حدیث21-20 - اسلام میں شرم و حیا اور استقامت کی اہمیت

۲۸ /مارچ ۲۰۰۸ء کا خطابِ جمعہ 
خطبہ ٔمسنونہ کے بعد

اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ 


فَجَآءَتۡہُ اِحۡدٰىہُمَا تَمۡشِیۡ عَلَی اسۡتِحۡیَآءٍ ۫ قَالَتۡ اِنَّ اَبِیۡ یَدۡعُوۡکَ لِیَجۡزِیَکَ اَجۡرَ مَا سَقَیۡتَ لَنَا ؕ فَلَمَّا جَآءَہٗ وَ قَصَّ عَلَیۡہِ الۡقَصَصَ ۙ قَالَ لَا تَخَفۡ ٝ۟ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۲۵﴾ (القصص) 
قُلۡ اِنۡ کَانَ اٰبَآؤُکُمۡ وَ اَبۡنَآؤُکُمۡ وَ اِخۡوَانُکُمۡ وَ اَزۡوَاجُکُمۡ وَ عَشِیۡرَتُکُمۡ وَ اَمۡوَالُۨ اقۡتَرَفۡتُمُوۡہَا وَ تِجَارَۃٌ تَخۡشَوۡنَ کَسَادَہَا وَ مَسٰکِنُ تَرۡضَوۡنَہَاۤ اَحَبَّ اِلَیۡکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ جِہَادٍ فِیۡ سَبِیۡلِہٖ فَتَرَبَّصُوۡا حَتّٰی یَاۡتِیَ اللّٰہُ بِاَمۡرِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِیۡنَ ﴿٪۲۴﴾ 
(التوبۃ) 

عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ عُقْبَۃَ بْنِ عَمْرٍو الْاَنْصَارِیِّ الْبَدْرِیِّ ص قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ  : 
اِنَّ مِمَّا اَدْرَکَ النَّاسُ مِنْ کَلَامِ النُّبُوَّۃِ الْاُوْلٰی اِذَا لَمْ تَسْتَحْیِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ (۱

سیدنا ابومسعود عقبہ بن عمرو انصاری بدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ رسول اللہ نے فرمایا: 

’’سابقہ نبوت کے کلام میں سے لوگوں نے جو باتیں پائی ہیں ‘ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جب تم حیا چھوڑ دو تو جو دل چاہے کرو!‘‘ 

عَنْ اَبِیْ عَمْرٍو ‘ وَقِیْلَ اَبِیْ عَمْرَۃَ سُفْیَانَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ص‘ قَالَ : قُلْتُ : یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قُلْ لِّیْ 
(۱) صحیح البخاری‘کتاب الادب‘ باب اذا لم تستحی فاصنع ما شئت فِی الْاِسْلَامِ قَوْلًا ‘ لَا اَسْاَلُ عَنْہُ اَحَدًا غَیْرَکَ ‘ قَالَ : 
قُلْ آمَنْتُ بِاللّٰہِ ثُمَّ اسْتَقِمْ 
(۱

سیدنا ابوعمرو (یا ابوعمرہ) سفیان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ میں نے کہا: یارسول اللہ! مجھے اسلام کے بارے میں کوئی ایسی واضح بات فرمائیں کہ اس کے متعلق مجھے آپ کے علاوہ کسی سے کچھ پوچھنے کی ضرورت نہ رہے. آپ نے فرمایا: 

’’تم کہو میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا ‘ اور پھر اس پر ثابت قدم رہو!‘‘

معزز سامعین کرام! 
امام یحییٰ بن شرف النووی رحمہ اللہ علیہ کے مشہورمجموعہ احادیث ’’اربعین نووی‘‘ کے سلسلہ وار مطالعہ کے ضمن میں آج دو احادیث (حدیث ۲۰ اور ۲۱) ہمارے زیر مطالعہ آئیں گی. یہ دونوں احادیث انتہائی مختصر مگر اپنے موضوع کے حوالے سے جامع ترین ہیں. پہلی حدیث حضرت ابومسعود عقبہ بن انصاری بدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ‘جو بدری صحابی ہیں اور ان کا تعلق انصار سے ہے. اس حدیث کو امام بخاری ؒ نے اپنی صحیح میں شامل کیا ہے.