۶جولائی ۲۰۰۷ء کا خطابِ جمعہ
خطبۂ مسنونہ ‘درود شریف اور ادعیۂ ماثورہ کے بعد فرمایا:

گزشتہ پانچ نشستوں میں ’’حدیث جبریل ؑ‘‘ کا مطالعہ مکمل کر لینے کے بعد ترتیب کے اعتبار سے تو ہمیں آج کی نشست میں اربعینِ نوویؒ کی تیسری حدیث کا مطالعہ کرنا تھا‘ لیکن میں نے اس مجموعے میں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی جس حدیث (حدیث نمبر۴۳) کا اضافہ کیا ہے‘ آج آپ کو پہلے اس کا مطالعہ کرا رہا ہوں. اس لیے کہ حدیث جبریل ؑ کے ساتھ اس حدیث کو بہت زیادہ مشابہت حاصل ہے. ایک تو اِس کے مشمولات 
(contents) کے اعتبار سے مشابہت ہے کہ دین کی حکمت کیا ہے‘ دین بحیثیت کل کیا ہے ‘ اس کے اجزاء کیا ہیں اور اس کے مراحل و مراتب اور منازل کیا ہیں. بلکہ اس لحاظ سے یہ میرے نزدیک بعض اعتبارات سے حدیث جبریل ؑ سے بھی کہیں زیادہ اہم ہے. دوسرے یہ حدیث جبریل ؑ کے contents کے علاوہ اس کے اسلوب سے بھی مشابہت رکھتی ہے. حدیث جبرئیل ؑ میں رسول اللہ کی محفل کا ایک واقعہ ایسی تفصیلات کے ساتھ اور اِس انداز میں بیان ہوا کہ گویاہماری نگاہوں کے سامنے وہ نقشہ آگیا‘ اور تھوڑی دیر کے لیے ہمیں یہ لذت محسوس ہوئی کہ ہم خود بھی اسی ماحول اور اسی مجلس کا حصہ ہیں. اسی طرح اس حدیث کے واقعاتی انداز اور پس منظر کے بیان میں اس سے بھی کہیں بڑھ کر کیفیت حاصل ہو رہی ہے. ان دونوں حدیثوں کے مابین ایک اور مشابہت بھی ہے ‘ اور وہ یہ کہ یہ دونوں حدیثیں رسول اللہ کی حیاتِ دُنیوی کے آخری دَور کی ہیں. آج کی نشست میں ہم اس حدیث کے ترجمے اور چند اشارات پر اکتفا کرتے ہیں ‘جبکہ اس کے اندر جو دو اہم مضامین بیان ہوئے ہیں اُن پر تفصیلی گفتگو اِن شاء اللہ آئندہ ہو گی. 

اس حدیث مبارکہ کے راوی حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہیں. ان کی شخصیت کا اجمالی تعارف یہ ہے کہ آپؓ ایک انصاری صحابی ہیں اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں ان کا ایک بہت اونچا مقام ہے. آنحضور نے اپنے بعض صحابہؓ کے لیے مدح کے الفاظ افعل التفضیل کے صیغے میں ارشاد فرمائے ہیں ‘ ان میں ایک نام حضرت معاذ بن جبلؓ ‘کا بھی ہے. آپ نے فرمایا: 

اَرْحَمُ اُمَّتِیْ بِاُمَّتِیْ اَبُوْبَکْرٍ‘ وَاَشَدُّھُمْ فِیْ اَمْرِ اللّٰہِ عُمَرُ‘ وَاَصْدَقُھُمْ حَیَائً عُثْمَانُ‘ وَاَقْضَاھُمْ عَلِیُّ ابْنُ اَبِیْ طَالِبٍوَاَعْلَمُھُمْ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ… 
(۱
’’میری اُمت میں سے ان کے حق میں سب سے زیادہ رحیم و شفیق ابوبکرؓ ہیں‘ اللہ کے (دین کے) معاملے میں ان میں سب سے زیادہ سخت اور شدید عمرؓ ہیں‘ ان میں سب سے زیادہ باحیا انسان عثمانؓہیں ‘سب سے زیادہ صائب الرائے (صحیح فیصلے تک پہنچنے والے) علیؓ بن ابی طالب ہیں… اور ان میں حلال اور حرام کاسب سے زیادہ علم رکھنے والے معاذ بن جبل ؓ ہیں…‘‘

درحقیقت ان کا شمار فقہائے صحابہ میں ہوتا ہے . رسول اللہ نے انہیں یمن کا گورنر بنا کر بھیجا تھا تو اُس وقت ان کا آپ  کے ساتھ جو مکالمہ ہوا تھا وہ بھی اپنی جگہ بہت اہم ہے. بہرحال میں نے اُن کی شخصیت کا اجمالی تعارف پیش کیا ہے تاکہ آپ کے سامنے یہ عظیم حقیقت واضح ہو جائے کہ اتنی بلند پایہ شخصیت کو کیا چیز مسلسل پریشان کر رہی تھی‘ جس کے بارے میں اس حدیث میں انہوں نے رسول اللہ سے استفسار کیا ‘اور اس کے برعکس ہماری پریشانی کا سبب کون سی چیزیں ہیں. 
(۱) سنن الترمذی‘ کتاب المناقب عن رسول اللہ ‘ باب مناقب معاذ بن جبل وزید بن ثابت وابی بن کعب.وسنن ابن ماجہ‘ المقدمۃ‘ باب فضائل خباب. عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ  خَرَجَ بِالنَّاسِ قَـبْلَ غَزْوَۃِ تَـبُوْکَ ’’حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول غزوئہ تبوک سے قبل لوگوں کو لے کر نکلے.‘‘ یعنی تبوک کی طرف جاتے ہوئے سفر کے دوران یہ واقعہ پیش آیا. فَلَمَّا اَنْ اَصْبَحَ ’’تو جب صبح ہو گئی‘‘ (یعنی فجر طلوع ہو گئی). اس جملے کے پیچھے یہ چیز پوشیدہ ہے کہ اس طرح کا سفر رات کے وقت کیا جاتا تھا ‘ اس لیے کہ دن میں صحرا کا سفر شدید گرمی اور دھوپ کی تمازت کی وجہ سے تقریباً ناممکن تھا. جبکہ رات کے وقت چونکہ دھوپ نہیں ہوتی تھی‘ بلکہ خنکی ہوتی تھی‘ لہٰذا جتنا بھی فاصلہ رات کو طے ہو جاتا تھاوہ غنیمت سمجھا جاتا تھا.چنانچہ غزوۂ تبوک کا سفر بھی رسول اللہ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے رات کو ہی کیا.حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ آگے فرما رہے ہیں: صَلّٰی بِالنَّاسِ صَلَاۃَ الصُّبْحِ ’’تو رسول اللہ نے لوگوں کے ساتھ صبح کی نماز ادا کی‘‘. یعنی آپؐ نے صحابہ کرامؓ ‘ کو فجر کی نماز پڑھائی. ثُمَّ اِنَّ النَّاسَ رَکِبُوْا ’’پھرلوگ دوبارہ سوار ہو گئے.‘‘ اس کی وجہ یہ تھی کہ ابھی چونکہ سورج کے نکلنے اور دھوپ کے تیز ہونے میں کچھ وقت باقی تھا‘ موسم ابھی ٹھنڈا تھا ‘لہٰذا فیصلہ ہوا کہ اس ٹھنڈے موسم میں جتنا سفر طے ہو جائے وہ غنیمت ہے‘ جبکہ تمازت زیادہ ہو جانے کی صورت میں سفر ممکن نہیں رہے گا اور سورج ڈھلنے تک کہیں نہ کہیں آرام کرنا پڑے گا. 

فَلَمَّا اَنْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ نَـعَسَ النَّاسُ فِیْ اَثَرِ الدُّلْجَۃِ 
’’تو جب سورج طلوع ہو گیا تو لوگ شب بیداری کے اثرات کے تحت اونگھنے لگے .‘‘ہر شخص کو اِس کیفیت کا تجربہ ہے کہ صبح کے وقت جو نسیم سحر چلتی ہے وہ تو گویاباقاعدہ تھپکیاں دے دے کر سلاتی ہے‘ اور اگر رات جاگ کر گزاری ہو تو نیند کا غلبہ اور بھی بڑھ جاتا ہے. یہی وجہ ہے کہ ایک مسلمان کو یہ ترغیب دلائی گئی ہے کہ وہ اپنے اس طبعی تقاضے کا مقابلہ کرتے ہوئے مسجد میں فجر کی نماز پڑھ کر اپنے مصلے پر بیٹھا اللہ کا ذکر کرتا رہے اور جب سورج پوری طرح طلوع ہو جائے تو دو رکعت نماز اد اکرے اور پھر اپنے گھر جائے. اس کی بہت زیادہ فضیلت بتائی گئی ہے . وَلَزِمَ مُعَاذٌ رَسُوْلَ اللّٰہِ  یَتْلُوْ اَثَرَہٗ ’’اور حضرت معاذؓ نے اپنے لیے لازم ٹھہرا لیا رسول اللہ کے ساتھ ساتھ چلنے کو‘‘. آپ رضی اللہ عنہ نبی اکرم کے نقش قدم کی پیروی کرتے ہوئے آپؐ کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے کہ آپؐ ان سے کہیں الگ نہ ہو جائیں. وَالنَّاسُ تَفَرَّقَتْ بِھِمْ رِکَابُھُمْ عَلٰی جَوَادِ الطَّرِیْقِ ’’اور اکثر لوگوں کا حال یہ ہو گیا کہ ان کی سواریاں انہیں لے کر راستے کی پوری چوڑائی میں پھیل گئیں‘‘. راستے کی کوئی حدود تو متعین نہیں تھیں کہ دونوں اطراف میں کوئی باڑ لگی ہو اور بس ان کے اندر ہی سواریوں نے چلنا ہو. بلکہ یہ صحرا کا نقشہ ہے. اِدھر اُدھر پہاڑ ہیں اور درمیان میں کشادہ وادی ہے جس کے اندر اونٹنیاں اپنے سواروں کو لے کر آزادانہ چل رہی ہیں اور اِدھر اُدھر منتشر ہو گئی ہیں. تَاْکُلُ وَتَسِیْرُ ’’وہ اونٹنیاں کچھ کھاتی بھی ہیں اور کچھ چلتی بھی ہیں‘‘. زمین پر کوئی چارہ ہے تو وہ کھا رہی ہیں یا کوئی کیکر وغیرہ کا درخت ہے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اس مقصد کے لیے لمبی گردن دے رکھی ہے‘ وہ ان درختوں کے پتے اور کانٹے کھارہی ہیں. اورسوار چونکہ اونگھ رہے ہیں‘ ان کا اونٹنیوں پر کنٹرول تو ہے نہیں لہٰذا ان کو آزادی حاصل ہے. 

فَـبَیْنَمَا مُعَاذٌ عَلٰی اَثَرِ رَسُوْلِ اللّٰہِ  
’’پس اسی دوران میں کہ حضرت معاذ ؓ اللہ کے رسول کے نقش قدم کی پیروی کر رہے تھے‘‘. اپنی اونٹنی کو آپ کی اونٹنی کے قریب رکھ رہے تھے .وَنَاقَتُہٗ تَاْکُلُ مَرَّۃً وَتَسِیْرُ اُخْرٰی ’’جبکہ ان کی اونٹنی کبھی کچھ کھانے لگ جاتی اور کبھی چلنے لگ جاتی‘‘. یعنی کبھی رک کر کہیں کچھ چر چگ لیتی اور پھر چل پڑتی. عَثَرَتْ نَاقَۃُ مُعَاذٍ ’’اچانک حضرت معاذ ؓ کی اونٹنی نے (کسی چیز سے) ٹھوکر کھائی‘‘ . فَـکَبَحَھَا بِالزَّمَامِ فَھَبَّتْ ’’پس انہوں نے اس کی لگام کھینچی (اور اسے سنبھالنے کی کوشش کی) تو وہ بدک گئی‘‘. حَتّٰی نَفَرَتْ مِنْھَا نَاقَۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ  ’’یہاں تک کہ اس کی وجہ سے رسول اللہ کی اونٹنی بھی بدک گئی‘‘. چونکہ دونوں اونٹنیاں ساتھ ساتھ چل رہی تھیں توجب حضرت معاذ کی اونٹنی بدکی تو آپ کی اونٹنی بھی بدک گئی. ثُمَّ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ کَشَفَ عَنْہُ قِنَاعَہٗ ’’اس پر رسول اللہ نے اپنے اوپر سے پردہ ہٹایا‘‘.اونٹنی کے اُوپر ہودج کسا ہوا تھا جس کے اندر آپ استراحت فرما رہے تھے. لیکن جب آپ کی اونٹنی بدکی تو آپؐ نے اپنے ہودج کا پردہ ہٹایا . فَالْتَفَتَ فَاِذَا لَـیْسَ مِنَ الْجَیْشِ رَجُلٌ اَدْنٰی اِلَـیْـہِ مِنْ مُعَاذ ٍ ’’تو آپ نے دیکھا کہ پورے لشکر میں سے حضرت معاذؓ سے زیادہ کوئی بھی آپ سے قریب نہیں ہے‘‘. پورا لشکر منتشر ہو گیاتھا. سواریاں اپنے سواروں کو لے کر تمام راستے کی وسعت میں پھیلی ہوئی تھیں. آپ نے دیکھا کہ معاذ قریب ہیں. فَـنَادَاہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ  فَقَالَ: یَا مُعَاذُ ’’توآپ نے انہیں پکار کر ارشاد فرمایا:اے معاذ!‘‘ قَالَ لَـبَّـیْکَ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ ’’انہوں نے کہا : اے اللہ کے نبی! میں حاضر ہوں‘‘. قَالَ: اُدْنُ دُوْنَکَ ’’آپ نے فرمایا: اور قریب آ جاؤ‘‘. فَدَنَا مِنْہُ ’’تو حضرت معاذؓ (اپنی اونٹنی کو لے کر) آپؐ کے اور قریب ہو گئے‘‘. حَتّٰی لَصِقَتْ رَاحِلَتُھُمَا اِحْدَاھُمَا بِالْاُخْرٰی ’’یہاں تک کہ دونوں کی سواریاں ایک دوسری کے ساتھ مَس کرنے لگیں‘‘. یعنی حضور کی اونٹنی اور حضرت معاذؓ کی اونٹنی ایک دوسرے کے ساتھ رگڑ کھا رہی تھیں. فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ  : مَا کُنْتُ اَحْسِبُ النَّاسَ مِنَّا کَمَکَانِھِمْ مِنَ الْـبُـعْدِ ’’تو رسول اللہ  نے فرمایا:مجھے تو یہ گمان نہیں ہو سکتا تھا کہ لوگ ہم سے اتنے فاصلے پر ہوں گے!‘‘ 

اس جملے کے پیچھے ایک حقیقت مخفی ہے. رسول اللہ کی مسلمانوں کے مابین ایک خاص حیثیت ہے . آپؐ اللہ کے نبی و رسول ہیں‘ مسلمانوں کے سپہ سالار ہیں. آپؐ ‘کو اکیلا چھوڑ دینا حکمت اور مصلحت کے سراسر خلاف تھا. ہر وقت آپ  کے ساتھ پہرا ہونا چاہیے تھا‘تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آ سکے. اور اسی سفر سے واپسی پر ایسا ایک واقعہ پیش آیا بھی ہے.تبوک سے واپسی پر ایک روز عین دوپہر کے وقت‘ جبکہ دھوپ تیز ہو گئی تھی‘ سارا لشکر اِدھر اُدھر تتر بتر ہو گیا. جسے جہاں کوئی سایہ نظر آیا وہ وہاں چلا گیا‘ تاکہ قیلولہ کر لے. رسول اللہ بھی ایک درخت کے سائے میں استراحت فرمانے لگے اور اپنی تلوار اُس درخت کی ٹہنی کے ساتھ لٹکا دی . آپ لیٹے ہوئے تھے اور آپؐ کے آس پاس کوئی نہ تھا. اتنے میں ایک کافر کا وہاں سے گزر ہوا. اس نے 
اس موقع کو غنیمت جانا اور آپ ہی کی تلوار نیام سے نکال لی. آپ کی آنکھ کھلی تو دیکھا کہ وہ کافر تلوار سونتے سرپرکھڑا ہے . اُس نے کہا : اے محمدؐ ! اب مجھے بتائو تمہیں کون مجھ سے بچا سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: اَللّٰہُ ’’مجھے اللہ تعالیٰ بچا سکتا ہے‘‘.یعنی اگرچہ حالات میرے لیے بالکل ناموافق ہیں‘ میں لیٹا ہوا ہوں اور تم کھڑے ہو‘ میں غیر مسلح ہوں جبکہ تمہارے ہاتھ میں تلوار ہے. بظاہر حالات و واقعات اور مادی اسباب سارے تمہارے ہاتھ میں ہیں‘ لیکن اصل مسبب الاسباب تو اللہ ہے. آپ کی زبانِ مبارک سے اللّٰہ کا لفظ ایسے نکلا کہ اس کافر پر کپکپی طاری ہو گئی اور اس کے ہاتھ سے تلوار چھوٹ گئی. آپ نے تلوار اٹھا لی اور فرمایا: ’’اب تم بتاؤ تمہیں مجھ سے کون بچائے گا؟‘‘ اس نے ہاتھ جوڑ دیے اور کہا: کَرِیْمٌ وَابْنُ کَرِیْمٍ ’’آپ تو ایک نہایت شریف انسان ہیں اور ایک نہایت شریف انسان کے بیٹے ہیں‘‘. یہ گویا انتہائی خوشامد کے کلمات تھے جو اُس کافر اور مشرک نے کہے. کَرِیْم کالفظ عربی زبان میں بہت اونچا مقام رکھتا ہے. اس کا مطلب ہے بہت ہی صاحبِ مروّت ‘ صاحبِ شرافت اور بہت ہی سخی شخص.اسی سے پھر افعل التفضیل کا صیغہ ہے اَکْرَم .اسی لیے ہم آنحضور کو ’’نبی اکرم‘‘ بھی کہتے ہیں.بہرحال آپ نے فرمایا کہ میں تمہیں چھوڑ دیتا ہوں اور تم جاؤ‘ لیکن ایک وعدہ کرو کہ مسلمانوں کے خلاف کبھی جنگ میں شریک نہیں ہو گے. آپ نے اسے یہ نہیں کہا کہ ایمان لاؤ‘ کیونکہ یہ تو ایک جبری ایمان ہو جاتااور دین میں کوئی جبر نہیں ہے. اس کافر نے کہا میں وعدہ کرتا ہوں کہ مسلمانوں کے خلاف جنگ میں کبھی شریک نہیں ہوں گا اور جا کر لوگوں سے کہا : جِئْتُـکُمْ مِنْ اَکْرَمِ النَّاسِ ’’میں اِس وقت تمہارے پاس شریف ترین انسان کے پاس سے آرہاہوں‘‘.

میں نے ضمناً یہ واقعہ اس لیے بیان کر دیا ہے تاکہ معلوم ہو جائے کہ رسول اللہ نے کیوں حیرت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ: 
مَا کُنْتُ اَحْسِبُ النَّاسَ مِنَّا کَمَکَانِھِمْ مِنَ الْبُعْدِ ’’میں تویہ نہیں گمان کر سکتا تھا کہ لوگ ہم سے اتنے فاصلے پر ہوں گے‘‘. اب یہاں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے جو بات کہی اِس میں ہمارے لیے ایک سبق ہے. اگر ظرف میں کمی ہو تو یہ وقت ہوتا ہے اپنے لیڈر کے سامنے دوسروں کے مقابلے میں اپنی ترجیح قائم کرنے کا یا بالفاظِ دیگر نمبر بنانے کا. ہم میں سے کوئی ہوتا تو ایسے موقع پر یہی کہتا کہ حضور! لوگوں کو احساس ہی نہیں ہے‘ کچھ خیال ہی نہیں ہے‘ لوگ سوچتے ہی نہیں ہیں. اس میں گویا خود بخود اپنی بڑائی آ جاتی ہے کہ دیکھئے میں توبالکل آپ کے ساتھ ہوں‘ میں نے اپنے آپ کو آپ کے ساتھ جوڑا ہوا ہے. لیکن یہاں عام آدمی نہیں‘ بلکہ حضرت معاذ بن جبلؓ ہیں جو دوسروں کی طرف سے معذرت پیش کر رہے ہیں. فَقَالَ مُـعَاذٌ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ نَـعَسَ النَّاسُ فَـتَـفَرَّقَتْ بِھِمْ رِکَابُھُمْ تَرْتَعُ وَتَسِیْرُ ’’تو حضرت معاذؓ نے کہا:اے اللہ کے نبیؐ ! لوگ اونگھ رہے ہیں جس کی وجہ سے ان کی سواریاں انہیں لے کر متفرق ہو گئی ہیں‘ کچھ چرچگ بھی رہی ہیں اور کچھ چل بھی رہی ہیں‘‘. یعنی صبح کے وقت اونگھنے کی وجہ سے لوگوں پر جو غفلت طاری ہو گئی ہے اس وجہ سے وہ غیر ارادی طور پر آپ سے دور چلے گئے ہیں. فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ  : وَاَنَا کُنْتُ نَاعِسًا ’’تورسول اللہ نے فرمایا:میں خود بھی اونگھ رہا تھا‘‘.رسول اللہ نے اپنے آپ کو کوئی سپر ہیومن ‘مافوق الفطرت انسان کے طور پر پیش نہیں کیا‘بلکہ فرمایا کہ میں خود بھی اونگھ رہا تھا. یہ نوٹ کرنے کا خاص اور بہت اہم مقام ہے. اس میں سب کی طرف سے وہ معذرت بھی قبول ہو گئی جو حضرت معاذؓ نے پیش کی اورآپؐ نے اپنی بات بھی بتا دی کہ ٹھیک ہے یہ بشری تقاضے ہیں ‘جو میرے ساتھ بھی لگے ہوئے ہیں.

دراصل ہمارے ہاں دو انتہائیں ہیں. ایک انتہا یہ ہے کہ رسول اللہ کی جو امتیازی شان ہے اس کو بڑھاتے بڑھاتے (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ کے برابر بلکہ اُس سے بھی اونچا مقام دے دیا گیا. اور ایک انتہا یہ ہے کہ آپ کی شان کو (معاذ اللہ) گھٹاتے گھٹاتے اپنے جیسا انسان سمجھ لیا گیا. بلاشبہ قرآن مجید میں یہ الفاظ تو آئے ہیں کہ : 
قُلۡ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثۡلُکُمۡ … (حٰمٓ السجدۃ:۶’’(اے نبیؐ ! ان سے) کہہ دیجیے کہ میں تمہاری ہی طرح کا ایک بشر ہوں…‘‘ چنانچہ ایک اعتبار سے تو آپ ہماری ہی طرح کے بشر تھے‘ اسی گوشت پوست کے بنے ہوئے تھے‘ اسی طرح کا خون آپ کے جسم میں دوڑ رہا تھا‘ آپ کو اگر زخم لگا ہے تو جسم سے خون نکلا ہے‘ آپ کو بھوک بھی لگتی تھی اور پیاس بھی . تو معلوم ہوا کہ جو عام بشری تقاضے ہیں یہ سب آپ کے ساتھ تھے‘ لیکن ساتھ ہی آپ  خو د فرماتے ہیں: اَیُّـکُمْ مِّثْلِیْ ’’تم میں سے کون ہے مجھ جیسا؟‘‘رسول اللہ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ’’صومِ وصال‘‘ سے منع کیا تھا. صومِ وصال یہ ہے کہ جو روزہ رکھا وہ شام کو افطار نہیں کیا‘ بلکہ وہی روزہ رات بھر آگے چلتا رہا. پھر اگلا دن بھی روزے کی حالت میں گزرا اور اگلے دن شام کو روزہ افطار کیا .تو یہ دو دن کا ’’صومِ وصال‘‘ ہے. رسول اللہخود تو دو دن کا‘ بلکہ کبھی کبھی تین دن کا صومِ وصال بھی رکھتے تھے‘ لیکن صحابہؓ ‘ کو سختی سے منع کرتے تھے .تو کسی نے ہمت کرکے پوچھ لیاکہ حضور! آپ خود تو صومِ وصال رکھتے ہیں اور ہمیں روکتے ہیں؟ اس پر آپ نے فرمایا: وَاَیُّـکُمْ مِّثْلِیْ‘ اِنِّیْ اَبِیْتُ یُطْعِمُنِیْ رَبِّیْ وَیَسْقِیْنِ (۱’’تم میں سے کون ہے مجھ جیسا؟ میں تو اس حال میں اپنی رات گزارتا ہوں کہ میرا ربّ مجھے کھلاتا بھی ہے اور پلاتا بھی ہے‘‘. تو ہمیں اِن دو انتہاؤں کے مابین رہنا ہو گا. آپ بشر تو ہیں‘ لیکن ہر لحاظ سے ہم جیسے بشر نہیں ہیں. اور یہ کہ آپ اپنی تمام تر جلالت شان کے باوجود اللہ کے بندے ہی ہیں‘ اللہ کے برابر ہرگز نہیں ہیں! جیسے کسی عارف باللہ نے کہا: 

اَلْعَبْدُ عَبْدٌ وَاِنْ تَرَقّٰی
وَالرَّبُّ رَبٌّ وَاِنْ تَنَزَّلْ 

’’بندہ تو بندہ ہی رہتا ہے چاہے کتنی بلندی پر چلا جائے (ساتویں آسمان پر پہنچ جائے) اور ربّ تو ربّ ہی رہتا ہے چاہے کتنا نزول فرما لے (آسمانِ دنیا پر آجائے)‘‘. 
(۱) صحیح البخاری‘ کتاب الصوم‘ باب التنکیل لمن اکثر الوصال. وصحیح مسلم‘ کتاب الصیام‘ باب النھی عن الوصال فی الصوم. بہرحال اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثۡلُکُمۡ ’’ میں تمہارے جیسا ایک انسان ہوں‘‘ یہ بھی ایک حقیقت ہے اور: اَیُّـکُمْ مِّثْلِیْ’’کون ہے تم میں میرے جیسا؟‘‘یہ بھی اپنی جگہ ایک حقیقت ہے. اس حدیث میں آپ اپنی طبع بشری کا تقاضا بیان کر رہے ہیں کہ : وَاَنَا کُنْتُ نَاعِسًا ’’میں خود بھی اونگھ رہا تھا‘‘. 

فَلَمَّا رَاٰی مُعَاذٌ بُشْرٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ  اِلَـیْہِ وَخَلْوَتَہٗ لَـہٗ 
’’پس جب حضرت معاذؓ نے دیکھا کہ اس وقت حضوراُن سے خوش ہیں اور ان کے لیے موقع بھی تنہائی کا ہے‘‘. ظاہر بات ہے کہ تیس ہزارکے لشکر میں سے ایک ہی شخص آپ کے ساتھ جڑا ہوا ہے تو انہیں دیکھ کر آپ کو خوشی ہو ئی ہو گی اور اُن کے لیے آپؐ کے قلب مبارک میں یقینا محبت کا ایک عنصر پیدا ہو ا ہو گا. قَالَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ائْذَنْ لِیْ اَسْأَلُکَ عَنْ کَلِمَۃٍ قَدْ اَمْرَضَتْنِیْ وَاَسْقَمَتْنِیْ وَاَحْزَنَتْنِیْ ’’آپؓ نے (موقع کو غنیمت جانتے ہوئے) کہا: اے اللہ کے رسول ! مجھے اجازت دیجیے کہ میں آپؐ سے ایسی بات پوچھوں جس نے مجھے مریض بنا کر رکھ دیا ہے‘ مجھے بیمار کر دیا ہے اور مجھے شدید رنج و غم سے دوچار کر دیا ہے‘‘. میں اس کی فکر میں گھلا جا رہا ہوں. فَقَالَ نَبِیُّ اللّٰہِ : سَلْنِیْ عَمَّ شِئْتَ ’’تو آپ نے ارشاد فرمایا: مجھ سے پوچھو جوبھی تم چاہو‘‘.اب اُس وقت چونکہ آپ کی طبیعت میں بشاشت تھی‘ دریائے سخاوت جوش میں تھا ‘تو آپ نے انہیں گویا کھلا لائسنس دے دیا کہ جو چاہو پوچھ لو. اب ہم یہاں اپنا اور حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کا موازنہ کرلیں کہ آپؓ کس چیز کی فکر میں گھلے جا رہے تھے‘ بیمار اور غمزدہ ہو رہے تھے‘ جبکہ ہماری پریشانیوں اورتفکرات کا محور کیا ہے! 

فَقَالَ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ حَدِّثْنِیْ بِعَمَلٍ یُدْخِلُنِیَ الْجَنَّۃَ لَا اَسْأَلُکَ عَنْ شَیْئٍ غَیْرَھَا 
’’اے اللہ کے نبی ! مجھے وہ عمل بتا دیجیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے‘ اس کے سوا میں آپ ؐ سے اور کوئی بات نہیں پوچھوں گا‘‘. آپؓ صحابی ٔ رسول ہیں‘ بلکہ فقہاءِ صحابہؓ میں ان کا شمار ہے‘ نبی اکرم سے انہیں اَعْلَمُھُمْ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ کی سند بھی مل چکی ہے‘ مگر پھر بھی وہ یہ گارنٹی نہیں سمجھتے کہ میں تو جلیل القدر صحابی ٔرسول ہوں لہٰذا میری جنت تو پکی ہے. بلکہ انہیں بھی یہ فکر لگی ہوئی ہے کہ کیسے جنت کے حق دار بنیں. وہ بھی محاسبۂ اُخروی اور اُخروی قانونِ مجازات سے بے خوف نہیں ہیں. جبکہ ہمارا حال یہ ہے کہ ہمیں تو محاسبۂ اُخروی کی فکر ہی نہیں ہیں. ہم تو سمجھتے ہیں کہ بس سیدھے جنت میں جائیں گے. 

قَالَ نَبِیُّ اللّٰہِ  : 
بَخٍ بَخٍ‘ لَقَدْ سَاَلْتَ بِعَظِیْمٍ‘ لَقَدْ سَاَلْتَ بِعَظِیْمٍ [ثَلَاثًا] ’’اللہ کے نبی نے فرمایا:بہت خوب‘ بہت خوب. تم نے بہت عظیم بات پوچھی‘ تم نے بہت عظیم بات پوچھی [یہ بات آپ نے تین بار دہرائی]‘‘. آپؐ نے حضرت معاذ ؓ کی تحسین فرماتے ہوئے تین بار فرمایا کہ تم نے بہت عظیم بات کے بارے میں سوال کیا ہے. اس لیے کہ جس شخص کو آخرت کی فکر دامن گیر ہو جائے تو اس کی دُنیوی پریشانیاں اور تفکرات کوئی معنی نہیں رکھتے. حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہاور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمادونوں سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا: 

مَنْ جَعَلَ الْھُمُوْمَ ھَمًّا وَاحِدًا ھَمَّ آخِرَتِہٖ کَفَاہُ اللّٰہُ ھَمَّ دُنْیَاہُ … 
(۱
’’جس شخص نے اپنے تمام تفکرات کو ایک ہی فکر کے اندر گم کر دیا‘ یعنی آخرت کی فکر کے اندر ‘تو دنیا کے سارے تفکرات کے ضمن میں اللہ اسے کفایت کرے گا.‘‘

اللہ تعالیٰ اس کے سارے مسائل حل کرد ے گا. یعنی تم اللہ کے بن جاؤ تو اللہ تمہارا بن جائے گا. جب اللہ تمہارا بن جائے گا تو پھر تمہیں کسی چیز کی فکر کی ضرورت ہی باقی نہیں رہے گی. اللہ کے بنو تو سہی!

رسول اللہ آگے فرما رہے ہیں: 
وَاِنَّـہٗ لَـیَسِیْرٌ عَلٰی مَنْ اَرَادَ اللّٰہُ بِہِ الْخَیْرَ ’’اور یہ بات آسان ہے اُس شخص کے لیے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے خیر کا ارادہ کر لیا ہو‘‘. یعنی اے معاذ !اگر تمہارے دل میں یہ سوال پیدا ہواہے اور تمہیں یہ فکر دامن گیر ہوئی ہے تو سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے گویا تمہارے لیے سند ہے کہ اُس نے تمہارے لیے خیر کا ارادہ فرمایا ہے. فَلَمْ یُحَدِّثْہُ بِشَیْئٍ اِلاَّ قَالَــہٗ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حِرْصًا (۱) مشکوٰۃ المصابیح‘ کتاب العلم‘ الفصل الثالث‘ بحوالہ ابن ماجہ والبیھقی. لِکَیْمَا یُتْقِنَہٗ عَنْہُ ’’تو آپ نے حضرت معاذؓ سے کوئی بات نہیں فرمائی مگر یہ کہ اسے تین مرتبہ دہرایا‘اس خواہش کے تحت کہ وہ اسے اچھی طرح یاد کر لیں‘‘. آپ نے ہر بات کو تین تین بار دہرایا تاکہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے ذریعے آپ کی بات جوں کی توں لوگوں تک پہنچ جائے اور اس کا ایک لفظ بھی اِدھر سے اُدھر نہ ہو.

اب یہاں رسول اللہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے سوال کا جو جواب دے رہے ہیں تو اس ایک جملے میں کل دین کی جامع تعبیر آ گئی ہے . آگے چل کر آپ نے اسی دین کو تین حصوں میں تقسیم کر کے بیان فرمایا ہے. اس طرح اس حدیث کی حدیث جبریل ؑ کے ساتھ ایک اور مشابہت بھی بن رہی ہے‘ اس لیے کہ وہاں بھی تین چیزوں اسلام‘ ایمان اور احسان پر زور دیا گیا ہے.
فَقَالَ نَبِیُّ اللّٰہِ  : تُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَتُقِیْمُ الصَّلاَۃَ وَتَعْبُدُ اللّٰہَ وَحْدَہٗ لَا تُشْرِکُ بِہٖ شَیْئًا حَتّٰی تَمُوْتَ وَاَنْتَ عَلٰی ذٰلِکَ ’’تو اللہ کے نبی نے فرمایا:اے معاذ! تم پختہ ایمان رکھو اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر‘ اور نماز قائم کرو اور اکیلے اللہ کی بندگی اور پرستش کرو ‘اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتے ہوئے‘ یہاں تک کہ اسی حالت میں تم کو موت آ جائے‘‘. یعنی یہ تین کام کرنے سے تم جنت میں داخل ہو جائو گے.

نوٹ کیجیے کہ رسول اللہ نے پہلی بات جو فرمائی ہے وہ ایمان کی ہے‘ اسلام کی نہیں ہے. اس لیے کہ اسلام تو نقطۂ آغاز ہے‘ جبکہ اصل شے تو ایمان ہے. اسی لیے آپ ؐ نے فرمایا: 
تُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ ’’تم پختہ ایمان رکھو اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر‘‘. دوسری بات فرمائی: وَتُقِیْمُ الصَّلَاۃَ ’’اور نماز قائم کرو‘‘. اللہ پر ایمان کو تازہ رکھنے کے لیے نماز ہے. تیسری بات فرمائی : وَتَعْبُدُ اللّٰہَ وَحْدَہٗ لَا تُشْرِکُ بِہٖ شَیْئًا ’’اور اکیلے اللہ کی عبادت کرو کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراتے ہوئے‘‘.

یہاں لفظ ’’عبادت‘‘ اور ’’شرک‘‘ آئے ہیں. عبادت کا مفہوم صرف نماز روزہ تک محدود نہیں ہے ‘بلکہ اس پر تفصیلی گفتگوئیں ہوتی رہی ہیں کہ عبادتِ الٰہی کا مطلب ہے انتہائی محبت کے جذبے سے سرشار ہو کر اللہ تعالیٰ کی ہمہ وقت‘ ہمہ جہت اور کامل اطاعت 
و فرماں برداری کرنا.دنیا کی ہر شے سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ سے محبت ہو. جیسے فرمایا گیا: وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہِ ؕ (البقرۃ:۱۶۵’’اور جو لوگ (سچے) مؤمن ہیں ان کو شدید محبت ہے اللہ سے‘‘.عبادت کے لیے فارسی کا ایک لفظ ہے ’’بندگی‘‘ اور ایک ہے ’’پرستش‘‘. ان دونوں کو جمع کریں گے تو عبادت بنے گی. یہ جو فرمایا گیا ہے کہ: وَ مَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَ الۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡنِ ﴿۵۶﴾ (الذّٰریٰت) ’’اورمیں نے نہیں پیدا کیا جنوں اور انسانوں کو مگر اس لیے کہ میری عبادت کریں‘‘. تو یہاں عبادت سے مراد محض عبادات یعنی نماز‘ روزہ‘ حج اور زکوٰۃ نہیں ہیں. اگرچہ یہ بھی عبادت اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت میںشامل ہیں مگر عبادتِ الٰہی صرف انہی چیزوں تک محدود نہیں ہے.

یہاں عبادت کے بعد دوسرا لفظ ’’شرک‘‘ آیا ہے کہ: 
لَا تُشْرِکُ بِہٖ شَیْئًا ’’اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ‘‘.یہاں بھی نوٹ کیجیے کہ شرک بھی صرف بُت پرستی کا شرک نہیں ہے کہ بت پرستی چھوڑ دو تو شرک ختم ہو گیا ‘ بلکہ نفس پرستی بھی تو بہت بڑا شرک ہے.ارشادِ الٰہی ہے: اَفَرَءَیۡتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـہَہٗ ہَوٰىہُ (الجاثیۃ:۲۳’’(اے نبیؐ !) کیا آپ نے دیکھااُس شخص کو جس نے اپنی خواہشِ نفس کو اپنا معبود بنا لیا؟‘‘ تو خواہش نفس بھی تو معبود ہو جاتی ہے. اگرچہ نفس کی نماز تو کوئی نہیں پڑھتا مگر نفس کی اطاعت تو کر رہے ہیں! اندر سے نفس کا جو تقاضا ابھرتا ہے تو یہ دیکھے بغیر کہ یہ حلال ہے یا حرام ہے‘ شریعت کی رو سے جائز ہے یا ناجائز ہے‘ بسر و چشم اس کی پیروی کرتے ہیں . تو گویا نفس انسان کا معبود بن گیا. اسی طرح مال کی محبت میں اس درجے سرشار ہو جانا کہ اس کے حصول میں حلال اور حرام کی تمیز ختم ہو جائے‘ تو یہ مال کی بندگی ہے اورایک درجے کا شرک ہے. رسول اکرم کی ایک حدیث مبارکہ ہے: 

تَعِسَ عَبْدُ الدِّیْنَارِ وَعَبْدُ الدِّرْھَمِ 
(۱
’’ہلاک ہو جائے (یا ہلاک ہو گیا) دینار و درہم کا بندہ‘‘.

تو یہاں بھی آپ ’’عبد‘‘ کا لفظ لائے ہیں کہ کہنے کو تو تم اللہ کے بندے بنے پھرتے 
(۱) صحیح البخاری‘ کتاب الجھاد والسیر‘ باب الحراسۃ فی الغزو فی سبیل اللّٰہ. ہو جبکہ حقیقت میں تم مال کے بندے ہو. دیکھئے ہندو لکشمی دیوی کی پوجا کرتا ہے کہ وہ اسے مال عطا کردے ‘جبکہ ہم براہِ راست مال کے پجاری ہیں. ہم نے صرف لکشمی دیوی کو درمیان میں سے ہٹایا ہے‘ باقی ہمارا اور ہندوؤں کا اصل معبود تو مال ہی ہے. لکشمی دیوی تو درمیان میں محض واسطہ ہے. تو شرک محض بُت پرستی کا نام نہیں ہے‘ بلکہ شرک اور بھی بہت سے ہیں. میں نے اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ایک عرصہ قبل ’’حقیقت و اقسامِ شرک‘‘ کے موضوع پر ایک ایک گھنٹے کی چھ تقاریر کی تھیں (۱کہ شرک عقیدے کا بھی ہے‘ عمل کا بھی ہے اور شرک انفرادی بھی ہے ‘ اجتماعی بھی ہے. آج کا سب سے بڑا شرک اجتماعی شرک یعنی انسانی حاکمیت (Human Sovereignty) ہے. اس سے بڑا شرک اور کیا ہو گا کہ ’’اَلْمَلِک‘‘ تو صرف اللہ ہے لیکن یہاں انسان خود خدا بن کر بیٹھ گیا ہے. بقول اقبال : ؎

سروری زیبا فقط اُس ذاتِ بے ہمتا کو ہے
حکمراں ہے اِک وہی باقی بتانِ آزری

مادہ پرستی بھی بہت بڑا شرک ہے. آج انسان کا سارا توکل اللہ کی ذات کے بجائے اسباب و وسائل پر ہے. ارشادِ الٰہی ہے : 
…اَلَّا تَتَّخِذُوۡا مِنۡ دُوۡنِیۡ وَکِیۡلًا ؕ﴿۲﴾ (بنی اسراء یل) ’’…کہ میرے سوا کسی اور کو اپنا کارساز نہ سمجھ بیٹھنا‘‘.اسی طرح ریاکاری کو شرکِ خفی قرار دیا گیا ہے. فرمانِ نبویؐ ہے : 

مَنْ صَلّٰی یُرَائِیْ فَقَدْ اَشْرَکَ ‘ وَمَنْ صَامَ یُرَائِیْ فَقَدْ اَشْرَکَ وَمَنْ تَصَدَّقَ یُرَائِیْ فَقَدْ اَشْرَکَ (۲

’’جس نے دکھاوے کے لیے نماز پڑھی وہ شرک کر چکا‘ جس نے دکھاوے کے 
(۱) محترم ڈاکٹر اسرار احمدحفظہ اللہ کی یہ چھ تقاریر کیسٹ سے صفحۂ قرطاس پر منتقل کر کے ضروری ایڈیٹنگ کے بعد ماہنامہ ’’میثاق‘‘ میں فروری۲۰۰۶ء سے جولائی ۲۰۰۶ء کے دوران ’’حقیقت و اقسام شرک‘‘ کے عنوان سے شائع ہو چکی ہیں اور ان شاء اللہ العزیز عنقریب کتابی شکل میں شائع ہو جائیں گی. دلچسپی رکھنے والے افراد اِن سے بھرپور استفادہ کر سکتے ہیں. (مرتب) 

(۲) مسند احمد. 
لیے روزہ رکھا وہ شرک کر چکا ‘اور جس نے دکھاوے کے لیے صدقہ دیا وہ شرک کرچکا.‘‘

عربی زبان میں فعل ماضی پر 
’’قَدْ‘‘ آ جائے تو یہ ماضی قریب یا present perfect tense کا معنی دیتا ہے.اگر کوئی کہے کہ ’’میں یہ کام کر نا چاہتا ہوں‘‘ تو اس میں ایک شبہ ہے کہ وہ یہ کام کر سکے گا یا نہیں‘ لیکن اگر وہ یہ کہے کہ ’’میں یہ کام کر چکا ہوں‘‘ تو اس میں تو اب کوئی شبہ نہیں ہے. اس حدیث میں تین مرتبہ ’’فَقَدْ اَشْرَکَ‘‘ فرمایا گیا ہے. نبی اکرم نے یہ بات بڑی باریک بینی سے واضح فرما دی ہے کہ دکھاوے کی خاطر نماز پڑھنے والا‘ روزہ رکھنے والا اور صدقہ کرنے والا بلاشک و شبہ شرک میں مبتلا ہو چکا ہے. مثال کے طو رپر اگر تم نماز پڑھ رہے ہو اور تم دیکھو کہ کوئی شخص تمہیں دیکھ رہا ہے لہٰذا تم سجدہ طویل کر دو تو تمہارا یہ عمل شرک شمار ہو گا. اس لیے کہ عام حالات میں اگر تمہارا سجدہ تین سیکنڈ کا ہورہا تھا اوراب پانچ سیکنڈ کا ہو گیا ہے تو یہ مزید دو سیکنڈ کاسجدہ کس کے لیے ہے ؟ اب اس ایک سجدے کے گویا دو مسجود ہو گئے ‘ ایک اللہ تعالیٰ اور دوسرا وہ شخص جسے دکھایا جا رہا ہے. تو ایمان اور بندگی کے تمام تقاضوں کو پورا کرنا اور شرک کی تمام کیفیتوں سے بچنا‘ یہ ہے ایک جملے میں نجات کا نسخہ: تُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَتُقِیْمُ الصَّلَاۃَ وَتَعْبُدُ اللّٰہَ وَحْدَہٗ لَا تُشْرِکُ بِہٖ شَیْئًا

آگے فرمایا : 
حَتّٰی تَمُوْتَ وَاَنْتَ عَلٰی ذٰلِکَ ’’یہاں تک کہ اسی حالت میں تمہاری موت واقع ہو جائے‘‘. یعنی اگر تمہارا اللہ اور یومِ آخرت پر پختہ ایمان ہے ‘ اور تم اللہ کی یاد کو تازہ رکھنے کے لیے تمام لوازمات کے ساتھ نماز ادا کرتے رہو‘ صحیح معنوں میں اللہ کی بندگی کرو اور شرک کی تمام حالتوں اور کیفیات سے مجتنب رہو اور زندگی بھر تمہاری یہی کیفیت رہے‘ شیطان یا تمہارا اپنا نفس تمہیں کوئی اڑنگا نہ لگا دے کہ تم منہ کے بل گر جاؤ‘تو تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے. اربعین نوویؒ کی حدیث نمبر ۴ جو اِن شاء اللہ ہمارے زیر مطالعہ آئے گی‘ اس میں اصل مضمون یہی ہے کہ ایک شخص ساری عمر اچھے کام کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ جنت کے قریب پہنچ جاتا ہے ‘ لیکن موت کے قریب آ کر اچانک ایسا پلٹا کھاتا ہے کہ سب کیا کرایا غارت چلا جاتا ہے اور جہنم اس کا مقدر ٹھہرتی ہے . اس کے برعکس ایک شخص ساری عمر برے کام کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ جہنم کے قریب پہنچ جاتا ہے‘ لیکن آخری ایام میں ایسے عمل کرتا ہے کہ جنت میں چلا جاتا ہے. اسی لیے رسول اللہ یہاںفرما رہے ہیں: حَتّٰی تَمُوْتَ وَاَنْتَ عَلٰی ذٰلِکَ ’’یہاں تک کہ اسی کیفیت میں تم پر موت آ جائے‘‘.
 
فَقَالَ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ اَعِدْلِیْ‘ فَاَعَادَھَا لَـہٗ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ 
’’ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا حضور! ذرا مجھے دوبارہ یہ بات فرما دیجیے‘ تو آپ نے ان کے لیے یہ بات تین بار دہرائی‘‘. ثُمَّ قَالَ نَبِیُّ اللّٰہِ : اِنْ شِئْتَ حَدَّثْتُکَ یَا مُعَاذُ ’’پھر اللہ کے نبی نے فرمایا:اے معاذ! اگر تم چاہو تو میں تمہیں بتاؤں…‘‘ اب یہاں دیکھئے کہ دریائے سخاوت جوش میں آیا ہوا ہے اور آپ فرما رہے ہیں کہ اے معاذ! اگر تم چاہو تو میں تمہیں مزید کچھ بھی بتاؤں. اور وہ کیا ہے: بِرَأْسِ ھٰذَا الْاَمْرِ وَذِرْوَۃِ السَّنَامِ ’’اس دین کی جڑ اور بلند ترین چوٹی کے بارے میں (کہ دین کی جڑ اور چوٹی کیا ہے)‘‘. اب یہاں سے حکمت دین کا موضوع شروع ہورہا ہے کہ دین کے اجزاء کون کون سے ہیں. 

فَقَالَ بِاَبِیْ وَاُمِّیْ اَنْتَ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ فَحَدِّثْنِیْ 
’’تو حضرت معاذ نے عرض کیا:اے اللہ کے نبیؐ !میرے ماں باپ آپ پر قربان! مجھے ضرور بتایئے!‘‘ انہیں اور کیا چاہیے تھا. یہ تو یوںسمجھئے کہ ان کو بونس مل رہا ہے کہ جو کچھ پوچھا تھا اس سے آگے کی بات سامنے آرہی ہے. فَقَالَ نَبِیُّ اللّٰہِ  : اِنَّ رَأْسَ ھٰذَا الْاَمْرِ اَنْ تَشْھَدَ اَنْ لاَّ اِلٰــہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَـہٗ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُـہٗ ’’تو اللہ کے نبی نے فرمایا:یقینا دین کی جڑ یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ کوئی معبود نہیں سوائے تنہا اللہ تعالیٰ کے جس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد ( ) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں‘‘. یہاں نوٹ کیجیے کہ ایمان کی بات نہیں ہوئی‘ بلکہ شہادت کی بات ہوئی ہے جو اسلام کی جڑ ہے. آگے فرمایا: وَاَنَّ قَوَامَ ھٰذَا الْاَمْرِ اِقَامُ الصَّلاَۃِ وَاِیْتَائُ الزَّکَاۃِ ’’اور اس دین کو قائم رکھنے والی اور اس کی شیرازہ بندی کرنے والی چیز ہے نماز کو قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا‘‘. وَاَنَّ ذِرْوَۃَ السَّنَامِ مِنْہُ الْجِھَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ’’اور اس کی بلند ترین چوٹی جہاد فی سبیل اللہ ہے‘‘. گویا یہ ایک درخت ہے جس کی جڑ ہے شہادت. اور اس کا تنا‘ جس کے اوپر یہ درخت کھڑا ہے‘ وہ ہے نماز کا قیام اور زکوٰۃ کی ادائیگی. اور اس کی چوٹی ہے جہاد فی سبیل اللہ. اس طرح رسول اللہ نے دین کو ایک درخت کی مثال سے تین حصوں میں تقسیم کر کے واضح فرمادیا. قرآن مجید میں بھی اللہ تعالیٰ نے ایک درخت کی مثال بیان فرمائی ہے: اَلَمۡ تَرَ کَیۡفَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا کَلِمَۃً طَیِّبَۃً کَشَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ اَصۡلُہَا ثَابِتٌ وَّ فَرۡعُہَا فِی السَّمَآءِ ﴿ۙ۲۴﴾ (ابرٰہیم) ’’(اے نبیؐ !) کیا آپ نے دیکھا نہیں کیسے اللہ تعالیٰ نے ایک مثال بیان کی ایک پاکیزہ کلمے کی جیسے ایک پاکیزہ درخت ہوجس کی جڑ (زمین میں) مضبوطی سے قائم ہوتی ہے اور اس کی شاخیں آسمان میں ہوتی ہیں؟‘‘

اب اس جہاد کے ضمن میں ایک خاص بات جو سامنے آ رہی ہے وہ مشکلات الحدیث میں سے ہے. قرآن و حدیث کے بعض مضامین جو مشکل ہیں‘ جن کا افہام و تفہیم آسان نہیں ہے اور عام لوگوں نے ان کو سمجھنے میں بڑی ٹھوکریں کھائی ہیں‘ ان میں سے ایک مقام یہ بھی ہے. آپ فرما رہے ہیں: 
وَاِنَّمَا اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یُقِیْمُوا الصَّلاَۃَ وَیُؤْتُوا الزَّکَاۃَ وَیَشْھَدُوْا اَنْ لاَّ اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَـہٗ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُـہٗ ’’اور مجھے حکم ہوا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ جنگ جاری رکھوں یہاں تک کہ وہ نماز قائم کریں‘ زکوٰۃ ادا کریں اور گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں‘ وہ تنہا ہے‘ اس کا کوئی شریک نہیں‘ اور یہ کہ محمد ( ) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں‘‘. فَاِذَا فَعَلُوْا ذٰلِکَ فَقَدِ اعْتَصَمُوْا وَعَصَمُوْا دِمَائَ ھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ اِلاَّ بِحَقِّھَا وَحِسَابُھُمْ عَلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ ’’پس جب وہ یہ کام کر گزریں تو وہ محفوظ ہو گئے‘ اور انہوں نے اپنی جانیں اور مال محفوظ کر لیے سوائے شریعت کے حق کے (یعنی سوائے اس کے کہ ان پر کوئی شرعی حق واقع ہو جائے) اور اُن کا حساب اللہ عزیزوجلیلکے سپرد ہے‘‘. یعنی مسلمان ہونے کے لیے تو یہ چیزیں کافی ہیں‘ یعنی نماز‘ زکوٰۃ اور شہادتین‘ اس سے امان حاصل ہو جائے گی‘لیکن اگر کسی پر کوئی شرعی حد قائم ہو جائے تو وہ نافذ ہو گی‘ مثلاً چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا‘ غیر شادی شدہ زانی کو سو کوڑے لگائے جائیں گے اور شادی شدہ زانی کو رجم کیا جائے گا ‘وغیرہ. 

یہاں یہ اہم بات نوٹ کر لیجیے کہ لوگوں سے جنگ کرنے کا متذکرہ بالا حکم عام حکم نہیں ہے‘ بلکہ یہ خاص مشرکین عرب کا معاملہ تھا.اس ضمن میں سورۃ التوبۃ کی ابتدائی چھ آیات کو سمجھنے میں بھی اکثر لوگوں کو بہت مغالطہ ہوا ہے. یہ مقام قرآن مجید کے مشکل مقامات میں سے ہے‘جس کو بہت کم لوگوں نے صحیح طور پر سمجھا ہے اور اس سے غیروں کو اعتراض کرنے کا موقع ملا ہے. ان آیات میں جو حکم وارد ہوا ہے کہ ایمان لاؤ‘ یا پھر قتل کر دیے جاؤ گے‘ تو دشمنوں نے اس پر اعتراض کیا ہے کہ اسلام تو تلوار کے ذریعے سے پھیلا ہے.

حالانکہ یہ خاص بنی اسماعیل یعنی اُمیین کے لیے حکم تھا جن کی طرف رسول اللہ کی اصل بعثت ہوئی تھی‘ کہ اگر وہ ایمان نہیںلائیں گے تو وہ اللہ کے عذاب کے مستحق ہوں گے. یہ اللہ تعالیٰ کی ایک خاص سنت رہی ہے کہ جس قوم کی طرف معین طور پر کسی رسول کو بھیج دیا جاتا اور وہ دعوت و تبلیغ کے ذریعے سے اتمامِ حجت کردیتے‘ لیکن پھر بھی وہ قوم ایمان نہ لاتی تو وہ ہلاک کر دی جاتی . قرآن مجید کے اندر ایسی قوموں کے حالات و واقعات موجود ہیں. قومِ نوحؑ‘ قوم ہودؑ‘ قوم صالحؑ‘ قوم لوطؑ‘ قوم شعیبؑ اورآلِ فرعون ‘یہ سب قومیں اسی قانون کے تحت ہلاک کی گئیں. سورۃ التوبۃ کی اِن آیات میں بھی معین طو رپر بنی اسماعیل کے لیے حکم نازل ہوا کہ تمہیں چار مہینے کی مہلت دی جا رہی ہے‘ اس کے اندر ایمان لے آؤ‘ ورنہ تمہارا قتل عام ہو گا. اگرچہ بالفعل اس کی نوبت نہیں آئی‘ اس لیے کہ زیادہ تر لوگ ایمان لے آئے اور باقی عرب کو چھوڑ کر چلے گئے. تو اِس حدیث میں جو بات بیان ہو رہی ہے وہ عام نہیں ہے‘ بلکہ اسی خاص پس منظر میں بیان ہو رہی ہے اور یہ حکم اُمیین عرب کے لیے معین ہے. اس لیے کہ رسول اللہ کی بعثت اُمیین عرب کے لیے خاص تھی اور باقی اہل عالم کے لیے عام تھی. ازروئے الفاظِ قرآنی: 

ہُوَ الَّذِیۡ بَعَثَ فِی الۡاُمِّیّٖنَ رَسُوۡلًا مِّنۡہُمۡ … 
(الجمعۃ:۲
’’وہی ہے (اللہ) جس نے بھیجا اُمیین میں ایک رسول خود انہی میں سے…‘‘

آگے جو رسول اللہ فرما رہے ہیں : 
وَحِسَابُھُمْ عَلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ ’’اور اُن کا حساب اللہ عزیز و جلیل کے ذمہ ہے‘‘ تو اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص دل سے ایمان لارہا ہے یا یونہی جان بچانے کے لیے ایمان لا رہا ہے یہ اللہ جانے اور وہ جانے‘ میرے ہاں اس کا اسلام قبول کر لیا جائے گا . اور ہم یہ بات تفصیلاً جان چکے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنے اسلام یا اپنے ایمان کا زبان سے اقرار کر رہا ہے‘ چاہے اس کے دل میں جو کچھ بھی ہو‘ تو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ جان بچانے یا اسلامی ریاست میں حقوق حاصل کرنے کے لیے ایسا کر رہا ہے‘بلکہ وہ قانونی طور پر مسلمان ہے اور اس کو وہ سارے حقوق حاصل ہوں گے جو ایک سچے اور پکے مسلمان کے ہیں. 

اس حدیث پر گفتگو آئندہ نشست میں جاری رہے گی.اللہ تعالیٰ ہمیں دین کا صحیح فہم اور تفقہ عطا فرمائے اور اس کے عملی تقاضوں کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے. 

اقول قولی ھذا واستغفراللّٰہ لی ولـکم ولسائر المسلمین والمسلمات