قتل ِمرتد کا سبب

مرتد کی سزاقتل ہے اور اس کا ایک خاص سبب بھی ہے. وہ یہ کہ اسلامی ریاست کی بنیاد نسل‘ رنگ اور زبان پر نہیں بلکہ نظریے پرہوتی ہے اور کسی شخص کا یوں مرتد ہوجانا نظریے کو کمزور کر دینے والی شے ہے.اس سے تو یہ ہوگا کہ کسی سازش کے تحت بعض لوگ ایک وقت میں ایمان لائیں گے اور پھر مرتد ہوجائیں گے تاکہ اسلام کی ہوا اُکھڑ جائے.اس طرح کا معاملہ دورِ نبویؐ میں ہوچکا ہے جس کا ذکرسورۂ آل عمران میں ہے : 

وَ قَالَتۡ طَّآئِفَۃٌ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ اٰمِنُوۡا بِالَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ عَلَی الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَجۡہَ النَّہَارِ وَ اکۡفُرُوۡۤا اٰخِرَہٗ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿ۚۖ۷۲﴾ 

’’اور اہل کتاب کے ایک گروہ نے کہا کہ ان اہل ایمان پر جو چیز نازل کی گئی ہے اُس پر ایمان لائو صبح کے وقت اور اس کا انکار کر دو دن کے آخر میں‘ شاید (اس تدبیر سے) ان میں سے بھی کچھ پھر جائیں.‘‘

یعنی وہ ایک دوسرے سے کہتے کہ دیکھو بھئی‘ اسلام اور ایمان کی بڑی دھاک بیٹھ گئی ہے اورجو شخص ایمان لے آتا ہے وہ اپنے ایما ن کو نہیں چھوڑتا‘ چاہے اسے انگاروں میں ڈال دیا جائے . ابوجہل نے حضرت سمیہ اور حضرت یاسر رضی اللہ عنہمادونوں کو انتہائی بے دردی سے قتل کیا ‘لیکن انہوں نے کلمہ کفر زبان سے نکالنا پسند نہیں کیا. حالانکہ جان بچانے کے لیے زبان سے کلمہ کفر کہہ دینے کی اجازت ہے جبکہ ایمان دل میں موجود رہے . چنانچہ حضرت سمیہ ؓ اور حضرت یاسرؓ کے بیٹے حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے جان بچانے کے لیے کلمہ کفر کہہ دیا تھا اور پھر ان کو اس پر شدید پشیمانی ہوئی.لیکن حضور نے انہیں اطمینان دلایا کہ اس کی بھی اجازت ہے. اگرچہ جو مقام تمہارے والدین نے حاصل کیا ہے وہ بہت اونچا مقام ہے. وہ عزیمت اپنی جگہ‘لیکن یہ رخصت بھی اپنی جگہ دین کا ایک حصہ ہے. بہرحال اہل کتاب کے ایک گروہ نے سازش کی اور آپس میں ایک دوسرے سے کہا کہ ایسے کرو کہ ان اہل ایمان پر جو چیز نازل کی گئی ہے ‘ اس پر صبح کے وقت ایمان لے آؤ اور دن کے آخر میں اس کا انکار کر دو.یعنی تم اہل ایمان سے کہو کہ جو کتاب تم پر نازل ہوئی ہے ہم بھی اس پر ایمان لاتے ہیں اور ہم بھی مؤمن ہو گئے ہیں. اب اس میں یہ اضافے ہیں کہ ذرا حضور کے قریب رہو تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ دن بھر یہ حضور کی صحبت میں رہے ہیں اور پھر شام کو یہ کہتے ہوئے مرتد ہوجائو کہ ہم نے سب دیکھ‘پرکھ لیا ہے.یہ تو دور کے ڈھول سہانے کے مترادف ہے.ہم نے اندر جا کر دیکھ لیا ہے‘ کوئی خاص بات نہیں ہے. 

یہ سب کرنے سے یہ ہو گا : لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿ۚۖ۷۲﴾ ’’شاید کہ وہ (اسلام سے) برگشتہ ہو جائیں‘‘.یعنی اس سے یہ ہوگا کہ کچھ نہ کچھ لوگ ضرور متزلزل ہو جائیں گے . آخر سب لوگ تو برابر کے نہیں ہوتے‘ بلکہ کمزور ایمان والے بھی ہوتے ہیںاور اس طرح کرنے سے کمزور ایمان والوں کے دل کے اندر خدشہ پیدا ہو گااور شیطان کو وسوسہ اندازی کاموقع مل جائے گا.وہ سوچیں گے کہ بڑے بھلے اور اچھے لوگ تھے‘ بڑی نیک نیتی سے ایمان لائے تھے اور حضور کی محفل کے اندر بڑے مؤدب ہو کر بیٹھے رہے تھے‘ بڑی توجہ سے انہوں نے حضور کا کلام سنا تھا تو آخر کوئی بات انہوں نے دیکھی ہوگی نا جس کے سبب یہ لوگ اسلام کو چھوڑ کر چلے گئے ہیں.دراصل اس فتنے کا سدباب کرنے کے لیے قانون بنا ہے کہ جو بھی اسلام لائے‘وہ دیکھ بھال کر لائے‘ اس لیے کہ ایک بار داخل ہونے کے بعد یہاں سے نکلنے کاکوئی راستہ نہیں ہے. ظاہر بات ہے کہ یہ تو ایک وادی کے اندر قدم رکھنا ہے جس میں مشکلات بھی آئیں گی ‘ تکالیف بھی آئیں گی‘ لیکن یہ کہ بہرحال اس سے رجوع کرنے کا پھر حق نہیں ہو گا. اگراسلام کو چھوڑو گے تو قتل کیے جائو گے. یہ اسلام کا ایک قانون ہے اور اس پر تنقید کرنا شریعت اسلامی کے خلاف بغاوت کے مترادف ہے.