انسان اپنے افعال میں کتنا آزاد اور کتنا مجبور ہے؟

’’جبر و قدر‘‘ کی بحث ہمارے ہاں متکلمین کے درمیان بہت عرصہ سے چلی آ رہی ہے لیکن یہ معاملہ حل نہیں ہو سکا. میں اس حوالے سے ہلکی سی کوشش کر رہا ہوں ‘اس لیے کہ آج سائنس کی ترقی کی وجہ سے بہت سی چیزیں سمجھانی آسان ہو گئی ہیں. اس حوالے سے اجمالی گفتگو قبل ازیں ہو گئی ہے اور میں نے اقبال کا شعر بھی آپ کو سنایا تھا:

تقدیر کے پابند نباتات و جمادات 
مؤمن فقط احکامِ الٰہی کا ہے پابند!

یہ شعر اپنے اصل کے اعتبار سے ٹھیک ہے کہ بندۂ مؤمن کے لیے اصل پابندی صرف اللہ کے احکام کی ہے‘ لیکن یہ کہنا کہ اس کے علاوہ کوئی اورپابندی نہیں ہے ‘ یہ درست نہیں ہے‘ اس لیے کہ انسان بہت سے اعتبارات سے مجبور ہے. مثلاً میں اگر ہندوستان میں پیدا ہوا تو اس میں میرا کوئی اختیار 
(choice) تو نہیں تھا‘ اللہ تعالیٰ مجھے انگلستان میں بھی پیدا کر سکتا تھا. اس طرح مجھے جو شکل و صورت ملی ہے‘ جو رنگت ملی ہے اس میں بھی میرا کوئی اختیار نہیں تھا. ظاہر بات ہے کہ یہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ (given) ہیں .تو اس معاملے میں آپ اپنے جینز (genes) میں رہنے پر مجبور ہیں. جیسے کہا جاتا ہے : ’’One can not grow out of his skin‘‘ یعنی کوئی شخص اپنی کھال (چمڑی) سے تو باہر نہیں آ سکتا. آپ فربہ ہوتے چلے جائیں تو وہ کھال بھی پھیلتی چلی جائے گی اورآپ کھال سے باہر نہیں نکلیں گے .اس کو ’’تقدیر نوعی‘‘ کہتے ہیں. 

ایک ہے ’’تقدیر شخصی‘‘ کہ زندگی کے بالکل ابتدائی دور میں‘ ماں کی گود میں‘ اور گھر کے ابتدائی ماحول میں جو اثرات نفسیاتی طور پر مرتب ہوتے ہیں وہ مستقل ہوتے ہیں. اب تقدیرنوعی اور تقدیر شخصی کو آپس میں ضرب دینے سے ایک شاکلہ وجود میں آتا ہے. اس لفظ کے حوالے سے تفصیلی گفتگو قبل ازیں ہو چکی ہے اس ضمن میں یہاں ایک اور بات نوٹ کریں کہ شاکلہ کے حوالے سے جدید دور کے ماہرین نفسیات میں سے میکڈوگل کو بہت بڑا دھوکہ لگا ہے. وہ کہتا ہے کہ انسانی شخصیت پوری کی پوری صرف اسی ایک اصول پرمبنی ہے : 
’’no free choice‘‘ یعنی انسان کو اپنے افعال میں کوئی اختیار حاصل نہیں ہے. انسان کا یہ سمجھنا کہ یہ میں خود کر رہا ہوں‘ محض دکھاوا ہے. وہ کہتا ہے کہ یہ تمہارے جینز میں تھا‘ تمہاری ابتدائی تعلیم اور تربیت کے اندر تھا اس لیے تم یہ کر رہے ہو اور اس میں تمہارا کوئی اختیار نہیں ہے. لیکن قرآن اس نظریے کی نفی کرتا ہے. قرآن کہتا ہے کہ اس شاکلہ (pattern) کے ہوتے ہوئے بھی انسان کوایک اختیار ملتا ہے: اِنَّا ہَدَیۡنٰہُ السَّبِیۡلَ اِمَّا شَاکِرًا وَّ اِمَّا کَفُوۡرًا ﴿۳﴾ ’’یقینا ہم نے انسان کو راہ دکھا دی اب وہ شکر گزار بنے یا ناشکرا (یہ اس کا اختیار ہے)‘‘.اب ظاہر بات ہے کہ راستہ چننے کا اختیار انسان کوہے اور اِس اختیار کے اعتبار سے انسان یا تو موردِ الزام ٹھہرے گا یا اجر و ثواب کا مستحق ہو گا‘ یعنی شکر کی روش اختیار کرے گا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجر و ثواب ملے گا اور اگر کفر یا کفرانِ نعمت کا رویہ اختیار کرے گا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سزا ملے گی.

واضح رہے کہ انسان اگرچہ اس شاکلہ سے باہر نہیں نکل سکتا‘لیکن اس کے اندر رہتے ہوئے وہ مجبور محض بھی نہیں ہے. قرآن میں کتنی مرتبہ یہ بات آئی ہے : 
لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَہَا ؕ ’’اللہ تعالیٰ ہر انسان کو اس کی وسعت کے مطابق مکلف بناتاہے‘‘.اب کس میں کتنی وسعت ہے ؟ کس کا شاکلہ کیسا ہے؟ کس کو کیسے جینز ملے تھے؟ کس کو ماحول کیسا میسر آیا تھا؟ یہ ساری چیزیں اللہ کے علم میں ہیں اور اس کے حساب سے ہی اللہ تعالیٰ انسان کا محاسبہ کرے گا. یہ اندھے کی لاٹھی نہیں ہے کہ ایک پیمانے کے اوپر سب کو جانچا جائے بلکہ ہر ایک کا اس کی وسعت اور قدرت کے حساب سے فیصلہ ہوگا. ایک شخص میں قدرت زیادہ تھی مگر اُس نے کم کیا تو وہ فیل ہو جائے گا اور اگر ایک شخص میں قدرت بہت کم تھی اور اس نے تھوڑا سا کردیااگرچہ پہلے کے مقابلے میں کم کیا تو وہ کامیاب ہو جائے گا ‘اس لیے کہ اس میں قدرت ہی کم تھی اور اس کے شاکلہ میں اس سے زیادہ کی وسعت تھی ہی نہیں. یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں میزانِ عمل کے بارے میں کہیں بھی دو پلڑوں کا ذکر نہیں ہے ‘بلکہ یہ فرمایا گیا ہے: 

فَاَمَّا مَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِیۡنُہٗ ۙ﴿۶﴾فَہُوَ فِیۡ عِیۡشَۃٍ رَّاضِیَۃٍ ؕ﴿۷﴾وَ اَمَّا مَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِیۡنُہٗ ۙ﴿۸﴾فَاُمُّہٗ ہَاوِیَۃٌ ؕ﴿۹﴾وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا ہِیَہۡ ﴿ؕ۱۰﴾نَارٌ حَامِیَۃٌ ﴿٪۱۱﴾ 
(القارعہ) 
’’پس جس کے (اعمال کا) وزن بھاری ہو گا تو وہ دل پسند عیش میں ہو گا‘ اور جس (کے اعمال کا) وزن ہلکا ہو گا تو اس کا ٹھکانہ ’ہاویہ‘ ہے .اور تمہیں کیا معلوم ’ہاویہ‘ کیا ہے؟آگ ہے دہکتی ہوئی!‘‘

یوں سمجھئے کہ وہ ترازو ایک لٹکنے والی ترازو 
(spring balance) ہے جس میں دو پلڑے نہیں ہوتے بلکہ اس میں چیز نیچے لٹکا دی جاتی ہے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کا اتنا وزن ہے. قیامت کے دن بھی شاکلہ کے اعتبار سے انسان کا حساب ہو گا. تو جس کا عمل اپنے شاکلہ کے اعتبار سے کم رہ گیا تو وہ وَ اَمَّا مَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِیۡنُہٗ ۙ﴿۸﴾ میں شمار ہو گا اور اگر اس نے اپنے شاکلہ کے اعتبار سے تقاضے پورے کر دیے تواس کاشمار فَاَمَّا مَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِیۡنُہٗ ۙ﴿۶﴾ میں ہو گا.