حکمت ِ دین کا ایک عظیم خزانہ (۲)

۱۳جولائی و ۲۰ جولائی ۲۰۰۷ء کے خطاباتِ جمعہ
خطبۂ مسنونہ کے بعد : 

اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ 

ہُوَ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَہٗ بِالۡہُدٰی وَ دِیۡنِ الۡحَقِّ لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ وَ لَوۡ کَرِہَ الۡمُشۡرِکُوۡنَ ٪﴿۹﴾یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ہَلۡ اَدُلُّکُمۡ عَلٰی تِجَارَۃٍ تُنۡجِیۡکُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿۱۰﴾تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ تُجَاہِدُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ بِاَمۡوَالِکُمۡ وَ اَنۡفُسِکُمۡ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿ۙ۱۱﴾ 
(الصّف) 
اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الَّذِیۡنَ یُقَاتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِہٖ صَفًّا کَاَنَّہُمۡ بُنۡیَانٌ مَّرۡصُوۡصٌ ﴿۴﴾ 
(الصّف) 
وَ قَاتِلُوۡہُمۡ حَتّٰی لَا تَکُوۡنَ فِتۡنَۃٌ وَّ یَکُوۡنَ الدِّیۡنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ ۚ 
(الانفال:۳۹
قَاتِلُوا الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ لَا بِالۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ لَا یُحَرِّمُوۡنَ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗ وَ لَا یَدِیۡنُوۡنَ دِیۡنَ الۡحَقِّ مِنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ حَتّٰی یُعۡطُوا الۡجِزۡیَۃَ عَنۡ ‌یَّدٍ وَّ ہُمۡ صٰغِرُوۡنَ ﴿٪۲۹﴾ 
(التوبۃ)

ادعیہ ماثورہ کے بعد فرمایا:
گزشتہ نشست میں ہم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ایک طویل حدیث کامطالعہ شروع کیا تھا. بعض اعتبارات سے اس حدیث کا جو اہم ترین حصہ ہے‘ یعنی جہاد فی سبیل اللہ‘ اس پر ہماری گفتگو کا صرف آغاز ہوا تھا. آج ہمیں اِن شاء اللہ العزیز اس گفتگو کی تکمیل کرنی ہے. پہلے ہم حدیث کے آخری حصے کا ترجمہ مکمل کرتے ہیں. 

وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ  : 
وَالَّـذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہٖ مَا شَحَبَ وَجْہٌ وَلَا اغْبَرَّتْ قَدَمٌ فِیْ عَمَلٍ تُـبْـتَغٰی فِیْہِ دَرَجَاتُ الْجَنَّۃِ بَعْدَ الصَّلٰوۃِ الْمَفْرُوْضَۃِ کَجِھَادٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ’’اُس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد ( ) کی جان ہے! کوئی چہرہ (عمل کرتے کرتے) متغیر نہیں ہوا (اور تکان کی وجہ سے نڈھال نہیں ہوا) اور کوئی قدم (سفر کرتے کرتے) غبار آلود نہیں ہوا‘ کسی ایسے عمل میں جس کا مقصد درجاتِ جنت ہوں فرض نماز کے بعد جہاد فی سبیل اللہ کے برابر‘‘. فرض نماز سب سے اونچا عمل ہے اور اس کے بعد جہاد فی سبیل اللہ چوٹی کا عمل ہے. ہمارے دین میں مختلف عبادات و اعمال کے اندر جو اصل نسبت و تناسب ہے وہ ہمیں پیش نظر رکھنا چاہیے کہ فرائض کا کیا درجہ ہے‘ جہاد فی سبیل اللہ کا کیا مقام ہے‘ دین کی دعوت و تبلیغ‘ درس و تدریس اور تعلّم و تعلیم قرآن کا کیا درجہ ہے اور تہجد و دیگر نفل نمازیں ادا کرنا اور رات کا زیادہ تر حصہ اللہ کی عبادت اور ذکر و اذکار میں گزارنا ‘ اس کا کیا مقام و مرتبہ ہے. 

وَلَا ثَـقَّلَ مِیْزَانَ عَبْدٍ کَدَابَّۃٍ تُنْفَقُ لَــہٗ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَوْ یُحْمَلُ عَلَیْھَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ 
’’اور نہ بندہ کے میزانِ عمل میں کوئی نیکی اتنی وزن دار ثابت ہوئی جتنا کہ اس کا وہ جانور جو جہاد فی سبیل اللہ میں مر گیایاجس پر اُس نے راہِ خدا میں سواری کی‘‘. جنگوں کے دوران تیر وغیرہ صرف انسانوں کو ہی نہیں لگتے تھے بلکہ حیوانوں کو بھی لگتے تھے اور وہ بھی زخمی یا ہلاک ہوتے تھے. تو فرمایا جا رہا ہے کہ مجاہد فی سبیل اللہ جنگ کے دوران جو جانور استعمال کر رہا ہوتا ہے‘ اس کا ثواب بھی اللہ کے ہاں اُس مجاہد کے اعمال نامے اور میزانِ عمل کو بہت وزنی بنا دیتا ہے.آج کل تو خیر جنگوں میں گھوڑوں اور تیروں کا استعمال کم ہی ہوتا ہے اور ان کی جگہ جدید اسلحہ نے لے لی ہے.

اب آیئے اس حدیث مبارکہ کے اہم ترین موضوع ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ کی طرف جس کے بارے میں رسول اللہ ارشاد فرما رہے ہیں : 
وَاَنَّ ذِرْوَۃَ السَّنَامِ مِنْہُ الْجِھَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ’’اور یقینا دین کے اونچے اونچے عملوں میں سب سے چوٹی کا عمل جہاد فی سبیل اللہ ہے‘‘.یہ وہ بات ہے جو ہمارے ذہنوں سے بالکل اوجھل ہو گئی ہے. ایک تو اس لیے بھی کہ رسول اللہ نے جو اسلام کے پانچ ارکان بتائے ہیں ان میں ’’جہاد‘‘ کا ذکر ہی نہیں ہے. آپ نے فرمایا: 

بُنِیَ الْاِسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ: شَھَادَۃِ اَنْ لاَّ اِلٰــہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ‘ وَاِقَامِ الصَّلاَۃِ‘ وَاِیْتَائِ الزَّکَاۃِ‘ وَحَجِّ الْبَیْتِ‘ وَصَوْمِ رَمَضَانَ 
(متفق علیہ) 
’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور محمد ( ) اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں‘ اورنماز قائم کرنا‘ زکوٰۃ ادا کرنا‘ بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان المبارک کے روزے رکھنا.‘‘

توہم نے اس حدیث مبارکہ پر اکتفا کر لیا‘ جبکہ اس میں جہاد کا ذکر ہی نہیں. پھر یہ کہ جہاد کو قتال کے معنی میں لے کر ہم نے اسے ایک تو بہت زیادہ محدود کر دیا ہے اور دوسرے اس سے بہت سی غلط فہمیاں پیدا ہوئی ہیں. اور یہ غلط فہمیاں صرف دشمنوں کی پیدا کی ہوئی اور پھیلائی ہوئی نہیں ہیں بلکہ اپنوں نے بھی پیدا کی ہیں جو زیادہ بنیادی ہیں اور انہی کی بنا پر دشمنوں کو جہاد کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کا موقع حاصل ہوا ہے. 
(۱

درحقیقت جہاد فی نفسہٖ ایک طویل عمل ہے اور اس کو مَیں ایک سہ منزلہ عمارت سے تعبیر کرتا ہوں‘ جس کی ہر منزل کے مزید تین حصے ہیں. اس تعبیر کے حوالے سے گویا تین بڑے بڑے جہاد ہیں‘ اور ہر ایک کے تین مرحلے ہیں. پہلا جہاد ہے اللہ کے دین کو اپنے اوپر نافذ کرنا . اس کے لیے سب سے پہلے اپنے نفس امارہ کے خلاف جہاد کرنا ہوگا. ہمارے دین میں اسے ’’افضل الجہاد‘‘ کہا گیا ہے. رسول اللہ سے پوچھا گیا: 
اَیُّ الْجِھَادِ اَفْضَلُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ ’’اے اللہ کے رسول ! سب سے افضل جہاد کون سا ہے؟‘‘ تو آپؐ نے فرمایا: اَنْ تُجَاھِدَ نَفْسَکَ فِیْ طَاعَۃِ اللّٰہِ ’’کہ تم اللہ کی فرماں (۱) ’’جہاد فی سبیل اللہ ‘‘ کے موضوع پر میرا ایک مفصل خطاب کتابی شکل میں شائع ہو چکا ہے. اس کا مطالعہ کیجیے اور اسے عام کیجیے‘ اِن شاء اللہ کافی حد تک غلط فہمیاں دور ہو جائیں گی. برداری میں اپنے نفس کے خلاف جہاد کرو‘‘. یعنی اسے اللہ کا مطیع بناؤ. دوسر ے یہ کہ شیطانِ لعین اور اس کے چیلے چانٹوں کے خلاف جہاد کرنا. اس کے چیلے چانٹے جنات میں سے بھی ہیں جو غیر مرئی (invisible) ہیں‘ نظر نہیں آتے اور انسانوں میں سے بھی ہیں جو شیطان کے بھی کان کترتے ہیں.تیسرے نمبر پر ہے بگڑے ہوئے معاشرے کے خلاف جہاد . یہ بگڑا ہوا معاشرہ آپ کو برائی کی طرف دھکیلتا ہے. اس معاشرے کے دبائو کو جھیلتے ہوئے اس کے خلاف جنگ کرو. خود اس کی رو میں نہ بہہ جاؤ بلکہ اس کا رُخ موڑ دو. ان تینوں عناصر کے خلاف جہاد کریں گے تب ہی اللہ کے دین کو اپنے اوپر نافذ کر سکیں گے اور اپنے آپ کو اللہ کا بندہ بنا سکیں گے.

دوسرا بڑا جہاد ہے اللہ کے دین کی دعوت و تبلیغ. اس کے لیے جان و مال کھپے گا اور وقت لگے گا. سب سے پہلے دین کو خود سمجھیں گے تب ہی دوسروں کو سمجھاسکیں گے. یہ ایک طویل المیعاد مرحلہ
(long life process) ہے.اس کی بھی پھر آگے تین سطحیں ہیں. قرآن مجید میں فرمایا گیا: اُدۡعُ اِلٰی سَبِیۡلِ رَبِّکَ بِالۡحِکۡمَۃِ وَ الۡمَوۡعِظَۃِ الۡحَسَنَۃِ وَ جَادِلۡہُمۡ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ ؕ (النحل:۱۲۵’’(اے نبیؐ !) بلایئے اپنے ربّ کے راستے کی طرف حکمت کے ساتھ‘ اچھی نصیحت کے ساتھ اور ان کے ساتھ مجادلہ کیجیے بھلے طریقے سے‘‘.ایک ہے سوسائٹی کی بلند ترین سطح یعنی معاشرے کے فہیم عناصر (intellectuals) کو دعوت و تبلیغ. اس کے تقاضے کچھ اور ہیں. یہاں صرف وعظ و نصیحت سے کام نہیں چل سکتا‘بلکہ دلیل و برہان کی ضرورت ہوتی ہے. جیسے قرآن اپنے مخالفین سے دلیل طلب کرتا ہے کہ : قُلۡ ہَاتُوۡا بُرۡہَانَکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۱۱۱﴾ (البقرۃ) ’’(اے نبیؐ !) ان سے کہہ دیجیے کہ اپنی دلیل پیش کرو اگر تم سچے ہو‘‘.تو ایسے ہی دوسروں کو بھی حق ہے کہ آپ سے یہی مطالبہ کریں. تو اس کے لیے تو ضروری ہے کہ انسان دین کی حکمت اور اس کے فلسفے کی گہرائیوں میں اُتر چکا ہو اور جدید زمانے کے جو غلط نظریات ہیں ان کی تہہ میں اتر کر انہیں سمجھ چکا ہو‘ اس کے بغیر تو یہ کام ممکن نہیں. دعوت و تبلیغ کی دوسری سطح ہے عوام الناس. یہاں محض اچھی وعظ و نصیحت کام کر جائے گی. آپ ان سے خلوص کے ساتھ بات کریں گے تو یہ مان جائیں گے. چونکہ عام لوگوں کے ذہن صاف تختی کی مانند ہوتے ہیں لہٰذا آپ جو چاہیں لکھ دیں. ان کے دماغوں میں خناس نہیں ہوتا‘ غلط فلسفے نہیں بھرے ہوتے. یہاں تو معاملہ یہ ہے کہ : ؏ ’’از دل خیزد بر دل ریزد‘‘. البتہ یہ کہ آپ کا عمل آپ کی دعوت و تبلیغ کی شہادت دے رہا ہو. مخاطب یہ سمجھ رہا ہو کہ یہ شخص مجھ سے جو بات کہہ رہا ہے اُس پر خود بھی عمل کر رہا ہے. 

تیسری سطح پر وہ لوگ آتے ہیں جو خود تو گمراہ ہیں ہی‘ دوسروں کو بھی گمراہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور دوسروں کو گمراہ کرنے کے لیے انہیں باقاعدہ تنخواہیں ملتی ہیں‘ چاہے وہ قادیانی مبلغ ہوں‘ عیسائی مبلغ ہوں‘ بابی ہوں ‘ چاہے کوئی اور ہوں. ان سے مناظرہ کرنا ہو گا اور اس کے لیے بہت ماہر ہونا پڑے گا. اس کی ایک تازہ مثال شیخ احمد دیدات مرحوم ہیں اور زندہ مثال ڈاکٹر ذاکر نائیک ہیں. اور ایک زمانے میں مولانا رحمت اللہ کیرانوی ؒ تھے جنہوں نے پادری فنڈر کو شکست دی تھی جو پھر دم دبا کر بھاگا تھا‘ ورنہ شاید پورے ہندوستان کے مسلمان عیسائی ہو جاتے. اس لیے کہ اس نے کلکتہ سے دہلی تک ہر بڑے شہر میں علماء سے مناظرہ کیا اور انہیں ہر جگہ شکست دی. پھر دہلی کی جامع مسجد کی سیڑھیوں پر کھڑے ہو کر اس نے کھلا چیلنج کیا کہ مسلمانو! میں کلکتہ سے چل کر یہاں آیا ہوں اور میں نے ہر شہر میں تمہارے مولویوں اور علماء کو شکست دی ہے اور اب میں پورے مسلم انڈیا کو کھلا چیلنج کر رہا ہوں. اس موقع پر اگر مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ میدان میں آ کر اُس کو نہ ہراتے تو منظر نامہ بدل سکتا تھا. اب یہاں دیکھئے کہ علماء نے شکستیں کیوں کھائیں؟ اس لیے کہ انہوں نے کبھی بائبل پڑھی ہی نہیں تھی. اور بائبل پڑھنا تو دور کی بات ہے ‘ قرآن مجید بھی صحیح طرح سے نہیں پڑھا تھا. اس لیے کہ ان کے ہاں تو فقہ چلتی تھی. انہوں نے صرف فتویٰ دینا ہوتا تھا اور فتویٰ دینے کے لیے فقہ کا علم کافی ہوتا ہے‘ جبکہ فقہ کا زیادہ مواد حدیث سے ہوتا ہے‘ قرآن سے تو کم ہے. لہٰذا قرآن کے ساتھ ان کا اشتغال اتنا نہیں تھا جتنا کہ ہونا چاہیے. جبکہ عیسائی مبلغین تو بہت سے علوم پڑھ کر اور سمجھ کر آتے تھے اور عربی و فارسی کے ماہر ہوتے تھے. 
تیسرا بڑا جہاد ہے اقامتِ دین کی جدوجہد. اس میں پہلا مرحلہ ہے دعوت دیتے رہنا. یعنی بس تبلیغ کرتے رہو. تمہیں کوئی مارے تو سہہ لو اور جوابی کارروائی نہ کرو. بارہ برس تک مکہ مکرمہ میں یہی حکم تھا کہ کُفُّوْا اَیْدِیَکُمْ ’’اپنے ہاتھ بندھے رکھو!‘‘ جدید اصطلاح میں اسے کہیں گے Passive Resistance (صبر محض). دوسرا مرحلہ یا دوسرا جہاد ہے Active Resistance (اقدام). یعنی اب پورے نظام کو چیلنج کرو.اور آخری مرحلہ یہ ہے کہ میدانِ جنگ کے اندر آ جاؤ‘ یہ قتال فی سبیل اللہ ہے‘ جو جہاد کی نویں اور بلند ترین منزل ہے. تو جہا د و قتال کے درمیان فرق کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے.

اب دیکھئے جہاد و قتال کا مقصد کیا ہے؟اس کا مقصد ہے اللہ کے دین کو غالب کرنا‘ محمدٌ رسول اللہ کے لائے ہوئے نظامِ عدل و قسط کوقائم کرنا. ارشادِ الٰہی ہے : 
ہُوَ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَہٗ بِالۡہُدٰی وَ دِیۡنِ الۡحَقِّ لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ (الصف:۹’’وہی ہے (اللہ تعالیٰ) جس نے بھیجا اپنے رسول( ) کو ’الہدیٰ‘ اور ’دین حق‘ دے کر تاکہ اسے تمام کے تمام دین پر غالب کر دے‘‘.اس نظام کے نیچے چاہے کوئی یہودی رہے ‘کوئی عیسائی رہے ‘ کوئی ہندو رہے اور چاہے کوئی مجوسی رہے‘ لیکن نظام اللہ کا ہو گا اور ان کو چھوٹا ہو کر رہنا ہو گا. سورۃ الصف کی دو آیات ملاحظہ کیجیے: 

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ہَلۡ اَدُلُّکُمۡ عَلٰی تِجَارَۃٍ تُنۡجِیۡکُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿۱۰﴾تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ تُجَاہِدُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ بِاَمۡوَالِکُمۡ وَ اَنۡفُسِکُمۡ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿ۙ۱۱﴾ 

’’اے اہل ایمان! کیا میں تمہیں بتائوں وہ تجارت (وہ کاروبار) جو تمہیں دردناک عذاب (یعنی جہنم ) سے چھٹکارا دلا دے؟ ایمان پختہ رکھو اللہ پر اور اس کے رسول پر اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ . یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو‘‘
.
اس سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ جہاد کے بغیر جہنم سے چھٹکارا پانے کا خیال ایک امیدِ موہوم ہے‘ یہ محض ایک بے بنیاد تمنا 
(wishful thinking) ہے.اس سے اندازہ ہوا کہ جہاد کے بغیر تو نجات ہے ہی نہیں. اور یہ حقیقت ہے کہ نفس کے خلاف تو چوبیس گھنٹے جہاد کرنا پڑتا ہے. بندۂ مؤمن کی زندگی کا کوئی لمحہ ایسا ہو ہی نہیں سکتاکہ جہاد نہ ہو رہا ہو. مثلاً ایک شخص نے عین فجر کے وقت اذان کی آواز سن لی‘ آنکھ بھی کھل گئی‘ لیکن نفس نے کہا ذرا سو جاؤ. پس اس نے کروٹ لی‘ نیندآئی اور نماز چھوٹ گئی‘ جبکہ ایک بندۂ مؤمن ایسے موقع پر اپنے نفس کے خلاف ڈٹ جاتا ہے‘ جہاد کرتا ہے اور اٹھ کر باجماعت نماز ادا کر لیتا ہے‘ اور خاص طور پر شدید سردی کے موسم میں جبکہ وضو کرنا بھی کوئی آسان کام نہیں ہوتا. پس ایک بندۂ مؤمن برابر جہاد کر رہا ہوتا ہے. اس لیے کہ جہاد فی سبیل اللہ کے بغیر تو نجات ہی نہیں.

بہرحال دین کی چوٹی جہاد فی سبیل اللہ ہے اور جہاد فی سبیل اللہ کی چوٹی قتال فی سبیل اللہ ہے. اسی سورۃ الصف کی آیت ۴ میں فرمادیا گیا: 

اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الَّذِیۡنَ یُقَاتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِہٖ صَفًّا کَاَنَّہُمۡ بُنۡیَانٌ مَّرۡصُوۡصٌ ﴿۴﴾ 

’’یقینا اللہ کو محبوب تو وہ بندے ہیں جو اُس کی راہ میں جنگ کرتے ہیں صفیں باندھ کر گویا کہ وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں‘‘.

یعنی یکجا ہو کر ‘ صفیں باندھ کر اور دلیری کے ساتھ میدانِ جنگ میں اترتے ہیں تاکہ دشمن ان کی صفوں میں کوئی رخنہ نہ ڈال سکے. اس طریقے سے اللہ کی راہ میں جنگ کرنا قتال فی سبیل اللہ ہے. رسول اللہ کی حیاتِ طیبہ میں جب یہ مرحلہ شرو ع ہو گیا تو فرمایا گیا کہ دیکھنا کہیں درمیان میں نہ رک جانا. کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا سانس پھول جائے اور تمہاری ہمتیں جواب دے جائیں‘ بلکہ فرمایا گیا: 
وَ قَاتِلُوۡہُمۡ حَتّٰی لَا تَکُوۡنَ فِتۡنَۃٌ وَّ یَکُوۡنَ الدِّیۡنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ ۚ (الانفال:۳۹’’اور ان کے خلاف جنگ جاری رکھو یہاں تک کہ فتنہ و فساد بالکل فرو ہو جائے اور دین کُل کا کُل اللہ کا ہو جائے‘‘. سب سے بڑا فتنہ و فساد یہ ہے کہ انسان (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کھڑا ہو جائے‘ خود حاکم بن کر بیٹھ جائے.آج کے دَور کا سیکولرزم اور عوامی حاکمیت (popular sovereignty) کا تصور سب سے بڑی بغاوت اور سب سے بڑا شرک ہے. ہمارے ہاں اپنے آپ کو بڑے بڑے موحدین کہلوانے والے یہ نہیں جانتے کہ آج کے دَور کا اصل شرک کیا ہے. آج بت پرستی کا شرک تقریباً معدوم ہو چکا ہے. ہندوئوں میں بھی نچلے درجے کے لوگ ہیں جو مندروں میں جا کر گھٹنے ٹیکتے ہیں اور بتوں کی ڈنڈوت کرتے ہیں. پڑھے لکھے ہندوؤں میں سے کوئی ایسا نہیں کرتا. آج کل عیسائیوں میں سے بھی بہت کم ہیں جو چرچ میں جاتے ہوں گے .امریکہ میں تو پھر بھی کچھ ہیں‘ یورپ وغیرہ میں تو نہ ہونے کے برابر ہیں. بہرحال آج کے دَور کے اصل شرک کو پہچاننا بہت ضروری ہے. 

قتال فی سبیل اللہ‘ جہاد فی سبیل اللہ کی آخری منزل اور چوٹی ہے. اور اس کا مقصد یہ ہے کہ دین کل کا کل اللہ کا ہو جائے‘ سارا نظام اللہ کے تابع ہو جائے‘ چاہے وہ سیاسی نظام ہو‘ معاشی نظام ہو‘ معاشرتی نظام ہو اور چاہے وہ دیوانی قانون ہو‘ فوجداری قانون ہو اور عائلی قوانین ہوں. ہر شے اللہ کے دین کے تابع ہو جائے. اور یہ قتال جاری رہے گا جب تک یہ مقصد حاصل نہ ہو جائے. 

حدیث زیرِ درس کا جو دوسرا اہم موضوع ہے اور قرآن مجید میں بھی جس کا حکم ہے کہ اب مشرکین عرب کا قتل عام کر دیا جائے‘ اس کے بارے میںجان لیجیے کہ یہ اس قتال فی سبیل اللہ کی آخری شکل ہے‘ جس کو جدید جنگی اصطلاح میں کہا جاتا ہے : 
’’Mopping up operation‘‘. یعنی بحیثیت مجموعی فتح حاصل ہوجانے کے بعد اب چھان بین کی جائے کہ ابھی کوئی مزاحمت باقی تو نہیں ہے. اور یہ آپریشن جیسا کہ میں پہلے ذکر کر چکا ہوں‘ خاص اُمیین عرب یعنی مشرکین عرب کے لیے تھا‘ کسی اور کے لیے نہیں تھا. اوراُن کے لیے صرف دو متبادل راستے تھے کہ یا تو ایمان لے آؤ یا شہر چھوڑ کر چلے جاؤ‘ ورنہ قتل کر دیے جاؤ گے.اس لیے کہ حضرت محمد خاص اُمیین عرب میں سے تھے‘ اور آپؐ نے انہی کی زبان میں اُن پر اتمامِ حجت کر دیا تھا‘ اللہ تعالیٰ نے انہی کی زبان میں اپنی کتاب قرآن حکیم نازل کر دی تھی‘ لہٰذا ان کے لیے اب کوئی عذر باقی نہیں تھا. لہٰذا فرمایا گیا کہ ایمان لے آؤ ورنہ قتل کر دیے جاؤ گے‘ البتہ شہر چھوڑ کر جا سکتے ہو. لیکن باقی دنیا کے لیے یہ حکم نہیں تھا .جب اُمیین عرب کے لیے یہ اعلان ہو رہا تھا اور سورۃ التوبۃ کی ابتدائی آیات نازل ہو رہی تھیں تو وہاں یہودی بھی موجود تھے‘ مگر ان کے لیے یہ حکم نہیں تھاکہ تم یا تو ایمان لے آؤ ‘ ورنہ قتل کر دیے جاؤ گے .ان کے لیے حکم ان الفاظ میں نازل ہوا: 

قَاتِلُوا الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ لَا بِالۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ لَا یُحَرِّمُوۡنَ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗ وَ لَا یَدِیۡنُوۡنَ دِیۡنَ الۡحَقِّ مِنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ حَتّٰی یُعۡطُوا الۡجِزۡیَۃَ عَنۡ ‌یَّدٍ وَّ ہُمۡ صٰغِرُوۡنَ ﴿٪۲۹﴾ 
(التوبۃ) 
’’جنگ کرو اہل کتاب میں سے اُن لوگوں کے خلاف جو اللہ تعالیٰ اور روزِ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور جو کچھ اللہ اور اس کے رسولؐ نے حرام قرار دیا ہے اسے حرام نہیں کرتے اور دین حق کو اپنا دین نہیں بناتے‘ یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں اور چھوٹے بن کر رہیں.‘‘

دوسری اقوام کے لیے ہمیشہ ہمیش کے لیے تین صورتیں ہیں‘ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی فوجیں جہاں بھی گئی ہیں انہوں نے یہی تین شکلیں سامنے رکھی ہیں کہ ایمان لے آئو تو تم ہمارے برابر کے بھائی ہو جائو گے ‘ ہم یہ بھی نہیں کہیں گے کہ ہمارے حقوق زیادہ ہیں اور تمہارے کم ‘بلکہ 
’’اَلْمُسْلِمُ کُفْوٌ لِکُلِّ مُسْلِمٍ‘‘ کا اصول لاگو ہو گا.تمہارے اور ہمارے سیاسی‘ دستوری اور قانونی حقوق برابر ہوں گے. اور اگر ایمان نہیں لاتے تو دوسری صورت یہ ہے کہ اللہ کے دین کا غلبہ برداشت کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں سے جزیہ ادا کرواور چھوٹے بن کررہو. اس صورت میں تم چاہے یہودی بن کر رہو ‘ نصرانی بن کر رہو‘ اور چاہے ہندو‘ سکھ‘ پارسی‘ مجوسی وغیرہ بن کر رہو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے. تمہارے سینیگاگز ‘ چرچز ‘ معبدوں اور مندروںکی حفاظت کی جائے گی. تمہیں پرسنل لاء کی پوری آزادی دی جائے گی . اسلامی ریاست میں رہتے ہوئے تمہارے لیے کاروبار اور ملازمت کرنے کی اجازت ہو گی. ہر چیز کا دروازہ کھلا ہوا ہے .البتہ غالب دین اللہ کا ہو گا. یہاں یہ بھی جان لیجیے کہ اُمیین عرب کے لیے الفاظ تو انتہائی سخت تھے کہ : 

فَاِذَا انۡسَلَخَ الۡاَشۡہُرُ الۡحُرُمُ فَاقۡتُلُوا الۡمُشۡرِکِیۡنَ حَیۡثُ وَجَدۡتُّمُوۡہُمۡ وَ خُذُوۡہُمۡ وَ احۡصُرُوۡہُمۡ وَ اقۡعُدُوۡا لَہُمۡ کُلَّ مَرۡصَدٍ ۚ فَاِنۡ تَابُوۡا وَ اَقَامُوا 
الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَخَلُّوۡا سَبِیۡلَہُمۡ ؕ (التوبۃ:۵
’’پس جب حرام مہینے گزر جائیں تو مشرکین کو قتل کرو جہاں بھی تم انہیں پائو‘ اور انہیں پکڑو اور گھیرو اور ہر گھات میں ان کی خبر لینے کے لیے بیٹھو .پس اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو.‘‘

لیکن واقعہ یہ ہے کہ ایک شخص کے قتل کی نوبت بھی نہیں آئی.اکثر اُمیین یعنی بنی اسماعیل ایمان لے آئے اور جو ایمان نہیں لائے وہ جزیرہ نمائے عرب کو خیرباد کہہ کر چلے گئے. اس ضمن میں ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ ابوجہل کا بیٹا عکرمہ بھی اپنے باپ کی طرح اپنی ہٹ کا پکا تھا. اُس نے کہا میں تو ایمان نہیں لاؤں گا. لہٰذا وہ حبشہ کی طرف ہجرت کے ارادے سے بحری جہاز میں سوار ہو گیا.جیسے کبھی مسلمانوں نے مکہ سے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی. بحیرئہ قلزم میں طوفان کی وجہ سے جہاز ہچکولے لینے لگا تو عکرمہ بن ابوجہل اور دوسرے سب مشرکین نے اللہ کو پکارا کہ اے اللہ! ہمیں اس مصیبت سے نکال لے. عین اُس وقت اُس نے سوچا کہ ہم اس برے وقت میں لات‘ منات‘ عزیٰ‘ ہبل وغیرہ کوچھوڑ کر اللہ ہی کو پکار رہے ہیں تو گویا ہماری فطرت میں اور دلوں میں تو اللہ ہی ہے اور یہ اللہ کے بندے محمد( ) بھی اسی اللہ ہی کی دعوت تو دے رہے ہیں! تو بھاگ کر کہاں جانا؟ لہٰذا وہ وہیں سے واپس لوٹ کر اسلام لے آئے اور صادق الایمان ثابت ہوئے. مسیلمہ کذاب کے خلاف جہاد کیا اور دیگر کئی معرکوں میں شریک ہوئے اور شہادت کا بلند رتبہ حاصل کیا.

اس ضمن میں ایک دلچسپ واقعہ یہ بھی ہے کہ پاکستان میں چترال کے ساتھ ایک علاقہ ’’کافرستان‘‘ ہے اور اس کے ساتھ ملتا ہوا افغانستان کا ایک علاقہ ’’نورستان‘‘ ہے. نورستان کے ایک شیخ جو مہدویت کے قائل تھے اور کہتے تھے کہ مہدی ہم میں سے ہی ہوں گے‘ بیان کرتے ہیں کہ ہم نورستان کے رہنے والے بھی قرشی ہیں اور کافرستان کے رہنے والے بھی قرشی ہیں. ہمارے آباء و اَجداد عرب سے اُس وقت نکلے تھے جب سورۃ التوبۃ کی ابتدائی آیات میں اعلان ہوا تھا کہ مشرکین عرب کے لیے چار مہینے کی 
مہلت ہے‘ اس میں ایمان لے آئیں ورنہ قتل کیے جائیں گے ‘یا پھر عرب کو چھوڑ کر چلے جائیں. بتایا یہ جاتا ہے کہ یہ لوگ عرب کو چھوڑ کر بھاگے. لیکن جیسے جیسے اسلامی فتوحات کا دائرہ بڑھتا گیا اور مسلمان علاقے فتح کرتے کرتے ایران تک پہنچ گئے تو یہ لوگ بھی آگے بڑھتے بڑھتے اِن پہاڑی علاقوں تک پہنچ گئے اور یہ علاقہ کافرستان کہلانے لگا . جب افغانستان کی بنیاد پڑی تو یہ لوگ دو حصوں میں تقسیم ہو گئے . ایک حصہ ہندوستان میں رہ گیا ‘جو اَب پاکستان میں ہے ‘اور ایک حصہ افغانستان میں چلا گیا‘ جس کا نام بدل کر نورستان رکھ دیا گیا. ہندوستان میں تو انگریزوں نے انہیں کچھ نہیں کہا اور یہ کافر ہی رہے ‘مگر افغانستان میں والی ٔکابل امیر دوست محمد خان نے انہیں الٹی میٹم دے دیا کہ ایمان لاؤ ورنہ قتل کر دیے جاؤ گے .چنانچہ یہ لوگ ایمان لے آئے. ان کی معاشرتی رسومات ابھی تک مشرکین مکہ سے ملتی جلتی ہیں.

آیت مذکورہ میں جو فرمایا جا رہا ہے کہ ’’پس اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو‘‘ تو یہ وہی بات ہے جو حدیث زیر درس میں آ رہی ہے کہ:
 
وَاِنَّمَا اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یُقِیْمُوا الصَّلَاۃَ وَیُؤْتُوا الزَّکَاۃَ وَیَشْھَدُوْا اَنْ لاَّ اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَـہٗ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُـہٗ فَاِذَا فَعَلُوْا ذٰلِکَ فَقَدِ اعْتَصَمُوْا وَعَصَمُوْا دِمَائَ ھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ اِلاَّ بِحَقِّھَا وَحِسَابُھُمْ عَلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ 

’’مجھے اِس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ میں جنگ جاری رکھوں یہاں تک کہ لوگ نماز قائم کریں‘ زکوٰۃ ادا کریں اور اس بات کی شہادت دیں کہ معبود کوئی نہیں مگر اللہ ‘ جو تنہا ہے‘ اس کا کوئی شریک نہیں. جب وہ یہ باتیں کر لیں تو وہ خود بھی بچ گئے اور اپنی جان و مال کو بھی بچا لیا‘ مگر ہاں جو شریعت کی زد میں آ جائے ‘اور اس کے بعد اُن کا حساب اللہ بزرگ و برتر کے سپرد ہے‘‘.

یہی وجہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں مانعین زکوٰۃ کے خلاف جہاد کیا تھا‘ حالانکہ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اور خاص طو رپر حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی رائے دے 
رہے تھے کہ فی الحال اندرونِ ملک عرب حالات سازگار نہیں ہیں لہٰذا ان کے خلاف محاذ نہ کھولا جائے. روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے زکوٰۃ کا انکار صرف اس شکل میں کیا تھا کہ ہم زکوٰۃ آپ کو نہیں جمع کروائیں گے‘ بلکہ اپنے طور پر تقسیم کریں گے‘ مگر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کے خلاف جہاد کیا اور سرخرو ہوئے. اسی طرح آپؓ نے مسیلمہ کذاب اور دوسرے جھوٹے مدعیانِ نبوت کے خلاف جہاد کیا‘ اس لیے کہ وہ مرتد ہو گئے تھے اور واجب القتل تھے.

اب یہاں دیکھئے کہ اِس قتال فی سبیل اللہ کا مقام کیا ہے. حدیث زیر مطالعہ میں رسول اکرم فرما رہے ہیں:
 
وَالَّـذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہٖ مَا شَحَبَ وَجْہٌ وَلَا اغْبَرَّتْ قَدَمٌ فِیْ عَمَلٍ تُـبْـتَغٰی فِیْہِ دَرَجَاتُ الْجَنَّۃِ بَعْدَ الصَّلَاۃِ الْمَفْرُوْضَۃِ کَجِھَادٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلَا ثَـقَّلَ مِیْزَانَ عَبْدٍ کَدَابَّۃٍ تُنْفَقُ لَــہٗ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَوْ یُحْمَلُ عَلَیْھَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ 

’’اُس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد( ) کی جان ہے! کوئی چہرہ (عمل کرتے کرتے) متغیر نہیں ہوا اور کوئی قدم (سفر کرتے کرتے) غبار آلود نہیں ہوا‘ کسی ایسے عمل میں جس کا مقصد درجاتِ جنت ہوں فرض نماز کے بعد جہادفی سبیل اللہ کے برابر ‘اور نہ بندہ کے میزانِ عمل میں کوئی نیکی اتنی وزن دار ثابت ہوئی جتنا کہ اس کا وہ جانور جو جہاد فی سبیل اللہ میں مر گیا یا جس پر اُس نے راہِ خدا میں سواری کی.‘‘

چنانچہ دین اسلام میں سب سے اونچا مقام قتال فی سبیل اللہ اور بالآخر اللہ کی راہ میں جان دے دینا ہے‘ جس کی شدید تمنا اور آرزو خود رسول اللہ کے دل میں موجزن تھی. آپ نے ایک موقع پر اپنی اس خواہش کا اظہار اِن الفاظ میں فرمایا: 

لَوَدِدْتُ أَنِّیْ اُقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ثُمَّ اُحْیَا‘ ثُمَّ اُقْتَلُ ثُمَّ اُحْیَا‘ ثُمَّ اُقْتَلُ‘ ثُمَّ اُحْیَا‘ ثُمَّ اُقْتَلُ 
(۱(۱) صحیح البخاری‘ کتاب الجھاد والسیر‘ باب تمنی الشھادۃ‘ وصحیح مسلم‘ کتاب الامارۃ‘ باب فضل الجھاد والخروج فی سبیل اللّٰہ. ’’میری بڑی خواہش ہے کہ میں اللہ کی راہ میں قتل کر دیا جاؤں‘ پھر مجھے زندہ کیا جائے ‘ پھر قتل کیا جاؤں‘ پھر زندہ کیا جاؤں‘ پھر قتل کیا جاؤں‘ پھر زندہ کیا جاؤں‘ پھر قتل کیا جاؤں‘‘.

بعد کے زمانوں میں ہمارے ہاں اس کی جگہ کچھ دوسری چیزوں نے لے لی. یعنی اللّٰہٗ ‘ اللّٰہ کی ضربیں‘ مراقبے‘ چلّے اور ان کے ذریعے کچھ روحانیت حاصل کرنا. اس سے قتال فی سبیل اللہ اور بالآخر اللہ کی راہ میں جان جانِ آفریں کے سپرد کر دینا سب پس منظر میں چلے گئے اور نتیجتاًہم مغلوب ہوتے چلے گئے. ایک مرتبہ خلافت راشدہ کے نظام کے درہم برہم ہو جانے کے بعد دوبارہ آج تک خلافت کا نظام قائم نہیں ہو سکا. بس اتنا ہوا کہ دو یاسوا دو سال کے لیے حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے دورِ مبارک میں اس کی ایک جھلک سی ظاہر ہوئی‘ اور وہ بھی ایک شخصی سی بات تھی. جیسے حضرت داؤد علیہ السلام کو اچانک حکومت مل گئی تھی. اس کے لیے انہوں نے کوئی جہاد نہیں کیا تھا‘ کوئی جماعت نہیں بنائی تھی‘جہاد فی سبیل اللہ کے مراحل میں سے نہیں گزرے تھے. حضرت عمر بن عبدالعزیزؒصحابی نہیں ہیں‘ تابعی ہیں اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے نواسے ہیں. بہرحال اس کے بعد آج تک خلافت کا نظام دوبارہ نہیں آیا‘ اس لیے کہ ترجیحات بدل گئیں. روحانیت کے نام سے ایک اور ہی تصور ذہنوں میں راسخ ہو گیا. صوفیائے کرام اور بڑے بڑے اولیائے عظام رحمہم اللہ کے بارے میں قصے مشہور ہیں کہ انہوں نے چالیس چالیس برس تک جنگلوں میں رہ کر ریاضت کی. واللہ اعلم! ایک امام فقیہہؒ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے چالیس برس تک عشاء کے وضو کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی . اب معلوم نہیں یہ روایت صحیح ہے یا غلط ہے . رسول اللہ کی حدیث تو یہ ہے کہ میں رات کو سوتا بھی ہوں اور کھڑا رہ کر عبادت بھی کرتا ہوں. آپؐ ‘کی سنت تو یہ ہے. 

اس روحانیت کے لیے بھی دین میں گنجائش ہے‘ مگر اس وقت جب اللہ کا دین قائم ہو جائے.ایک بار اللہ کا دین قائم ہو جائے تو اب اس دین کو آگے پھیلانا اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے. جب آپ سے مطالبہ کیا جائے گا کہ آؤ نکلو میدان میں تو آپ کو نکلنا پڑے گا. حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں شام اور ایران میں جہاد و قتال ہو رہا 
تھا . ہوتا یہ تھا کہ مطالبہ آ گیا کہ فلاں محاذ پر دس ہزار آدمی چاہئیں. مسجد نبویؐ میں اعلان کیا گیا تو دس ہزار آدمی نکل آئے جنہیں محاذ پر روانہ کر دیا گیا. باقی اپنے گھروں کے اندر ہیں اور ان پر کوئی ملامت نہیں ہے. گویا قتال فی سبیل اللہ فرضِ کفایہ کے درجے میں تھا. باقی لوگ گھروں میں بیٹھے نوافل پڑھ رہے ہوتے تھے‘ تلاوتِ قرآن اور وظائف و اَوراد میں مصروف رہتے تھے اور اس کے ذریعے سے اپنی روحانیت کو ترقی دیتے تھے‘ جو بالکل درست تھا.

ایک حدیث نبویؐ کی رُو سے اللہ کے قرب کے حصول کے دو ذریعے ہیں : تقرب بالفرائض اور تقرب بالنوافل. ان میں سے اہم ترین درجہ تقرب بالفرائض کا ہے. اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند یہ ہے کہ اس کابندہ فرائض کے ذریعے سے اس سے قرب حاصل کرے. لیکن نوافل کے ذریعے سے بھی تقرب حاصل ہوتا ہے اور اس کا بھی بہت اونچا مقام ہے ‘بشرطیکہ فرض کی تکمیل ہو چکی ہو. اگر آپ نے فرض تو ادا کیا نہیں اور نوافل کے ڈھیر لگاتے جا رہے ہوں تو وہ نوافل کیسے قبول ہوں گے؟ لیکن ہمارے ہاں یہی ہوا کہ دین غالب نہیں تھا ‘لیکن دین کو غالب کرنے کی جدوجہد کو اعمال کی فہرست سے نکال دیا گیا اور نوافل کے ذریعے سے‘ چلّوں کے ذریعے سے اور دیگر اَوراد و وظائف کے ذریعے سے روحانیت پر زور رہا. سب مانتے ہیں کہ سلوک کے جتنے بھی طریقے رائج ہیں جن سے خانقاہی نظام بنایا گیا ہے‘ یہ سب غیر مسنون ہیں. میں یہ نہیں کہتا کہ یہ طریقے مفید نہیں ہیں. مفید ضرور ہیں‘ ان سے انسان میں ایک روحانی کیفیت اور روحانی برتری پیدا ہو جاتی ہے. جیسے جسمانی ورزش سے انسان کے پٹھے مضبوط ہوتے ہیں‘ اسی طرح روحانی ورزش کے ذریعے سے انسان کی روح کے اندر تقویت پیدا ہوتی ہے. یہ سب باتیں اپنی جگہ درست ہیں ‘لیکن ہمارے لیے اُسوہ ہے رسول اللہ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا طریق کار‘ اور وہ ہے جہاد اورقتال فی سبیل اللہ . نفلی روزوں کی طرح اس میں بھی بھوک برداشت کرنی پڑتی ہے اور پیاس بھی. غزوئہ تبوک کے لیے جاتے ہوئے کس قدر بھوک کا عالم تھا! تو نفلی روزوں کے ذریعے انسان جو کیفیت حاصل کرنا چاہتا ہے وہ جہاد کی صعوبتیں جھیلنے سے بھی لازماً حاصل ہوتی ہے اور اس سے بھی روحانی ترقی 
حاصل ہوتی ہے. جب ایک بندۂ مؤمن محاذِ جنگ پر پہنچا ہوا ہے اور اسے معلوم ہے کہ صبح مقابلہ پیش آنا ہے اور ایک لاکھ مسلح فوج سے ہماری تین ہزار فوج کو سامنا کرنا ہے تو وہ بندۂ مؤمن جس کیفیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے گا اور دعائیں کرے گا تو کیا گھر بیٹھے کسی شخص کو ایسا تضرع اور خشوع و خضوع حاصل ہو سکتا ہے؟ قطعاً نہیں. تو حضور اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا راستہ جہاد فی سبیل اللہ اور قتال فی سبیل اللہ ہے. 

صحیح ترین جہاد فی سبیل اللہ اور قتال فی سبیل اللہ کے لیے کچھ شرائط اورلوازم ہیں. پہلے ایمانِ حقیقی دلوں میں راسخ کیا جائے ‘اور اس کا ثبوت ہو گا شریعت پر عمل. جس جس حکم پر عمل ہو سکتا ہے وہ تو ہو! اس کے بعد ہے تنظیم. یعنی ایسے لوگوں کو بیعت کے ذریعے سے جوڑا جائے‘ ان کا تزکیہ کیا جائے . اللہ کی رضا اور آخرت کی فلاح کے سوا کوئی اور امنگ دل میں ہے تو اسے نکال کر اور دل کو صاف کیا جائے. یہ سب پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں پھر صحیح جہاد فی سبیل اللہ کی منزل آتی ہے. رسول اللہ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بارہ برس تک مکہ مکرمہ کے اندر یہی کچھ کیاتھا. انہوں نے تکالیف جھیلیں‘ ماریں کھائیں‘ ان میں سے بعض کے جسم کے ٹکڑے کر دیے گئے‘ زندہ جلا دیے گئے لیکن انہوں نے ہاتھ نہیں اٹھائے. آپ کی کامیابی کے رازوں میں سے سب سے بڑا راز یہی ہے. حضرت سمیہ اور حضرت یاسر رضی اللہ عنہمارسول اکرم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی نگاہوں کے سامنے شہید کیے گئے . جب ابوجہل ان پر تشدد کر رہا تھا تو آنحضور فرما رہے تھے : 
اِصْبِرُوْا یَا آلَ یَاسِرَ‘ فَاِنَّ مَوْعِدَکُمُ الْجَنَّۃُ ’’اے یاسر کے گھر والو! صبر کرو ‘تمہارے وعدے کی جگہ جنت ہے‘‘.ایسے موقع پر آپ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو یہ حکم نہیں دیا کہ ابوجہل کے ٹکڑے کر دو. اسی طرح آپ نے کعبہ میں رکھے ہوئے بتوں کو بھی نہیں چھیڑا‘ بلکہ بارہ برس تک اسی کعبہ کا طواف کرتے رہے. اس لیے کہ طواف تو وحی سے پہلے یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے سے چلا آ رہا تھا اور پھر آغازِ وحی کے بعد بارہ برس تک پورے مکی دور میں جاری رہا اور کعبہ شریف میں نماز یں ادا کی گئیں جبکہ دائیں بائیں بت موجود تھے.بہرحال اگر ہم اسلامی انقلاب کے لیے رسول اللہ کا منہج اختیار نہیں کریں گے تو لال مسجد اور جامعہ حفصہ جیسے واقعات ہوتے رہیں گے. صرف جذبے اور خلوص سے بات نہیں بنے گی جب تک آپ کا اسوہ ہمار ے سامنے نہ ہو. کسی شاعر نے کیا عمدہ بات کہی ہے : ؎

خلافِ پیمبر کسے راہ گزید
کہ ہرگز بمنزل نہ خواہد رسید

رسول اللہ کے منہج سے ہٹ کر اختیار کیا گیا کوئی راستہ منزل تک نہیں پہنچے گا. البتہ نیک نیتی اور خلوص کا اجر و ثواب اللہ کے ہاں مل جائے گا.

قرآن مجید میں جگہ جگہ جہاد فی سبیل اللہ اور قتال فی سبیل اللہ کا ذکر ہے اور بہت شدومد کے ساتھ ہے. اسی لیے تو غیروں کو قرآن مجید پر شدید اعتراض ہے اور وہ اس سے کانپتے ہیں. بہت عرصہ پہلے کی بات ہے کہ برطانیہ کے بہت بڑے لیڈر اور وزیر اعظم گلینڈ سٹون نے برٹش پارلیمنٹ میں قرآن مجید کا نسخہ لہرا کر کہا تھاکہ جب تک یہ کتاب دنیا میں موجود ہے امن قائم نہیں ہو سکتا. اور اب انہوں نے ‘نعوذ باللہ ‘اَوراقِ قرآن کو گٹر کے اندر بہا کر اپنی خباثت اور دلوں کے اندر موجود خوف کا اظہار کیا ہے. ایسے ہی ایک مرتبہ کلکتہ ہائی کورٹ نے بھی ایک فیصلہ دے دیا تھا کہ قرآن مجید کو بین کر دیا جائے. ظاہر ہے وہ اپنے اس فیصلے پر عمل درآمد نہیں کرا سکتے تھے‘ اس لیے کہ وہاں بیس بائیس کروڑ مسلمان موجود ہیں جن کی غیرتِ دینی ہماری غیرتِ دینی سے سو گنا زیادہ ہے. اسی کلکتہ ہائی کورٹ نے شاہ بانو کیس کے سلسلے میں مسلمانوں کے عائلی قوانین میں تھوڑی سی ترمیم کی تھی. وہ اس طرح کہ اسلامی قانون تو یہ ہے کہ کسی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تو وہ دورانِ عدت اس کے نان نفقہ کا ذمہ دار ہے. لیکن شاہ بانو کی درخواست پر کلکتہ ہائی کورٹ نے فیصلہ دے دیا کہ جب تک مطلقہ عورت دوسری شادی نہ کرلے یا فوت نہ ہوجائے اس کا نان نفقہ اس کے سابقہ شوہر کے ذمے رہے گا.کورٹ نے اگرچہ شریعت کی کوئی چیز کاٹی نہیں تھی‘ البتہ شریعت میں اضافہ ضرورکیا تھا‘ لہٰذااس پر وہاں ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا. مسلمانوں کا پرسنل لاء بورڈ بنا . ساری دینی جماعتوں نے جمع ہو کر تحریک چلائی اور سینکڑوں لوگوں نے جانیں دیں. بالآخر وزیر اعظم راجیو گاندھی کو گھٹنے ٹیکنے پڑے اور اس نے لوک سبھا(پارلیمنٹ) میں دو ٹوک انداز میں کہا کہ آئندہ 
ہندوستان کی سپریم کورٹ سمیت کوئی عدالت مسلمانوں کے عائلی قوانین میں دخل نہیں دے سکتی ‘اور یہ بھی کہا کہ اس سے پہلے میں نے اسلام کی سماجی تعلیمات کا مطالعہ نہیں کیا تھا ‘ لیکن اب میں نے مطالعہ کیا ہے تو میں اعتراف کرتا ہوں کہ جو حقوق اسلام نے عورتوں کو دیے ہیں وہ دنیا کے کسی مذہب نے نہیں دیے. مولانا علی میاںؒ نے اپنی کتاب میں یہ سارا واقعہ نقل کیا ہے .

جیسا کہ میں نے عرض کیا‘ اصل جہاد فی سبیل اللہ اور قتال فی سبیل اللہ کی کچھ شرائط‘ کچھ لوازم اور کچھ مراحل ہیں. البتہ ایک اور قتال ہو سکتا ہے جو جائز ہے‘ اسے سمجھ لیجیے. فرض کیجیے ایک مسلمان ملک ہے‘ اگرچہ اس میں خالص اسلامی نظام نہیں ہے‘ اس پر اگر کوئی دوسرا ملک حملہ کر تا ہے تو اپنے دفاع میں کھڑے ہوجانا ایک طرح کا جہاد ہے. اس لیے کہ اب تمام مراحل سے گزرنے کا موقع نہیں ہے. کیونکہ ختم کر دو یا ختم ہو جاؤ والی صورتِ حال ہے . البتہ یہ جہاد فی سبیل اللہ نہیں ہے ‘ کیونکہ وہ مراحل نہیں آئے جو جہاد فی سبیل اللہ کی لازمی شرط ہے.اسی لیے روس کے خلاف جہادِ افغانستان جہاد فی سبیل اللہ نہیں تھا ‘لیکن وہ جہاد جائز ضرور تھا .اور اس میں جس نے جان دی ہے وہ شہید ہے‘ واللہ اعلم! اسی طرح کوئی بڑا ملک ہے اور اس کے کسی ایک حصہ کے اندر مسلمانوں کی اکثریت ہے اور وہ اس سے علیحدہ ہونا چاہتے ہیں ‘ آزادی چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنی مرضی سے‘ اسلامی اصولوں کے مطابق اپنا نظام چلائیں‘ جیسا کہ اِس وقت فلپائن ‘ کمبوڈیا اور کشمیر میں ہو رہا ہے ‘تو یہ بھی جائز ہے اور اِس میں جان دینا بھی شہادت ہے. اگرچہ میرے خیال میں ہندوستان کے ایک خاص پس منظر میں کشمیر کے حوالے سے وہاں پر اگر سیاسی تحریک چلائی جاتی تو وہ بہتر ہوتی. لیکن جہاد کشمیر بہرحال ناجائز نہیں ہے. اپنی آزادی کی خاطر لڑنا‘ یعنی جہاد فی سبیل الحریت ‘جائز ہے. اس کے لیے تربیت‘ تزکیہ‘ تنظیم وغیرہ ایسے مراحل ضروری نہیں ہیں. لیکن وہ جدوجہد جس کے ذریعے آپ کسی ملک میں اسلام کو غالب کرنا چاہتے ہیں‘ وہ اگر عین نبی اکرم کے اُسوہ کے مطابق ہو گی اور جہاد کی تمام شرائط اور لوازم کو پورا کر کے اور تمام مراحل میں سے گزر کر ہو گی تو وہ پھر صحیح معنوں میں قتال فی سبیل اللہ قرار پائے گی. 
مغربی دنیا کو مسلمانوں کے جذبۂ جہاد اور ذوقِ شہادت سے ہمیشہ سے خوف رہا ہے. انہیں تو زندگی بہت عزیز ہے اور وہ موت سے خائف ہیں ‘ لیکن بندئہ مؤمن کو شہادت بہت زیادہ عزیز ہے: ؎

شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مؤمن
نہ مالِ غنیمت‘ نہ کشور کشائی!

اس لیے مغربی دنیا نے بہت عرصہ پہلے اسکیمیں شروع کیں کہ مسلمانوں میں ایسی تحریکیں اٹھائی جائیں جو جہاد کو باطل قرار دیں. بدنامِ زمانہ غلام احمد قادیانی آنجہانی درحقیقت اسی فکر اور اسی سوچ کا نتیجہ ہے. اُس بدبخت نے نبوت کا دعویٰ کیا اور قتال کو حرام قرار دے دیا کہ ؏ ’’دین کے لیے حرام ہے اب دوستو قتال!‘‘ جبکہ ایک حدیث نبویؐ ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: 

اَلْجِھَادُ مَاضٍ مُنْذُ بَعَثَنِیَ اللّٰہُ اِلٰی اَنْ یُقَاتِلَ آخِرُ اُمَّتِی الدَّجَّالَ 
(۱
’’جہاد اُس وقت سے جاری ہے جب سے مجھے اللہ تعالیٰ نے مبعوث کیا ہے اور جاری رہے گا یہاں تک کہ میری اُمت کا آخری حصہ دجال کے خلاف جنگ کرے گا .‘‘

اب اس ایک حدیث میں جہاد اور قتال دونوں آگئے.جیسے سورۃ الصف میں جہاد فی سبیل اللہ اور قتال فی سبیل اللہ دونوں آ گئے. احادیثِ نبویؐ میں قیامت سے قبل جن جنگوں کی پیشین گوئی کی گئی ہے ان جنگوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے. احادیث میں آیا ہے کہ پہلے رومیوں سے جنگیں ہوں گی ‘چنانچہ وہ ہو رہی ہیں. عیسائی مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے ہیں. ایک حدیث میں ہے کہ ایک بہت بڑی جنگ ہو گی جس میں عیسائی اسّی جھنڈے لے کر مسلمانوں پر حملہ آور ہوں گے اور ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار فوج ہو گی. احادیث کی رو سے آخری مرحلے میں یہودی مدمقابل آئیں گے . آپ غور کیجیے کہ عراق کے خلاف خلیج کی پہلی جنگ میں یہودیوں کو سامنے نہیں لایا گیا. حالانکہ اتنا بڑا اتحاد بنایا گیا تھاجس میں عراق کے خلاف تقریباً سارے عرب ممالک بھی شامل ہو گئے تھے ‘لیکن اسرائیل سے کہہ دیا گیا تھا کہ تم میدان میں نہ آنا‘ تم بیٹھے رہو ‘تمہاری حفاظت 
(۱) سنن ابی داوٗد‘ کتاب الجہاد‘ باب فی الغزو مع ائمۃ الجور. کا ذمہ ہم لیتے ہیں. اگر تمہیں صدام کے سکڈ میزائل سے خطرہ ہے تو اس کو فضا ہی میں ختم کرنے والے پیٹریاٹ میزائل ہم تمہیں دے دیتے ہیں‘ لیکن تم سامنے مت آنا. اور اب بھی یہی ہواہے . عراق اور افغانستان پر جارحیت کے لیے کتنا بڑا اتحاد بنایا گیا ہے! افغانستان پرحملے میں تو واقعہ یہ ہے کہ تاریخ انسانی کا عظیم ترین اتحاد وجود میں آیا ہے. اس میں سارا عالمِ کفر جمع ہوچکا ہے. صرف برطانیہ اور بقیہ یورپ ہی نہیں بلکہ چائنا اور روس جو امریکہ کے حریف ہیں‘ افغانستان کی جنگ میں اِن دونوں کی مرضی بھی شامل تھی اور آج بھی ہے. لیکن احادیث نبویہؐ ‘کی رو سے اس کے بعد ایک آخری مرحلہ آئے گا جب تمام یہودی مسلمانوں کے مقابلے میں صف آراء ہو جائیں گے اور یہودیوں کالیڈر ہو گا المسیح الدجال. اس موقع پر پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہو گاجو دجال کو قتل کریں گے. اُس وقت تک اُمت مسلمہ کے اندر جہاد و قتال کا سلسلہ جاری رہے گا‘ اس کو بند کرنے والا کوئی نہیں ہے!

بہرحال یہ بتانا اور جاننا مقصود ہے کہ دین کی اقدار کیا ہیں. کون سی چیز پہلے اور کون سی بعد میں ہے. روحانی اقدار بھی مطلوب ہیں‘ رات کی نماز بھی نہایت پسندیدہ عمل ہے‘ لیکن اس کے ساتھ ساتھ غلبۂ دین کی جدوجہد بھی ضروری ہے. اللہ تعالیٰ ہمیں دین کا صحیح فہم اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے‘ آمین! 

اَقُوْلُ قَوْلِیْ ھٰذَا وَاسْتَغْفِرُ اللّٰہَ لِیْ وَلَکُمْ وَلِسَائِرِ الْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِoo