سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
’’اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: جو شخص میرے کسی ولی (دوست) سے عداوت رکھے تو میرا اس سے اعلانِ جنگ ہے میرا بندہ میرے فرض کردہ امور کے سوا کسی اور چیز کے ذریعے میرے زیادہ قریب نہیں آ سکتا. میرا بندہ نوافل (نفلی عبادات) کے ذریعے میرے قریب ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں‘اور جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے‘ اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے ‘اور اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے‘ اور اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے. وہ مجھ سے مانگے تو میں اسے ضرور دیتا ہوں اور مجھ سے پناہ طلب کرے تو میں اسے ضرور پناہ دیتا ہوں.‘‘
معزز سامعین کرام!
اربعین نووی کی حدیث ۳۸ آج ہمارے زیر مطالعہ ہے اور یہ حدیث تصوف کے موضوع پر بہت اہمیت کی حامل ہے. یوں سمجھئے کہ ہمارے ہاں جو مضامین ’’تصوف‘‘ کے عنوان سے بیان ہوتے ہیں‘ ان کا ایک بہترین بیان زیر مطالعہ حدیث قدسی میں ہے. البتہ یہ یاد رکھیے کہ قرآن و حدیث میں کہیں بھی تصوف کا لفظ نہیں آیا اور یہ بعد کی اصطلاح ہے جس کے بارے میں یقین کے ساتھ یہ بھی معلوم نہیں کہ اس لفظ کا ماخذ (origin) کیا ہے. زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ یہ ’’صوف‘‘(بمعنی اون)سے بنا ہے. تابعین کے زمانے میں جو ابتدائی صوفی تھے وہ اونی کپڑے پہنا کرتے تھے‘ تاکہ اون ان کے جسم کو تکلیف پہنچاتی رہے .بنیان وغیرہ کا تو سوال ہی نہیں تھا.اون جسم کے لیے باعث راحت نہیں ہوتی بلکہ وہ تو جسم کو کاٹتی رہتی ہے اون کو عربی میں صوف کہتے ہیں تو صوف سے صوفی اور پھر اسی سے تصوف بن گیا. بہرحال تصوف کے ماخذ کے حوالے (۱) صحیح البخاری‘ کتاب الرقاق‘ باب التواضع. سے مختلف آراء ہیں‘ میں اس وقت تفصیل میں نہیں جا سکتا.البتہ حدیث میںاس کے لیے لفظ ’’احسان‘‘ آیا ہے اور ہم ’’حدیث جبریل‘‘ کے مطالعے میں اس کے بارے میں تفصیل سے پڑھ چکے ہیں. درحقیقت وہی مضمون زیر مطالعہ حدیث میں ذرا مختلف انداز میں آ رہا ہے. اس ضمن میں‘ میں یہ بھی عرض کر دوں کہ زیر مطالعہ حدیث میں بعض نہایت ’’خطرناک‘‘ مضامین بھی آئے ہیں. خطرناک اس اعتبار سے کہ بہت باریک اور حساس ہیںاور ان کے ضمن میں گمراہی میں مبتلا ہونے کا امکان موجود ہے‘لہٰذا اس پہلو سے بہت ہی محتاط رہ کر بات کرنی پڑے گی.