مُذمّتِ بِدعَت (۲)

۳۱/اگست ۲۰۰۷ء کا خطابِ جمعہ 

گزشتہ سے پیوستہ

اربعین نووی کی پانچویں حدیث ہمارے زیر مطالعہ ہے. اس حدیث پر کچھ گفتگو پچھلے جمعہ ہو گئی تھی .موضوع کی مناسبت سے میں نے سورۃ الحدید کی آیت ۲۷ تلاوت کی تھی‘ جس میں فرمایا گیا: 

وَ رَہۡبَانِیَّۃَۨ ابۡتَدَعُوۡہَا مَا کَتَبۡنٰہَا عَلَیۡہِمۡ اِلَّا ابۡتِغَآءَ رِضۡوَانِ اللّٰہِ فَمَا رَعَوۡہَا حَقَّ رِعَایَتِہَا ۚ 

’’انہوں نے رہبانیت کی بدعت ایجاد کر لی تھی جس کا ہم نے ان کو حکم نہیں دیا تھا مگر (انہوں نے اپنے خیال میں) اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے (خود ہی ایسا کر لیا) پھر جیسا اس کو نبھانے کا حق تھا ویسا نباہ نہ کرسکے.‘‘

قرآن مجید میں ’’بدعت‘‘ کا لفظ صرف اسی ایک آیت میں ’’رہبانیت‘‘ کے ضمن میں آیا ہے. اس ضمن میں ‘میں نے تفصیل سے بیان کیا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ہم عصر حضرت یحییٰ علیہ السلام ‘دونوں پر زہد کا بہت غلبہ تھا. انہیں دنیوی لذات سے کوئی سروکار نہ تھا‘ اس لیے انہوں نے شادی بھی نہیں کی. اس کے نتیجے میں ان کے پیروکاروں اور حواریین میں بھی یہی رنگ پیدا ہو گیااور پھر اگلی نسلوں میں یہ رنگ اور گہرا ہو تا چلاگیا یہاں تک کہ اس نے رہبانیت کی شکل اختیار کر لی دین اسلام نے رہبانیت کو ممنوع قرار دیاہے اور سورۃ الحدید کی مذکورہ بالا آیت میں اس کی نفی کی گئی 
ہے. رہبانیت کی نفی کے حوالے سے اگرچہ قرآن حکیم میں زیادہ سخت الفاظ نہیں آئے‘ بلکہ یہ بھی فرمایا گیا : فَمَا رَعَوۡہَا حَقَّ رِعَایَتِہَا ۚ ’’پھر جیسا اسے نبھانے کا حق تھا ویسا نباہ نہ کرسکے ‘‘گویا اس فعل کی مکمل نفی نہیں کی گئی بلکہ اس کا حق ادا نہ کرنے والوں کو تنبیہہ کی گئی ہے. اس لیے کہ انہوں نے خلوصِ نیت کے ساتھ رہبانیت کو اپنایا تھا. چنانچہ ابتدائی زمانے میں واقعتا ایسے لوگ تھے جنہوں نے رہبانیت کا حق ادا کیا لیکن بعد میں اکثر و بیشتر لوگ اس کی پابندی نہیں کر پائے.البتہ احادیث ِمبارکہ میں بڑی شدت کے ساتھ رہبانیت کی نفی آئی ہے. اس ضمن میں چند احادیث مبارکہ میں آپ کو سنا چکا ہوں‘ ان میں ایک طویل روایت حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی تھی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ایک جماعت نے عبادات میں غلو کا عہد کر لیا. جب رسول اللہ کو معلوم ہوا تو آپؐ نے ان سے اعلان براء ت کرتے ہوئے آخر میں فرمایا: فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّیْ ’’جسے میری سنت (طریقہ) پسند نہیں اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں‘‘.اب یہ بہت سخت انداز ہے. حالانکہ انہوں نے جو بھی سوچا اور جو بھی عہد کیا تھا وہ نیک نیتی پر مبنی تھا‘ لیکن اس کے باوجود نبی اکرم نے ان کے طرزِ عمل کی نفی میں بہت غیر معمولی الفاظ ارشاد فرمائے. اس کی وجہ یہ ہے کہ رہبانیت کی مثال آپؐ کے سامنے تھی جو نیک نیتی سے شروع ہوئی لیکن بالآخر راہب خانے برائیوں کی آماجگاہ بن گئے.

اس ضمن میں حضرت انس صہی کی ایک اور روایت ملاحظہ ہو حضرت انسؓ جب ۹یا۱۰ برس کے ہوئے تو ان کی والدہ ان کو حضور اکرم کے پاس لائی اور کہا کہ یہ آپؐ کے پاس رہے گا اور عمر بھر آپؐ کی خدمت کرے گا . اُس دن سے لے کر حضور کی حیاتِ دنیوی کے اختتام تک حضرت انسؓ نے حضور کے خادم کی حیثیت سے فرائض سرانجام دیے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ اکثر فرمایا کرتے تھے : 

لَا تُشَدِّدُوْا عَلٰی اَنْفُسِکُمْ فَیُشَدَّدَ عَلَیْکُمْ ، فَاِنَّ قَوْمًا شَدَّدُوْا عَلٰی اَنْفُسِھِمْ فَشَدَّدَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ ، فَتِلْکَ بَقَایَاھُمْ فِی الصَّوَامِعِ وَالدِّیَارِ 
(۱(۱) سنن ابی داوٗد‘کتاب الادب‘باب فی الحسد. 
’’(دیکھو) اپنے اوپر سختی مت کرو(اگر تم اپنے اوپر سختی کرو گے)تو تم پر سختی ہی کی جائے گی. پس پہلی قوموں میں سے جنہوں نے اپنے آپ پر سختی کی تو اللہ نے بھی ان کو سختی میں مبتلا کر دیا. پس اُن کی باقیاتِ سیئات خانقاہوں اور راہب خانوں میں موجود ہیں.‘‘

اس کے بعد آپؐ نے سورۃ الحدید کی آیت ۲۷ تلاوت فرمائی جس کے آخر میں فرمایاگیا: 
وَ کَثِیۡرٌ مِّنۡہُمۡ فٰسِقُوۡنَ ﴿۲۷﴾ ’’اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں‘‘.یعنی اکثر ایسے تھے جنہوں نے رہبانیت کا حق ادا نہیں کیا. اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے فطرت کے ساتھ تصادم کا راستہ اختیار کیا اور فطرت کے تقاضوں کے خلاف غیر فطری قدغنیں لگا دیں. اب ظاہر بات ہے کہ اللہ نے انسان کے اندر جو تقاضے رکھے ہیں وہ انسان کو پچھاڑ دیتے ہیں اور پھر انسان منہ کے بل بری طرح گر پڑتا ہے.