اس کے لیے سفر کی استطاعت ہو‘‘. قَالَ : صَدَقْتَ ’’اُس شخص نے کہا :آپؐ نے درست فرمایا‘‘. فَعَجِبْـنَا لَــہٗ یَسْاَلُـہٗ وَیُصَدِّقُـہٗ ’’توہمیں تعجب ہوا اُس شخص پر کہ رسول اللہ سے سوال کرنے کے ساتھ ساتھ تصدیق بھی کر رہاہے!‘‘ یہ انداز تو استاد کا ہوتا ہے کہ شاگرد سے سوال پوچھتا ہے‘ اور اگر وہ درست جواب بتائے تو اُس کی تصدیق کرتا ہے‘ اسے شاباش دیتا ہے. لیکن صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین خاموش رہے اور سمجھ گئے کہ اس معاملے میں آپؐ کی اجازت شامل ہے. 
قَالَ : فَاَخْبِرْنِیْ عَنِ الْاِیْمَانِ 
’’پھر اُس نے کہا کہ اب مجھے بتایئے کہ ایمان کیا ہے!‘‘ قَالَ : اَنْ تُــؤْمِنَ بِاللّٰہِ‘ وَمَلَائِکَتِہٖ ‘ وَکُتُبِہٖ‘ وَرُسُلِہٖ‘ وَالْـیَوْمِ الْآخِرِ‘ وَتُـؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَیْرِہٖ وَشَرِّہٖ ’’رسول اللہ نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تو یقین رکھے اللہ پر‘ اُس کے فرشتوں پر ‘اُس کی کتابوں پر ‘اُس کے رسولوں پر ‘قیامت کے دن پر اور اچھی بری تقدیر پر (کہ جو خیر یا شر کسی پر وارد ہوتا ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے)‘‘. قَالَ: صَدَقْتَ ’’وہ شخص بولا :آپ( )نے ٹھیک فرمایا.‘‘ 

قَالَ: فَاَخْبِرْنِیْ عَنِ الْاِحْسَانِ 
’’پھر اس نے کہا کہ مجھے احسان کے بارے میں بتایئے‘‘. قَالَ: اَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَاَنَّکَ تَرَاہُ ‘ فَاِنْ لَمْ تَــکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہٗ یَرَاکَ ’’آپؐ نے فرمایا:(احسان یہ ہے ) کہ تم اس کیفیت میں اللہ کی بندگی کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو . پس اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے (یہ کیفیت پیدا نہیں ہو رہی) تو (یہ کیفیت تو پیدا ہو کہ) وہ تمہیں دیکھ رہا ہے‘‘. ایک روایت میں اَنْ تَخْشَی اللّٰہَ تَعَالٰی ’’کہ تو اللہ تعالیٰ سے ڈرے‘‘ اور ایک روایت میں اَنْ تَعْمَلَ لِلّٰہِ ’’کہ تو عمل کرے اللہ کے لیے (یا محنت کرے اللہ کے لیے) کے الفاظ آئے ہیں.‘‘ 

قَالَ : فَاَخْبِرْنِیْ عَنِ السَّاعَۃِ 
’’(پھر) اس نے کہا: مجھے قیامت کے بارے میں بتایئے‘‘. قَالَ : مَا الْمَسْئُوْلُ عَنْھَا بِاَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ! ’’رسول اللہ نے فرمایا: جس سے (قیامت کے بارے میں) پوچھا جا رہا ہے وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا ‘‘. ایک روایت میں آتا ہے کہ آپ نے فرمایا: فِیْ خَمْسٍ مِنَ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُھُنَّ اِلاَّ ھُوَ ’’یہ غیب کی ان پانچ چیزوں میں سے ہے جن کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں‘‘اور پھر رسول اللہ نے سورۂ لقمان کی آخری آیت تلاوت کی : اِنَّ اللّٰہَ عِنۡدَہٗ عِلۡمُ السَّاعَۃِ ۚ وَ یُنَزِّلُ الۡغَیۡثَ ۚ وَ یَعۡلَمُ مَا فِی الۡاَرۡحَامِ ؕ وَ مَا تَدۡرِیۡ نَفۡسٌ مَّاذَا تَکۡسِبُ غَدًا ؕ وَ مَا تَدۡرِیۡ نَفۡسٌۢ بِاَیِّ اَرۡضٍ تَمُوۡتُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌ خَبِیۡرٌ ﴿٪۳۴﴾ 
’’بے شک اللہ تعالیٰ ہی ہے جس کے پاس قیامت کا علم ہے (کہ وہ کب آئے گی). اور وہی بارش برساتا ہے‘ اور وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے پیٹوں میں کیا ہے. اور کسی انسان کو یہ معلوم نہیں کہ وہ کل کیا کمائی کرے گا . اور (اسی طرح) کسی کو یہ معلوم نہیں ہے کہ اس کی موت کس جگہ واقع ہو گی. بے شک اللہ ہی ہر چیز کا علم رکھنے والا (اور ) ہرشے سے باخبر ہے.‘‘ 

قَالَ : فَاَخْبِرْنِیْ عَنْ اَمَارَاتِھَا؟ 
’’اُس شخص نے پوچھا: تو مجھے اس کی نشانیاں بتا دیجیے!‘‘ قَالَ : اَنْ تَلِدَ الْاَمَۃُ رَبَّتَھَا ’’آپ نے فرمایا:(جب تم دیکھو) کہ لونڈی اپنی مالکہ کو جنے ‘‘.اکثر کے نزدیک اس کا مفہوم یہ ہے کہ اولاد سرکش ہو جائے گی. بیٹیاں جوعام طور پر اپنے والدین کا زیادہ ادب کرنے والی ہوتی ہیں‘ والدین کے سامنے اپنی آوازوں کو پست رکھتی ہیں‘ ان کا حال یہ ہوجائے گا گویا اپنی ماؤں کی مالکہ ہیں ‘ مائیں ان سے ڈریں گی کہ ان کی کسی غلط بات پر انہیں ٹوک دیا تو معلوم نہیں وہ کیا ردّعمل ظاہر کریں گی. وَاَنْ تَرَی الْحُفَاۃَ الْعُرَاۃَ الْعَالَۃَ رِعَائَ الشَّائِ یَتَطَاوَلُوْنَ فِی الْبُنْیَانِ ’’اور یہ کہ تم دیکھو گے کہ ننگے پاؤں‘ ننگے بدن ‘ محتاج ‘ بکریاں چرانے والے اونچی اونچی عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے کا مقابلہ کریں گے‘‘. یہ صورت حال آج عالم ِعرب میں صد فیصد موجود ہے. چنانچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہماکی روایت میں حضرت جبرائیل ؑکے پانچویں سوال کا بھی ذکر ہے: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ وَمَنْ اَصْحَابُ الشَّائِ الْحُفَاۃُ الْجِیَاعُ الْعَالَۃُ ’’یارسول اللہ!بکریاں چرانے والے‘ برہنہ پا‘ بھوکے‘ تنگدست کون لوگ ہیں؟‘‘ قَالَ: اَلْعَرَبُ ’’آپ نے فرمایا: وہ عرب ہوں گے‘‘.یہ صورتِ حال آج ہمارے سامنے ہے. دبئی کہاں سے کہاں پہنچا ہوا ہے! سوسال پہلے یہاں کھانے کے لیے کچھ نہیں تھا‘ پہننے کے لیے کپڑے نہیں تھے‘ پائوں میں جوتے نہیں ہوتے تھے. پورے عرب کا یہی معاملہ تھا. تقریباًستر اَسّی برس سے یہ صورتِ حال مکمل طور پر تبدیل ہو گئی ہے‘جب سے تیل دریافت ہوا ہے. اب یہ خوشحالی کہاں تک پہنچ گئی ہے‘ اس کا اندازہ اس بات سے کیجیے کہ عرب کے صحرا گل و گلزار کا نقشہ پیش کر رہے ہیں. آپ اگر ابوظبی کے ایئر پورٹ سے ابوظبی شہر جائیں تو درمیان میں آپ کو ایسا نقشہ نظر آئے گا گویایہ چمن زار ہے . سڑک کے دونوں طرف ہری بھری گھاس اور پھول ہیں اور سڑک کے دونوں طرف اونچے اونچے پشتے بنا دیے گئے ہیں تاکہ اس سے آگے صحرا کی طرف نگاہ نہ پہنچے . اس طرح بہت خوبصورت منظر دکھائی دیتا ہے. پھر یہ کہ دبئی میں سیون سٹار ہوٹل ہے. دبئی‘ جدہ ‘ ریاض وغیرہ کی ساحلی سڑکیں اتنی عالی شان ‘ آراستہ و پیراستہ اور خوبصورت ہیں کہ اس قدر حسین مناظر میں نے امریکہ میں بھی نہیں دیکھے . میرے خیال میں دبئی باقی عرب کے بعد اُبھرنا شروع ہوا لیکن اب سب سے آگے ہے. 

متحدہ عرب امارات 
(UAE) میں مجھے گئے ہوئے اب توایک طویل عرصہ ہو گیا ہے‘ کیونکہ تیرہ چودہ سال سے میرے وہاں داخلے پر پابندی ہے. اس پابندی سے پہلے ایک مرتبہ میں وہاں گیا ہوا تھا اور ایک بلڈنگ میں ٹھہرا ہوا تھا. اس کے ساتھ ایک بلندوبالا عالی شان بلڈنگ تھی جسے گرایا جا رہا تھا. میں نے پوچھا یہ کیا افتاد ہے کہ اسے گرا رہے ہیں؟ ابھی تو یہ شہرآباد ہوا ہے‘ کوئی پرانی عمارت تو ہے نہیں! کہنے لگے کہ اس کے قریب ایک اس سے اونچی عمارت بن گئی ہے‘ لہٰذا اب اس عمارت کو گرا کر از سر نو مزیداونچی عمارت بنانی ہے. گویا عمارتوں کو اونچا کرنے میں وہ ایک دوسرے کا مقابلہ کررہے ہیں. 

حضرت عمر رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: 
ثُمَّ انْطَلَقَ ’’پھر وہ شخص چلا گیا‘‘. فَلَبِثْتُ مَلِیًّا ’’تو مَیں کچھ دیر متردّد سا رہا‘‘.میرے ذہن میں یہ الجھن رہی کہ یہ سائل کون تھا. ثُمَّ قَالَ لِیْ: یَا عُمَرُ اَتَدْرِیْ مَنِ السَّائِلُ؟ ’’پھر رسول اللہ نے مجھ سے دریافت فرمایا: اے عمر! تمہیں معلوم ہوا یہ سائل کون تھا؟‘‘ قُلْتُ : اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ ’’میں نے کہا: اللہ اور اُس کا رسول( ) بہتر جانتے ہیں‘‘. صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا عام معمول یہی تھا کہ آپؐ کے سوال دریافت فرمانے پر وہ کہتے تھے : ’’اللہ اور اُس کا رسول بہتر جانتے ہیں‘‘. قَالَ : فَاِنَّہٗ جِبْرِیْلُ‘ اَتَاکُمْ یُعَلِّمُکُمْ دِیْنَـکُمْ ’’یہ جبرائیل تھے جو تمہیں تمہارا دین سکھانے کے لیے آئے تھے‘‘.

یہ اختتامی حصہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی روایت میں بہت ہی مختصر اور نامکمل ہے. ایسے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہی وہ شخص واپس گیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی وہاں سے کسی ضرورت کے تحت روانہ ہوگئے. چنانچہ بعد میں جو واقعہ پیش آیا وہ انہیں معلوم نہیں تھا. دوسری روایت کے مطابق ذرا سا توقف کے بعد وہ شخص چلا گیا تو آنحضرت نے فرمایا: 
رُدُّوْہُ ’’اسے واپس میرے پاس لاؤ‘‘.ایک روایت میں ہے کہ آپؐ نے فرمایا: اِلْتَمِسُوْہُ ’’اسے تلاش کرو.‘‘ فَلَمْ یَرَوْا شَیْئًا ’’توانہیں کوئی شے نہیں ملی‘‘.اُس آدمی کا کہیں سراغ نہ ملا. اس کے بارے میں کچھ معلومات نہیں ملیں.اس پر رسول اللہ نے فرمایا:’’یہ جبرائیل ؑ تھے جو تمہیں تمہارا دین سکھانے کے لیے آئے تھے‘‘. اس کے بعد اور الفاظ بھی ہیں جو مسند احمد میں ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں کہ آپؐ نے فرمایا:وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ جَائَ نِیْ قَطُّ اِلاَّ وَاَنَا اَعْرِفُہٗ اِلاَّ تَـکُوْنُ ھٰذِہِ الْمَرَّۃُ ’’اُس ہستی کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ‘جب کبھی بھی جبرائیل ؑمیرے پاس آئے میں اُن کو پہچان لیتا تھا ‘سوائے اِس مرتبہ کے‘‘. حضرت جبرائیل ؑ ایک تو فرشتے کی شکل میں تشریف لاتے‘ اُس وقت غیر مرئی ہوتے‘ صرف آواز سنائی دیتی تھی. ان کی آواز بھی لفظی نہیں تھی‘ بلکہ گھنٹیوں کی آواز کی طرح ہوتی تھی. (جیسے تار گھر میں غرغر ہوتا تھا اور اسی سے پھر پیغام بنا لیا جاتا تھا.) جبرائیل ؑ جو پیغام لے کر آتے تھے وہ الفاظ کے ساتھ رسول اللہ کے قلب ِمبارک پر اُتر جاتا تھا. لیکن متعدد مواقع پر حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس انسانی شکل میں آتے تھے جس کا ایک واقعہ یہاں آپ کے سامنے آیا. حضرت جبرائیل ؑعام طور پر ایک خوبصورت صحابی حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کی شکل میں آتے تھے‘ لیکن رسول اللہ پہچان جاتے تھے کہ یہ دحیہ نہیں ہیں ‘بلکہ دحیہ کی شکل میں حضرت جبرائیل ؑہیں. حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہماکی روایت میں یہ الفاظ ہیں: مَا جَاء نِیْ فِیْ صُوْرَۃٍ اِلاَّ عَرَفْتُہٗ غَیْرَ ھٰذِہِ الصُّوْرَۃِ ’’حضرت جبرائیل ؑ جس شکل و صورت میں بھی میرے پاس تشریف لاتے تھے میں انہیں پہچان لیتا تھا سوائے اس مرتبہ کے.‘‘

یہ بھی جان لیجیے کہ آپؐ نے جوفرمایا کہ ’’یہ جبرائیل تھے جو تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے‘‘ تواس ضمن میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے متفق علیہ روایت میں یہ اضافی الفاظ بھی آئے ہیں: 
اَرَادَ اَنْ تَعَلَّمُوْا اِذْ لَمْ تَسْئَلُوْا ’’جبرائیل ؑ اس لیے آئے تھے کہ انہوں نے چاہا کہ تم وہ چیزیں جان لو جن کے بارے میں تم نے سوال نہیں کیا‘‘.یعنی دین کی بعض حقیقتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں تمہیں سوال کرنا چاہیے تھا لیکن تم نے نہیں کیا‘ لہٰذا حضرت جبرائیل ؑ اس خلاء کو پُر کرنے کے لیے آئے تھے. عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہماکی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ صحابہؓ نے کہا: مَا رَاَیْنَا رَجُلًا اَشَدَّ تَوْقِیْرًا لِرَسُوْلِ اللّٰہِ مِنْ ھٰذَا ’’ہم نے کسی انسان کو نہیں دیکھا کہ وہ اللہ کے رسول ‘کی اتنی عزت کرتا ہو جتنی کہ وہ شخص کر رہا ہے‘‘. کَاَنَّہٗ یَعْلَمُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ’’ایسا محسوس ہوتا تھا کہ یہ رسول اللہ سے واقف ہے.‘‘ یعنی آپؐ کے مرتبے اور آپؐ کی نبوت و رسالت کو خوب پہچانتا ہے.

آپ نے اس واقعہ کی ابتدا بھی دیکھ لی اور انتہا بھی. اس واقعہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے جو الفاظ ہیں: 
فَلَبِثْتُ مَلِیًّا ’’تو مَیں کچھ دیر بڑا متردّد رہا‘‘.تواس بارے میں روایات میں آتا ہے کہ ہو سکتا ہے رسول اللہ کی جناب میں حضرت عمرؓ کی حاضری دو تین دن بعد ہوئی ہو‘کیونکہ یہ معلوم ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہاور ایک انصاری صحابیؓ دونوں مشترکہ طور پر ایک دکان چلاتے تھے اور حضرت عمرؓ ‘کا ان کے ساتھ ایک معاہدہ تھا کہ ایک دن دکان پر تم بیٹھو گے اور میں رسول اللہ کی صحبت میں رہوں گا اور اگلے دن میں دکان پر بیٹھوں گا اور تم رسول اللہ کی صحبت سے فیض حاصل کرو گے. تو شاید اگلے دن آپؓ اپنے اس معاہدے کی وجہ سے نہیں آئے اور دوسرے دن ہو سکتا ہے انہیں کوئی اور مصروفیت ہو. اب جب آئے تو رسول اللہ نے اُن کے چہرے پر پڑھ لیا کہ یہ متردد سے ہیں ‘ کسی تشویش میں ہیں. تو رسول اللہ نے خود ہی پوچھا : یَا عُمَرُ اَتَدْرِیْ مَنِ السَّائِلُ؟ ’’اے عمر!تمہیں معلوم ہوا کہ یہ سائل کون تھا؟‘‘ تو حضرت عمرؓ نے فرمایا : قُلْتُ: اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ ’’میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں‘‘. قَالَ : فَاِنَّہٗ جِبْرِیْلُ‘ اَتَاکُمْ یُعَلِّمُکُمْ دِیْنَـکُمْ ’’رسول اللہ نے فرمایا:یہ جبرائیل ؑتھے جو تمہیں تمہارا دین سکھانے کے لیے آئے تھے.‘‘ 

اس حدیث میں جو چار سوال آئے ہیں جن کے رسول اللہ نے جوابات دیے ہیں‘ ان میں اہم ترین پہلے دو سوال ہیں‘ یعنی اسلام کیا ہے اور ایمان کیا ہے. روایات میں سوالات کی ترتیب میں بھی فرق ہے. ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت میں پہلا سوال ایمان کے بارے میں اور دوسرا سوال اسلام کے بارے میں ہے‘ جبکہ اس روایت اور دوسری اکثر روایات میں پہلا سوال اسلام کے بارے میں ہے اور دوسرا سوال ایمان کے بارے میں . بہرحال اسلام اور ایمان کے بارے میں یہ سوالات بہت اہم ہیں‘ جن کی وضاحت بعد میں ہو گی. تیسرا سوال جو ’’احسان‘‘ کے بارے میں ہوا‘ وہ بھی بہت اہم ہے. یہ روحانیت کے بارے میں ہے اور ہمارے ہاں تصوف اس کا موضوع بن گیا ہے. اس بارے میں بھی آپ نے یہاں فرما دیا ہے کہ دین میں روحانیت کے ضمن میں صحیح روش کیا ہونی چاہیے. اس لیے کہ بعد میں دین میں جوخرابیاں پیدا ہوئی ہیں وہ تین گوشوں سے ہوئی ہیں. حضرت عبداللہ بن مبارکؒ جوتبع تابعی تھے ‘ بہت نیک اور مجاہد انسان تھے‘ ان کا ایک شعر ہے : 

وھل افسد الدِّین الا الملوک
واحبار سوء ورھبانھا 

’’دین میں فساد تین طرح سے آتا ہے(یا آیا ہے): ایک بادشاہوں اور سلاطین کے ذریعے سے‘ دوسرے علمائِ سوء کے ذریعے سے اور تیسرے راہبوں کے ذریعے سے.‘‘

معلوم ہوتا ہے کہ اُس دَور میں بھی فساد آ چکا تھا. اور آج کے دَور میں تو یہ فساد اپنی انتہا کو پہنچا ہوا ہے. ازروئے الفاظِ قرآنی : 
ظَہَرَ الۡفَسَادُ فِی الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ بِمَا کَسَبَتۡ اَیۡدِی النَّاسِ (الروم:۴۱’’خشکی اور تری میں فساد برپا ہو گیا ہے لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے‘‘. اُس دَور کے لوگوں نے محسوس کرلیا کہ اِس فتنہ و فساد کا ذریعہ یہ تین گروہ ہیں. ایک تو وہ بادشاہ و سلاطین جو اپنے مفادات کے لیے دین میں تحریف کرواتے ہیں. دوسرے دین فروش اور فتویٰ فروش علماء ‘جو اپنے دین اور اپنے علم کو کمائی کا ذریعہ بناتے ہیں‘اور تیسرے یہ راہب .رہبانیت جب آتی ہے تو دین کے اندر فتوراورفساد پھیلاتی ہے. انہی تین گروہوں کے بارے میں علامہ اقبال نے اپنے ایک شعر میں کہا ہے : ؎

باقی نہ رہی تیری وہ آئینہ ضمیری!
اے کشتۂ سلطانی و ملائی و پیری!

یعنی اے مسلمان! آج تیرا آئینۂ قلب دھندلا گیا ہے تو اس کی وجہ وہ زخم ہیں جو تجھے تین اطراف سے لگے ہیں. یہ زخم لگانے والے تین قسم کے لوگ ہیں: ایک پیشہ ور مذہبی ملا ‘ دوسرے بادشاہ ‘ تیسرے پیری مریدی کرنے والے.موجودہ حالات اس کی مکمل عکاسی کر رہے ہیں‘ 
اِلاّ ماشائَ اللہ. 

چوتھا سوال نبی اکرم سے قیامت اور علاماتِ قیامت کے بارے میں ہے. اس حدیث میں جو دو علاماتِ قیامت بیان ہوئی ہیں وہ آج روزِ روشن کی طرح ہمارے سامنے آ گئی ہیں‘ یعنی اولاد کی سرکشی اور نادار لوگوں کا خوشحال ہو کر محلات کی بلندی میں ایک دوسرے پرسبقت لے جانے کی کوشش کرنا.ایک اور حدیث میں رسول اللہ نے فرمایا: 

بُعِثْتُ اَنَا وَالسَّاعَۃُ کَھَاتَیْنِ 
(۱
’’میری بعثت میں اور قیامت میں اتنا قرب ہے جتنا اِن دو انگلیوں (شہادت والی انگلی اور درمیانی انگلی) کے مابین ہے.‘‘

یعنی میرے بعد اب نہ کوئی نبی و رسول آئے گا اور نہ کوئی اُمت آئے گی‘ بلکہ اب قیامت 
(۱) صحیح البخاری‘ کتاب الرقاق ‘ باب قول النبی بعثت انا والساعۃ کھاتین. وصحیح مسلم‘ کتاب الجمعۃ‘ باب تخفیف الصلاۃ والخطبۃ. ہی آئے گی. گویا آپ کی بعثت ہی فی نفسہٖ علاماتِ قیامت میں سے ہے. اس کے بعد پھر چھوٹی بڑی علامتیں ہیں .کتب ِاحادیث میں علاماتِ قیامت کی احادیث پر مشتمل پورے پورے باب باندھے گئے ہیں. دلچسپی رکھنے والے حضرات ان کی طرف رجوع کر سکتے ہیں.

پانچواں سوال جبرائیل علیہ السلام نے رسول اللہ سے یہ کیا کہ یہ : 
’’اَصْحَابُ الشَّائِ الْحُفَاۃُ الْجِیَاعُ الْعَالَۃُ‘‘ کون لوگ ہیں کہ بکریاں چرانے والے‘ برہنہ پا ‘ بھوکے اور تنگ دست ہونے کے باوجود قیامت کے قریب اتنے خوشحال ہو جائیں گے کہ بڑی بڑی عمارات میں ایک دوسرے پر مسابقت کی کوشش کریں گے؟ اس سوال کے جواب میں آپؐ نے فرمایا کہ یہ عرب ہوں گے. اب جزیرہ نمائے عرب کا مشرقی ساحل اور مغربی ساحل بعینہٖ یہ نقشہ پیش کر رہے ہیں. البتہ جنوبی ساحل کے ساتھ صحرا ہے جہاں آبادی ہے ہی نہیں‘ اسے ’’الربع الخالی‘‘ کہتے ہیں. یہاں زندگی کاوجود نہیں ہے. یہاں کی ریت بھی ایسی ہے کہ اس پر کوئی شے ٹھہر ہی نہیں سکتی‘ بلکہ نیچے دھنستی چلی جاتی ہے‘ جیسے دلدل میں ہوتا ہے کہ آدمی کا پاؤں پڑ جائے تو پھر اس کا باہر نکلنا محال ہوتا ہے. ایسے صحراؤں کو’’Quick Sands‘‘ کہا جاتا ہے. یہ اصل میں قومِ عاد کا مسکن تھا. قومِ عاد کی بڑی زبردست تہذیب تھی. اسی قوم میں شداد تھا جس نے اپنی جنت بنائی تھی. اب شداد کا وہ شہر بھی دریافت ہوگیا ہے جو اِسی ریت کے اند ر دبا ہوا ہے. اس میں بڑی مضبوط فصیل کے اوپر بہت مضبوط ستون کھڑے نظر آ رہے ہیں. جیسے قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے : اَلَمۡ تَرَ کَیۡفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِعَادٍ ۪ۙ﴿۶﴾اِرَمَ ذَاتِ الۡعِمَادِ ۪ۙ﴿۷﴾الَّتِیۡ لَمۡ یُخۡلَقۡ مِثۡلُہَا فِی الۡبِلَادِ ۪ۙ﴿۸﴾ (الفجر) ’’کیا تم نے (اے پیغمبرؐ !) دیکھا نہیں کہ تمہارے ربّ نے کیا برتاؤ کیا اونچے ستونوں والے عادِ ارم کے ساتھ ‘جن کے مانند کوئی قوم دنیا کے ملکوں میں پیدا نہیں کی گئی تھی؟‘‘

اب آیئے اس طرف کہ زیر مطالعہ حدیث میں جو دو اہم سوال آئے ہیں ’’اسلام‘‘ اور ’’ایمان‘‘ کے بارے میں‘ ان کی اہمیت کا پس منظر کیا ہے. اکثر اوقات قرآن مجید 
کے عام پڑھنے والوں کو ’’اسلام ‘‘ اور ’’ایمان‘‘ کے بارے میں اُلجھن ہو جاتی ہے. اس لیے کہ ایمان اور اسلام زیادہ تر مترادف الفاظ کے طور پر آتے ہیں. مسلم کو مؤمن کہہ دیں‘ مؤمن کو مسلم کہہ دیں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا. گلاب کو کسی بھی نام سے پکاریں وہ یکساں خوشبو دے گا. چنانچہ جو اللہ تعالیٰ کا فرماں بردارہے اور اس کے دل میں ایمان ویقین بھی ہے تو آپ اسے مؤمن کہہ دیں یا مسلم کیا فرق واقع ہوتا ہے! لیکن سورۃ الحجرات کی آیت ۱۴جس کی آغاز میں تلاوت کی گئی ہے‘ اس میں نہ صرف یہ کہ ’’اسلام‘‘ اور ’’ایمان‘‘ مترادف نہیں ہیں بلکہ ایمان بمقابلہ اسلام آیا ہے اور یہ دونوں ایک دوسرے کی ضد کے طور پر استعمال ہوئے ہیں. ارشادِ الٰہی ہے: 

قَالَتِ الۡاَعۡرَابُ اٰمَنَّا ؕ قُلۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا وَ لٰکِنۡ قُوۡلُوۡۤا اَسۡلَمۡنَا وَ لَمَّا یَدۡخُلِ الۡاِیۡمَانُ فِیۡ قُلُوۡبِکُمۡ ؕ 
(الحُجُرٰت:۱۴
’’یہ بدو دعویٰ کر رہے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے‘ (اے نبیؐ !)ان سے کہہ دیجیے تم ہرگز ایمان نہیں لائے ہو‘ لیکن یہ کہہ سکتے ہو کہ ہم اسلام لے آئے ہیں اور ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا.‘‘

یہاں پر 
’’لَمْ تُؤْمِنُوْا‘‘ آیا ہے ’’مَا اٰمَنْتُمْ‘‘ نہیں آیا.یہ عربی کا قاعدہ ہے کہ اگر ماضی سے پہلے ’’مَا‘‘ آ جائے تو یہ بھی نفی ہے لیکن اس نفی میں شدت اور تاکید نہیں ہوتی‘لیکن اگر مضارع سے پہلے ’’لَمْ‘‘ آ جائے تو یہ تاکیداً نفی ہوتی ہے. اس لیے میں نے ’’لَمْ‘تُؤْمِنُوْا‘‘ کا ترجمہ کیا ہے ’’تم ہرگز ایمان نہیں لائے‘‘.یہاں ایک تضاد کی سی شکل بن گئی ہے کہ ایمان اور اسلام مترادف ہیں یا ایک دوسرے کی ضد؟ مذکورہ بالا آیت کریمہ میں بدوؤں کا اسلام تو قبول کیا جا رہا ہے بایں الفاظ: وَ لٰکِنۡ قُوۡلُوۡۤا اَسۡلَمۡنَا ’’لیکن تم یہ کہہ سکتے ہو کہ ہم اسلام لے آئے ہیں‘‘لیکن ایمان کی پُرزور نفی کی جا رہی ہے کہ : لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا’’تم ہرگز ایمان نہیں لائے‘‘اور : وَ لَمَّا یَدۡخُلِ الۡاِیۡمَانُ فِیۡ قُلُوۡبِکُمۡ ؕ ’’اور ایمان ابھی تک تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا.‘‘

اسلام اور ایمان کے علاوہ قرآن حکیم میں کچھ اور الفاظ بھی ہیں جو باہم مترادف بھی آئے ہیں اور باہم متضاد بھی ‘ جیسے ’’نبی‘‘ اور ’’رسول‘‘.اِن کے بارے میں علماء ِ 
کرام نے ایک اصول بنایا ہے کہ : اِذَا تَفَرَّقَا اجْتَمَعَا وَاِذَا اجْتَمَعَا تَفَرَّقَا ’ ’جب یہ الفاظ علیحدہ علیحدہ آئیں گے تو اِن کا مفہوم ایک ہی ہو گا اور جب ایک مقام پر آئیں گے تو اِن کے معنی جدا جدا ہو جائیں گے‘‘. لہٰذا اسلام اور ایمان جب ایک ساتھ آئیں گے تو اسلام کے معنی اور ہوں گے ایمان کے اور ہوں گے. یہی معاملہ’’نبی‘‘ اور ’’رسول‘‘ کا ہے. جب ان کا علیحدہ علیحدہ ذکر ہو رہا ہو گا تو وہاں پر نبی کو رسول اور رسول کو نبی کہہ دینے سے کوئی فرق واقع نہیں ہوگا.لیکن جہاں دونوں لفظ ایک ہی جگہ پر آئیں تو وہاں نبی اور رسول کا فرق واضح ہو جائے گا. پس ایک تو یہاں ’’اسلام‘‘ اور ’’ایمان‘‘ کے ضمن میں پیدا ہونے والی اُلجھن کا حل مطلوب ہے. دوسرے یہ کہ بعض ایسی احادیث موجود ہیں جن میں انسان کے بعض اعمال پر اس کے ایمان کی نفی کی گئی ہے. جیسے رسول اللہ کاارشادِ گرامی ہے : 

لاَ یَزْنِی الزَّانِیْ حِیْنَ یَزْنِیْ وَھُوَ مُؤْمِنٌ ‘ وَلَا یَسْرِقُ السَّارِقُ حِیْنَ یَسْرِقُ وَھُوَ مُؤْمِنٌ ‘ وَلَا یَشْرَبُ الْخَمْرَ حِیْنَ یَشْرَبُھَا وَھُوَ مُؤْمِنٌ 
(۱
’’کوئی زانی حالت ِایمان میں زنا نہیں کرتا ‘ کوئی چور حالت ایمان میں چوری نہیں کرتا اور نہ ہی کوئی شرابی حالت ِایمان میں شراب پیتا ہے.‘‘

جب کوئی شخص یہ کام کر رہا ہوتا ہے تو ایمان اُس کے دل سے رخصت ہو چکا ہوتا ہے. یہ بات ناقابل ِیقین ہے کہ ایمان بھی ہو اور یہ کام بھی ہو رہے ہوں. اس بات کی بعض احادیث میں وضاحت موجود ہے کہ اس دوران ایمان اُس کے دل سے نکل کر اُس کے سر پر ایک پرندے کی مانند چکر لگاتا رہتا ہے .اورعلماء کا اس پر تقریباً اتفاق ہے کہ وہ انسان جونہی اس عمل سے فارغ ہو تا ہے تو ایمان دوبارہ اس کے دل میں آ جاتا ہے. حالانکہ منطقی طور پر تو یہ ہونا چاہیے کہ انسان توبہ کرے تب ہی اس کا ایمان واپس آئے‘ لیکن اس معاملے میں اللہ کی شانِ رحیمی و غفاری منطق پر سبقت لے جاتی ہے‘ جیسے کہ ایک مقام پر بیان ہوا ہے : 
’’سَبَقَتْ رَحْمَتِیْ غَضَبِیْ!‘‘ (۳بہرحال اس سے ایک بات (۱) صحیح البخاری‘ کتاب الحدود‘ باب اثم الزناۃ اور دیگر متعدد مقامات. وصحیح مسلم‘ کتاب الایمان‘ باب بیان نقصان الایمان بالمعاصی ونفیہ عن المتلبس.

(۳) صحیح البخاری‘ کتاب التوحید‘ باب قول اللہ تعالی بل ھو قران مجید فی لوح محفوظ 
اور دیگر متعدد مقامات . وصحیح مسلم‘ کتاب التوبۃ‘باب فی سعۃرحمۃ اللہ تعالی وانھا سبقت غضبہ. ثابت ہو جاتی ہے کہ گناہِ کبیرہ سے گویا ایمان کی نفی ہوتی ہے.

یہ وہ چیز ہے جس کو صحیح طور پر نہ سمجھنے سے بہت بڑی گمراہی پیدا ہوئی. چنانچہ اسلام میں سب سے زیادہ گمراہ فرقہ ’’خوارج‘‘ اسی بنیادپر گمراہی کا شکار ہوا. انہوں نے یہ عقیدہ گھڑ لیا کہ گناہِ کبیرہ کا مرتکب کافر ہے اور جب کافر ہے تو گویا مرتد ہے ‘لہٰذا اس کی جان اور مال مباح ہے‘ اسے قتل کر دیا جائے اور اس کا مال لے لیا جائے‘ وہ مالِ غنیمت ہو گا. اس کی عورتیں مباح ہو جائیں گی‘ وہ لونڈیاں بن جائیں گی. یہ خوارج کا فتنہ بہت خطرناک فتنہ تھا. یہ فتنہ حضرت علیؓ کے زمانے ہی میں پیدا ہو گیا اور بعد میں بڑھتا چلا گیا. ان لوگوں کوجو غلط فہمی پیدا ہوئی تھی وہ اصل میں انہی احادیث سے ہوئی تھی. حالانکہ بعض احادیث میں یہ اسلوب گناہِ کبیرہ سے بھی کمتر گناہوں اور کوتاہیوں کے لیے بھی آیا ہے. ایک حدیث میں تو یہاں تک آیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: 
وَاللّٰہِ لَا یُؤْمِنُ وَاللّٰہِ لَا یُؤْمِنُ وَاللّٰہِ لَا یُؤْمِنُ ’’خدا کی قسم وہ شخص مؤمن نہیں ہے‘ خدا کی قسم وہ شخص مؤمن نہیں ہے‘ خدا کی قسم وہ شخص مؤمن نہیں ہے‘‘. قِیْلَ وَمَنْ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ؟ ’’پوچھاگیا: اے اللہ کے رسولؐ !کون؟‘‘ فرمایا: اَلَّذِیْ لَا یَاْمَنُ جَارُہٗ بَوَایِقَہٗ (۴’’وہ شخص جس کی ایذا رسانیوں سے اس کا پڑوسی امن میں نہیں ہے‘‘.اب یہاں کسیگناہِ کبیرہ کا ذکر تو نہیں ہے‘بلکہ صرف بداخلاقی کا معاملہ ہے. کوئی شخص اپنے اخلاق میں اتنا گرا ہوا ہے کہ اس کی وجہ سے اس کا پڑوسی بے چین اور پریشان ہے‘ توایسے شخص کے بارے میں آپ تین دفعہ قسم کھا کر اس کے ایمان کی نفی کر رہے ہیں. لیکن یاد رہے کہ ایمان کی نفی کے معنی لازماً کفر نہیں ہیں ‘جیسا کہ خوارج نے سمجھ لیا‘بلکہ کفر اور ایمان کے مابین ایک مقام ’’اسلام‘‘ کا ہے. لہٰذا ایسا شخص مسلمان شمار ہو گا.چوری کرتے ہوئے بھی مسلمان ہے‘ شراب پیتے ہوئے بھی مسلمان ہے اور زنا کرتے ہوئے بھی مسلمان ہے. عین اُسی حالت میں جان نکل جائے تو بھی اس کی نماز جنازہ (۴) صحیح البخاری‘ کتاب الادب‘ باب اثم من لا یأمن جارہ بوایقہ. یہ حدیث صحیح مسلم اور دیگر کتب حدیث میں الفاظ کی کمی بیشی کے ساتھ وارد ہوئی ہے. 
پڑھی جائے گی. اگرچہ اس کا جرم ثابت ہو جانے پر حد جاری کی جائے گی.

اسی طرح قرآن مجید کے بعض مقامات پر دو ایمانوں کا ذکر ہے. سورۃ النساء کی آیت ۱۳۶ میں فرمایا: 

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اٰمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ الۡکِتٰبِ الَّذِیۡ نَزَّلَ عَلٰی رَسُوۡلِہٖ وَ الۡکِتٰبِ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ مِنۡ قَبۡلُ ؕ 

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ایمان لائو اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اُس کتاب پر جو اللہ نے اپنے رسول پر نازل کی ہے اور ہر اُس کتاب پر جو اِس سے پہلے وہ نازل کر چکاہے.‘‘

اس کا مفہوم یہ ہے کہ قانونی اعتبار سے جب تم مسلمان ہو تو ایک درجے میں مؤمن بھی ہو‘ لیکن اصل ایمان کچھ اور ہے جس کی ابھی ضرورت ہے.