حدیث 17-18 - حسن تہذیب اور حسن سلوک

۲۲ فروری ۲۰۰۸ء کا خطابِ جمعہ 
خطبہ ٔمسنونہ کے بعد

اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ 

بَلٰی ٭ مَنۡ اَسۡلَمَ وَجۡہَہٗ لِلّٰہِ وَ ہُوَ مُحۡسِنٌ فَلَہٗۤ اَجۡرُہٗ عِنۡدَ رَبِّہٖ ۪ وَ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿۱۱۲﴾٪ 
(البقرۃ) 
وَ مَنۡ اَحۡسَنُ دِیۡنًا مِّمَّنۡ اَسۡلَمَ وَجۡہَہٗ لِلّٰہِ وَ ہُوَ مُحۡسِنٌ وَّ اتَّبَعَ مِلَّۃَ اِبۡرٰہِیۡمَ حَنِیۡفًا ؕ 
(النساء :۱۲۵
عَنْ اَبِیْ یَعْلٰی شَدَّادِ بْنِ اَوْسٍ ص ‘ عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ  قَالَ : 

اِنَّ اللّٰہَ کَتَبَ الْاِحْسَانَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ ، فَاِذَا قَتَلْتُمْ فَاَحْسِنُوا الْقِتْلَۃَ ، وَاِذَا ذَبَحْتُمْ فَاَحْسِنُوا الذَّبْحَۃَ، وَلْـیُحِدَّ اَحَدُکُمْ شَفْرَتَہُ ، وَلْیُرِحْ ذَبِیْحَتَہٗ (۱
سیدنا ابویعلیٰ شداد بن اوس رضی اللہ عنہ رسول اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: 

’’بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا ہے ‘پس جب تم قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب ذبح کرو تو بھی اچھے طریقے سے ذبح کرو. تمہیں چاہیے کہ اپنی چھری کو خوب تیز کر لو اور ذبیحہ کو راحت پہنچاؤ.‘‘ 

عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ جُنْدُبِ بْنِ جُنَادَۃَ وَاَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمَا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ  قَالَ : 

اِتَّقِ اللّٰہَ حَیْثُمَا کُنْتَ‘ وَاَتْبِعِ السَّیِّئَۃَ الْحَسَنَۃَ تَمْحُھَا‘ وَخَالِقِ النَّاسَ 
(۱) صحیح مسلم‘ کتاب الصید والذبائح وما یؤکل من الحیوان‘ باب الامر باحسان الذبح والقتل وتحدید الشفرۃ.وسنن النسائی‘ کتاب الضحایا‘ باب الامر باحداد الشفرۃ. بِخَلُقٍ حَسَنٍ (۱

سیدنا ابوذر جندب بن جنادہ رضی اللہ عنہاور ابوعبدالرحمن معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا:

’’تم جہاں کہیں بھی ہو اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھا کرو اور گناہ کے بعد نیکی کر لیا کرو‘ وہ نیکی اس گناہ کو مٹا ڈالے گی. اور لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آیا کرو.‘‘

معزز سامعین کرام! 
امام یحییٰ بن شرف الدین النووی رحمہ اللہ علیہ کے شہرۂ آفاق مجموعہ ٔ احادیث ’’اربعین ‘‘ کے سلسلہ وار مطالعہ کے ضمن میں آج ہم حدیث نمبرسترہ اور اٹھارہ کا مطالعہ کریں گے. ان احادیث کا شمار بھی جوامع الکلم میں ہوتا ہے حضوراکرم نے اپنے کلام کے بارے میں خود یہ فرمایا: اُوْتِیْتُ جَوَامِـعُ الْکَلَمِ کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہایت جامع کلمات عطا ہوئے ہیں.یعنی حضور کے کلام کی خاصیت یہ ہے کہ مختصر ترین الفاظ میں معانی اور ہدایت کا گویا سمندر پنہاں ہے.اس ضمن میں یہ حقیقت ذہن نشین رہے کہ قرآن مجید سب سے اعلیٰ کلام ہے اور اس بارے میں رسول اللہ نے فرمایا: فَاِنَّ خَیْرَ الْحَدِیْثِ کِتَابُ اللّٰہِ (۲یعنی بہترین کلام قرآن مجید ہے‘ اور پھراس کے بعد نمبر ہے حضرت محمد رسول اللہ کے کلام کا.