اعمال کا دار و مدار خاتمے پر ہے!

اب ایمان بالقدر سے متعلق جو آخری سبق ہے وہ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں. اربعین نووی کی زیر مطالعہ حدیث کے آخر میں جو یہ کہا گیا ہے : 

فَـوَ اللّٰہِ الَّذِیْ لَا اِلٰــہَ غَیْرُہُ ! اِنَّ اَحَدَکُمْ لَـیَعْمَلُ بِعَمَلِ اَھْلِ الْجَنَّۃِ حَتّٰی یَکُوْنُ بَیْنَـہٗ وَبَیْنَھَا اِلاَّ ذِرَاعٌ ‘ فَیَسْبِقُ عَلَیْہِ الْکِتَابُ‘ فَـیَعْمَلُ بِعَمَلِ اَھْلِ النَّارِ‘ فَـیَدْخُلُھَا ‘ وَاِنَّ اَحَدَکُمْ لَـیَعْمَلُ بِعَمَلِ اَھْلِ النَّارِ ‘ حَتّٰی مَا یَـکُوْنُ بَیْنَہٗ وَبَیْنَھَا اِلاَّ ذِرَاعٌ ‘ فَیَسْبِقُ عَلَیْہِ الْکِتَابُ‘ فَیَعْمَلُ بِعَمَلِ اَھْلِ الْجَنَّۃِ ‘ فَـیَدْخُلُھَا 

’’تم میں سے کوئی آدمی اہل جنت کے سے اعمال کرتا رہتا ہے ‘یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے مابین صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ باقی رہ جاتا ہے تو اس پر وہ سابقہ تحریر غالب آ جاتی ہے اور وہ شخص اہل جہنم کا سا عمل کر کے جہنم میں چلا جاتا ہے ‘اور ایک شخص اہل جہنم کے سے عمل کرتا رہتا ہے‘ یہاں تک کہ اس کے اور جہنم کے درمیان صرف ایک ہاتھ کافاصلہ باقی رہ جاتا ہے تو اس پر وہ سابقہ تحریر غالب آ جاتی ہے اور وہ شخص اہل جنت کا سا عمل کر کے جنت میں چلا جاتا ہے.‘‘

اس کی توجیہہ یہ ہے کہ ہو سکتا ہے کہ ایک شخص نے اپنے اوپر ایک مصنوعی لبادہ اوڑھا ہوا ہو جبکہ اُس کی اصل سرشت کچھ اور ہو. جیسے سورۃ البقرۃ میں فرمایا گیا: 

وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یُّعۡجِبُکَ قَوۡلُہٗ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ یُشۡہِدُ اللّٰہَ عَلٰی مَا فِیۡ قَلۡبِہٖ ۙ وَ ہُوَ اَلَدُّ الۡخِصَامِ ﴿۲۰۴﴾وَ اِذَا تَوَلّٰی سَعٰی فِی الۡاَرۡضِ لِیُفۡسِدَ فِیۡہَا وَ یُہۡلِکَ الۡحَرۡثَ وَ النَّسۡلَ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یُحِبُّ الۡفَسَادَ ﴿۲۰۵﴾ 
(البقرۃ) 
’’اور لوگوں میں سے کوئی شخص ایسا بھی ہے جس کی باتیں تمہیں بڑی اچھی لگتی ہیں دنیا کی زندگی میں اور وہ اللہ کو بھی گواہ ٹھہراتا ہے اپنے دل کی بات پر‘ حالانکہ فی الواقع وہ شدید ترین دشمن ہے .اور جب وہ پیٹھ پھیر کر جاتا ہے تو زمین میں بھاگ دوڑ کرتا ہے تاکہ اس میں فساد مچائے اور کھیتی اور نسل کو برباد کرے. اور اللہ تعالیٰ کو فساد بالکل پسند نہیں ہے.‘‘

یعنی اعمال فساد مچانے والوں جیسے ہیں لیکن اوپر جو لبادہ ہے وہ نیکوکاروں کا ہے. پھر ایک وقت آتا ہے کہ وہ لبادہ اتر جاتا ہے اور وہ بالکل عریاں ہو جاتا ہے‘ اس کی اصل اندرونی شخصیت سامنے آ جاتی ہے . زیر درس حدیث کے اس آخری حصے کا معاملہ بھی بالکل اسی طرح کا ہے .ایک شخص اپنے شاکلہ کے اندر رہتے ہوئے نیکی کی جدوجہد کر رہا ہے ‘ اپنی سی کوشش کر رہا ہے ‘ لیکن اسے کامیابی حاصل نہیں ہو رہی ہے . اب ظاہر بات ہے کہ دیکھنے والوں کو یہی نظر آئے گا کہ وہ جہنمیوں کے سے اعمال کر رہا ہے‘ حتیٰ کہ اس کی شخصیت کے 
اندر حق کا غلبہ ہو جاتا ہے اور وہ اپنی اس اندرونی کشمکش میں کامیاب ہو جاتا ہے . یہ اندرونی کشمکش ہر شخص کے اندر ہوتی ہے ‘آپ کے اندر بھی ہے اور میرے اندر بھی ہے. آپ کو معلوم ہے کہ ہمارے اندر قلب یعنی دل بھی ہے ‘ روح بھی ہے ‘ ضمیر (conscience) بھی ہے‘ نفس امارہ بھی ہے‘ نفس مطمئنہ بھی ہے‘ Libido بھی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ حیوانی جبلت (instincts) بھی ہے. ان سب میں ہر وقت کشمکش جاری رہتی ہے .اب اگر ایک شخص موت سے پہلے کسی مرحلے پر اس کشمکش میں کامیاب ہو کر ٹھیک راستے پر آ جاتا ہے توآخری وقت کے اعمال کے مطابق اس کا فیصلہ ہو گا.اس لیے کہ یہ اسلامی ضابطہ ہے کہ جن اعمال پر انسان کا خاتمہ ہو گا فیصلہ بھی اسی کے اعتبار سے ہو گا. اس حوالے سے حدیث کے الفاظ ملاحظہ ہوں: اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالْخَوَاتِیْمِ (۱’’بے شک اعمال (اور فیصلہ) کا دار و مدار خاتمے کے اعتبار سے ہو گا.‘‘