حدیث ۵ - مُذمّتِ بِدعَت

۲۴/اگست ۲۰۰۷ء کا خطابِ جمعہ 
خطبۂ مسنونہ کے بعد : 

اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ 

وَ رَہۡبَانِیَّۃَۨ ابۡتَدَعُوۡہَا مَا کَتَبۡنٰہَا عَلَیۡہِمۡ اِلَّا ابۡتِغَآءَ رِضۡوَانِ اللّٰہِ فَمَا رَعَوۡہَا حَقَّ رِعَایَتِہَا ۚ فَاٰتَیۡنَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡہُمۡ اَجۡرَہُمۡ ۚ وَ کَثِیۡرٌ مِّنۡہُمۡ فٰسِقُوۡنَ ﴿۲۷﴾ 
(الحدید) 
عَنْ اُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ اُمِّ عَبْدِ اللّٰہِ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ  : 

مَنْ اَحْدَثَ فِیْ اَمْرِنَا ھٰذَا مَا لَـیْسَ مِنْہُ فَھُوَ رَدٌّ (۱وَفِیْ رِوَایَۃٍ لِمُسْلِمٍ: مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَـیْسَ عَلَیْہِ اَمْرُنَا فَھُوَ رَدٌّ (۲
اُمّ المؤمنین اُمّ عبداللہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا:
’’جوشخص ہمارے دین میں کسی ایسی بات کو جاری کرے جو اس دین میں نہیں ہے تو وہ بات (عمل) مردود ہے‘‘. مسلم کی روایت کے الفاظ یوں ہیں: ’’ جو شخص ایسا عمل کرے جس کا ہمارے دین میں حکم نہیں تو وہ (عمل) مردود ہے.‘‘

معزز سامعین کرام!امام نووی ؒ کی مشہور کتاب ’’اربعین‘‘ کا ہم سلسلہ وار مطالعہ کر رہے ہیں. آج اس کتاب کی پانچویں حدیث زیر درس آئے گی. پچھلے تین خطاباتِ 
(۱) صحیح البخاری‘ کتاب الصلح‘ باب اذا اصطلحوا علی صلح جور فالصلح مردود. وصحیح مسلم‘ کتاب الاقضیۃ‘ باب نقض الاحکام الباطلۃ ورد محدثات الاماور.
(۲) صحیح مسلم‘ کتاب الاقضیۃ‘ باب نقض الاحکام الباطلۃ ورد محدثات الامور. 
جمعہ میں ہم نے چوتھی حدیث کا تفصیل سے مطالعہ کیا تھا. اس ضمن میں ایک وضاحت مزید کرنا چاہتا ہوں. حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ اس حدیث میں بعض بہت ہی مشکل معاملات بیان ہوئے ہیں. اس حدیث کے آخر میں آپ نے فرمایا: 

اِنَّ اَحَدَکُمْ لَـیَعْمَلُ بِعَمَلِ اَھْلِ الْجَنَّۃِ حَتّٰی مَا یَکُوْنُ بَیْنَہُ وَبَیْنَھَا اِلاَّ ذِرَاعٌ ‘ فَـیَسْبِقُ عَلَیْہِ الْکِتَابُ‘ فَـیَعْمَلُ بِعَمَلِ اَھْلِ النَّارِ ‘ فَـیَدْخُلُھَا ‘ وَاِنَّ اَحَدَکُمْ لَـیَعْمَلُ بِعَمَلِ اَھْلِ النَّارِ‘ حَتّٰی مَا یَـکُوْنُ بَیْنَہُ وَبَیْنَھَا اِلاَّ ذِرَاعٌ ‘ فَـیَسْبِقُ عَلَـیْہِ الْکِتَابُ‘ فَـیَعْمَلُ بِعَمَلِ اَھْلِ الْجَنَّۃِ ‘ فَـیَدْخُلُھَا 
(۱
’’ تم میں سے کوئی آدمی اہل جنت کے سے اعمال کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اُس کے اور جنت کے مابین صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ باقی رہ جاتا ہے تو اُس پر وہ سابقہ تحریر غالب آجاتی ہے اور وہ شخص اہل جہنم کا سا عمل کر کے جہنم میں چلا جاتا ہے .اور ایک شخص اہل جہنم کے سے عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اُس کے اور جہنم کے درمیان صرف ایک ہاتھ کافاصلہ باقی رہ جاتا ہے تو وہ سابقہ تحریر اُس پر غالب آ جاتی ہے اور وہ شخص اہل جنت کا سا عمل کر کے جنت میں چلا جاتا ہے.‘‘

اسی مضمون پر مشتمل ایک اور روایت ملاحظہ ہو جو حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے. وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: 

اِنَّ الْعَبْدَ لَـیَعْمَلُ عَمَلَ اَھْلِ النَّارِ وَاِنَّہٗ مِنْ اَھْلِ الْجَنَّۃِ‘ وَیَعْمَلُ عَمَلَ اَھْلِ الْجَنَّۃِ وَاِنَّہٗ مِنْ اَھْلِ النَّارِ ‘ وَاِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالْخَوَاتِیْمِ 
(۲
’’کوئی شخص جہنمیوں کے سے عمل کرتا ہے لیکن حقیقت میں وہ جنتی ہوتا ہے اور کوئی شخص اہل جنت کے سے اعمال کرتا ہے لیکن حقیقت میں وہ جہنمی ہوتا ہے اور (یاد رکھو کہ) اعمال (اور فیصلہ) کا دار و مدار تو آخری وقت کے اعمال ہی پر ہے.‘‘

اس طرح کا مفہوم رکھنے والی احادیث کا اخلاقی سبق 
(moral lesson) یہ ہے کہ (۱) صحیح البخاری‘ کتاب احادیث الانبیائ‘ باب خلق آدم وذریتہ . وصحیح مسلم‘ کتاب القدر‘ باب کیفیۃ خلق الادمی فی بطن امہ وکتابۃ رزقہ واجلہ.
(۲) صحیح البخاری‘ کتاب القدر‘ باب العمل بالخواتیم. 
اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو نیکی کی توفیق دی ہوئی ہے تو اس پر کبھی بھی مغرور نہ ہوں اور نہ ہی یہ سمجھ بیٹھیںکہ میں تو جنتی ہوں‘ اور میرے لیے تو جنت لکھ دی گئی (reserved) ہے. کیا پتا زندگی کے باقی ایام میں کب کیا صورتِ حال پیش آ جائے. کب کوئی فتنہ سر اٹھائے اور آپ اس میں گر پڑیں . اور فتنے میں گرفتار انسان کے بارے میں کیا معلوم کہ اس کا انجام کیا ہوتا ہے. قرآن حکیم میں تو یہاں تک الفاظ آئے ہیں: 

بَلٰی مَنۡ کَسَبَ سَیِّئَۃً وَّ اَحَاطَتۡ بِہٖ خَطِیۡٓــَٔتُہٗ فَاُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۸۱﴾ 
(البقرۃ) 
’’کیوں نہیں ‘ جس شخص نے جان بوجھ کر کوئی (بڑا)گناہ کیااور اس گناہ نے اس شخص کا احاطہ کر لیا پس یہی تو ہیں آگ والے‘وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے .‘

گویا اس کا انجام کافروں کا سا ہوگا‘ جن کے لیے ابدی جہنم ہے. دوسری طرف اگر آپ کو معلوم ہو کہ فلاں شخص بدکار ہے تو اس صورت میں آپ کو اس شخص کی بدی سے نفرت ہونی چاہیے نہ کہ اُس کی ذات سے. بلکہ آپ کو اس کی ہدایت کے لیے دعا گوہونا چاہیے‘ اس لیے کہ یہ انبیاء و رسل کی سنت ہے کہ جو انہیں ایذا پہنچاتے تھے انبیاء ان کے بارے میں دعا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ اھْدِ قَوْمِیْ فَاِنَّھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ’’اے اللہ! میری قوم کو ہدایت دے دے‘ انہیں علم نہیں ہے‘‘. الغرض یہ معاملہ دو طرفہ ہونا چاہیے کہ انسان کو کبھی اپنی نیکی پر غرہ نہ ہو اور وہ یہ نہ سمجھ لے کہ میں تو ہر حال میں جنتی ہوں. اس حوالے سے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے ایک انتہائی بات ارشاد فرمائی کہ ’’اگر مجھے یہ بتا دیا جائے کہ تمام انسان جنت میں جائیں گے سوائے ایک آدمی کے تو مجھے یہ امید ہو گی کہ شاید وہ ایک آدمی میں ہی ہوں ‘اور اگر مجھے یہ بتا دیا جائے کہ تمام انسان جہنم میں جائیں گے سوائے ایک کے تو مجھے خوف رہے گا کہ شاید وہ ایک آدمی میں ہی ہوں‘‘. اس کیفیت کو اصطلاح میں بین الخوف والرجا ء کہتے ہیں. انسان کی اللہ کے ساتھ تعلق کی کیفیت ایسی ہی رہنی چاہیے. آپ اچھائی اور نیکی کے کتنے ہی اونچے مقام پر پہنچ گئے ہوں‘ اللہ کے خوف سے دل خالی نہیں رہنا چاہیے. اور اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالْخَوَاتِیْمِ جیسی احادیث ہمیشہ ذہن می ں رہنی چاہئیں ‘ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں خاتمے کے وقت کی کیفیات کی بنیاد پر فیصلہ ہو گا.