حدیث 3 - ارکانِ اسلام

۲۷ جولائی ۲۰۰۷ء کا خطابِ جمعہ
خطبۂ مسنونہ کے بعد : 

اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ 

وَ مَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِیَعۡبُدُوا اللّٰہَ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ ۬ۙ حُنَفَآءَ وَ یُقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ یُؤۡتُوا الزَّکٰوۃَ وَ ذٰلِکَ دِیۡنُ الۡقَیِّمَۃِ ؕ﴿۵﴾ 
(الْـبَیِّـنَۃ) 
عَنْ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضی اللہ عنہما قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ یَقُوْلُ : 

بُنِیَ الْاِسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ: شَھَادَۃِ اَنْ لاَ اِلٰــہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ‘ وَاِقَامِ الصَّلاَۃِ‘ وَاِیْتَائِ الزَّکَاۃِ‘ وَحَجِّ الْبَیْتِ‘ وَصَوْمِ رَمَضَانَ 
(۱
ابو عبد الرحمن ‘سیدنا عبد اللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہماسے روایت ہے ‘کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ کو فرماتے ہوئے سنا:

’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے : گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور محمد ( ) اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں‘ نماز قائم کرنا‘ زکوٰۃ ادا کرنا‘ بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان المبارک کے روزے رکھنا.‘‘

معزز سامعین کرام! 
آج جو حدیث ہمارے زیر مطالعہ ہے ‘جس کا متن اور اردو ترجمہ میں نے آپ کے سامنے بیان کیا‘ یہ متفق علیہ ہے‘ یعنی اس کی صحت پر امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ 
(۱) صحیح البخاری‘ کتاب الایمان‘ باب بنی الاسلام علی خمس.وصحیح مسلم‘ کتاب الایمان‘ باب بیان ارکان الاسلام دونوں کا اتفاق ہے اور ایسی حدیث مجموعۂ احادیث میں سب سے زیادہ مستند اور صحت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوتی ہے ہمارے ہاں کتب احادیث کے حوالے سے ’’صحاحِ ستہ‘‘ کی اصطلاح بہت معروف ہے ‘یعنی چھ ایسے مجموعہ ہائے احادیث (صحیح البخاری‘ صحیح مسلم‘ سنن الترمذی‘ سنن ابی داؤد‘ سنن ابن ماجہ اور سنن النسائی) جوصحیح احادیث پر مشتمل ہیں اِن صحاحِ ّستہ ِمیں بھی بخاری و مسلم کا درجہ سب سے بلند ہے اور ان دونوں کو ’’صحیحین‘‘ بھی کہا جاتا ہے. پھر وہ حدیث جس پر امام بخاری و مسلم دونوں متفق ہو جائیں تو وہ روایت اور سند کے اعتبار سے قرآنِ کریم کے بہت قریب پہنچ جاتی ہے. گویا وہ قرآن کی طرح قطعی الثبوت ہوتی ہے اور اس پر ہم اتنا یقین کر سکتے ہیں جتنا قرآنی آیات پر کرتے ہیں.

زیر مطالعہ حدیث کا مضمون بعینہٖ وہ ہے جو حدیث ِجبریل ؑ میں بیان ہوا ہے. آپ جانتے ہیں کہ حدیث ِجبریل 
’’اُمُّ السُّنّۃ‘‘ ک ہلاتی ہے . یعنی احادیث کے مجموعے میں اس کا وہی مقام ہے جو قرآن مجید میں سورۃ الفاتحہ کا ہے. سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے جب آپ سے سوال کیا : اَخْبِرْنِیْ عَنِ الْاِسْلَامِ یعنی مجھے اسلام کے بارے میں بتایئے (کہ اسلام کیا ہے؟) تو اس کے جواب میں محمد ٌرسول اللہ نے فرمایا: 

اَلْاِسْلَامُ اَنْ تَشْھَدَ اَنْ لاَ اِلٰــہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمًّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ‘ وَتُقِیْمَ الصَّلَاۃَ‘ وَتُؤْتِیَ الزَّکَاۃَ‘ وَتَصُوْمَ رَمَضَانَ‘ وَتَحُجَّ الْبَیْتَ اِنِ اسْتَطَعْتَ اِلَـیْہِ سَبِیْلًا 

’’اسلام یہ ہے کہ تو ُگواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں ‘اور تو نماز قائم کرے‘ زکوٰۃ ادا کرے‘ رمضان المبارک کے روزے رکھے اور بیت اللہ کا حج کرے اگر تجھے اس کے لیے سفر کی استطاعت ہو.‘‘