حدیث کی تشریح

اب آیئے آج کی روایت کی طرف جس میں ایک بہت اہم مضمون بیان ہوا ہے . اس حدیث مبارکہ کی راویہ حضور اکرم کی محبوب اہلیہ‘ اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہیں. آپؓکا شمار اصحاب ِعلم او ر فقہائے صحابہ میں ہوتا ہے. یہی وجہ ہے کہ بہت سے صحابہ اور تابعین پردے کے پیچھے سے آپ سے تعلیم حاصل کرتے تھے اور مسائل دریافت کرتے تھے . عورتوں کے مسائل اور حضور کی ازدواجی زندگی کے متعلق معلومات کے حوالے سے آپ کا کوئی ثانی نہیں. ازدواجی زندگی اگرچہ ایک پوشیدہ معاملہ ہے ‘لیکن وہ انسانی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے جس کے بارے میں ہدایات بھی درکار ہیں. اس حوالے سے یہ نوٹ کر لیجیے کہ نبی اکرم کی ازدواجی زندگی سے متعلق معلومات کا اکثر حصہ ہم تک ہماری ماں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پہنچایا ہے. ان چیزوں کی تعلیم کے حوالے سے غیر مسلم مسلمانوں کا مذاق اڑایا کرتے تھے ‘جیسا کہ بعض صحابہؓ نے حضور اکرم سے شکایت کی تھی کہ یہودی ہمارا مذاق اڑاتے ہیں کہ تمہارا نبی توتمہیں بہت چھوٹی چھوٹی باتوں کی تعلیم بھی دیتا ہے. آپ نے فرمایا :ان سے کہو کہ ہاںہمارا نبی تو ہمیں استنجا کرنا بھی سکھاتا ہے. یہ بھی ضروری ہے ‘اس لیے کہ طہارت ہی پر تو تمام عبادات کا دار و مدار ہے .

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ’’اربعین ِنووی‘‘ کی اس حدیث میں رسول اللہ نے فرمایا: 

مَنْ اَحْدَثَ فِیْ اَمْرِنَا ھٰذَا مَا لَیْسَ مِنْہُ فَھُوَ رَدٌّ 
’’جس شخص نے ہمارے دین کے معاملے میں کوئی نئی بات ایجاد کی ‘ جو اس دین میں پہلے نہیں ہے تو وہ بات ( یاعمل) مردود ہے.‘‘

یہ تو بخاری اور مسلم کی متفق علیہ روایت ہے ‘جبکہ ایک روایت امام مسلم کی روایت کردہ ہے: 

مَنْ عَمِلَ عَمَلاً لَـیْسَ عَلَیْہِ اَمْرُنَا فَھُوَ رَدٌّ ’جس شخص نے کوئی ایسا عمل کیا جس کا ہمارے دین میں حکم نہیں تو وہ (عمل) مردود ہے.‘‘

یہاں ترجمہ میں ان الفاظ کی گنجائش بھی موجود ہے کہ ’’وہ شخص مردود ہے.‘‘