اسلام ‘ایمان اور احسان (۳)

۲۲ جون ۲۰۰۷ء کا خطابِ جمعہ
خطبۂ مسنونہ کے بعد

اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ 
وَ الۡعَصۡرِ ۙ﴿۱﴾اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَفِیۡ خُسۡرٍ ۙ﴿۲﴾اِلَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوۡا بِالۡحَقِّ ۬ۙ وَ تَوَاصَوۡا بِالصَّبۡرِ ٪﴿۳﴾ 
(العصر) 
قَالَتِ الۡاَعۡرَابُ اٰمَنَّا ؕ قُلۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا وَ لٰکِنۡ قُوۡلُوۡۤا اَسۡلَمۡنَا وَ لَمَّا یَدۡخُلِ الۡاِیۡمَانُ فِیۡ قُلُوۡبِکُمۡ ؕ وَ اِنۡ تُطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ لَا یَلِتۡکُمۡ مِّنۡ اَعۡمَالِکُمۡ شَیۡئًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۴﴾ 
(الحُجُرٰت) 

’’حدیث جبریل ؑ‘‘ کے مطالعہ کے دوران گزشتہ نشست میں اقرارٌ باللسان‘ تصدیق بالقلب اور اعمالِ صالحہ کے ضمن میں کچھ گفتگو ہوئی تھی کہ آیا یہ تینوں چیزیں باہم لازم و ملزوم ہیں یا نہیں. میں نے عرض کیا تھا کہ ہمارے ہاں اس بارے میں بہت زیادہ کلامی بحثیں ہوئی ہیں اور مختلف نقطہ ہائے نظر اور گروہ سامنے آئے ہیں. ان میں سے ایک طبقہ ’’کرامیہ‘‘ کا تھا. اگرچہ یہ فرقہ اب معدوم ہو چکا ہے اور اس نام سے اس کا کوئی وجود نہیں ہے ‘لیکن مسلمانوں کے جہلاء کی اکثریت کا خیال یہی ہے جو کرامیہ کا موقف تھا‘ کہ ایمان بس اقرارٌ باللسان پر موقوف ہے‘ اگر کچھ اچھے عمل بھی ہو جائیں تو ٹھیک ہے ورنہ صرف اقرارٌ باللسان ہی نجات کے لیے کافی ہے ‘عمل کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی تصدیق بالقلب ضروری ہے. اور یہ کہ اقرارٌ باللسان کے ساتھ اگر کوہِ ہمالہ کے برابر بھی گناہ ہوں تو وہ بھی کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے. کرامیہ کا موقف پورے مجموعۂ احادیث کو چھوڑ کر صرف ایک حدیث پر مبنی ہے جو بخاری شریف میں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور ا ن کے موقف کو بظاہر حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث نبویؐ سے بھی تقویت ملتی 
ہے.پچھلی نشست میں یہ دونوں احادیث تفصیل سے بیان ہوچکی ہیں.اب ظاہر بات ہے کہ ہم صرف ایک حدیث سے پورا ستنباط نہیں کر سکتے‘ بلکہ باقی سینکڑوں احادیث بھی پیش نظر رکھنی ہوں گی جن میں ایمان کے ساتھ عملِ صالح کو بھی نجات کے لیے لازم قرار دیا گیا ہے.آغازِ خطاب میں سورۃ العصر کی تلاوت کی گئی. اس کا ترجمہ ہے :

’’زمانے کی قسم! یقینا انسان خسارے میں ہے. سوائے اُن لوگوں کے جو ایمان‘لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے اور آپس میں حق بات کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کی.‘‘
اس اعتبار سے صرف اس ایک حدیث کی بنیاد پر کوئی موقف قائم کر لینا غلط ہے . اس ایک حدیث سے استدلال کر لینے سے تو تصدیق بالقلب اور اعمالِ صالحہ تو کیا ایمان بالرسالت بھی ثابت نہیں ہوتا. اس لیے کہ اس میں تو رسول اللہ کے یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں: 

مَا مِنْ عَبْدٍ قَالَ لَا اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ ثُمَّ مَاتَ عَلٰی ذٰلِکَ اِلاَّ دَخَلَ الْجَنَّۃَ 

’’کوئی شخص ایسا نہیں ہے جو کہے لَا اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ ‘ پھر اسی پر اُس کی موت واقع ہوجائے ‘ مگر یہ کہ وہ جنت میں داخل ہو گا.‘‘

اب یہاں تو صرف توحید ہے‘ رسالت کا اقرار بھی نہیں اور باقی ایمانیات یعنی آخرت‘ ملائکہ‘ کتابوں اور انبیاء علیہم السلامپر ایمان بھی سرے سے زیربحث نہیں آئے. اس لیے اس ایک حدیث ہی کو اپنی گفتگو اور نتائج کا مبنیٰ یا مدار بنا لینا غلط ہے. البتہ حضرت انس رضی اللہ عنہسے جو حدیث نبویؐ مروی ہے اس میں رسالت کا اقرار بھی ہے اور اس کے الفاظ میں ہمہ گیریت بھی ہے. رسول اللہ نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہسے فرمایا: 

مَا مِنْ اَحَدٍ یَشْھَدُ اَنْ لاَ اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ صِدْقًا مِنْ قَلْبِہٖ اِلاَّ حَرَّمَہُ اللّٰہُ عَلَی النَّارِ 
’’جو شخص بھی اپنے دل کی گہرائی اور صداقت سے یہ گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد( ) اللہ کے رسول ہیں تو اللہ تعالیٰ اس پر جہنم کی آگ کو حرام کر دے‘گا.‘‘

اس حدیث میں ایک تو رسالت کا اقرار بھی ہے اور دوسرے 
’’صِدْقًا مِنْ قَلْبِہٖ‘‘ کے الفاظ میں تو معانی کا ایک جہان پوشیدہ ہے ‘گویا ایک قیامت مضمر ہے. اس لیے کہ کوئی شخص اگر سچے دل سے کوئی بات زبان سے نکالے گا تو عمل بھی تو اُس کے مطابق کرے گا. اگر اللہ تعالیٰ کو ’’صِدْقًا مِنْ قَلْبِہٖ‘‘ (سچے دل سے) مانے گا تو اس کے احکام پر بھی تو چلے گا. اسی طرح اگر سچے دل سے اور پختہ ارادے کے ساتھ حضرت محمد کی رسالت کا اقرار کرے گا تو آپ کی پیروی بھی تو کرے گا. البتہ صرف حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ہمارے استدلال کی بنیاد نہیں بن سکتی.

دوسرا طبقہ ’’اشاعرہ‘‘ کا ہے جن کے نزدیک ایمان اور نجات کے لیے زبان سے اقرار لازم نہیں ہے‘ صرف دل کی گواہی کافی ہے. اس ضمن میں مَیں نے آلِ فرعون کے مؤمن کی مثال دی تھی جن کے بارے میں قرآن میں آیا ہے : 
یَکْتُمُ اِیْمَانَہٗٓ (المؤمن:۲۸’’وہ (ایک خاص وقت تک) اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھے‘‘. لیکن جب وقت کے فرعون نے دربار میں قرارداد ( resolution) پیش کی : ذَرُوْنِیْٓ اَقْتُلْ مُوْسٰی (المؤمن:۲۶’’مجھے اب اجازت دو موسیٰ( علیہ السلام ) کو قتل کرنے کی ‘‘تو اُس وقت مؤمن ِآلِ فرعون نے کھڑے ہو کر فرعون اور درباریوں کے سامنے اعلانِ حق کیا اور اپنی مفصل اور مؤثر تقریر سے ایسا سماں باندھا کہ فرعونِ وقت بے بس ہو گیا. اس میں بھی ایک امکان کو پیش نظر رکھیے! ہو سکتا ہے کہ مؤمن آلِ فرعون نے بالعموم تو اپنے ایمان کو مصلحتاً خفیہ رکھا ہو لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام کو رازدارانہ انداز میں بتا دیا ہو اور انہیں اس پر گواہ بنا لیا ہو! واللہ اعلم بالصواب! 

اشاعرہ کے بعد ہمارے ہاں دو طبقے اور ہیں ‘ یعنی مُرجئہ اور احناف (احناف سے مراد ہیں امام ابوحنیفہؒ اور اُن کے پیروکار). ان میں سے مُرجئہ کے نزدیک ایمان ’’اقرارٌ باللسان‘‘ اور ’’تصدیق بالقلب‘‘دونوں کے مجموعے کا نام ہے ‘ جبکہ عمل کا ایمان اور نجات سے سرے سے کوئی تعلق نہیں. گویا یہ اپنے عقیدے کے اعتبار سے کرامیہ کے پاس پہنچ گئے ہیں. اور احناف جو پوری دنیا کے اندر ایک بڑی تعداد میں موجود ہیں‘ اِن کا موقف بھی یہ ہے کہ ایمان نام ہے تصدیق بالقلب اور اقرارٌ باللسان کا‘ اور ’’عمل‘‘ ایک 
علیحدہ چیز ہے‘ ایک الگ کیٹیگری ہے جس کا ایمان سے کوئی تعلق نہیں ہے. میں ’’علیحدہ‘‘ کا لفظ اس لیے استعمال کر رہا ہوں کہ ان کے نزدیک عمل کا تعلق ایمان سے تو نہیں ہے البتہ نجات کے ساتھ اس کا ایک تعلق ہے. اس بنیاد پر مُرجئہ اور احناف کے موقف میں بڑا بنیادی فرق واقع ہو جاتا ہے. احناف کے نزدیک اگر کسی کے دل میں ایمان تھا اور اس نے دنیا میں زبان سے اس کا اقرار بھی کیا‘ اس شخص کے اعمال کا جب وزن کیا جائے گا اور اس کی نیکیوںکا پلڑاگناہوں سے بھاری نکلے گا تو ایسا شخص سیدھا جنت میں جائے گا. لیکن اگر تصدیق بھی تھی اور اقرار بھی تھا لیکن اعمال میں گناہوں کا پلڑا نیکیوں سے بھاری ہوا تو وہ جہنم میں جائے گا‘ لیکن اپنے گناہوں کے بقدر سزا پا کر اپنے ایمان کی بدولت جو اُس کے دل میں تھا‘ وہاں سے نکال لیا جائے گا اور جنت میں داخل کر دیا جائے گا. ان کے نزدیک عمل کا تعلق نجات سے توہے لیکن یہ ایمان کا حصہ نہیں ہے.

ان کے علاوہ ہمارے ہاں چار گروہ ایسے ہیں جن کے نزدیک ایمان تین چیزوں ’’اقرارٌ باللسان ‘ تصدیق ِبالقلب اور عمل ِصالح‘‘ کا مجموعہ ہے. گویا ان کے نزدیک عمل صالح بھی ایمان کا جزو ہے. ان میں سب سے نمایاں تو سید المحدثین امام بخاریؒ ہیں‘ اور باقی ائمۂ ثلاثہ ہیں‘ یعنی امام مالک‘ امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ. چنانچہ ائمۂ اربعہ میں سے بھی تین اِس رائے کے قائل ہیں کہ عمل ِصالح ایمان کا جزو ہے. 

اس اعتبار سے دیگرگروہ معتزلہ ‘شیعہ اور خوارج ہیں. خوارج کہتے ہیں کہ گناہِ کبیرہ سے انسان ایمان اور اسلام دونوں سے نکل جاتا ہے ‘لہٰذا مرتد قرار پاتا ہے. اب اس کا مال اور بیوی بچے مالِ غنیمت ہیں. خوارج کے کفر پر تو اُمت کا اتفاق ہے کہ یہ لوگ دائرئہ اسلام سے خارج ہیں. معتزلہ اور شیعہ ان کے آس پاس ہیں. معتزلہ کے نزدیک گناہِ کبیرہ کی بنیاد پر ایک انسان ایمان سے بھی نکل جاتا ہے اور اسلام سے بھی‘ لیکن کافر نہیں ہوتا‘ لہٰذا وہ مرتد شمار نہیں ہو گا. وہ مباح الدم اور مباح المال نہیں ہو گا. اس حوالے سے ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب کوئی شخص ایمان سے بھی نکل گیا اور اسلام سے بھی نکل گیا تو پھر اس کا مقام کہاں ہے؟ اس لیے کہ اسلام اور کفر کے درمیان کوئی بفر 
(buffer) زون تو ہے نہیں! کفر اور اسلام کی سرحدیں تو ملی ہوئی ہیں. کوئی شخص یا تو اِدھر ہے یا اُدھر. تو اس اعتبار سے معتزلہ کا موقف مبہم بھی ہے‘ غیر معقول بھی ہے اور غیر منطقی بھی . البتہ شیعہ کہتے ہیں کہ ایسا شخص پھر منافق ہے. لیکن منافق بھی قانونی طو رپر تو مسلمان ہوتا ہے. تو گویا معتزلہ اور اہل تشیع کا موقف ایک دوسرے کے بہت قریب ہے.

اس ضمن میں امام المحدثین امام بخاریؒ اور ائمۂ ثلاثہ کا موقف یہ ہے کہ اگرچہ ایمان اور عمل صالح لازم و ملزوم ہیں اور عمل صالح ایمان کا جزو ہے‘ لیکن گناہِ کبیرہ سے کوئی شخص نہ ایمان سے نکلتا ہے اور نہ اسلام سے نکلتا ہے ‘البتہ وقتی طور پر جبکہ وہ گناہ کر رہا ہوتا ہے‘ ایمان اس کے دل سے نکل کر اس کے اُوپر منڈلاتا رہتا ہے اور جب وہ گناہ سے فارغ ہوتا ہے تو ایمان پھر واپس آ جاتا ہے.

اب میں صرف اہل سنت تک اپنی بات کو محدود رکھنا چاہتا ہوں‘ اس لیے کہ مرجئہ‘ معتزلہ ‘اشاعرہ اور کرامیہ تو اَب ہمارے ہاں موجود نہیں ہیں‘ ان کے بارے میں بات کرنے کی ضرورت نہیں. اہل تشیع اگرچہ موجود ہیں‘ لیکن ان کے بارے میں مَیں زیادہ بات نہیں کرنا چاہتا. 
ہمارے ہاںاہل سنت کے دو ہی طبقے ہیں‘ یعنی احناف اور اہل حدیث. اہل حدیث کے نزدیک سب سے بڑی حجت اور سب سے بڑی دلیل امام بخاریؒ ہیں اور احناف کے نزدیک سب سے بڑی دلیل امام الفقہاء امام ابوحنیفہؒ ہیں‘ اگرچہ فقہ حنفی امام ابوحنیفہؒ کے کچھ فتاویٰ کے علاوہ زیادہ تر اُن کے دو شاگردوں قاضی ابویوسف اور امام محمدرحمہما اللہ کے فتاویٰ پر مشتمل ہے.
احناف اور اہل حدیث کے الگ الگ موقف سامنے آنے کے بعد اِن کے اندر تطبیق کیا ہو گی‘ یہ ایک بہت باریک اور بہت اہم نکتہ ہے. اس تطبیق کے ذریعے یہ عقدہ 
(dilemma) حل ہو جاتا ہے. امام ابوحنیفہؒ ‘کا جو موقف ہے کہ ایمان تصدیق بالقلب اور شہادت یا اقرار کا نام ہے‘ تو دنیا میں تو ’’تصدیق بالقلب‘‘ کی توثیق (verification) ہو ہی نہیں سکتی. لہٰذا اِس موقف کی رو سے دنیا کی حد تک ایمان گویا صرف اقرار پر مبنی ہے. اور امام ابوحنیفہؒ ‘ کا یہ موقف بھی بہت واضح ہے کہ گناہِ کبیرہ کے ارتکاب سے بھی کوئی شخص نہ اسلام سے نکلتا ہے نہ ایمان سے‘ بلکہ وہ مسلمان ہی رہتا ہے. ان کے نزدیک جہاں تک نفس ِتصدیق کا تعلق ہے تو اس میں نہ اضافہ ہوتا ہے اور نہ کمی ہوتی ہے ‘ بلکہ یہ جامد حیثیت میں برقرار رہتی ہے‘ لیکن ایمان میں جو حدت اور شدت ہے اس میں کمی یا بیشی ہو سکتی ہے. چنانچہ اس حوالے سے امام ابوحنیفہؒ ‘ کا موقف عام طو رپر اِن الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے: اَلْاِیْمَانُ قَوْلٌ لَا یَزِیْدُ وَلَا یَنْقُصُ ’’ایمان تو قول کا نام ہے جو نہ گھٹتا ہے نہ بڑھتا ہے‘‘. جبکہ امام بخاریؒ کا موقف ہے: اَلْاِیْمَانُ قَوْلٌ وَعَمَلٌ یَزِیْدُ وَیَنْقُصُ ’’ایمان قول اور عمل دونوں کے مجموعے کا نام ہے ‘یہ گھٹتا بھی ہے اور بڑھتا بھی ہے‘‘. تو بظاہر احوال اور بظاہر الفاظ یہ دونوں موقف ایک دوسرے کی مکمل ضد معلوم ہوتے ہیں‘ جوقابل تطبیق (reconcilable) ہیں ہی نہیں. لیکن میرے نزدیک یہ دونوں ہی صد فیصد درست ہیں. آپ حیران ہورہے ہوں گے کہ یہ دونوں موقف صد فیصد درست کیسے ہو سکتے ہیں جبکہ ان کا محل اور مقام ہی جدا ہے!

حقیقت یہ ہے کہ امام ابوحنیفہؒ ‘ فقیہہ ہیں. وہ ایمان کے قانونی پہلو پر بات کر رہے ہیں جس کی بنیاد پر کوئی شخص دنیا میں مسلمان سمجھا جاتا ہے. سورۃ النساء کی آیت ۹۴ کے حوالے سے یہ بات بیان ہو چکی ہے کہ میدانِ جنگ میں بھی اگر کوئی شخص اپنے اسلام کا اقرار کرے تو آپ اُسے یہ نہیں کہہ سکتے کہ 
’’لَسْتَ مُؤْمِنًا‘‘ (تم مؤمن نہیں ہو)‘ اس لیے کہ دنیا میں اسلام کی بنیاد اقرار ہے. اس حوالے سے گزشتہ نشست میں حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کا واقعہ بیان ہو چکا ہے کہ ایک کافر سے اُن کا دوبدو مقابلہ ہو رہاتھا‘ وہ کافر آپؓ کی تلوار کی عین زد میں تھا کہ اُس نے کلمۂ شہادت پڑھ لیا. حضرت اسامہؓ نے سمجھا کہ یہ تو کلمہ ٔشہادت پڑھ کر محض اپنی جان بچانے کا حیلہ کر رہا ہے‘ لہٰذا آپؓ نے تلوار چلا کر اس کی گردن اڑا دی. اس پر رسول اللہ نے سرزنش فرمائی کہ اے اسامہ! قیامت کے دن کیا کرو گے جب یہ کلمۂ شہادت تمہارے خلاف استغاثہ لے کر آئے گا؟ 

اس اعتبار سے حضرت امام ابوحنیفہؒ اور دیگر فقہاء کے نزدیک نماز‘ روزہ‘ حج اور 
زکوٰۃ ‘جو اسلام کے ارکان ہیں اور چوٹی کے اعمال ہیں‘ ان پر عمل نہ کرنے کی بنیاد پر بھی کوئی شخص کافر نہیں ہوتا‘البتہ ان میں سے کسی کاانکار کردے گا تو کافر ہو جائے گا. مختلف فقہاء کے نزدیک اگر کوئی شخص نماز نہیں پڑھتا تو تعزیر کے طور پر اسے جسمانی سزا دی جائے گی‘ اسے قید کیا جائے گا اور اسے توبہ پر مجبور کیا جائے گا. بعض فقہاء کا موقف ہے کہ اسے قتل بھی کیا جا سکتا ہے‘ اس لیے کہ ایک حدیث میں الفاظ آئے ہیں: 

بَیْنَ الرَّجُلِ وَبَیْنَ الشِّرْکِ وَالْکُفْرِ تَرْکُ الصَّلَاۃِ 
(۸
’’بندے اور کفر و شرک کے مابین نماز کا معاملہ حائل ہے.‘‘

لیکن یہ قتل کرنا بھی تعزیراً ہو گا‘ مرتد سمجھتے ہوئے نہیں.جیسے شادی شدہ زانی پرحد جاری کرکے اسے رجم کے ذریعے قتل تو کیا جائے گا ‘ لیکن اسے مرتد سمجھتے ہوئے نہیں. چنانچہ بالعموم عمل کی بنیاد پر تکفیر نہیں ہو گی‘ البتہ بعض اعمال ایسے ہیں جن کے ارتکاب سے تکفیر ہو جائے گی ‘جیسے کوئی شخص شرکِ جلی کا مرتکب ہو رہا ہے‘ مثلاً کسی بُت کو سجدہ کر رہا ہے تو وہ کافر ہے. 

احناف کاجو یہ موقف ہے کہ ایمان ایک جامد حالت میں ہے جو نہ گھٹتا ہے نہ بڑھتا ہے ‘اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کی بنیاد پر یا قانونی ایمان کی بنیاد پر دنیا میں ایک شخص کو جوقانونی مرتبہ 
(legal status) حاصل ہوتا ہے اس میں نہ اضافہ ہوتا ہے نہ کمی ہوتی ہے. نیک اعمال سے کسی مسلمان کا مرتبہ اونچا نہیں ہوتا اور برے اعمال سے نیچا نہیں ہوتا. کوئی مسلمان اللہ کے ہاں تو اپنے فسق و فجور کی سزا پائے گا‘ لیکن دنیا میں اس کا مرتبہ ( status) برقرار رہے گا. قانونی اور دستوری سطح پر سب مسلمان برابر ہیں. امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ کا بہت عالی مرتبت اور بہت اہم قول ہے کہ: اَلْمُسْلِمُ کُفْوٌ لِکُلِّ مُسْلِمٍ یعنی ’’ہرمسلمان دوسرے مسلمان کے برابر ہے‘‘. اس کے لیے میں ایک مثال دیا کرتا ہوں کہ ایک شخص کے دو بیٹے ہیں .ان میں سے ایک مؤمن اور متقی ہے‘ تہجد گزار ہے‘ شریعت کی پابندی کرتا ہے‘ جبکہ دوسرا فاسق و فاجر ہے‘ وہ یا تو نماز پڑھتا ہی نہیں یا کبھی کبھار پڑھ لیتا ہے‘ اور کبھی کبھی شراب بھی پی (۸) صحیح مسلم‘ کتاب الایمان‘ باب بیان اطلاق اسم الکفر علی من ترک الصلاۃ.ترمذی کی روایت میں الفاظ ہیں: بَیْنَ الْکُفْرِ وَالْاِیْمَانِ تَرْکُ الصَّلَاۃِ لیتا ہے.اب باپ کے فوت ہونے پر جب وراثت تقسیم ہو گی تو کیا متقی کو زیادہ اور فاسق و فاجر کو کم حصہ ملے گا؟ نہیں‘ بلکہ برابر برابر ملے گا. اس لیے کہ ایک مسلمان کا قانونی مرتبہ (legal status) ایک جامد چیز ہے ‘جس میں نہ کوئی اضافہ ممکن ہے اور نہ کوئی کمی.

آج کے دَور میں ایک بڑا اہم مسئلہ یہ ہے کہ اگر اسلامی ریاست قائم ہو جائے‘ اور اللہ کرے کہ ایسا ہو‘ تو اس کے سربراہ کا انتخاب کس طریقے سے ہو گا؟ اس کے لیے مشاورت کا کیا نظام ہو گا؟ اگر انتخابات کا طریقہ اختیار کیا جائے تو رائے دہی کا حق کس کو حاصل ہو گا؟خلافت راشدہ کے دَور میں تو چونکہ قبائلی معاشرہ تھا لہٰذا سربراہِ ریاست کے انتخاب کے لیے قبیلوں کے سردارمل بیٹھ کر جو مشورہ کر لیتے تھے وہی کافی ہوتا تھا. لیکن اب قبائلی معاشرہ نہیں ہے ‘اور خلیفۂ وقت یا سربراہِ ریاست کا انتخاب بھی ضروری ہے‘ اس لیے کہ وہ آسمان سے تو نازل نہیں ہو گا اور نہ ہی کوئی نبی یا رسول ہو گا‘ لہٰذا اس کے لیے انتخاب کا کوئی نہ کوئی طریقہ ایجاد کرنا پڑے گا. تواب مسئلہ یہ ہے کہ اس کے انتخاب کا حق صرف متقیوں کو ہو گا یا اس میں فاسق و فاجر مسلمان بھی رائے دے سکتے ہیں؟ لوگوں کے ذہنوں میں اس طرح کا تصور ہے کہ شاید مسجدوں میں رجسٹر کھول دیے جائیں گے اور پنج وقتہ نماز کی حاضری لی جائے گی ‘اورجو نمازی ہو گا اس کوووٹ کا حق دار سمجھا جائے گا. لیکن ایسی بات نہیں ہے. قانونی اور دستوری حقوق 
(Legal and constitutional rights) میں متقی اور فاسق مسلمان بالکل برابر ہیں. جیسے فزیالوجی کا ایک قاعدہ : ’’All or none law‘‘ کہلاتا ہے. یعنی کوئی چیز ہو گی تو پوری ہو گی اور نہیں ہو گی تو بالکل نہیں ہو گی. کمی بیشی والی بات نہیں ہو گی. اسی طرح کوئی شخص اسلام کے دائرے میں ہے تو اسے سارے قانونی حقوق حاصل ہیں اوراگردائرۂ اسلام میں نہیں ہے تو اس کے سارے حقوق ختم ہیں. جو بھی اسلام کی سرحد سے باہر نکلا وہ کافر اور مرتد ہوا‘ اب اُس کے مسلمان کی حیثیت سے حقوق ختم ہو گئے. اس کے نکاح میں اگر کوئی مسلمان ٭ اس موضوع پر اللہ تعالیٰ نے مجھے الحمد للہ شرح صدر عطا فرمایا ہے اور ’’حقیقت ایمان‘‘ نامی کتاب میں اس ضمن میں مفصل مباحث ضبط تحریر میں آ چکے ہیں. خاتون ہے تو اُس سے نکاح فسخ ہو گیا‘ اب وہ مسلمان باپ کی وراثت میں سے حصہ نہیں پا سکتا. تو امام ابوحنیفہؒ کا موقف قانونی ایمان کے حوالے سے ہے. 

اب ہم امام بخاریؒ کے موقف کی طرف آتے ہیں. امام بخاریؒ کا موقف حقیقی ایمان یا بالفاظِ دیگر یقین قلبی والے ایمان کی بنیاد پر ہے. یہ بڑی منطقی سی بات ہے کہ انسان کا عمل اِس یقین قلبی والے ایمان کے خود بخود تابع ہو جاتا ہے . اس لیے کہ وہ یقین ہی کیا ہوا جس کے تابع عمل نہ ہو! یقین تو بہت دور کی بات ہے ‘ اگر کسی بات پر گمانِ غالب بھی ہوتا ہے تو بھی انسان کا عمل اُس کے تابع ہو جاتا ہے. مثلاً سب کو معلوم ہے کہ ہر سانپ زہریلا نہیں ہوتا. ہمارے ہاں چوہا خور سانپ مشہور ہے جو چوہوں کو تلاش کر کے ہڑپ کر جاتا ہے اور وہ انسانوں کو نہیں کاٹتا‘ اور اگر کاٹ بھی لے تو اُس میں زہر نہیں ہوتا. اس کے علاوہ اور بھی بہت سے سانپ ہوتے ہیںجو زہریلے نہیں ہوتے . اس کے باوجود انسان ہر ایک سانپ سے بچنے کی کوشش کرتا ہے محض اس گمان کی بنیاد پر کہ شاید یہ زہریلا ہو. چنانچہ یہ ایک منطقی سی بات ہے کہ انسان کا عمل اس کے ایمان کے خود بخود تابع ہوجاتا ہے. قرآن مجید میں جہاں بھی ایمان کا ذکر آیا ہے اس کے ساتھ عمل کا ذکر بھی لازماً ہوا ہے. جیسے سورۃ العصر کے الفاظِ مبارکہ ہیں: 

وَ الۡعَصۡرِ ۙ﴿۱﴾اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَفِیۡ خُسۡرٍ ۙ﴿۲﴾اِلَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوۡا بِالۡحَقِّ ۬ۙ وَ تَوَاصَوۡا بِالصَّبۡرِ ٪﴿۳﴾ 

’’زمانے کی قسم! یقینا انسان خسارے میں ہے. مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے اور آپس میں حق بات کی تاکید کی اور صبر کی تلقین کی.‘‘

اسی طرح سورۃ التین کے الفاظِ مبارکہ ہیں: 

وَ التِّیۡنِ وَ الزَّیۡتُوۡنِ ۙ﴿۱﴾وَ طُوۡرِ سِیۡنِیۡنَ ۙ﴿۲﴾وَ ہٰذَا الۡبَلَدِ الۡاَمِیۡنِ ۙ﴿۳﴾لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِیۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِیۡمٍ ۫﴿۴﴾ثُمَّ رَدَدۡنٰہُ اَسۡفَلَ سٰفِلِیۡنَ ۙ﴿۵﴾اِلَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَہُمۡ اَجۡرٌ غَیۡرُ مَمۡنُوۡنٍ ؕ﴿۶﴾ …

’’قسم ہے انجیر اور زیتون کی ‘اور طورِ سینا کی‘ اوراِس پُرامن شہر (مکہ مکرمہ) کی‘ 
تحقیق ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا‘ پھر ہم نے اسے الٹا پھیر کر سب نیچوں سے نیچا کر دیا‘ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے‘ تو اُن کے لیے کبھی ختم نہ ہونے والا اجر ہے…‘‘

تو اس اعتبار سے عمل ِصالح حقیقی ایمان یا بالفاظِ دیگر یقین ِقلبی والے ایمان کا جزوِ لاینفک ہے. یہ امام بخاریؒ کا موقف ہے اور یہ بھی صد فیصد درست ہے. اور یہ یقین قلبی والا ایمان ‘ جیسا کہ میں بتا چکا ہوں‘ جامد نہیں ہوتا‘ بلکہ گھٹتا بھی ہے اور بڑھتا بھی ہے‘ اوراعمالِ سیّئہ کی بنا پر اِس کی نفی بھی ہوتی ہے. بے شمار احادیث ایسی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ فلاں گناہ کرو گے تو ایمان کی نفی ہو جائے گی. جیسے یہ حدیث نبویؐ پہلے بھی بیان ہو چکی ہے: 

لاَ یَزْنِی الزَّانِیْ حِیْنَ یَزْنِیْ وَھُوَ مُؤْمِنٌ ‘ وَلَا یَسْرِقُ السَّارِقُ حِیْنَ یَسْرِقُ وَھُوَ مُؤْمِنٌ ‘ وَلَا یَشْرَبُ الْخَمْرَ حِیْنَ یَشْرَبُھَا وَھُوَ مُؤْمِنٌ 

’’کوئی زانی حالتِ ایمان میں زنا نہیں کرتا ‘ کوئی چور حالت ایمان میں چوری نہیں کرتا اور نہ ہی کوئی شرابی حالت ایمان میں شراب پیتا ہے.‘‘

اگر کوئی شخص زنا کر رہا ہے یا چوری کر رہا ہے یا شراب پی رہا ہے تو اُس کے ایمان کی کیا قدر و قیمت رہ جاتی ہے؟ آم کے درخت پر اگر آم نہیں لگتے تو کیا فائدہ اُس درخت کا؟اسے تو کاٹ کر اُس کی لکڑی جلا لی جائے گی. وہ ایمان تو پھر دھیلے کا بھی نہیں ہے جس میں عمل ِصالح کے برگ و بار نہ لگے ہوں‘ بلکہ گناہ ہی گناہ ہوں! اس حدیث میں تو بڑے گناہوں زنا ‘ سرقہ اور شراب خوری کا ذکر ہے‘ لیکن ایک حدیث میں تو ایک معمولی سی کج خلقی پر بھی ایمان کی نفی کی گئی ہے. یہ حدیث بھی بیان ہو چکی ہے کہ ایک موقع پر رسول اللہ نے ارشاد فرمایا: 
وَاللّٰہِ لَا یُؤْمِنُ‘ وَاللّٰہِ لَا یُؤْمِنُ ‘ وَاللّٰہِ لَا یُؤْمِنُ ’’اللہ کی قسم وہ شخص مؤمن نہیں‘ اللہ کی قسم وہ شخص مؤمن نہیں‘ اللہ کی قسم وہ شخص مؤمن نہیں…‘‘اس پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کانپ گئے کہ کون ہے وہ بدبخت انسان جس کے بارے میں یہ بات کہی جا رہی ہے! انہوں نے دریافت کیا: وَمَنْ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ؟ ’’اے اللہ کے رسول ! یہ کون شخص ہے؟‘‘آپ نے فرمایا: اَلَّذِیْ لَا یَاْمَنُ جَارُہٗ بَوَایِقَہٗ ’’وہ شخص جس کی ایذا رسانی سے اس کا پڑوسی چین میں نہیں ہے‘‘. یہاں آپؐ نے زنا یا چوری وغیرہ جیسے کسی کبیرہ گناہ کا ذکر نہیں فرمایا‘ بلکہ محض بدخلقی پر تین بار اللہ عزوجل کی قسم کھا کر کہا کہ ایسا شخص مؤمن نہیں ہے. ہمارے فقہاء اِس حدیث کا ترجمہ اِن الفاظ میں کرتے ہیں : ’’اللہ کی قسم‘ اُس شخص کا ایمان کامل نہیں ہے…‘‘ اس لیے کہ مطلقاً ایمان کی نفی سے امام ابوحنیفہؒ کے موقف کی نفی ہو جاتی ہے. لیکن آپ سوچئے کہ اس حدیث میں جو زور ہے اس مفہوم سے اس کا تو دھیلہ ہو جاتا ہے! اس لیے کہ ایمانِ کامل تو کسی کسی کو نصیب ہوتا ہے. اِس حدیث کے الفاظ میں وہ زور ہے کہ آدمی کانپ جاتا ہے‘لیکن اس ترجمے سے اس کا اصل مقصد ختم ہو جاتا ہے. لہٰذا اسے اس کی حالت پر برقرار رکھیے کہ ایسا شخص مؤمن نہیں ہے‘ اس کے دل میں ایمان نہیں ہے. البتہ ایسا شخص کافر بھی نہیں ہے کہ اب مرتد قرار پا کر واجب القتل ہو گیا ہو ‘بلکہ وہ قانونی طور پر مسلمان ہی ہے‘ کیونکہ وہ زبان سے اپنے اسلام کا اقرار کر رہا ہے. یہ تو خوارج‘ معتزلہ اور اہل تشیع وغیرہ کا عقیدہ ہے کہ گناہ سے انسان ایمان اور اسلام دونوں سے نکل جاتا ہے.

یہ جو میں نے بتایا کہ اعمال کی بنیاد پر ایمانِ حقیقی کے اندر کمی بیشی ہوتی رہتی ہے اوربعض اوقات اس کی نفی بھی ہو جاتی ہے‘ تو اس ضمن میں مَیں قرآن مجید کے تین حوالے پیش کر رہا ہوں. غزوۂ اَحزاب کا نقشہ ذراذہن میں لایئے. یہ بڑا سنگین وقت تھا.بارہ ہزار کا لشکر مدینے کو گھیرے ہوئے تھا.ایک طرف تو خیر’’ حر ّات‘‘ تھے جہاں نہ گھوڑا چل سکتا تھا نہ اونٹ‘ لہٰذا یہ سمت محفوظ تھی‘ لیکن باقی تینوں اطراف میں دشمنوں کا لشکر تھا. مسلمانوں پر کئی کئی دن کا فاقہ تھا. یوں سمجھئے کہ مسلمانوں کے ایمان کی آخری درجے میں آزمائش ہو گئی. نتیجتاً منافقین کا نفاق ان کے دلوں سے نکل کر ان کی زبانوں پر آ گیا. سورۃ الاحزاب میں ان کے الفاظ نقل ہوئے ہیں: 

وَ اِذۡ یَقُوۡلُ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗۤ اِلَّا غُرُوۡرًا ﴿۱۲﴾ 

’’اور (یاد کرو وہ وقت) جب منافقین اور وہ سب لوگ جن کے دلوں میں روگ تھا (صاف صاف) کہہ رہے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول نے جو وعدے ہم سے کیے تھے وہ فریب کے سوا کچھ نہ تھے.‘‘

ہمیں تو اللہ اور اس کے رسول نے سبز باغ دکھا کر اور جھوٹے وعدے کر کے مروا دیا! 
(نعوذ باللہ) .اللہ کے رسول نے تو کہا تھا کہ قیصر و کسریٰ کے خزانے تمہارے قدموں میں ہوں گے ٭ اور یہاں یہ کچھ ہو رہا ہے! تو جس نفاق کو وہ چھپائے ہوئے تھے وہ ان کی زبانوں پر آ گیا. اس کے برعکس دیکھئے کہ اسی کیفیت میں اہل ایمان کا ردّعمل کس قدر مختلف تھا. اس کا نقشہ سورۃ الاحزاب میں بایں الفاظ کھینچا گیا ہے: 

وَ لَمَّا رَاَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ ۙ قَالُوۡا ہٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗ وَ صَدَقَ اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗ ۫ وَ مَا زَادَہُمۡ اِلَّاۤ اِیۡمَانًا وَّ تَسۡلِیۡمًا ﴿ؕ۲۲﴾ 
(الاحزاب) 
’’اور جب سچے مؤمنوں نے لشکروں کو دیکھا تو کہا یہی تو ہے جس کا ہم سے وعدہ کیا تھا اللہ اور اس کے رسول( ) نے اور اللہ اور اس کے رسولؐ کی بات بالکل سچی تھی. اس واقعہ نے ان کے ایمان اور سپردگی ہی کو اور زیادہ بڑھایا.‘‘

یعنی اس آزمائش سے اہل ایمان کے ایمان میں اضافہ ہو گیا اور اہل نفاق کا نفاق ان کی زبانوں پر آ گیا. اہل ایمان کے پیش نظر دراصل وہ آیات تھیں جن میں اللہ تعالیٰ نے مدنی دَور کے شروع میں ہی فرما دیا تھا: 

وَ لَنَبۡلُوَنَّکُمۡ بِشَیۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ وَ الۡجُوۡعِ وَ نَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ وَ الۡاَنۡفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۵۵﴾ۙ 
(البقرۃ) 
’’اور (اے مسلمانو! کمر ہمت کس لو) ہم لازماً تمہیں آزمائیں گے (تمہیں بڑے بڑے امتحانوں سے گزاریں گے) کسی قدر خوف سے اور بھوک (فقر و فاقہ) سے اور مالوں‘ جانوں اور پھلوں کے نقصان سے . اور (اے نبیؐ !) بشارت دے دیجیے (ان آزمائشوں میں) صبر کرنے والوں کو.‘‘

آزمائش کا یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ کوئی امتحان میں فیل ہوتا ہے اور کوئی پاس ہوتا ہے. جیسے عربی کہاوت ہے: 
اِنَّ فِی الْاِمْتِحَانِ یُکْرَمُ الْمَرْئُ اَوْ یُھَانُ ’’امتحان کے موقع پر یا تو ٭ ہجرتِ مدینہ کے موقع پر جب سراقہ بن مالک نے رسول اللہ کا تعاقب کیا اور اُن کا گھوڑا باربار زمین میں دھنسا تو آپ نے ان کو مخاطب کر کے کہا تھا : ’’اے سراقہ! میں کسریٰ کے کنگن تمہارے ہاتھوں میں دیکھ رہا ہوں‘‘.چنانچہ دورِ فاروقی ؓ میں فتح ایران کے بعد کسریٰ کے زیورات بھی مالِ غنیمت میں آئے اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کسریٰ کے کنگن حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں میں پہنائے.کسی کی عزت افزائی کی جاتی ہے یا اسے ذلیل کیا جاتا ہے.‘‘
دوسرا مقام سورۃ الانفال کی آیت کریمہ ہے: 

اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الَّذِیۡنَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتۡ قُلُوۡبُہُمۡ وَ اِذَا تُلِیَتۡ عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتُہٗ زَادَتۡہُمۡ اِیۡمَانًا وَّ عَلٰی رَبِّہِمۡ یَتَوَکَّلُوۡنَ ۚ﴿ۖ۲﴾ 

’’یقینا (سچے) اہل ایمان تووہ لوگ ہیں جن کے دل لرز جاتے ہیں جب (ان کے سامنے) اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے‘ اور جب ان پر اللہ کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو ان کے ایمان میں اضافہ ہو جاتا ہے اور وہ اپنے ربّ پر ہی بھروسہ رکھتے ہیں.‘‘

جب کوئی مسلمان قرآن پڑھتا ہے تو اگر وہ کج رو نہیں ہے تو اس کے ایمان میں لازماً اضافہ ہوتا ہے جس کا احساس اسے خود بھی ہو رہا ہوتاہے. اسی طرح جب کوئی شخص اہل ایمان کی مجلس میں بیٹھتا ہے تو وہ خود محسوس کرتا ہے کہ اس کے ایمان میں اضافہ ہوا ہے. اس کے برعکس جب کوئی شخص غافلین اور اوباش لوگوں کی صحبت میں کچھ وقت گزارتا ہے تو وہ خود محسوس کرتا ہے کہ اگر اس کے پاس ایمان کی کچھ پونجی تھی تو اب اس میں کمی ہو گئی ہے. لہٰذا ثابت ہوتا ہے کہ قلبی ایمان جامد شے نہیں ہے‘ یہ عمل صالح کے ساتھ بڑھتا ہے اور گناہوں کے ساتھ گھٹتا ہے ‘اور اگر گناہ انسان کا احاطہ کر لیں تو یہ ختم بھی ہو جاتا ہے. جیسے ارشادِ باری تعالیٰ ہے: 

بَلٰی مَنۡ کَسَبَ سَیِّئَۃً وَّ اَحَاطَتۡ بِہٖ خَطِیۡٓــَٔتُہٗ فَاُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۸۱﴾ 
(البقرۃ) 
’’کیوں نہیں! جس شخص نے (جان بوجھ کر) ایک بڑا گناہ کمایا اور اُس کے گناہ نے اس کا احاطہ کر لیا تو ایسے لوگ جہنمی ہیں ‘جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے.‘‘

اب یہاں خلود فی النار کا ذکر ہے جو کافروں کے لیے ہے‘ مسلمان کے لیے تو خلود فی النار نہیں ہے. جیسے احناف کی رائے ہے کہ اگر ایمان موجود ہے لیکن اعمالِ صالحہ کا پلڑا ہلکا ہے اور گناہوں کا پلڑا بھاری ہے تو وہ شخص جہنم میں جائے گا لیکن اپنے گناہوں کے بقدر سزا پا کر وہاں سے نکال لیا جائے گا. لیکن آیت مذکورہ میں چونکہ ہمیشہ کے لیے جہنم کا ذکر ہے تو ثابت ہوا کہ گناہوں سے ایمان گھٹتا رہتا ہے اور جب گناہ کسی کا مکمل طور پر احاطہ کر لیں تو ایمان ختم بھی ہو جاتا ہے. علماء کا ایک بڑا بلیغ قول ہے : 
اَلْمَعَاصِیْ بَرِیْدُ الْکُفْرِ ’’نافرمانی اور گناہ کفر کی ڈاک ہوتے ہیں‘‘.یعنی انسان جب مسلسل گناہ کیے جاتا ہے تو وہ گناہ اسے کفر تک لے جاتے ہیں.

تیسرا مقام سورۃ التوبۃ کا ہے جس میں منافقین کا نقشہ بایں الفاظ کھینچا گیا ہے: 

وَ اِذَا مَاۤ اُنۡزِلَتۡ سُوۡرَۃٌ فَمِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّقُوۡلُ اَیُّکُمۡ زَادَتۡہُ ہٰذِہٖۤ اِیۡمَانًا ۚ فَاَمَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا فَزَادَتۡہُمۡ اِیۡمَانًا وَّ ہُمۡ یَسۡتَبۡشِرُوۡنَ ﴿۱۲۴﴾ 

’’اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو اِن (منافقین) میں سے کوئی (استہزاء کے طور پر) کہتا ہے تم میں سے کس کا ایمان اِس سورت سے بڑھ گیا ہے؟ پس جو لوگ ایمان لائے اُن کے ایمان میں اس سورت نے (فی الواقع) اضافہ کر دیا اور وہ (اس سے) بہت خوش ہیں.‘‘

یعنی کسی نئی سورت کے اترنے پر منافقین کے ایمان میں تو کیا اضافہ ہونا تھاجبکہ ان کے اندر ایمان موجود ہی نہیں تھا‘ لیکن اس سے اہل ایمان کے ایمان میں یقینا اضافہ ہوتا تھا. جیسے ارشاد ہوا: 

ہُوَ الَّذِیۡ یُنَزِّلُ عَلٰی عَبۡدِہٖۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لِّیُخۡرِجَکُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ ؕ 
(الحدید:۹
’’وہ (اللہ) ہی تو ہے جو اپنے بندے (محمد ) پر واضح آیات نازل کر رہا ہے تاکہ تمہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آئے.‘‘

اب اس حوالے سے ایک حدیث نبویؐ پیش خدمت ہے. حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول نے فرمایا: 

مَا مِنْ نَبِیٍّ بَعَثَہُ اللّٰہُ فِیْ اُمَّۃٍ قَبْلِیْ اِلاَّ کَانَ لَــہٗ مِنْ اُمَّتِہٖ حَوَارِیُّوْنَ وَاَصْحَابٌ یَاْخُذُوْنَ بِسُنَّتِہٖ وَیَقْتَدُوْنَ بِاَمْرِہٖ‘ ثُمَّ اِنَّھَا تَخْلُفُ مِنْ بَعْدِھِمْ خُلُوْفٌ یَقُوْلُوْنَ مَا لَا یَفْعَلُوْنَ وَیَفْعَلُوْنَ مَا لَا یُوْمَرُوْنَ 

’’اللہ تعالیٰ نے مجھ سے پہلے جس اُمت میں بھی کوئی نبی بھیجا تو اُس کے اپنی اُمت میں سے کچھ اصحاب اور حواری (مددگار) ہوا کرتے تھے جو اپنے رسول کی سنت کو اختیار کر لیتے تھے اور اس کے حکم کی پیروی کرتے تھے. پھر ان کے بعد ایسے ناخلف آتے تھے جوکہتے وہ تھے جو کرتے نہیں تھے اور کرتے وہ تھے جس کا 
انہیں حکم نہیں ہوتا تھا.‘‘

یہ درجہ بدرجہ زوال ہمیشہ سے چلا آ رہا ہے اور اُمت محمدؐ میں بھی ہوا ہے. صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بعد تابعینؒ کا دَور آیا‘ ان کے بعد تبع تابعین کا دَور آیا‘ جو بہت سنہری اَدوار تھے. مرورِ ایام کے بعد یہ ہمارا زوال کا دَورہے. ہمارے قول و فعل میں تضاد پیدا ہو چکا ہے اور ہم وہ کچھ کر رہے ہیں جس کا ہمیں حکم نہیں ہوا.یہ جو بدعات پر مبنی رسومات ادا ہو رہی ہیں‘ مثلاً تیجے ہو رہے ہیں‘ دسویں‘ بیسویں اور چالیسویں ہو رہے ہیں‘ برسیاں ہو رہی ہیں‘ تویہ کیا ہیں؟ یہ کس نے بتائی ہیں؟ اللہ اور اس کے رسولؐ نے تو یہ نہیں بتائیں نہ صحابہؓ نے بتائی ہیں. یہ عید میلاد النبیؐ جو آج منائی جا رہی ہے یہ نہ صحابہؓ نے کبھی منائی ہے اور نہ تابعین نے ‘تو ہم یہ کہاں سے لے آئے؟ یہ عیسائیوں کی پیروی ہی تو ہو رہی ہے. کرسمس ان کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یومِ پیدائش ہے اور ان کی عید میلاد ہے ‘ تو ہم نے بھی ان کی دیکھا دیکھی اپنے نبی حضرت محمد کی عید میلاد منانی شروع کر دی. جیسے عیسائی کرسمس کے موقع پر کرسمس کارڈ بھیجتے ہیں ایسے ہی ہمارے لوگ بھی عید الفطر کے موقع پر سو سو روپے کا عیدکارڈ خرید کر بھیجتے ہیں. دینی کتابیں خریدنے کے لیے تو جیب بند ہو جاتی ہے لیکن تہنیت کے کارڈ بھیجے جا رہے ہیں‘ سالگرہ کے کارڈ بھیجے جا رہے ہیں. تو ہم نے دین کے احکام ترک کر دیے ہیں‘ سنتیں ترک کر دی ہیں ‘لیکن جس شے کا حکم نہیں ہے وہ کچھ کر رہے ہیں. رسول اللہ آگے فرما رہے ہیں:
 
فَمَنْ جَاھَدَھُمْ بِیَدِہٖ فَھُوَ مُؤْمِنٌ‘ وَمَنْ جَاھَدَھُمْ بِلِسَانِہٖ فَھُوَ مُؤْمِنٌ‘ وَمَنْ جَاھَدَھُمْ بِقَلْبِہٖ فَھُوَ مُؤْمِنٌ‘ وَلَیْسَ وَرَائَ ذٰلِکَ مِنَ الْاِیْمَانِ حَبَّۃُ خَرْدَلٍ 
(۹
’’تو جو شخص ایسے لوگوں کے خلاف ہاتھ سے (طاقت سے) جہاد کرے گا وہ مؤمن ہے ‘ اور جو شخص ان کے خلاف زبان سے جہاد کرے گا(غلط بات کو غلط کہے گا) وہ بھی مؤمن ہے‘ اور جو شخص اپنے دل کے ذریعے سے ان کے خلاف جہاد کرے گا (دل میں شدید نفرت رکھے گا) وہ بھی مؤمن ہے. اور اس کے بعد تورائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں ہے.‘‘

تو یہاں دیکھئے کہ انسان کے طرزِ عمل کی وجہ سے ایمان کی نفی ٔ‘ مطلق ہو رہی ہے. اگر کسی 
(۹) صحیح مسلم‘ کتاب الایمان‘ باب بیان کون النھی عن المنکر من الایمان… کے پاس اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ بزور ناخلف اور برے لوگوں کا مقابلہ کر سکے‘ اور حالات اتنے خراب ہیں کہ وہ زبان کھولنے کی ہمت بھی نہیں کر سکتا تو کم از کم دل میں تو ان کے اعمال سے نفرت رکھے. اگر اس کے دل میں بھی نفرت نہیں ہے تو رسول اللہ فرما رہے ہیں کہ پھر وہ ایمان سے محروم ہے. ہونا تو یہ چاہیے کہ ظلم و زیادتی کے خلاف ہمت کر کے زبان کھولو. اس پر اگر تکلیف آتی ہے تو برداشت کرو. یہ جو فرمایا گیا ہے : وَ لَنَبۡلُوَنَّکُمۡ بِشَیۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ وَ الۡجُوۡعِ وَ نَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ وَ الۡاَنۡفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ ؕ (البقرۃ:۱۵۵یہ محض شاعری تو نہیں ہے (نعوذ باللہ) ‘بلکہ اللہ کا کلام ہے. اور اس سے بھی آگے بڑھ کر طاقت حاصل کرو اور ظالموں اور جابروں کے ساتھ ٹکرا جاؤ. 

ایمان اور عمل صالح کے بارے میں دونوں قابل ذکر موقف بھی آپ کے سامنے آگئے اور ان میں تطبیق کی صورت بھی آپ کے سامنے آ گئی. ایک امام ابوحنیفہ‘ؒ کا موقف ہے جو امام الفقہاء ہیں ‘اور یہ ایمان کے قانونی پہلو سے متعلق ہے کہ ایمان زبانی اقرار اور دلی تصدیق کے مجموعے کا نام ہے اور عمل کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے ‘بلکہ عمل الگ سے ایک کیٹیگری ہے. اور دلی تصدیق کو بھی دنیا میں چونکہ 
verify نہیں کیا جا سکتا لہٰذا باقی قول رہ جاتا ہے. اور یہ موقف صد فی صد درست ہے. دوسرا موقف امام المحدثین امام بخاریؒ اور ائمۂ ثلاثہ یعنی امام مالک‘ امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ کاہے‘ جو حقیقی ایمان سے متعلق ہے اور یہ بھی صد فی صد درست ہے. اِن دومسالک یعنی حنفی مسلک اور اہلحدیث مسلک کی اپنی اپنی جگہ پر بڑی اہمیت ہے. یہ بظاہر دو الگ الگ مسلک ہیں لیکن ان کے مابین ایک مطابقت ہے. اب علماء کرام کا کام ہے کہ ان کے مابین تطبیق پیدا کر کے لوگوں کو دکھائیں. ایک ہی کنویں کا مینڈک بن کر بیٹھ رہنے کے بجائے ہمیں چاہیے کہ دوسروں کے مسالک کا مطالعہ کریں اور غور و فکر کریں کہ ان کا موقف کس بنیاد پر قائم ہے‘ ان کا استدلال کیا ہے. اور یہ کام عوام تو نہیں کر سکتے. عوام کو تو اِس مشکل دَور میں دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں. جیسے امام الہند شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا کہنا ہے کہ اگر کسی معاشرے میں تقسیم دولت کا نظام غلط ہوتا ہے تو اُس کے نتیجے میں وہاں دو طبقے وجود میں آ جاتے ہیں‘ ایک مترفین(haves) اور دوسرے محرومین (have nots). ایک طرف ارتکازِ دولت ہو جائے گا‘ دولت کے انبار لگ جائیں گے.خود لاہور ہی میں اس کا مشاہدہ کرلیجیے کہ کروڑوں روپے کا ایک ایک پلاٹ ہے اور پھر عالی شان کوٹھیاں بنی ہوئی ہیں. ڈیفنس‘ ماڈل ٹاؤن‘ گلبرگ وغیرہ میں آپ کو یہ منظر نظر آ جائے گا . جبکہ دوسری طرف دیکھئے تو بہت بڑی تعداد میں لوگ خط غربت سے بھی نیچے زندگی گزار رہے ہیں. انتہائی فقر کا عالم ہے. کچے مکان اور جھگیاں ہیں جہاں بارش آتی ہے تو اُن کی قیامت ہوتی ہے‘ سردی گرمی آتی ہے تو قیامت ہوتی ہے. تو تقسیم دولت کے غلط نظام سے ہمارے ہاںمذکورہ بالا دو طبقات وجود میں آ چکے ہیں. تقسیم دولت کا غلط نظام دو دھاری تلوار ہے. جدھر پیسے کا ارتکازہوجاتا ہے وہاں عیاشی اور بدمعاشی ہوتی ہے‘ دولت کا بے جا اظہار ہوتا ہے‘ گویا یہ شیطان کے چیلے ہیں. اور جہاں فقر و فاقہ ہوتا ہے تو انسان حیوانوں کی سطح پر آ جاتے ہیں‘ جیسے لدو اونٹ یا باربرداری کے جانور ہوں.اب ان سے کیا توقع لگائی جا سکتی ہے کہ وہ اللہ سے لو لگائیں گے! بقول شاعر : ؎

دنیا نے تیری یاد سے بیگانہ کر دیا
تجھ سے بھی دل فریب ہیں غم روزگار کے!

اِن بے چاروں کے لیے پیٹ بھرنا تو کیا جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنا بھی تقریباً ناممکن سا ہو گیا ہے. ایک حدیث نبویؐ میں تو یہاں تک فرمایا گیا ہے :
 کَادَ الْفَقْرُ اَنْ یَّــکُوْنَ کُفْرًا (۱۰’’قریب ہے کہ فقر انسان کو کفر تک لے جائے!‘‘

اس اعتبار سے مسلکوں کے مابین باہمی تطبیق پیدا کرنا بہت ضروری اور بہت عظیم کام ہے. اس سے فرقہ واریت کی شدت کم ہو گی اور تلخی ختم ہو جائے گی. اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے. آمین! 
(۱۰) رواہ البیھقی فی شعب الایمان. بحوالہ مشکاۃ المصابیح‘ کتاب الآداب. والسلسلۃ الضعیفۃ للالبانی: ۴۸۰ و ۱۹۰۵.