حدیث7 - خلاص‘ خیر خواہی ا ور وفاداری

۲۰/اور۲۶/اکتوبر ۲۰۰۷ء کے خطاباتِ جمعہ 
خطبہ ٔمسنونہ کے بعد 

اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ 

قَالَ یٰقَوۡمِ لَیۡسَ بِیۡ ضَلٰلَۃٌ وَّ لٰکِنِّیۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۶۱﴾اُبَلِّغُکُمۡ رِسٰلٰتِ رَبِّیۡ وَ اَنۡصَحُ لَکُمۡ وَ اَعۡلَمُ مِنَ اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۶۲﴾ 
(الاعراف) 
فَتَوَلّٰی عَنۡہُمۡ وَ قَالَ یٰقَوۡمِ لَقَدۡ اَبۡلَغۡتُکُمۡ رِسَالَۃَ رَبِّیۡ وَ نَصَحۡتُ لَکُمۡ وَ لٰکِنۡ لَّا تُحِبُّوۡنَ النّٰصِحِیۡنَ ﴿۷۹﴾ 
(الاعراف) 
فَتَوَلّٰی عَنۡہُمۡ وَ قَالَ یٰقَوۡمِ لَقَدۡ اَبۡلَغۡتُکُمۡ رِسٰلٰتِ رَبِّیۡ وَ نَصَحۡتُ لَکُمۡ ۚ فَکَیۡفَ اٰسٰی عَلٰی قَوۡمٍ کٰفِرِیۡنَ ﴿٪۹۳﴾ 
(الاعراف) 
عَنْ اَبِیْ رُقَـیَّۃَ تَمِیْمِ بْنِ اَوْسٍ الدَّارِیِّ ص اَنَّ النَّبِیَّ  قَالَ : 

اَلدِّیْنُ النَّصِیْحَۃُ قُلْنَا: لِمَنْ؟ قَالَ : لِلّٰہِ وَلِکِتَابِہٖ وَلِرَسُوْلِہٖ وَلِاَئِمَّۃَ الْمُسْلِمِیْنَ وَعَامَّتِھِمْ (۱
’’ابورقیہ سیدنا تمیم بن اوس داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم نے فرمایا: 
’’دین خیر خواہی کا نام ہے‘‘. ہم (صحابہ) نے کہا (خیر خواہی) کس کے لیے ہو؟ آپؐ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ کے لیے‘ اُس کی کتاب کے لیے‘ اُس کے رسول کے لیے‘ مسلمانوں کے حکمرانوں اور عوام کے لیے.‘‘ 
(۱) صحیح البخاری‘ کتاب الایمان‘ باب قول النبی  الدِّیْنُ النَّصِیْحَۃ لِلّٰہِ وَلِرَسُوْلِہٖ وَلِاَئِمَّۃِ الْمُسْلِمِیْنَ وَعَامَّتِھِمْ …وصحیح مسلم‘ کتاب الایمان‘ باب بیان انَّ الدِّیْنَ النَّصِیْحَۃ. معزز سامعین کرام!

ان اجتماعات میں امام یحییٰ بن شرف الدین النووی رحمہ اللہ علیہ کے شہرۂ آفاق مجموعہ احادیث ’’اربعین نوویؒ ‘‘ کا سلسلہ وار مطالعہ کرایا جارہا ہے اور آج اس کتاب کی ساتویں حدیث ہمارے زیر مطالعہ ہے. جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ میری یہ عادت ہے کہ میں حدیث سے مناسبت رکھنے والی کوئی نہ کوئی آیت ابتدا میں ضرور تلاوت کرتا ہوں‘ لہٰذا میں نے موضوع کی مناسبت سے سورۃ الاعراف کی چند آیات تلاوت کی ہیں.
سورۃ الاعراف میں جہاں حضرت نوح‘ حضرت صالح‘ حضرت ہود‘ حضرت لوط اور حضرت شعیب علیہم السلام جیسے اولوالعزم رسولوں کا تذکرہ ہے وہاں بار بار نصیحت کا لفظ آیا ہے کہ ان کی دعوت و تبلیغ کی اصل روح نصیحت اور خیر خواہی تھی. اُن کے پیش نظر قوم پر اپنی شخصیت کا رعب گانٹھنا ‘ اپنی علامیت کی دھونس جمانا یا اپنے تقویٰ و تدین کا رعب بٹھانا نہیں تھا‘بلکہ انبیاء و رسل توخالصتاً لوگوں کی خیر خواہی اور ان کا بھلا چاہنے کے لیے دعوت و تبلیغ کرتے تھے. چنانچہ تلاوت کردہ سورۃ الاعراف کی آیات ۶۱و۶۲میں حضرت نوح علیہ السلام کا تذکرہ ہے کہ جب انہوں نے اپنی قوم کے سامنے اپنی دعوت رکھی اور قوم کو اللہ کی بندگی اور اُس کی توحید کی طرف بلایا تو ان کی قوم نے کہا :اے نوح ! ہمیں تو معلوم ہوتا ہے کہ تم پر کوئی دیوانگی طاری ہوگئی ہے‘ تم مخبوط الحواس ہو گئے ہو ‘اسی لیے تم ایسی بہکی بہکی باتیں کر رہے ہو جو ہماری سمجھ میں نہیں آتیں. حضرت نوحؑ نے اس کاجواب بایں الفاظ دیا: 
یٰقَوۡمِ لَیۡسَ بِیۡ ضَلٰلَۃٌ ’’اے میری قوم کے لوگو! مجھے کوئی خبط لاحق نہیں ہوا‘‘.یعنی نہ میں دیوانہ ہوا ہوں اور نہ ہی پاگل ہوا ہوں. وَّ لٰکِنِّیۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۶۱﴾ ’’بلکہ میں تو تمام جہانوں کے پروردگار کا ایلچی ہوں‘‘. اُبَلِّغُکُمۡ رِسٰلٰتِ رَبِّیۡ ’’میں تو تمہیں اپنے ربّ کے پیغامات پہنچا رہا ہوں‘‘.جو کچھ میں کہہ رہا ہوں وہ اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا‘ بلکہ بالفاظِ قرآنی: اِنۡ ہُوَ اِلَّا وَحۡیٌ یُّوۡحٰی ۙ﴿۴﴾ (النجم) ’’یہ تو وحی ہے (اللہ کی) جو میری طرف کی گئی ہے (اور میں تمہیں وہی پہنچا رہا ہوں)‘‘. وَ اَنۡصَحُ لَکُمۡ ’’اور میں تمہارا خیر خواہ ہوں‘‘.یعنی میں تو تمہارے ساتھ وفاداری اور خیر خواہی کا حق ادا کر رہا ہوں. وَ اَعۡلَمُ مِنَ اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۶۲﴾ ’’اور مجھے اللہ کی طرف سے وہ علم حاصل ہوا ہے جو تم نہیں جانتے‘‘.یعنی اگر تم نے میری بات کو رد کر دیا اور میری دعوت پر لبیک نہ کہا تو تمہاری جو شامت آنے والی ہے وہ مجھے معلوم ہے اور تم اس سے بے خبر ہو. میں توتمہیں اس سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہوں اور تمہیں بار بار کہہ رہا ہوں کہ تم اپنی روش کو بدلو اور عذاب کے بجائے اللہ کی رحمت کو پکارو ‘مگر تم ہو کہ ٹس سے مس نہیں ہو تے.

اس طرح حضرت صالح علیہ السلام کی قوم پر بھی جب ان کی طرف سے دعوت و تبلیغ کا کوئی اثر نہ ہو ا اور نتیجتاً ان پر عذابِ الٰہی آ گیا تو حضرت صالحؑ نے فرمایا: 
یٰقَوۡمِ لَقَدۡ اَبۡلَغۡتُکُمۡ رِسَالَۃَ رَبِّیۡ وَ نَصَحۡتُ لَکُمۡ وَ لٰکِنۡ لَّا تُحِبُّوۡنَ النّٰصِحِیۡنَ ﴿۷۹﴾ ’’اے میری قوم کے لوگو! میں نے توپہنچا دیا تھا تمہیں اپنے رب کا پیغام اور میں نے تو تمہاری خیر خواہی چاہی تھی‘ لیکن تم ہو کہ اپنے خیر خواہوں کو پسند ہی نہیں کرتے‘‘. یعنی تمہارے اندر تمیز ہی ختم ہو گئی ہے اور تم یہ پہچاننے سے قاصر ہو کہ تمہارا خیر خواہ کونہے اوربدخواہ کون. تمہاری بصیرتِ باطنی زائل ہو چکی ہے اور تم اندر سے اندھے ہو گئے ہو. ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ تم نصیحت کرنے والے خیر خواہ کا شکریہ ادا کرتے‘ مگر تمہارا معاملہ اس کے برعکس رہا اور تم نے اس کا نتیجہ بھگت لیا.

اسی طرح کے الفاظ حضرت شعیب علیہ السلام نے بھی اپنی قوم سے کہے تھے. جب ان کی قوم ان کی دعوت کو رد کر کے تباہ و برباد ہو گئی تو انہوں نے بڑی ہی حسرت کے ساتھ کہا: 
یٰقَوۡمِ لَقَدۡ اَبۡلَغۡتُکُمۡ رِسٰلٰتِ رَبِّیۡ وَ نَصَحۡتُ لَکُمۡ ۚ فَکَیۡفَ اٰسٰی عَلٰی قَوۡمٍ کٰفِرِیۡنَ ﴿٪۹۳﴾ ’’اے میری قوم کے لوگو! میں نے تو تم کو اپنے پروردگار کے پیغامات پہنچا دیے تھے اور میں نے تمہاری خیر خواہی کا حق ادا کردیا تھا‘تو اب میں کافروں پر (عذاب نازل ہونے سے) رنج و افسوس کیسے کروں!‘‘ یعنی یہ تمہارا اپنا انتخاب (choice) ہے جس کا نتیجہ تم نے بھگت لیا ہے تو میں اب تمہاری ہلاکت پر رنج کروں تو کیونکر کروں! یہ انتہائی رنج اور غم والا جملہ ہے کہ قوم کی تباہی کی وجہ سے حضرت شعیب علیہ السلام کی طبیعت پر رنج و صدمہ طاری ہو رہا ہے لیکن وہ اپنے دل کو سمجھا رہے ہیں کہ میرا رنج و افسوس اب کس بات پر ہے؟ یہ تو ان کے اپنے کرتوتوں کا نتیجہ ہے جو ان پر وارد ہوا ہے. 
اب یہ لفظ ’’نصیحت‘‘ جو انبیاء و رسل علیہم السلام کے ضمن میں قرآن مجید میں بار بار آیا ہے ‘ اسی پر ایک بہت جامع حدیث ہے جوآج ہمارے زیر مطالعہ ہے . یہ حدیث جوامع الکلم میں سے ہے میں نے اس سے پہلے بھی آپ کو بتایا ہے کہ کئی مواقع پر حضور نے اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے والے خصوصی انعامات کا تذکرہ کیا ہے تو ان میں سے ایک خصوصی انعام یہ ہے کہ: 
اُوْتِیْتُ جَوَامِعُ الْکَلَمِ (مسند احمد) ’’مجھے اللہ تعالیٰ نے نہایت جامع کلمات عطا فرمائے ہیں‘‘.جوامع الکلم سے مراد یہ ہے کہ کم سے کم الفاظ میں بہت بڑی حقیقت بیان کر دینا‘ جسے ہم محاورے میں کہتے ہیں: ’’دریا کو کوزے میں بند کر دینا‘‘. مثلاً آپ  نے روزے کے حوالے سے فرمایا: اَلصَّوْمُ جُنَّــۃٌ (متفق علیہ) ’’روزہ ڈھال ہے‘‘.کہنے کو تو یہ صرف دوالفاظ ہیں‘ مگر ان میں معانی کا ایک جہان پوشیدہ ہے. اسی طرح آپ کے اور بھی بے شمار کلمات ہیں جنہیں جوامع الکلم کہا جاتا ہے تو ان جوامع الکلم میں سے زیر مطالعہ حدیث بھی ہے. 

حدیث کی تشریح

اس حدیث کے راوی حضرت تمیم بن اوس الداری رضی اللہ عنہ ہیں اور ان کی کنیت ابورقیہ ہے. وہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا: اَلدِّیْنُ النَّصِیْحَۃُ ’’دین تو نام ہے نصیحت(خلوص و خیر خواہی) کا‘‘اصل میں نصح کا لفظ عربی زبان میں اس شے پر بولا جاتا ہے جو اپنی اصلیت پر برقرار ہو اور اس میں کوئی شے شامل نہ کی گئی ہو. اسی طرح انسان کی نیت جب صاف اور شفاف ہو اور اس کے اندر کوئی کھوٹ وغیرہ شامل نہ ہو تو وہ نصیحت کہلاتی ہے. مثلاً فرض کیجیے کہ آپ کسی کو کسی اچھی بات کی دعوت دے رہے ہیں. کام تو اچھا ہے ‘لیکن ہو سکتا ہے کہ اس میں آپ اُس پر اپنی برتری ثابت کر رہے ہوں‘ تو یہ بات خالص نہیں رہی بلکہ اس کے اندر ملاوٹ آ گئی. خلوص واخلاص تب ہوگا جب آپ کو صرف اُس کی خیر خواہی مطلوب ہو‘ نہ کہ آپ کے مقصودِ نظر اپنے علم کا رعب گانٹھنا ہو‘ یا اپنے تقویٰ کا اشتہار دینا ہو‘ یا اپنے نفس کو مطمئن کرنا ہو کہ یہ مجھ سے کمتر ہے اورمیں اس سے بہتر ہوں. اگر یہ شے شامل ہو گئی تو اب وہ بات خالص نہیں رہی. یہ دودھ خالص نہیں رہا ‘اب اس کے اندر پانی ہی نہیں‘بلکہ جوہڑ یا کسی گندی نالی کا پانی ملا دیا گیا ہے .تو نصح کہتے ہی اس چیز کو ہیں جو بالکل خالص ہو.
نبی اکرم نے فرمایا کہ دین تو نام ہی خیر خواہی ‘ وفاداری اور خلوص وا خلاص کا ہے. تو یہ دین کا خلاصہ ہے .اس کو یوں سمجھئے کہ اللہ کا دین ایک حقیقت واحدہ ہے ‘البتہ اس کو بیان کرنے اور سمجھانے کے اسلوب جدا جدا ہیں.کبھی کسی حوالے سے گفتگو ہو رہی ہے‘ کبھی کسی اصطلاح میں بات ہو رہی ہے‘ کبھی اصطلاحات بدل کر کچھ اور انداز اختیار کیا گیا ہے ‘مگر جب غور کریں گے تو بات وہیں ایک نکتہ پر پہنچ جائے گی.اس کے لیے میں فیصل آباد میں موجود گھنٹہ گھر کی مثال دیا کرتا ہوں. شہر کے آٹھ بازار ہیں جو اس گھنٹہ گھرپر آ کر جمع ہو رہے ہیں . آپ جس دروازے اور جس بازار سے بھی داخل ہوں تو گھنٹہ گھر سامنے ہی آئے گا. اسی طرح دین کی حقیقت واحدہ کو بیان کرنے کے لیے بھی بے شمار اسلوب ہیں‘جیسے کسی نے کہا ہے : ؏ ’’اِک پھول کا مضمون ہو تو سو رنگ سے باندھوں‘‘ . اب یہ فصاحت و بلاغت اور قادر الکلامی کا ایک مظہر ہے کہ وہ ایک پھول کی تعریف کس انداز میں اور کن کن پہلوئوں سے کر رہا ہے . تو یہاں دین کی حقیقت کو ایک جملہ میں واضح کیا گیا ہے کہ دین تو نام ہی خیر خواہی اور خلوص وا خلاص کا ہے. 

اس پر حضرت تمیم بن اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے کہا: لِمَنْ؟یعنی اے اللہ کے رسول ! دین خیر خواہی تو ہے مگر وہ خیر خواہی اور خلوص واخلاص کس کے ساتھ اور کس کے لیے ہے؟ اس کے جواب میں آپ نے فرمایا: 
لِلّٰہِ وَلِکِتَابِہٖ وَلِرَسُوْلِہٖ وَلِاَئِمَّۃِ الْمُسْلِمِیْنَ وَعَامَّتِھِمْ ’’(۱)اللہ کے لیے‘(۲) اُس کی کتاب کے لیے‘ (۳)اُس کے رسول کے لیے‘ (۴)مسلمانوں کے اماموں کے لیے‘ اور (۵)عام مسلمانوں کے لیے‘‘.گویا ایک بندئہ مسلم کو یہ پانچ وفاداریاں نبھانی ہیں. اس کے ایمان کا تقاضا ہے کہ پانچ اعتبارات سے اس میں خلوص اور اخلاص ہو‘ یعنی بغیر کسی ملاوٹ اورکھوٹ(impurity) کے وہ ان پانچ کا حق ادا کرے.

اب غور کیجیے کہ ان پانچ میں سے پہلی تین چیزیں تو وہ ہیں جن کے نصح و خیر خواہی کے چار تقاضے ہیں: (۱) ایمان :اللہ پر ایمان‘ اس کی کتاب (قرآن) پر ایمان‘ اس کے رسول (محمد )پر ایمان. (۲) اطاعت : اللہ کی اطاعت‘ اُس کی کتاب کی اطاعت‘ اُس کے رسول کی اطاعت.(۳) محبت : اللہ سے محبت‘ اللہ کی کتاب سے محبت‘ اللہ کے رسول سے محبت .اور (۴) وفاداری :اللہ کے ساتھ وفاداری‘ اللہ کی کتاب سے وفاداری‘ اللہ کے رسول کے ساتھ وفاداری. 

اللہ‘قرآن اور رسول ؐ کے ساتھ خیر خواہی کا پہلا تقاضا : ایمان

دیکھئے اللہ تعالیٰ ‘قرآن مجیداورحضرت محمد رسول اللہ کے ساتھ نصح وخیر خواہی کا پہلا تقاضا ایمان ہے.ایمان کے حوالے سے بہت تفصیلی بحثیں ہیں. ایک قانونی و فقہی ایمان ہے جس کی بنیاد پر دنیا میں ہم ایک دوسرے کو مسلمان سمجھتے ہیں. اس کا تعلق اقرار باللسان سے ہے‘ یعنی کسی نے زبان سے کہا : اَشْھَدُ اَنْ لَا اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ تو اب وہ مسلمان ہے.اب ہمیں پتا نہیں ہے کہ وہ خلوصِ دل سے اس کا اقرار کر رہا ہے یا منافقت کے ساتھ کہہ رہا ہے. یہ ہم نہیں جانتے اور نہ ہی ہم اس سے بحث کر سکتے ہیں ‘اس لیے کہ اس کے دل میں اُتر کر دیکھنے کا ہمارے پاس کوئی ذریعہ نہیں ہے. لیکنیہ بھی یاد رہے کہ یہ اصل ایمان نہیں ہے. یہ ا یمان تو صرف دنیا میں کام آتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کو مسلمان سمجھتے ہیں.اس قانونی ایمان کی ہمارے آپس کے تعلقات کے ضمن میں بہت اہمیت ہے.ظاہر بات ہے کہ میں مسلمان ہوں تو میری بیٹی کا نکاح کسی مسلمان ہی سے ہو سکتا ہے .لہٰذا مجھے دیکھنا پڑے گا کہ جدھر سے رشتہ آیا ہے وہ مسلمان بھی ہے یا نہیں! اسی طرح اسلامی ریاست کا سربراہ مسلمان ہی ہو سکتا ہے. یہی وجہ ہے کہ آج بھی چاہے اسلامی ریاست دنیا میں کہیں نہیں ہے لیکن جتنے بھی مسلمان ممالک ہیں ان میں یہ طے ہے کہ وہاں کا سربراہ مسلمان ہو گا. اب کون مسلمان ہے‘کون نہیں ہے اورپھر اس کے معیارات کیا ہیں‘ یہ میں بیان کر چکا ہوں. یعنی جو شخص زبان سے اللہ کی وحدانیت اور محمد کے آخری نبی ہونے کا اقرار کرے تو وہ مسلمان شمار ہو گا. 

یہ تو قانونی ایمان ہے ‘جبکہ اس کے مقابلے میں ایک حقیقی ایمان ہے جو اصل میں نام ہے یقین قلبی کا. جب یہ شہادت کسی کے دل کی گہرائیوں سے نکلے تو وہ شخص حقیقی معنوں میں’’مؤمن‘‘ ہے علامہ اقبال کا بڑا پیارا شعر یا دآ گیا : ؎

تو عرب ہو یا عجم ہو ترا لا الٰہ الا اللہ
لغت غریب‘ جب تک ترا دل نہ دے گواہی!

عرب وہ ہے جس کی زبان عربی ہے اور اسے لا الٰہ الااللہ کے معنی معلوم ہیں جبکہ بیچارے عجمی کو پتا ہی نہیں ہے کہ لا الٰہ الا اللہ کے معنی کیا ہیں. لیکن یہ الفاظ ادا کرنے والا خواہ عرب ہو یا عجم‘ یہ اُس شخص کی اپنی زبان کے الفاظ شمار نہیںہوں گے جب تک اس کا دل اس کی گواہی نہیں دے گا.اس اعتبار سے ایمان کا تقاضا صرف زبانی گواہی اور شہادت سے پورا نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے دل کا یقین ہونابے حد ضروری ہے. البتہ اس یقین قلبی کے پھر مدارج اور مراحل ہیں جو ہم حدیث جبریل کے ضمن میں پڑھ چکے ہیں. ایک درجہ تویہ ہے کہ انسان میں اس قدر یقین پیدا ہو جائے گویا وہ اپنی آنکھوں سے اللہ کو دیکھ رہا ہے. یہ ہمارا اسلوبِ بیان ہے . جس چیز کو ہم اپنی آنکھ سے دیکھ لیں اُس پر ہمارا یقین ہوجاتا ہے .جیسے ہزار آدمیوں نے آ کرکسی واقعہ کے بارے میں خبر دی تو ہم یہی سمجھیں گے کہ یہ ٹھیک ہی کہہ رہے ہوں گے‘ آخر انہیں جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت ہے‘ لیکن دل میں ایک خلش سی ہوگی کہ شاید ایسا نہ ہو. پورایقین تب ہو گا جب اپنی آنکھوں سے خود جا کر دیکھ لیں گے. مثلاً کسی نے آ کر بتایا کہ فلاں جگہ آگ لگی ہوئی ہے‘ خود جا کر دیکھ لیا‘ تو یقین آ گیا. ایسا یقین جو بچشم سر مشاہدہ کرنے سے پیدا ہوتا ہے اگر اللہ پر ‘ آخرت پر‘ بعث بعد الموت پر ‘ وحی پر‘ فرشتوں پر‘ جنت پر‘ دوزخ پر‘ رسولوں پر‘ نبیوں پر‘ کتابوں پر پیدا ہو جائے تو یہ ایمان کا سب سے بڑا درجہ ہے . اس حوالے سے حدیث جبرائیل میں فرمایاگیا: 
اَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَاَنَّکَ تَرَاہُ ’’(احسان یہ ہے کہ )تم اللہ کی ایسے عبادت کرو گویا تم اُس کو دیکھ رہے ہو‘‘ اس سے ایک کم تر درجہ بیان فرما دیا گیا : فَاِنْ لَمْ تَــکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہٗ یَرَاکَ یعنی یہ ہر وقت مستحضر رہے کہ اللہ مجھے دیکھ رہا ہے‘ میں اُس کی نگاہوں میں ہوں. کم سے کم یہ درجہ تو ہو ‘ورنہ پھر یقین والی بات نہیں رہے گی. ویسے یقین کی گہرائی کا توہم اندازہ کرہی نہیں سکتے . میں نے شاید پہلے بھی سلطان باہو کا ایک شعر آپ کو سنایا ہے مجھے پنجابی زیادہ نہیں آتی اور پنجابی صوفیاء کے کلام کا میں نے خاص مطالعہ بھی نہیں کیا‘ لیکن بعض چیزیں جو سننے میں آتی ہیں وہ واقعتا محسوس ہوتی ہیں کہ بہت گہری باتیں ہیں سلطان باہو کہتے ہیں : ؎

دل دریا سمندروں ڈُونگھے
کون دلاں دیاں جانے ہو!

یعنی آپ دل کو ناپ نہیں سکتے کہ یہ کتناگہرا ہے. اس کی وجہ یہ ہے کہ دل مسکن ہے روح کا اور روح کی گہرائی کو آپ جان ہی نہیں سکتے کہ روح کا تعلق تو ذاتِ باری تعالیٰ سے ہے: 
وَ یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الرُّوۡحِ ؕ قُلِ الرُّوۡحُ مِنۡ اَمۡرِ رَبِّیۡ وَ مَاۤ اُوۡتِیۡتُمۡ مِّنَ الۡعِلۡمِ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿۸۵﴾ (بنی اسرائیل) ’’(اے نبی!) وہ آپ سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں. آپ کہہ دیجیے کہ روح میرے رب کے امر میں سے ہے اور تمہیں تو بہت ہی کم علم دیا گیا ہے‘‘. تم روح اوراللہ کی ذات کی حقیقت کو کیا سمجھو گے؟ تم تو بس اللہ کی صفات کو سمجھنے کی کوشش کرو‘ اللہ کی نشانیوں پر ایمان لاؤ! اللہ کی ذات کے بارے میں تو سوچنے سے بھی روک دیا گیا ہے ‘اس لیے کہ وہ انسانی طاقت سے ماورا ہے اور یہ بات تکلیف ما لا یطاق کے زمرے میں آتی ہے ‘ یعنی دماغ کو خواہ مخواہ ایک ایسی مشق میں ڈال دینا جس کی اس کے اندر طاقت ہی نہیں ہے. 

دوسرا اور تیسرا تقاضا : اطاعت اور محبت

اس کے بعد دوسرا تقاضا ہے: اطاعت ‘یعنی اللہ کی اطاعت‘ اس کی کتاب قرآن مجید کی اطاعت اور اس کے رسول حضرت محمد کی اطاعت پھر تیسرا تقاضا محبت ہے ‘یعنی صرف اطاعت نہیں بلکہ محبت کے ساتھ اطاعت مطلوب ہے ‘اس لیے کہ اطاعت تو مجبوراً بھی کی جاتی ہے. جیسے ہم انگریزوں کے مجبوراًمطیع تھے ‘ کیونکہ ہم ان کے غلام تھے. وہ یہاں آئے اور انہوں نے یہ علاقہ فتح کر لیا . اب ہمارے پاس اُن کی اطاعت کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہیں تھا.لیکنیہ اطاعت محبت کی وجہ سے نہیں‘ بلکہ مجبوراً تھی.اسی طرح بنی اسرائیل فرعون کے غلام ہونے کی وجہ سے اس کے اطاعت گزار تھے‘تو یہ بھی مجبوری کی اطاعت تھی‘ لیکن یہاں اللہ‘اللہ کے رسول اور اللہ کی کتاب کی اطاعت مجبوراً نہیں بلکہ محبت کے جذبے سے سرشار ہوکر مطلوب ہے. 

اللہ کے لیے اطاعت +محبت عبادت

اس ضمن میں ایک بڑا عجیب سا نکتہ ہے. یہ اصطلاحات کا معاملہ ہے جس کو سمجھنا چاہیے. اللہ کی ذات کے ساتھ اطاعت اور محبت جمع ہو جائیں تو اس کا نام عبادت ہے‘اور یہی ہمارا مقصد تخلیق ہے: وَ مَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَ الۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡنِ ﴿۵۶﴾ (الذّٰریٰت) ’’اور میں نے جنوں اور انسانوں کو اپنی عبادت ہی کے لیے پیدا کیا ہے.‘‘

عبادت کے حوالے سے تفصیلی گفتگو ’’اربعین نووی‘‘ کی تیسری حدیث کے مطالعہ میں ہو چکی ہے‘ جس میں عبادت کا مفہوم تفصیل سے بیان کیا گیاتھا کہ لفظ عبادت عبد سے نکلا ہے جس کے معنی غلام کے ہیں.غلام کوہمہ تن‘ ہمہ وقت اور ہمہ وجوہ اپنے آقا کی اطاعت کرنا ہوتی ہے‘اس کی اپنی کوئی مرضی نہیں ہوتی. آقا اسے جہاں سونے کو کہے گا وہاں سونا ہو گا اور جہاں اور جس وقت جانے کو کہے گا جانا ہو گا.بالکل یہی عبادت کا مفہوم ہے کہ اللہ (جو ہمارا آقاہے) کی اطاعت میں عبدیت (غلامی) کا تصور ہر وقت ذہن میں نقش رہے. البتہ غلامی اور عبادت میں ایک فرق ملحوظ رہے کہ غلام اپنے آقا کی اطاعت مجبوری سے کررہا ہوتاہے ‘جبکہ بندہ مجبور ہو کر نہیں بلکہ محبت الٰہی کے جذبۂ مستانہ سے سرشار ہو کر اپنی جبین نیاز کو بارگاہِ الٰہی میں اس ادا سے رکھتا ہے کہ جسم ظاہری کے روئیں روئیں سے 
انا عبدک ‘ انا عبدک کی صدائے حق بلند ہوتی ہے.اگر ربّ العالمین کی اطاعت کلی انتہائی محبت کے ساتھ ہو تب عبادت کا حق ادا ہوتا ہے.

اس حوالے سے میں نے یہ بھی بتایا تھا کہ ہماری عبادت کا اس مقام و مرتبہ تک پہنچنا انتہائی مشکل کام ہے‘ لہٰذا اس ضمن میں صحیح طرزِ عمل یہ ہوگا کہ آپ طے کر لیں کہ مجھے 
چلنا اسی راستے پر ہے.پھر اس راہ میں نشیب و فراز آئیں گے‘ کہیں قدم ڈگمگائیں گے‘ کہیں جذبات کا غلبہ ہو گا‘ کبھی ناامیدی ہی ناامیدی چھائے گی اور کسی جگہ اُمید کی کرن نظر آئے گی ‘مگرآپ کو بندگی اور پرستش کے راستے پر مسلسل چلتے رہنا ہے. اگر کہیں قدم پھسل گیا‘یا اندر سے نفس ِامارہ ّکے اُبال کے نتیجہ میں کوئی گناہ سرزد ہوگیا تو اب وہیںکیچڑ میں پڑے نہیں رہنا‘ کبھی بھی کسی گناہ پر مصر نہیں ہونا اور ڈیرہ ڈال کر نہیں بیٹھنا‘بلکہ فوراً اللہ کی طرف رجوع کرنا ہے اور استغفار کرنا ہے .ہزار بار بھی گناہ سرزد ہوجائے تو توبہ کرو ‘اللہ معاف کردے گا: ؎

ایں درگہ ِما درگہ نومیدی نیست
صد بار اگر توبہ شکستی باز آ!

یعنی یہ میری درگاہ نا اُمیدی والی جگہ نہیں ہے‘اگر سومرتبہ پہلے بھی توبہ کرکے توڑ چکے ہو تو کوئی بات نہیں‘دوبارہ توبہ کرو ‘میں تمہاری توبہ قبول کروں گا.توبہ کا دروازہ تو ما لم یغر یغر کی کیفیت یعنی موت کے آثار نظر آنے سے پہلے تک ہمیشہ کے لیے کھلا ہے‘لیکن یہاں یہ بھی یاد رہے کہ اگر ایک گناہ پر آپ ڈیرے جما کر بیٹھ گئے تویہ ایک گناہ ہی تباہی ‘ ہلاکت اور خلود فی النار کے لیے کافی ہے.یہ ہے عبادت کا جامع مفہوم! 

رسولؐ کے لیے اطاعت محبتاتباع

اگر یہ اطاعت اور محبت رسول اللہ کے لیے ہے تو یہ ’’اتباع‘‘ بنے گا. اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ رسول کی عبادت نہیں‘اتباع اور پیروی ہوتی ہے‘ جبکہ اللہ کا اتباع ممکن ہی نہیں ہے. اس حوالے سے یہ جان لیجئے کہ اطاعت کی جاتی ہے کسی کے حکم کی‘ یعنی کسی نے کہا یہ کرو‘ یہ نہ کرو ‘اورآپ نے وہ بات مان لی تو یہ اطاعت ہے .اتباع یہ ہے کہ کسی کی پسند اور معمولاتِ زندگی کو ملحوظ رکھتے ہوئے آپ خود سے ہی اس کی پیروی کر یں.آپ دیکھیں کہ ان کا نہج اور اندازکیا ہے‘ وہ رات کو سوتے کیسے ہیں‘ وہ چلتے کیسے ہیں‘ ان کا طرزِتخاطب کیا ہے‘ ان کو پسند کیا ہے. اگر آپ بغیر ان کی طرف سے حکم دیے ان سب باتوں کی پیروی کرتے ہیں تو یہ اتباع ہے. اس اعتبار سے اللہ کا اتباع تو ممکن نہیں ہے‘ اس لیے اللہ کی صرف عبادت ہو گی‘ جبکہ رسول اللہ کے حوالے سے ایسا ممکن ہے تو ان کا اتباع ہو گا. قرآن حکیم نے بھی ہمیں نبی اکرم کے اتباع کا حکم دیا ہے. سورۂ آل عمران میں فرمایاگیا: قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ (آیت ۳۱’’(اے نبی !)ان سے کہہ دیجیے کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میرا اتباع کرو‘ اللہ بھی تم سے محبت کرے گا.‘‘

سورۂ آل عمران کی اگلی آیت میں اللہ اور رسول دونوں کے لیے اطاعت کا لفظ آیا ہے. فرمایا: 
قُلۡ اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ الرَّسُوۡلَ ۚ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۳۲﴾ ’’کہہ دو کہ اللہ اور اُس کے رسولؐ کا حکم مانو . پھراگر وہ نہ مانیں تو (یاد رکھیں کہ) اللہ بھی کافروں کو دوست نہیں رکھتا‘‘.یعنی اگر اللہ اور رسول میں سے کسی ایک کی بھی اطاعت نہیں ہے تو پھر آپ کفر کے مرتکب ہورہے ہیں‘ چاہے یہ کفر معنوی ہے. خواہ آپ نے حد عبورنہیں کی اور اسلام سے نکل کر کفر میں نہیں گئے ‘ لیکن یہ فعل اصلاً کفر ہو گیا. جیسے حضوراکرم نے فرمایا: مَنْ تَرَکَ الصَّلَاۃَ مُتَعَمِّدًا فَقَدْ کَفَرَ جِھَارًا (۱’’جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑ دی اُس نے علانیہ کفر کیا‘‘. ترکِ صلاۃ کافرانہ فعل ہے اور اس میں کفر مضمر ہے‘ البتہ آپ تارکِ صلاۃ کو کافر نہیں کہیں گے ‘اس لیے کہ اس نے حقیقی کفر کا ارتکاب نہیں کیا الغرض یہ یاد رکھیں کہ اللہ کے لیے اطاعت جمع محبت‘ عبادت بن گئی اور رسول کے لیے اطاعت جمع محبت اتباع بن گیا.

اسی حوالے سے ایک بات اور نوٹ کیجیے کہ جب بھی ایمان یا اطاعت کا ذکر آئے گا تو اللہ کے فوراً بعد رسول کا ذکر ہو گا‘ جبکہ یہاں زیر مطالعہ حدیث میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ اللہ کے بعد پہلے کتاب کا ذکر ہے اور پھر رسول کا 
لِلّٰہِ وَلِکِتَابِہٖ وَلِرَسُوْلِہٖ اب یہ ترتیب بھی حکمت سے خالی نہیں ہے. اس میں حکمت یہ ہے کہ آمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ اور اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ میں کتاب پر ایمان اور کتاب کی اطاعت اللہ پر ایمان اور اللہ کی اطاعت ہی میں شامل ہے.کتاب چونکہ اللہ کا کلام ہے اس حوالے سے (۱) الجامع الصغیر للسیوطی‘ ح:۸۵۸۷. مجمع الزوائد للھیثمی:۱/۳۰۰ہاں پر اس کوالگ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے‘ لیکن یہاں خیر خواہی اور وفاداری کا تذکرہ ہے اور اللہ اور اس کی کتاب کے ساتھ وفاداری کے تقاضے چونکہ الگ الگ ہیں اس لیے یہاں کتاب کو الگ بیان کیا گیا ہے. 

چوتھا تقاضا : وفاداری

اللہ ‘اُس کے رسول اور کتاب کے ساتھ خیر خواہی کا چوتھا تقاضا وفاداری ہے. یہ وفاداری مسلمانوں کے امراء اور عام لوگوں کے لیے بھی ہے‘ فرق اتنا ہے کہ ان پانچوں (۱) اللہ عزوجل‘ (۲)اللہ کی کتاب قرآن مجید‘ (۳) اللہ کے رسول حضرت محمد ‘ (۴) ائمۃ المسلمین (اس کے مصداق آگے بیان ہوں گے)‘ اور (۵) عام مسلمان یعنی عوام کے لیے وفاداری کے تقاضے مختلف ہیں. یہاں یہ ضرور یاد رکھنا چاہیے کہ ایک بندئہ مسلم کو یہ پانچ وفاداریاں نبھانی ہیں. ذیل میں اب ان پانچوں میں سے ہر ایک کی وفاداری اور خیر خواہی کے تقاضوں کو بیان کیا جاتا ہے. 

اللہ عزوجل کے ساتھ وفاداری کے تقاضے

اللہ تعالیٰ کے ساتھ وفاداری کا تقاضا یہ ہے کہ انفرادی سطح پر اُس کے تمام احکام پر عمل پیرا ہوا جائے اور اجتماعی سطح پر بھی اس کے قوانین کو نافذ کیا جائے. انفرادی سطح پر وفاداری یہ ہے کہ جن احکام پر عمل کرنا ممکن ہے‘ چاہے کتنا ہی مشکل ہو‘ ان پر عمل کیا جائے. اگر ایسا نہیں ہے ‘یعنی مشکل اعمال پر عمل نہیں کیا جاتا تو یہ اللہ کے ساتھ بے وفائی ہے. انفرادی سطح پر بے وفائی کی ایک صورت یہ ہے کہ احکامِ الٰہیہ میں تفریق کر دی جائے کہ کچھ احکام تو سر آنکھوں پر ہوں اور کچھ احکام پاؤں تلے روندے جائیں. اس پر قرآن مجید میں بدترین وعید آئی ہے : 
اَفَتُؤۡمِنُوۡنَ بِبَعۡضِ الۡکِتٰبِ وَ تَکۡفُرُوۡنَ بِبَعۡضٍ ۚ فَمَا جَزَآءُ مَنۡ یَّفۡعَلُ ذٰلِکَ مِنۡکُمۡ اِلَّا خِزۡیٌ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۚ وَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ یُرَدُّوۡنَ اِلٰۤی اَشَدِّ الۡعَذَابِ ؕ وَ مَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۸۵﴾ 
(البقرۃ) 
’’تو کیا تم کتاب کے ایک حصے کو مانتے ہو اور ایک کو نہیں مانتے؟ پس کوئی سزا 
نہیں ہے ان کی جو یہ طرزِعمل اختیار کریں سوائے اس کے کہ دنیا میں ذلیل و خوار کر دیے جائیں اور آخرت میں شدید ترین عذاب میں جھونک دیے جائیں . اور اللہ اُس سے بے خبر نہیں ہے جو کچھ تم کر رہے ہو.‘‘ 

طاغوتی نظام کو بدلنے کی جدوجہد:اللہ کے ساتھ وفاداری کا لازمی تقاضا

اس حوالے سے یہ بھی یاد رہے کہ جن احکاماتِ الٰہیہ پر عمل ممکن نہیں ہے ان کا تومعاملہ ہی الگ ہے‘ مثلاً آج ہمارے لیے ممکن ہی نہیں ہے کہ ہم چور کا ہاتھ کاٹیں اورنہ ہی یہ ممکن ہے کہ سود سے بالکلیہ بچ جائیں. سود کا دخان یعنی اس کا غبار یا اس کا دھواں تو میرے اندر جائے گا ہی لیکن براہِ راست سود میں شمولیت میرا جرم ہے ‘اس لیے کہ اس کو تو میں چھوڑ سکتا ہوں . اس اعتبار سے اللہ کے ساتھ وفاداری کا اوّلین تقاضا یہ ہے کہ شریعت کے جن احکام پر عمل ممکن ہو‘ چاہے کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو‘ ان پر عمل کیا جائے. وفاداری کا دوسرا تقاضا اجتماعی سطح پر ہے کہ جن احکام پر عمل ناممکن ہے ان پر عمل کرنے کے لیے اس نظام کو بدلنے کی جدوجہد کی جائے. اگرآپ جدوجہد نہیں کر رہے تو آپ اللہ کے وفادار کہاں سے ہوئے! آپ تو اللہ کے باغیوں کے وفادار ہیں جن کے ساتھ آپ تعاون کر رہے ہیں.جب آپ نے اللہ کے غداروں کی قیادت اور ان کی حکومت تسلیم کر لی تو اللہ کے ساتھ وفاداری کہاں رہی؟ اس لیے کہ یہ مسلمہ اصول ہے کہ غدارکا ساتھی بھی غدار ہے. نائن الیون کے بعد بش نے یہ الفاظ کہے تھے : 

"You are with us or against us." 

یعنی یا تم ہمارے ساتھ ہو یا ہمارے دشمن ہو‘ درمیان میں کوئی شے نہیں ہے. اگر افغانستان میں ہمارا ساتھ نہیں دو گے تو ہماری دشمنی کے لیے تیار ہو جاؤ! یہ ایک بہت بڑا چیلنج تھا‘ جس پر ہمارا کمانڈو صدر 
٭ کانپ گیا اور سارے مطالبات ایک فون کال پر تسلیم کر لیے. اس کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ اللہ پر تو یقین ہے نہیں اور نہ اللہ کے ساتھ وفاداری ہے. چنانچہ جب ہم اللہ کے ساتھ وفادار نہیں تو وہ ہماری مدد کیوں کرے گا؟وہ تو فرماتا ہے : اِنۡ تَنۡصُرُوا اللّٰہَ یَنۡصُرۡکُمۡ وَ یُثَبِّتۡ اَقۡدَامَکُمۡ ﴿۷﴾ (محمد) ’’اگر تم اللہ کی مدد کرو ٭ ڈاکٹر صاحب کے یہ خطابات ۲۰۰۷ء کے ہیں جب جنرل پرویز مشرف پاکستان کے صدر تھے. گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدم رکھے گا‘‘. یہ نہیں کہ تم نے تو کسی اور کی طرف رخ پھیرا ہوا ہے ‘اللہ کے دشمنوں کے ساتھ تمہاری دوستیاں ہیں ‘اور اللہ تمہاری نصرت میں لگا رہے گا‘ معاذ اللہ! تو جب اللہ پر بھروسہ نہیں تو پھر بش سے تو ڈرنا ہی ڈرنا ہے. 

حال ہی مجھے معلوم ہوا ہے کہ اصل میں یہ 
(You are with us or against us) بش کے نہیں‘ بلکہ حضرت مسیح علیہ السلام کے الفاظ ہیں جو بائبل میں اس طرح آئے ہیں: 

"Who is not with me is against me." 

تو اللہ کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے کہ میرے ساتھ ہو یا میرے خلاف ہو! درمیان میں کوئی بات نہیں. اگر میرے وفادار ہو تو میرے باغیوں کے خلاف تمہارا اعلانِ جنگ ہونا چاہیے. ان سے تعاون کیسا؟ ان کی چاکری کیسی؟ ان کو تقویت دینا چہ معنی دارد! 

یہ اللہ کے ساتھ وفاداری کا کٹھن تقاضا ہے اور اس وفاداری کے بغیر عبادت کا تقاضا بھی پورا نہیں ہوتا. عبادت کے حوالے سے میں نے کہا تھا کہ ہمہ تن‘ ہمہ وقت‘ ہمہ جہت اللہ کی اطاعت ہو. جب نظام کافرانہ ہے تو آپ کی اطاعت مکمل ہوہی نہیں سکتی‘ اس لیے کہ کسی باطل نظام کے تحت رہتے ہوئے آپ ُکلی ّاطاعت کر ہی نہیں سکتے.الغرض جن احکام پر عمل ممکن ہے اگر وہ بھی نہیں کرتے تو آپ مجرم ہیں‘ لیکن جن پر عمل ممکن نہیں ہے تو اس کے بارے میں ‘میں نے بارہا بیان کیاہے کہ اس کا کفارہ یہ ہے کہ اس نظام کو بدلنے کی ّجدوجہد کرو‘ اس کے لیے تن من دھن لگاؤ. یہ اللہ کے ساتھ وفاداری کا تقاضا ہے‘ البتہ آگے ا س کے درجے ضرور ہیں. 

انسدادِ منکر کے تین درجات

ہم نے یہ حدیث کئی بار پڑھی ہے: 
مَنْ رَاٰی مِنْکُمْ مُنْکَرًا فَلْیُغَیِّرْہُ بِیَدِہٖ ، فَاِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِہٖ‘ فَاِنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِہٖ ، وَذٰلِکَ اَضْعَفُ الْاِیْمَانِ 
(۱
’’ تم میں سے جو شخص کسی منکر (برائی) کو دیکھے تو اسے اپنے زورِ بازو سے بدل ڈالے. پھر اگر اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو زبان سے اسے برا کہے. پھر اگر اس کی طاقت 
(۱) صحیح مسلم‘ کتاب الایمان‘ باب بیان کون النھی عن المنکر من الایمان… بھی نہ رکھتا ہو تو دل سے اسے براجانے‘ اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے.‘‘

ہمارے سامنے سب سے بڑا منکر طاغوت کا نظام ہے. کسی نے چھوٹی سی چیز چوری کر لی‘ ٹھیک ہے برا کام ہے‘ جرم ہے‘ گناہ ہے‘ مگر طاغوتی نظام جو اللہ کی بغاوت پر مشتمل ہے یہ سب سے بڑا منکر ہے.اس نظام (سیکولرازم) کے تصورات ملاحظہ ہوں کہ ہم کسی آسمانی ہدایت کو نہیں مانتے‘ کسی آسمانی قانون کو نہیں مانتے. ہم تو خود حاکم ہیں اور عوامی حاکمیت 
(popular sovereignty) کی بنیاد پر جمہوریت (democracy) چلے گی. ہم خود طے کریں گے کہ کیا جائز ہے کیا ناجائز. ہم چاہیں گے تو جنس پرستی کو جائز قرار دیں گے‘ ہم چاہیں گے تو زنا کو کوئی جرم یا کوئی گناہ قرار دیں گے‘ نہیں چاہیں گے تو نہیں دیں گے. (چنانچہ مغرب میں زنا بالرضا کوئی جرم نہیں ہے‘البتہ اگر نابالغ لڑکی سے یا کسی سے زبردستی زنا (rape) کیا ہے تو یہ جرم ٹھہرے گا.) اسی طرح ہمارا معاشی نظام سود پر چلے گا ‘ ملینز کی لاٹریاں ہوں گی. ہم قحبہ گری کو قانونی تحفظ فراہم کریں گے اور sex workers کو باقاعدہ طور پر ہیلتھ سر ٹیفکیٹ اور لائسنس ایشو کریں گے کہ یہ عورت اور مرد (play boy) ایڈز اور مہلک بیماریوں کے جراثیم سے پاک ہے. 

یہ نظام یقینی طور پر اللہ کے خلاف بغاوت پر مشتمل ہے ‘بایں طور کہ اللہ نے جن چیزوں کو حرام قرار دیا ہے اس نظام میں ان تمام کو جائز قرار دیا گیا ہے. تو اب اللہ کے ساتھ وفاداری کا تقاضا یہ ہے کہ آپ اس نظام کو بدلنے کی جدوجہد کریں. ماقبل بیان کی گئی حدیث میں منکر کے خلاف تین درجات بیان کیے گئے ہیں. ان میں سب سے کم اور آخری درجہ یہ ہے کہ آپ کے دل میں اس باطل اور طاغوتی نظام کے خلاف شدید ترین نفرت ہو. آپ کو یہ پریشانی لاحق رہے کہ میں کہاں رہ رہا ہوں‘ کیوں رہ رہا ہوں. پھر آپ اس ماحول پھلنے پھولنے کی کوشش کرنے کے بجائے قوت لا یموت پر گزارہ کریں اور اپنا پورا وقت اور صلاحیت مجموعی طور پر فارغ کر کے اللہ کے دین کو قائم کرنے کی جدوجہد کریں. یہ تو آخری درجہ ہے. اس سے اوپر کا دوسرا درجہ یہ ہے کہ زبان سے اس نظام کو برا کہیں. یعنی اپنی زبان اور قلم سے اتنا تو کہیں کہ یہ نظام کافرانہ ہے ‘ طاغوتی اور 
باطل نظام ہے ‘اس لیے میں اسے تسلیم نہیں کرتا .سب سے اوپر تیسرا درجہ یہ ہے کہ آپ اس نظام کے خلاف ہاتھ کے ساتھ جہاد کرنے کے لیے میدان میں آجائیں اور نظام کو جڑ سے اُکھیڑ کر دین کے نظام کو قائم کرنے کی کوشش کریں.یہ سب کریں گے تو اللہ کے ساتھ وفاداری کے تقاضے پورے ہوں گے‘ ورنہ بے وفائی ہی بے وفائی ہے. 

قرآن کے ساتھ وفاداری کے تقاضے

دوسرے نمبر پرایک مسلمان کو قرآن کے ساتھ وفادار ہونا بھی لازم ہے. قرآن کے ساتھ وفاداری میں بھی اللہ کے ساتھ وفاداری کے سارے تقاضے آجائیں گے. کتاب اللہ کے ساتھ ایک جذباتی تعلق تو ہمارے ہاں پایا جاتا ہے اور قرآن مجید کی اگر بے حرمتی ہو تو ہم تڑپ اٹھتے ہیں.یہ حمیت ایک جذباتی معاملہ ہے ایک دفعہ ہمارے ہاں قرآن مجید کی بے حرمتی پر بڑی احتجاجی مہم چلی تھی . اس ضمن میں مسجد شہداء میں ایک بڑا جلسہ ہوا تھا‘ آس پاس کی ساری سڑکیں عوام سے بھری پڑی تھیں. وہاں میں نے کہا تھا کہ اصل میں تو ہم خود قرآن کو ذبح کر رہے ہیں‘ قرآن کے احکام کو توڑ رہے ہیں ‘ اصل بے حرمتی تو ہم خود کر رہے ہیں.نبی اکرم کا ارشاد ہے: 

مَا آمَنَ بِالْقُرْآنِ مَنِ اسْتَحَلَّ مَحَارِمُہٗ 
(۱
’’وہ شخص قرآن پر ایمان نہیں لایا جس نے اس کے حرام کو حلال ٹھہرا لیا.‘‘

اسی طرح اگر حضور کی توہین ہوجائے تو بجاطور پرایک طوفان اُٹھ جائے گا‘ حالانکہ اگر دیکھا جائے تو آپ کی توہین تو ہم خود بھی کر رہے ہیں. حضور کی سنت کا اتباع نہ کرکے اور آپؐ کے احکام کو پاؤں تلے روند کر ہم خود نبی اکرم کی گویا توہین کر رہے ہیں‘لیکن اگر کوئی غیر مسلم توہین کر دے تو ہمارا خون کھول اٹھتا ہے. یہ اچھی بات ہے‘ اتنی حمیت تو ہونی چاہیے ‘لیکن یہ معاملہ صرف جذباتی ہے. اصل یہ ہے کہ اللہ کے ساتھ وفاداری ‘ اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کے ساتھ وفاداری کے تقاضوں کو پورا کیا جائے. 
(۱) سنن الترمذی‘ ابواب فضائل القرآن‘ باب ما جاء فیمن قرأ حرفا من القرآن مالہ من االأجر.

مسلمانوں پرقرآن مجید کے پانچ حقوق

قرآن کے ساتھ وفاداری کے ضمن میں میرا کتابچہ ’’مسلمانوں پر قرآن مجید کے حقوق‘‘ کا مطالعہ بہت مفید رہے گا. یہ کتابچہ میرے دو خطاباتِ جمعہ پر مشتمل ہے جو میں نے نصف صدی قبل جامع مسجد خضریٰ‘ سمن آباد میں دیے تھے. بعد میں‘ میں نے ازخود ترتیب دے کر انہیں ایک کتابچہ کی شکل میں شائع کیا. الحمد للہ! اب تک یہ کتابچہ لاکھوں کی تعداد میں چھپ چکا ہے. مختلف زبانوں میں اس کے ترجمے لوگوں نے خود کرا کر مجھے دیے ہیں. ایک صاحب نے عربی میں ترجمہ کیا. ایک صاحب جو کسی یونیورسٹی کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ تھے اورجن سے میں واقف بھی نہیں تھا‘انہوں نے اس کا فارسی میں ترجمہ کیا. ایک صاحب ہیلے کالج آف کامرس میں انگلش کے پروفیسر تھے‘ انہوں نے انگلش میں ترجمہ کیا اور پھر چھپوانے کااہتمام بھی خود کیا. اس کے علاوہ بہت سی زبانوں مثلاً سندھی‘ پشتو‘ بنگلہ ‘مہاراشٹر کی زبان‘ تامل زبان اور ہندوستان میں بہت سی زبانوں میں اس کا ترجمہ شائع ہو چکا ہے. ابھی پچھلے دنوں خالص ہندی میں چھپا ہوا نسخہ میرے پاس آیا .
اس مختصر سے کتابچہ میں‘ میں نے قرآن مجید کے پانچ حقوق بیان کیے ہیں. اگر آپ ان پانچ حقوق کو ادا کرتے ہیں تو پھر آپ قرآن کے ساتھ وفادار ہیں‘ ورنہ نہیں. وہ پانچ حقوق یہ ہیں: 

پہلا حق :ایمان وتعظیم: 
یعنی اس پر یقین والا ایمان ہواور پھر اس کے نتیجے میں اس کی تعظیم ہو. یہ تعظیم ظاہری بھی ہو کہ گر گیا تو آپ نے اٹھا کر چوما اور کچھ مال خیرات کر دیا. اسی طرح اس کو اونچی جگہ پر رکھنا اور وضو کے بغیر اس کو ہاتھ نہ لگانا‘ یہ سب چیزیں اس کی تعظیم میں شامل ہیں. لیکن اس کی حقیقی تعظیم یہ ہے کہ اس کے احکام کو مانو‘ان پر عمل کرو.اگر احکام پر عمل پیرا نہیں ہوتے تو پھر ظاہر بات ہے کہ آپ اس کی حقیقی تعظیم نہیں کر رہے. 

دوسرا حق: تلاوت و ترتیل: یعنی اسے پڑھو جیسے کہ پڑھنے کا حق ہے: اَلَّذِیۡنَ اٰتَیۡنٰہُمُ الۡکِتٰبَ یَتۡلُوۡنَہٗ حَقَّ تِلَاوَتِہٖ ؕ (البقرۃ:۱۲۱’’وہ لوگ جن کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کی تلاوت کرتے ہیں جیسے اس کی تلاوت کا حق ہے‘‘ قرآن کی تلاوت کا حق اور اس کی ادائیگی کی شرائط بھی ہیں‘ مثلاً تجوید کے ساتھ پڑھنا‘ روزانہ کا معمول بنانا‘ خوش الحانی سے تلاوت کرنا‘ آدابِ ظاہری و باطنی کا خیال رکھنا ‘اور ترتیل کے ساتھ پڑھنا‘یعنی نماز اور خصوصاً نمازِ تہجد میں قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر توقف سے پڑھنا. 

تیسرا حق : تذکر و تدبر: یعنی اسے سمجھو جیسے کہ سمجھنے کا حق ہے . اس کے دو درجے ہیں:تذکر بالقرآن اور تدبر بالقرآن‘ یعنی قرآن سے نصیحت حاصل کرنا اور قرآن مجید کی آیات میں غور و فکر کرنا. 

چوتھا حق : حکم و اقامت: یعنی ہر مسلمان اس کے اَحکام کو مانے‘ اس پر عمل کرے اور اسی کو اپنے درمیان حَکَم (منصف) بنائے. 

پانچواں حق:تبلیغ و تبیین: یعنی اسے پہنچاؤ‘ اس کی تبلیغ کرو اور اسے عام کرو. تبیین‘ تبلیغ کا بلند ترین درجہ ہے الغرض یہ پانچ حق ادا کریں گے تو آپ قرآن کے ساتھ وفاداری کا حق نبھا رہے ہیں.


رسول اللہ کے ساتھ وفاداری کے تقاضے

رسول اللہ کے ساتھ وفاداری کے چار تقاضے سورۃ الاعراف کی ایک آیت میں بیان کیے گئے ہیں. فرمایا: 

فَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِہٖ وَ عَزَّرُوۡہُ وَ نَصَرُوۡہُ وَ اتَّبَعُوا النُّوۡرَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ مَعَہٗۤ ۙ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴿۱۵۷﴾٪ 
(الاعراف) 
’’تو جو لوگ ان پر ایمان لائے ‘اور ان کی تعظیم کی‘ اور ان کی مدد کی‘ اور جو نور ان کے ساتھ نازل ہوا ہے اس کی پیروی کی‘ تو یہی مراد پانے والے ہیں.‘‘

اس آیت میں رسول اللہ کے چار حقوق کا تذکرہ ہے‘ جن کے ادا کرنے سے ہی رسولؐ کے ساتھ وفاداری کا حق ادا ہو گا.
پہلا تقاضا:ایمان: رسول اللہ کے ساتھ وفاداری کا پہلا تقاضا ایمان ہے ‘یعنی آپؐ پردلی یقین والا ایمان ہو. اس حوالے سے تفصیلی گفتگو ماقبل ہو گئی ہے. دوسرا تقاضا:تعظیم ِرسول ؐ : دوسرا تقاضا یہ ہے کہ رسول اللہ  کی کماحقہ ٗ تعظیمہو. جب آپ کے سامنے رسول اللہ کا نام لیا جائے اور آپ ا ن پر درود نہ بھیجیںتو آپ گویا رسول اللہ کی توہین کے مرتکب ہورہے ہیں. صحابہ کرامj پر تو یہ بھی لازم تھا کہ ان کی آواز حضور کی آواز سے اونچی نہ ہو جائے . اس حوالے سے سورۃ الحجرات میں فرمایا گیا: 

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَرۡفَعُوۡۤا اَصۡوَاتَکُمۡ فَوۡقَ صَوۡتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجۡہَرُوۡا لَہٗ بِالۡقَوۡلِ کَجَہۡرِ بَعۡضِکُمۡ لِبَعۡضٍ اَنۡ تَحۡبَطَ اَعۡمَالُکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ لَا تَشۡعُرُوۡنَ ﴿۲﴾ 
(الحجرات) 
’’اے اہل ایمان! اپنی آوازیں پیغمبرؐ کی آواز سے اونچی نہ کرو ‘اور جس طرح آپس میں ایک دوسرے سے زور سے بولتے ہو (اس طرح) ان کے روبرو زور سے نہ بولا کرو‘مبادا تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو.‘‘

یعنی رسول اللہ سے بلند آواز سے اس طرح بات نہ کر بیٹھنا جیسے کہ آپس میں ایک دوسرے سے کر لیتے ہو . میری اور آپ کی کسی بات پر بحث ہو رہی ہے‘ آپ نے زور سے آواز بلند کی تومیں نے آپ سے بڑھ کر آواز بلند کی . یہ ہم آپس میں تو کر سکتے ہیں‘ لیکن اگر ایسا معاملہ رسول اللہسے کیا تو سارے اعمال حبط ہو جائیں گے.

اس قرآنی حکم 
لَا تَرۡفَعُوۡۤا اَصۡوَاتَکُمۡ فَوۡقَ صَوۡتِ النَّبِیِّ پر عملکی ہمارے لیے صورت یہ ہے کہ کسی موضوع پر میں اپنا خیال پیش کر رہا ہوں‘ آپ اپنا خیال پیش کر رہے ہیں.آپ نے اپنی رائے پر نبی اکرم کی ایک حدیث بیان کی ‘تو اس قرآنی حکم کا تقاضا یہ ہے کہ اب میری زبان بند ہو جانی چاہیے. اس کے بعد بھی اگر میں کچھ کہتا ہوں تو یہ رسول اللہ  کی توہین ہے اور میں اس قرآنی حکم کے خلاف کر رہا ہوں. ہاں بعد میں مَیں تحقیق کروں گا کہ یہ حدیث جو بیان کی گئی ہے صحیح ہے یا نہیں ‘ اس کی سند درست ہییا نہیں‘محدثین کے ہاں ا س حدیث کا کیا مقام ہے‘ اسماء الرجال کے ماہرین اس حدیث کے بارے میں کیا کہتے ہیں.بعد میں تحقیق توکروں گا ‘مگر اُس وقت میری زبان بند ہوجانی چاہیے. اگر ہم یہ نہیں کرتے اور اپنی رائے پر ڈٹے رہتے ہیں تو گویا ہم نے رسول کی آواز سے اپنی آواز کو بلند کر دیا.

تیسرا تقاضا:نصرتِ رسول ؐ : رسول اللہ کے ساتھ وفاداری کا تیسرا تقاضا یہ ہے کہ آپ کی مدد کی جائے.اب مدد کس کام میں کرنی ہے‘ یہ بہت اہم بات ہے. اس بار ے میں نوٹ کر لیجیے کہ رسول اللہ کی مدد سے اللہ کے دین کو غالب و نافذ کرنے کی جدوجہد مراد ہے. اللہ کے ساتھ وفاداری کا بھی یہی تقاضا ہے کہ اُس کے دین کی مدد کی جائے. اس اعتبار سے یہاں اللہ اور رسول کے ساتھ خلوص اور اخلاص جڑ گئے ہیں کہ اللہ کے دین کو قائم کرنا میرے ایمان کا تقاضا بھی ہے اور رسول اللہ کا فرضِ منصبی یہی تھا. لہٰذا آپؐ کی نصرت اسی کام کے لیے ہے. آپنے اپنی حکومت بنانے کے لیے تو کوئی جدوجہد نہیں کی تھی. وہ تو جب آپؐ مدینہ تشریف لائے تو آپ ہی سربراہِ مملکت اور وقت کے خلیفہ تھے‘ لیکن اس وقت بھی آپؐ کے گھر میں فاقے تھے‘ اس وقت بھی کئی کئی دن آپؐ کے گھر کے چولہے میں آگ نہیں جلتی تھی. تو آپؐ نے اپنی سلطنت ‘ اپنی حکومت یا اپنی کوئی جائیداد نہیں بنائی. اس میں تو کوئی شک ہی نہیں کہ بنی نوعِ انسان کے سب سے زیادہ باصلاحیت انسان نبی آخرالزماں حضرت محمد  تھے‘ لیکن آپؐ نے اپنی ان صلاحیتوں اور توانائیوں سے اپنی ذات کے لیے کبھی کچھ حاصل نہیں کیا. تو یہاں نصرتِ رسول ؐ وہی اللہ کے دین کو قائم کرنے کے لیے ہے اور یہ معرکہ ابھی بھی جاری ہے. 

ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغِ مصطفوی سے شرارِ بولہبی

بلکہ اب ایک مرتبہ پھر یہ بھٹی بہت دہکنے والی ہے. ایک بہت بڑی جنگ احادیث میں جس کو ’’المَلحمَۃ العُظمٰی‘‘ کہا گیا ہے ہونے والی ہے جو پچھلی صدی کی دونوں عالمی جنگوں کو مات دے جائے گی. ان جنگوں میں بھی کروڑوں انسان قتل ہوئے تھے‘ اب بھی کروڑوں قتل ہوں گے. یہ جنگ زیادہ دور نہیں ہے ‘اس کے لیے سٹیج تیار ہو رہا ہے. بہرحال اب بھی اگر آپ اطمینان سے بیٹھے ہیں اور غلبۂ دین کی جدوجہد میں حصہ نہیں لے رہے تو گویا آپ نہ اللہ کے دین کی وفاداری کا ثبوت دے رہے ہیں اور نہ رسول اللہ کی نصرت کا تقاضا پورا کررہے ہیں.

حضوراکرم  نے خبر دی ہے کہ قیامت سے پہلے کل روئے ارضی پر خلافت علیٰ منہاج النبوۃکا نظام قائم ہوگا. اب اس جدوجہد میں جو لوگ اپنا حصہ ڈالیں گے وہ کامیاب ہو جائیں گے اور جو اپنے دھندوں میں مگن رہ کر اپنی زندگی گزاریں گے‘ یا جن کے پیش نظر وہی معاش کی بھاگ دوڑ‘ وہی صرف اپنے اور اپنے اہل و عیال کی فکر رہے گی ‘ یا جن کے پیش نظر صر ف دنیوی مستقبل رہے گا‘جبکہ دینی یا اُخروی مستقبل سے انہیں کوئی غرض ہی نہیں ہو گی تو وہ محروم رہ جائیں گے. البتہ یہ یاد رکھیے کہ چاہے آپ اس معرکہ میں شامل ہوں یا نہ ہوں‘ یہ لازماً ہو کر رہے گا. اس کی خبر علامہ اقبال بھی ساٹھ سال پہلے دے گئے ہیں: ؎

دنیا کو ہے پھر معرکہ ٔروح و بدن پیش
تہذیب نے پھر اپنے درندوں کو ابھارا
اللہ کو پامردیٔ مؤمن پہ بھروسا
ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا
رسول اللہ انتہائی غیور انسان تھے!

نصرتِ رسولؐ کے ضمن میں آپ کو یہ بھی بتاناچاہتا ہوں کہ محمد ٌرسول اللہ انتہائی غیور انسان تھے‘ آپؐ نے کبھی کسی سے سوال نہیں کیا. میری آنکھوں میں ہمیشہ آنسو آجاتے ہیں جب بھی میں وہ واقعہ بیان کرتا ہوں کہ ہجرت کا حکم تو آ گیا تھا‘ لیکن حضور کو ابھی مکہ چھوڑنے کا حکم(express permission) نہیں ہوا تھا اور رسول اُس وقت تک اپنی جگہ سے نہیں ہل سکتا جب تک کہ اللہ کی طرف سے اسے اپنی بستی چھوڑنے کا حکم نہ آ جائے. حضرت یونس علیہ السلام سے یہی غلطی ہوئی تھی ‘چنانچہ ان کی پکڑ ہوئی اس موقع پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے طور پر دو اونٹنیاں خوب کھلا پلا کر تیار کی ہوئی تھیں تاکہ انہیں راستے میں غذا کی ضرورت پیش نہ آئے ‘اور اونٹ میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ کئی دن بغیر کھائے پیے زندہ رہ سکتا ہے. ایک دن اچانک دوپہر کے وقت حضور اپنا چہرہ مبارک اپنے عمامہ میں لپیٹے ہوئے تشریف لائے . گھر والوں نے دور سے دیکھا تو انہیں حیرانی ہوئی ‘اس لیے کہ یہ وقت تو ملاقات کا نہیں ہے عام طور پر ظہر و عصر کے درمیان کسی کو ملنے جانا اہل عرب کے ہاں آداب کے خلاف ہے‘ اس لیے کہ یہ قیلولے کا وقت ہوتا ہے. اس وقت بازار بھی بند ہو جاتے ہیں خیر حضوراکرم تشریف لائے اور فرمایا: ابوبکر! اجازت آگئی ہے. حضرت ابوبکرؓ نے خوشی سے (اس خیال سے کہ حضور شاباش دیں گے)عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! میں نے دو اونٹنیاں تیار کر رکھی ہیں. آپؐ نے ذرا سا توقف فرمایا اور کہا: اچھا ٹھیک ہے‘ میں ایک استعمال کروں گا لیکن اس کی قیمت ادا کروں گا. یہ سن کر حضرت ابوبکرؓرو پڑے کہ حضور میرے ساتھ یہ مغائرت!

حضرت ابوبکر کا مقام تو دیکھیں کہ آپؓ نے اپنا سارا اثاثہ حضور کے مشن میں لٹا دیا ‘جوبچا کھچا تھا وہ ساتھ لے گئے اور گھر میں ایک پیسہ تک نہیں چھوڑا‘ حالانکہ گھرمیں پیچھے بیٹیاں تھیں‘ بیوی تھی ‘اندھا بوڑھا باپ ابوقحافہ تھا. پھر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکے بارے میں آپ  نے ایک اشارہ کیا تھاکہ عائشہ کی مجھ سے شادی کرا دیں تو صرف ایک جملہ کہا تھاکہ وہ تو آپ کی بھتیجی ہے ‘یعنی میں آپ کا دینی بھائی ہوں. آپؐ نے فرمایا: دینی اخوت کا معاملہ قانونی اور شرعی اخوت سے علیحدہ ہے. آپؓ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا حضور کے نکاح میں دے دی‘ حالانکہ حضرت عائشہ کی عمر اس وقت چھ سال تھی. رخصتی اگرچہ بعد میں نو سال کی عمر میں ہوئی ‘ لیکن چھ سال کی عمر میں نکاح تو ہو گیا - بہرحال اس ساری گفتگو کا حاصل یہ ہے کہ حضور بہت غیور تھے اور آپؐ نے اپنی ذات کے لیے کبھی کسی سے کوئی سوال نہیں کیا. سوال اگر تھا تو یہ کہ اللہ نے میرے ذمے بہت بڑا بوجھ ڈالا ہے کہ میں اُس کے دین کو غالب کروں‘ تو کون ہے اس راستے میں میرا مددگار؟اس معاملے میں آپ سائل بن کر دردرگئے ہیں‘ عام لوگوں سے بھی ملے ہیں اور قبیلوں کے سرداروں سے بھی جا کر ملے ہیں اور ان سے 
درخواست کی ہے کہ میرا ساتھ دو. تو رسول اللہسے وفاداری کا تیسرا تقاضا یہ ہے کہ اللہ کے دین کی مدد کی جائے. 
چوتھا تقاضا:قرآن کی پیروی : رسول اللہ سے وفاداری کا چوتھاتقاضا جو اس آیت میں بیان کیا گیا وہ یہ ہے کہ جو نور یعنی قرآن آپؐ کے ساتھ نازل کیا گیااس کی پیروی کی جائے. اس حوالے سے بھی تفصیلی گفتگو ماقبل بیان ہو گئی ہے کہ قرآن کے ساتھ وفاداری کے پانچ حقوق ہیں . ان حقوق کو بجالانے سے رسول اللہ  کے ساتھ وفاداری کا ایک حق بھی ادا ہو جائے گا. اس اعتبار سے یہاں رسول اور قرآن کے ساتھ وفاداری کے تقاضے جڑ گئے ہیں. 

رسول اللہ کے ساتھ وفاداری او رخیر خواہی کے تقاضے کے حوالے سے بھی میرا ایک کتابچہ’’نبی اکرم سے ہمارے تعلق کی بنیادیں‘‘موجود ہے .یہ میری ایک تقریر پر مشتمل ہے جو میں نے اوائل ۱۹۷۳ء میں ناظم آباد کراچی کی ایک جامع مسجد میں ماہِ ربیع الاول کی مناسبت سے کی تھی.اس کتاب کو معمولی حک و اضافہ کے ساتھ ۱۹۷۴ء میں کراچی ہی سے شائع کر دیاگیا. میری خواہش یہ تھی کہ اسے ازسرنو مرتب کرکے ’’مسلمانوں پر نبی اکرم کے حقوق‘‘ کے عنوان سے شائع کروں‘ لیکن بوجوہ اس کی نوبت نہ آئی. اللہ تعالیٰ ہمیں نبی اکرم کے ساتھ اپنے تعلقات کی اساسات اور ان کے مضمرات کا صحیح فہم بھی عطا فرمائے اور ان پر عملاً کاربند ہونے کی توفیق بھی مرحمت فرمائے. آمین! 

ائمۃ المسلمین کے ساتھ نصح و خیر خواہی کے تقاضے

اللہ ‘ کتاب اللہ اوررسول اللہ کے بعد اب باری آتی ہے مسلمانوں کے اُمراء کی خیر خواہی اور وفاداری کی. اس کے بعد آخرمیں عام مسلمانوں کی خیر خواہی کا تذکرہ ہے. غور طلب بات یہ ہے کہ ائمہ کو پہلے اور عوام کو بعد میں کیوں لایا گیا. اس لیے ائمہ کی بھلائی سے کروڑوں کا بھلا ہو تاہے‘ جبکہ عوام کی بھلائی سے صرف انہی کا بھلا ہو گا. جیسے کہا جاتا ہے کہ ایک مرد کی تعلیم سے ایک مرد ہی سنورتا ہے ‘جبکہ ایک لڑکی کی تعلیم سے ایک پورا خاندان سنورتا ہے. اسی طرح کا معاملہ ائمہ اور عوام کا ہے. اگر کوئی کہیں پر امام ہے‘ صاحب الامر ہے‘ اس کے ہاتھ میں اختیارات ہیں تو اس کی ایک غلطی یا کوتاہی سے لاکھوں انسانوں پر اس کے منفی اثرات پڑیں گے اور اس کی ایک بھلائی اور ایک نیکی کی برکات لاکھوں اور کروڑوں انسانوں تک پہنچیں گی. لہٰذا ’’اَئِمَّۃ الْمُسْلِمِیْنَ‘‘ کو مقدم کیا گیا اور ’’عَامَّتِھِمْ‘‘ یعنی عام مسلمانوں کو اخیر میں رکھاگیا. 
ائمہ کی نصح و خیر خواہی کے تقاضوں کو بیان کرنے سے پہلے ایک بات یہ ذہن نشین کر لیں کہ مسلمانوں کے امراء سے مراد کون ہیں؟ ٹھیک ہے مسجد کا امام بھی امام توہے لیکن آج ہمارے ہاں اس کی جوپوزیشن ہے وہ آپ کو معلوم ہے . بقول اقبال ؎

قوم کیا چیز ہے‘ قوموں کی امامت کیا ہے
اس کو کیا سمجھیں یہ بے چارے دو رکعت کے امام 

بہرحال اصل امام تو وہ ہیں جو ایوانِ حکومت میں بیٹھے ہیں. وہ چاہے مرکزی یا صوبائی ارکانِ اسمبلی ہوں یا آپ کے ہاں کی کسی ذیلی حکومت یا بلدیاتی نظام کے منتخب رکن ہوں‘ اصل امام تو وہ ہیں. پھر یہ کہ جماعتوں اور تحریکوں کے امراء ہیں‘ اور پھر ہر گھر کا سربراہ (head) بھی اس گھر کا امیر ہے. جیسے نبی اکرم نے فرمایا: کُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ (۱’’تم میں سے ہر شخص راعی ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھ گچھ ہوگی‘‘.تو ائمۃ المُسلمین سے گھر کا سربراہ ‘ جماعتوں اور تحریکوں کے امراء ‘ اور اربابِ حکومت درجہ بدرجہ سب مراد ہیں.

پہلاتقاضا:اطاعت فی المعروف: امراء کی خیر خواہی کا پہلا تقاضا اطاعت فی المعروف ہے ‘یعنی معروف میں ان کی اطاعت کی جائے .معروف سے مراد ہر وہ بھلا کام ہے جو شریعت کے خلاف نہ ہو میں نے آپ کو حلال و حرام کے حوالے سے اسلام کا یہ اصول بتایا تھا کہ جس شے کی حرمت ثابت نہیں وہ حلال ہے. یہ نہیں ہے کہ جس کی حلت ثابت نہیں وہ حرام ہے. اس طرح حلال اور اس کے ضمن میں معروف کادائرہ بہت وسیع (۱)صحیح البخاری‘ کتاب الجمعۃ‘ باب الجمعۃ فی القری والمدن. وصحیح مسلم‘ کتاب الامارۃ‘ باب فضیلۃ الامام العادل وعقوبۃ الجائر… ہے .اب اگر امراء کوئی ایسا حکم دیں جو چاہے قرآن و سنت پر مبنی نہیں ہے لیکن قرآن وسنت کے خلاف بھی نہیں ہے تو ان کی اطاعت کی جائے گی ‘اس لیے کہ یہ معروف کے ضمن میں ہے. 

دوسرا تقاضا:عدم تنازع: اُمراء کے ساتھ خیر خواہی اور وفاداری کا دوسرا تقاضا ’’عدم تنازع‘‘ ہے ‘یعنی نہ تو ان کے ساتھ جھگڑنا ہے اور نہ کھینچ تان کرنی ہے‘ بلکہ ان کے ساتھ تعاون کرنا اور ان کی بھلائی چاہنا ہے.یہ تقاضا ’’عدم تنازع‘‘ آج کے دور میں بہت اہمیت اختیار کر گیا ہے. اس لیے کہ آج کی دنیا میں جمہوری تماشے کاجو سلسلہ چل رہا ہے اس میں درحقیقت تنازع پیدا ہوتا ہے کہ تم اقتدار سے ہٹ جاؤ ‘ اب ہم آئیں گے. یہ خالص غیر اسلامی کام ہے. ہاں ان سے مطالبہ کرو کہ خلافِ اسلام چیزیں ختم کرو‘ اسلام کے احکام نافذ کرو .اس حد تک تو ٹھیک ہے‘ لیکن ا س سے آگے بڑھ کر یہ کہنا کہ تم ہٹو ہم اقتدار میں آئیں گے‘یہ مغربی جمہوریت کی روح ہے. 

آپ کے علم میں ہوگا کہ خلفائے راشدین کیسی کیسی تکلیفیں برداشت کیا کرتے تھے. ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ منبر پر خطبہ دے رہے تھے کہ ایک درویش صحابی حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ جن کو حضور نے خود اپنے اہل بیت میں سے قرار دیا : 
سلمان منا اھل البیت (۱ایک پھٹی پرانی چادر لیے ہوئے کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے : لَا سَمْعَ وَلَا طَاعَۃَ یعنی نہ سنیں گے اور نہ مانیں گے! حضرت عمرؓ نے یہ نہیں کہا کہ بیٹھ جاؤ! بلکہ کہا: کیا بات ہے سلمان؟ حضرت سلمان فارسیؓ نے کہا : آپ نے جو ُکرتا پہن رکھا ہے یہ اُن یمنی چادروں سے بنا ہے جو مالِ غنیمت میں آئی تھیں اور ہر مسلمان کو جتنا کپڑا اس میں سے ملا ہے اس سے کرتا نہیں بنتا‘ جبکہ آپ تو ہم میں سے ویسے بھی طویل القامت انسان ہیں‘ تو آپ کاکرتاکیسے بن گیا؟ بھرے مجمع میں حضرت سلمان فارسیؓ کی اتنی سخت بات پر حضرت عمرؓ نہ تو غصے میں آئے اور نہ یہ کہاکہ یہ میر اانفرادی معاملہ ہے‘ بلکہ بیٹے سے کہا :عبداللہ! تم جواب دو. انہوں نے اس معاملے کو justify کیا (۱) الجامع الصغیر للسیوطی‘ ح:۴۶۹۶. مجمع الزوائد للھیثمی:۶/۱۳۳کہ مالِ غنیمت میں ملنے والے کپڑے سے نہ میرا کرتا بن رہا تھا اور نہ اباجان کا. میں نے اپنے حصے کا کپڑا ابا جان کو دے دیا تو ان کا کرتا بن گیا. یہ سنتے ہی حضرت سلمان فارسیؓنے فوراً کہا : الآن نَسمع ونُطیع ’’ اب ہم سنیں گے بھی اور اطاعت بھی کریں گے‘‘. یہ ہے اصل میں اسلامی جمہوریت.یہاں وہ رسہ کشی نہیں جو ہماری جمہوریت میں ہوتی ہے کہ جیسے ہی حکومت بنی‘ اپوزیشن نے حکومت کے خلاف سازشیں شروع کر دیں. جھوٹے الزامات لگائو‘ جھوٹے پروپیگنڈے کے طوفان کھڑے کر دو‘ جو بھی کرو ‘ان کی ٹانگ تو گھسیٹنی ہی گھسیٹنی ہے.

اس حوالے سے یہ یاد رکھیں کہ بدقسمتی سے یہ سب ہمارے ہاں ہوتا ہے ورنہ مغرب کی جمہوریت میں بھی ایسا نہیں ہے. وہاں ایک اپوزیشن ہوتی ہے جو چیک اینڈ بیلنس رکھتی ہے. وہ تنقیدبھی کرتی ہے‘ لیکن وہ تسلیم کر لیتی ہے کہ پانچ سال تک ان کی حکومت رہے گی. اس میں جو بھی بہتری
(improvemnet) ہو سکے گی وہ ہم کروائیں گے ‘جہاں کسی غلط رجحان کو رکوا سکے تو رکوائیں گے‘ لیکن یہ کہ اربابِ حکومت کے خلاف جھوٹ کے طوفان کھڑے کر کے‘غلط پروپیگنڈے کر کے اور ان کو ذلیل و رسواکر کے ان کی حکومت کو کمزور کیا جائے یا ان کی حکومت کا خاتمہ کیا جائے ‘ایسا نہیں ہوتا.

تیسرا اور چوتھا تقاضا:صائب مشورہ اور مثبت تنقید: اُمراء کے ساتھ خیر خواہی کا تیسرا تقاضا ان کو صائب مشورہ دینا ہے.صحیح مشورہ دیناامراء کی بہترین خیر خواہی ہوتی ہے . اسی طرح خیر خواہانہ تنقید اُمراء کے ساتھ وفاداری کا چوتھا تقاضا ہے‘ لیکن یہ یاد رہے کہ یہ تنقید ان کی بھلائی کے لیے ہو نہ کہ ان کو نیچا دکھانے اور ان پر اپنی فوقیت جمانے کے لیے.اسی طرح آپ کے دل میں یہ خیال بھی پیدا نہ ہو کہ اگر میں نے ان کو اچھی بات بتا دی اور یہ اسے کر گزرے تو ان کی حکومت اور مضبوط ہوجائے گی‘ لہٰذا انہیں بھٹکنے دو. یہ جتنا بھٹکیں گے اتنا ہی ہمیں ان کو بدنام کرنے کا موقع ملے گا.اس کے برعکس مثبت اور تعمیری تنقید ہونی چاہیے . اس کا اندازہ اس شخص کو ہو جاتا ہے جس پر تنقید کی جا رہی ہے .اس کا دل گواہی دے گا کہ یہ شخص کس نیت سے تنقید کر رہا ہے ؏ ’’دل را بہ دل راہیست‘‘یعنی دل کو دل سے راہ ہوتی ہے.چاہے زبان سے وہ بات نہیں نکلی ہے لیکن میرے دل میں وہ بات آ گئی ہے جو آپ کے دل میں ہے آج تو دنیا میں حواسِ خمسہ یعنی دیکھنا‘ سننا ‘ سونگھنا چکھنا اور چھوناکے علاوہ extra censory perceptions کو بھی تسلیم کیا جاتا ہے . 

پانچواں تقاضا:ظالم وفاسق حکمران سے نجات: 
اُمراء کی خیر خواہی کے حوالے سے پانچواں تقاضا یہ ہے کہ اگروہ شریعت کے خلاف حکم دے رہے ہوں ‘یا شریعت کے خلاف حکم تو نہیں دے رہے‘ لیکن ان کے طرزِعمل میں ظلم ہے‘ استبداد ہے‘ اور اپنی ذات میں فسق و فجور ہے تو ان کو تبدیل کرنے کے لیے جدوجہد کرنا ان کے ساتھ بھی خیرخواہی ہے اور عوام کے ساتھ بھی.ظاہر بات ہے کہ امراء کے فسق و فجور کے اثرات عوام تک پہنچیں گے ‘اس لیے کہ لوگ اپنے بادشاہوں کے انداز کواختیار کرتے ہیں نبی اکرم نے بھی فرمایا: اَلنَّاسُ عَلٰی دِیْنِ مُلُوْکِھِمْ (۱کہ لوگ اپنے بادشاہوں کے دین پر ہوتے ہیں. آج بھی ایسا ہی ہے کہ لوگ اپنے لیڈروں کے نقش قدم پر چلتے ہیں اور کسی ایک لیڈر کا فسق و فجور کروڑوں کے لیے فسق و فجور کی دلیل بن جاتا ہے. ہمارے بڑے بڑے لیڈر داڑھی منڈاتے ہیں . چنانچہ آج داڑھی منڈانے کے لیے سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ محمد علی جناح اور علامہ اقبال کی تو داڑھی نہیں تھی. واضح رہے کہ یہ ہمارے لیے کوئی دلیل نہیں ہے‘ محمد علی جناح اور علامہ اقبال کا کوئی فعل ہمارے لیے قابل تقلید نہیں ہے. ہمارے لیے تو بس ایک ہی ذات میں ابدی اُسوہ ہے اور وہ ذات ہے نبی آخر الزماں حضرت محمد کی. البتہ محمد علی جناح نے قوم کی بھلائی اورعلامہ اقبال نے قوم کی نظری و فکری راہنمائی کے لیے جو کچھ کیا اس کی قدردانی کیجیے. ایسا رویہ بھی نہیں ہونا چاہیے کہ ایک آدمی سے محبت ہے تو اس کی ہر بری چیز سے غضِ بصر کرنا اور ایک سے نفرت ہے تو اس کی ہر اچھی بات کو بھی نظر انداز کر دینا .اس معاملہ میں عدل کا تقاضا اختیار کرنا چاہیے. (۱) الاسرار المرفوعۃ لملا علی قاری، ح ۳۵۲. قیل : لا اصل لہ او باصلہٖ موضوع.

ظالم حکمرانوں سے نجات کا طریقہ

ظالم یا فاسق و فاجر حکمرانوں سے نجات کا طریقہ کیا ہوگا؟ یہ بہت اہم سوال ہے. پچھلے زمانے میں تو اس کے لیے سوائے مسلح بغاوت کے اور کوئی راستہ نہیں تھا‘ لیکن مسلح بغاوت میں بہرحال فتنہ پیدا ہونے کا اندیشہ موجود ہے .اس لیے کہ وہ حاکم ظالم یا فاسق و فاجر ہونے کے باوجود آخر کلمہ گو تو ہے. وہ اپنے محل کی چار دیواری میں اگرچہ رنگ رلیاں مناتا ہے‘ لیکن اس کا حکم تو بہرحال وہ نہیں دے رہا ہے .لہٰذا کسی مسلمان حاکم کے خلاف مسلح بغاوت میں یہ اندیشہ بہرحال موجود ہے کہ مسلمانوں کے اندر فتنہ پیدا ہو جائے یاوسیع پیمانے پر خون خرابہ ہوجائے.لہٰذا اس معاملے میں انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے. 

اول تو اگر کسی کو ان حکمرانوںتک رسائی حاصل ہو جائے تو انہیں زبان سے سمجھاؤ‘ ان کے غلط رویے پر تنقید کرو .مگر ان حکمرانوں اور بادشاہوں تک رسائی حاصل کرناکوئی آسان کام نہیں ہے.آپ خطوط پر خطوط لکھے جائیے‘ ان تک پہنچیں گے ہی نہیں‘ ان کا نچلا سٹاف ہی اٹھا کے ردی میں پھینک دے گا. کوئی بہت کرم کریں گے تو آپ کو 
acknowledgment دے دیں گے. میں نے ۱۹۸۲ء میں جنرل ضیاء الحق کو ایک بڑا طویل خط لکھا تھا . یہ خط میں نے acknowledgement due کے ساتھ بھیجا تھا‘لیکن جب اس کی رسید واپس آئی تو اس پر کسی کے دستخط نہیں تھے. بہرحال اگر کسی کو ان تک رسائی حاصل ہو جائے تو وہ ان کو سمجھانے کی کوشش کرے. دورِ ملوکیت میں توکسی بادشاہ کے سامنے اس پر تنقید کرناجان جوکھوں میں ڈالناتھا. آپ نے خلیفہ ہارون الرشید کے قصے تو سنیں ہوں گے کہ فلاں صاحب نے ان کو نصیحت کی تو اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے. ٹھیک ہے ایسا ہوتا تھا. آخر ہر انسان کے اندر خلوص و اخلاص کے ساتھ نصیحت کرنے والوں کی قدرہوتی ہے ‘لیکن اگر کسی وقت مزاجِ شاہانہ کا رنگ کوئی اور ہے تو وہی ہارون الرشید اسی وقت جلاد کو حکم دے گا اور وہ ناصح کی گردن اڑا دے گا. لہٰذا اکثر واقعات میں آتا ہے کہ جب کسی بزرگ نے بادشاہ کو نصیحت و خیر خواہی کے لیے تنقید شروع کی تو پہلے اچھی طرح اپنے کپڑے سمیٹ لیے تاکہ ایسا نہ ہو کہ میری گردن فوراً اڑا دی جائے اور میرا ستر کھل جائے .اس لیے کہ پھر وہاں دیر نہیں لگتی تھی. وہاں یہ نہیں تھا کہ عدالتوں میں جائو اور پہلے جرم ثابت کرو.وہ تو بادشاہت ہے ؏ ’’نازک مزاجِ شاہاں تابِ سخن نہ دارد!‘‘ کسی کی کوئی بات بری لگی تو فوراًگردن اڑا دی یا عمر بھر کے لیے قید خانے میں ڈال دیا. مگر بہرحال ایسے بادشاہ بھی تھے جو بھلی بات سنتے تھے اور بھلی بات کہنے والوں کی قدر بھی کرتے تھے‘ لیکن یہ سب کچھ ان کے مزاج پر منحصر تھا. 

دوسری بات یہ ہے کہ آج دنیا کے جدید نظام میں خوش قسمتی سے ایک اچھائی کا پہلو بھی ہے میں نے کئی مرتبہ بیان کیا ہے کہ دنیا میں شر محض کا وجود ہی نہیں ہے. بڑے سے بڑے شر میں بھی کوئی نہ کوئی خیر کا پہلو موجود ہوتا ہے ‘ورنہ شر اپنے پائوں پر کھڑا ہی نہیں ہو سکتا. جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ آکاس بیل درخت کے اوپر توچڑھ جاتی ہے‘ لیکن اس کے خود سے اوپر چڑھنے کا کوئی امکان نہیں ہے. اسی طرح حق اور خیر کا کوئی ایک شمہ لے کر ہی باطل اس کے اوپر اپنی دکان سجاسکتا ہے . توآج کی دنیا کے جدید نظام میں خوبیاں بھی بہرحال موجودہیں اور ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ آپ کو آزادی ٔاظہارِ رائے کا حق 
(right of self expression) حاصل ہے.اسی طرح انتخاب کے ذریعے کسی شخص کا پارلیمنٹ سے جانا اور کسی کاآنا (transfer of power) سیاسی نظام کے اعتبار سے واقعتا بہت بڑی کامیابی (acheivement) ہے. اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا میں اس جدید عمرانی دور میں بہت ترقی ہوئی ہے. 

اللہ کے فضل وکرم سے ہمارے ہاں‘ چاہے لولی لنگڑی اورٹوٹی پھوٹی جمہوریت ہے‘ لیکن ہمیں اپنی بات کہنے کا حق تو حاصل ہے. یہ دوسری بات ہے کہ میری بات کو اخبارات اہمیت نہیں دیں گے اور کسی سیاسی لیڈر کی چھوٹی سی بات کو شائع کر دیں گے.یہ تو ان اخبارات کا اپنا معاملہ ہے ورنہ حکومت کی طرف سے کوئی پابندی نہیں ہے. تو یہ آزادی ٔرائے اور تنظیم سازی کی آزادی عہد حاضرکی دو عمدہ چیزوں میں سے ہے. ان کے تحت آپ ُپرامن طریقے سے لوگوں کو ظالم اور فاسق وفاجر بادشاہوں اور حکمرانوں سے نجات دلا سکتے 
ہیں.یہ آزادی ہمارے ملک میں تو حاصل ہے‘ لیکن سعودی عرب میں یہ آزادی نہیں ہے. وہاں تو آپ کوئی جماعت بنا ہی نہیں سکتے.اس کے علاوہ انڈونیشیا ‘ملائشیا اور بنگلہ دیش میں بھی یہ آزادی ہے.اللہ کے فضل و کرم سے یہ آزادی ترکی میں بھی ہے. اگرچہ وہ ایک سیکولر ملک ہے لیکن ان کے ہاں بھی آزادی کا یہ پہلو بہرحال موجود ہے. 

یاد رہے کہ عوام کو ان حکمرانوں کے ظلم و استبداد سے نجات دلانے اور معاشرے کو ان کے فسق و فجور کے اثرات سے بچانے کی جدوجہد اس لیے نہ ہو کہ آپ کے دل میں کھوٹ ہو اور آپ خود اقتدار میں آنا چاہتے ہوں. یہاں سارا دارومدار نیتوں پر ہو گا‘ جیسے ہم نے اربعین کی پہلی حدیث میں پڑھا تھا کہ رسول اللہ نے فرمایا:
 اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ ’’اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے‘‘ یہ نہیں کہ تم ہٹو میں حکومت چلاؤں گا.نہیں! بلکہ ہمیں تو اسلام کا نظامِ عدل اجتماعی درکار ہے‘ ہمیں تو شریعت الٰہی کا نفاذ چاہیے‘ حکومت ہرگز ہمارا مقصودِ نظر نہیں ہے جیسے کہ مختلف جماعتوں کے لوگ ایک دوسرے کے لیے کہتے بھی ہیں کہ فلاں کو اسلام نہیں‘اسلام آباد چاہیے.اور اس میں کوئی شک نہیں کہ آج کل کی ہماری سیاست کا اصل معاملہ یہی پاور پالیٹکس ہے. 

اُمراء کے ساتھ خیر خواہی کے تقاضوں کا خلاصہ

آخر میں ایک بار پھر امراء کے ساتھ خیر خواہی کے تقاضوں کا خلاصہ نوٹ کر لیں: (۱)اطاعت فی المعروف ‘(۲) عدم تنازع یہ نہیں کہ ہم تم سے اقتدار چھین لیں گے. یہ تنازع کا لفظ درحقیقت عربی میں چھینا جھپٹی کے لیے ہی آتا ہے اور نزع کہتے ہیں کھینچنے کو. تنازع یہ ہے کہ ایک طرف سے وہ کھینچ رہا ہے اور ایک طرف سے تم کھینچ رہے ہو.رسہ کشی (tug of war) تنازع کی بہترین تعبیر ہے کہ اِدھر سے ایک ٹیم کھینچ رہی ہے‘ اُدھر سے دوسری ٹیم کھینچ رہی ہے‘ اب جو ٹیم کھینچ کر لے جائے گی وہ جیت جائے گی. (۳) خیر خواہی کے تحت صحیح مشورہ دینا‘ (۴) مثبت‘ تعمیری‘ اور خیر خواہانہ تنقید‘اور(۵) جس میں ائمہ اور عوام کے حقوق دونوں شامل ہوجاتے ہیں کہ حکمران او ر ائمہ اگر ظالم‘ غاصب یا فاسق و فاجر ہوں تو ان کو بدلنے کی کوشش اور جدوجہد کرنا ظاہر بات ہے ک ہ اگر کسی کے پاس دولت ہے‘ لیکن اخلاق و کردار نہیں ہے تو وہ دولت کے ذریعے عیاشیاں اور بدمعاشیاں کرے گاتو یہ دولت نعمت نہیں رہے گی بلکہ اس کے حق میں زحمت بن جائے گی . اسی طرح غلط شخص کے لیے اقتدار بھی زحمت ہے جو اس کے لیے نقصان دہ اور ضرر رساں ہے .اس سے اس کو چھٹکارا دلانا گویا اس کے ساتھ خیر خواہی کرنا ہے. 

عوام کے ساتھ نصح و خیر خواہی کے تقاضے

اب آیئے عوام کے ساتھ نصح و خیر خواہی کے تقاضوں کی طرف. ہر مسلمان کے دوسرے مسلمان پر کچھ حقوق مقرر کر دیے گئے ہیں جو ہرحال میں ادا کرنے ہیں. حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث (۱میں چھ حقوق بیان کیے گئے ہیں. رسول اللہ نے فرمایا: حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ سِتٌّ(۱’’ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ (خاص ) حق ہیں‘‘. 

پہلا حق :سلام کرنا: اِذَا لَقِیْتَہٗ فَسَلِّمْ عَلَیْہِ ’’جب تمہاری اس سے ملاقات ہو تو اسے سلام کرو‘‘. پھر سلام میں بھی سبقت کرنے کی کوشش کی جائے . اگرچہ سلام کے حوالے سے کچھ آداب سکھائے گئے ہیں کہ چھوٹے بڑوں کو سلام کریں‘ آنے والا پہلے ٭ نبی اکرم کی ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی ظالم کو اُس کے ظلم سے روکنا گویا اُس کی مدد کرنا ہے.حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: 
اُنْصُرْ اَخَاکَ ظَالِمًا اَوْ مَظْلُوْمًا فَقَالَ رَجُلٌ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اَنْصُرُہُ اِذَا کَانَ مَظْلُوْمًا اَفَرَاَیْتَ اِذَا کَانَ ظَالِمًا کَیْفَ اَنْصُرُہُ؟ قَالَ: تَحْجُزُہُ اَوْ تَمْنَعُہٗ مِنَ الظُّلْمِ فَاِنَّ ذٰلِکَ نَصْرُہٗ (صحیح البخاری‘کتاب الاکراہ‘ باب یمین الرجل لصاحبہ انہ اخوہ …) 

’’اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ ظالم ہویا مظلوم!‘‘ ایک آدمی نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! مظلوم کی مدد کرنا تو سمجھ میں آتا ہے‘لیکن میںظالم کی کس طرح مدد کروں؟ آپؐ نے فرمایا:’’ظالم کو اس کے ظلم سے روکنا گویا اس کی مدد کرنا ہے.‘‘ (اضافہ از مرتب) 

(۱) صحیح مسلم‘ کتاب السلام‘ باب من حق المسلم للمسلم رد السلام. 
سے محفل میں موجود کو سلام کرے‘ سوار پیدل کو سلام کرے‘ لیکن بہرحال جتنی سبقت کی جائے اتنا ہی ثواب زیادہ ملے گا.

دوسرا حق:دعوت قبول کرنا: وَاِذَا دَعَاکَ فَاَجِبْہُ ’’جب وہ تمہیں مدعو کرے تو اُس کی دعوت قبول کرو (بشرطیکہ کوئی شرعی عذر مانع نہ ہو)‘ ‘. اگر کوئی عذر یا کوئی مجبوری ہے تو آپ معذرت کر لیں‘ لیکن یاد رکھیں کہ دعوت قبول کرنا ایک حق ہے . ٹھیک ہے آپ کو معلوم ہے کہ وہ غریب ہے ‘زیادہ مرغن غذائیں نہیں کھلا سکتا‘ کوئی دال روٹی ہی پیش کرے گا پھر بھی آپ جایئے. 

مجھے ایک واقعہ یاد آگیا .میری اہلیہ کے ایک چچا بہت درویش منش انسان تھے. ویسے وہ نہ تومولوی تھے اور نہ صوفی‘ لیکن حد درجہ درویش مزاج کے آدمی تھے. وہ کسی محکمہ میں ایک اچھی پوسٹ پر تھے. انہوں نے ایک دن اپنے چپڑاسی سے کہا کہ آج روزہ میرے ساتھ افطار کرنا. وہ بڑا خوش ہوا کہ آج میں ان کے ہاں افطار کروں گا وہاں خوب کھانے کو ملے گا. جب وہ چپڑاسی ان کے گھر پہنچا تو دیکھاکہ نہ کوئی دستر خوان بچھا ہے اور نہ ہی کوئی کھانا چنا گیا ہے. جب اذان ہوئی تو انہوں نے ایک کھجور اپنی جیب میں سے نکالی ‘آدھی خود کھائی اور آدھی اس چپڑاسی کو دے دی دیکھئے ایک حدیث میں باقاعدہ طور پر کھجور کے ٹکڑے پر افطار کرانے کا ذکر ہے اور اس کی بہت فضیلت بیان ہوئی ہے. اسی طرح جہاں پانی نہایت کمیاب ہوتا ہے وہاں کسی کو روزہ افطار کرنے کے لیے پانی ہی مہیا کر دیا جائے تو یہ بڑی فضیلت کی بات ہے. البتہ ایسا نہ ہو کہ آپ خود تو شربت روح افزا سے روزہ افطار کرتے ہوں‘جبکہ کسی کو سادہ پانی سے روزہ افطار کروائیں.

تیسرا حق:مخلصانہ مشورہ: وَاِذَا اسْتَنْصَحَکَ فَانْصَحْ لَہٗ ’’جب وہ تم سے نصیحت (یا مخلصانہ مشورہ) کا طالب ہو تو اسے اچھا مشورہ دو ‘‘. دیکھئے صحیح مشورہ دینا امراء کے ساتھ خیر خواہی کا تقاضا بھی ہے اور عوام کے ساتھ خیر خواہی کا تقاضا بھی . 

چوتھا حق:چھینک آنے پر دعا دینا: وَاِذَا عَطَسَ فَحَمِدَ اللّٰہَ فَشَمِّتْہُ ’’جب اس کو چھینک آئے اور وہ الحَمد لِلّٰہ کہے تو تم (یَرْحَمُکَ اللّٰہ کے ساتھ) اسے جواب دو‘‘.چھینک آنے پر اس کے لیے دعا کرنا کہ اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے یہ اس کا حق ہے.ظاہر بات ہے کہ ناک کے اندر کوئی irritation ہوتی ہے تو چھینک آتی اور یہ زکام کا آغاز بھی ہو سکتا ہے. لہٰذا آپ پر لازم ہے کہ آپ اسے کہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ پر رحمت فرمائے. اس پر مزید یہ بھی آتا ہے کہ پھر وہ شخص کہے : یَھْدِیْکُمُ اللّٰہُ وَیُصْلِحُ بَالَـکُمْ ’’اللہ تعالیٰ تمہیں ہدایت دے اور تمہارے کام سنوارے.‘‘

پانچواں اور چھٹا حق:عیادت کرنا اور جنازے میں جانا: وَاِذَا مَرِضَ فَعُدْہُ ’’جب بیمار ہو تو اس کی عیادت کرو‘‘.چھٹا حق یہ ہے کہ: وَاِذَا مَاتَ فَاتَّبِعْہُ ’’اورجب وہ انتقال کر جائے تو اس کے جنازے کے ساتھ جاؤ .‘‘

سنن الترمذی 
(۱کی ایک روایت میں ساتواں حق یہ بھی بیان ہوا ہے : وَیُحِبُّ لَہٗ مَا یُحِبَّ لِنَفْسِہٖ ’’اور اس کے لیے وہی چیز پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے‘‘. اس آخری بات کو یوں سمجھئے کہ ’’ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں‘‘ کے مصداق بہت جامع بات ہے.یہ بھی درحقیقت جوامع الکلم میں سے ہے. 

امرباالمعروف ونہی عن المنکراور مثبت تنقید: ان حقوق کے علاوہ عوام کے ساتھ خیرخواہی کے اور بھی تقاضے ہیں‘ مثلاً امر بالمعروف ونہی عن المنکر عوام کا بھی حق ہیں یعنی انہیں بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا. اس طرح ان پر مثبت تنقید کرنا بھی ان کے ساتھ خیر خواہی کا تقاضا ہے. سیاسی آدمی کوتو چونکہ ووٹ چاہیے اس لیے وہ عوام پر تنقید نہیں کر سکتا. وہ تو کہے گا کہ ساری خرابی کی جڑ اوپر بیٹھا ہوا حکمران طبقہ ہے .گویا باقی سب پاک صاف ہیں اور عوام کے اندر تو کوئی خرابی ہے ہی نہیں. عوام کے سامنے کھڑے ہو کر ان پر تنقید کرنا بڑی ہمت کی بات ہوتی ہے. لیکن وہاں بھی وہی اصول رہے گا کہ یہ تنقید خیر خواہی کے جذبے کے تحت ہو نہ کہ کسی مقصد کے حصول کے لیے. 

نہی عن المنکر کے حوالے سے یاد رکھیں کہ اگر کوئی آپ کے مسلسل منع کرنے کے باوجود برائی سے باز نہیں آتا تو آپ اس کے ساتھ عدم اختلاط کریں‘یعنی اس کے ساتھ 
(۱)سنن الترمذی‘ ابواب الادب‘باب ماجاء فی تشمیت العاطس. اٹھنا بیٹھنا‘ کھانا پینا سب ترک کر دیں. اس لیے کہ اگر آپ ان معاملات میں شریک رہیں گے تو پھر آپ کی ساری محنت ضائع ہو جائے گی ایک حدیث میں بنی اسرائیل کی خرابیوں کے تذکرہ میں اُن کی ایک بڑی خرابی یوں بیان کی گئی ہے کہ ان کے علماء ان کی برائیوں پر تنقید تو کرتے تھے‘ لیکن اُن کے ساتھ کھانا پینا‘ اٹھنا بیٹھنا بھی چلتا رہتا تھادعائے قنوت میں بھی ہم یہ اقرار کرتے ہیں : وَنَخْلَعُ وَنَتْرُکُ مَنْ یَّفْجُرُک ’’اور ہم ان سے علیحدہ ہوتے ہیں اور ان سے ترکِ تعلق کرتے ہیں جو تیرے احکام کی دھجیاں بکھیرتے ہیں.‘‘

طاغوتی نظام سے نجات دلانا : عوام کی خیر خواہی کے حوالے سے آخری بات وہی ہے جو میں قبل ازیں بیان کر چکا ہوں کہ عوام کواس طاغوتی نظام اور معاشی بوجھوں سے نجات دلائی جائے. اس وقت دنیا میں جو غلط معاشی نظام قائم ہیں‘ جن کی وجہ سے عوام چکی کے دو پاٹوں کے درمیان پس رہے ہیں‘ اس نظام کو بدلو تاکہ تقسیم دولت کا منصفانہ نظام قائم ہو .یہ کیا ہے کہ امیر ‘امیر سے امیر تر اور غریب‘ غریب سے غریب تر ہوتا چلا جا رہا ہے. اس نظام کو بدلنے کی کوشش کرنا اور انہیں مستبد اور ظالم حکمرانوں سے نجات دلانا عوام کا حق ہے. یہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ یہ دو طرفہ حق ہے‘ ائمہ کا بھی اور عوام کا بھی. 

آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں 
الدِّیْنُ النَّصِیْحَۃ کے تمام پہلوؤں پر مکمل طور پر پورا اترنے اور ماقبل بیان کردہ پانچ اعتبارات سے مکمل طور پر مخلص و وفادار ہونے کی توفیق عطا فرمائے. آمین یا رب‘ العالمین! 

اقول قولی ھذا واستغفر اللہ لی ولکم ولسائر المسلمین والمسلمات