حضرت یونس علیہ السلام کی دینی حمیت

دینی حمیت پرغضب ناک ہونے کی ایک اور مثال اللہ کے رسولوں میں حضرت یونس علیہ السلام کی ہے.اس حوالے سے سورۃ الانبیاء‘ آیت۸۷ میں یہ الفاظ ہیں : وَ ذَاالنُّوۡنِ اِذۡ ذَّہَبَ مُغَاضِبًا… ’’اور مچھلی والے کو بھی (ہم نے نوازا)جب وہ چل دیا غصے سے بھرا ہوا…‘‘حضرت یونس علیہ السلام عراق کے شمال میں واقع نینوا شہر میں رسول بنا کر بھیجے گئے تھے . انہوں نے قوم کوحق کی دعوت وتبلیغ کی اور ہر طرح کی نصیحت وتلقین کا حق ادا کیا‘مگر قوم ایمان نہیں لائی اور کفر پر اڑی رہی. اس کے بعدحضرت یونس علیہ السلام غضب ناک ہو کر اپنی قوم کو چھوڑ کر چل دیے کہ اب تو ان پر اللہ کا عذاب آ کر رہے گا. لیکن یہاں ان سے ایک خطا ہو گئی. حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تو یہ خطا ہوئی تھی کہ وہ وقت معین سے پہلے کوہِ طور پر پہنچ گئے تھے‘جبکہ حضرت یونس علیہ السلام سے غلطی یہ ہوئی کہ اللہ کی طرف سے اجازت آجانے سے پہلے ہی آپ اپنی قوم اورشہر کوچھوڑ کر چل دیے‘حالانکہ رسولوں کے لیے یہ شرط ہے کہ رسول جس قوم یا علاقے کی طرف بھیج دیاجائے تو اللہ کی طرف سے ہجرت کی دو ٹوک اجازت (express permission) آجانے سے پہلے رسول وہ جگہ چھوڑ کر نہیں جا سکتا . لیکن حضرت یونس علیہ السلام اپنی قوم کے کفر پر اتنے غضب ناک ہو گئے کہ یہ بات ان کے ذہن میں نہ رہی اور آپ اپنی قوم سے ناراض ہو کر غصے کی حالت میں قوم کو چھوڑ کر چلے گئے.

اس حوالے سے آپ کے ذہن میں آ گیا ہو گا کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے عام مسلمانوں کے لیے ہجرتِ مدینہ کی اجازت آ گئی تو رسول اللہ نے اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے فرمادیا کہ تم سب مدینہ چلے جاؤ‘لیکن آپؐ خود نہیں گئے‘ جب تک کہ واضح اور معین طور پر آپؐ کے لیے اجازت نہیں آ گئی.اس ضمن میں سیرت کا ایک مشہور واقعہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے دو اونٹنیاں تیار کی تھیں کہ لمبا سفر ہے اور تیز جانا ہو گا.پھر جب ہم جائیں گے تو ظاہر بات ہے کہ ہمارا تعاقب کیا جائے گا‘ توآپؓ نے دواونٹنیوں کو خوب کھلا پلا کر تیار کیا ہواتھا‘لیکن رسول اللہ  کو اس بارے میں نہیں بتایاتھا. آپ ؓ ہجرت کے منتظر تھے ‘اس لیے بار بار آپؓ حضور سے پوچھتے تھے کہ اجازت آ گئی؟ حضور فرماتے کہ ابھی نہیں آئی.حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک دن ہم نے دیکھا کہ دوپہر کے وقت نبی اکرم ہمارے گھر کی طرف چلے آ رہے ہیں اور اپنا چہرۂ مبارک اپنے رومال میں چھپایا ہوا ہے. یہ بڑی غیر معمولی بات تھی ‘اس لیے کہ عرب میں قیلولے کے وقت یعنی ظہر اور عصر کے درمیان بازاراوردفاتربھی بند ہو جاتے ہیں اوراُس وقت کسی کے گھر آنا جانا بھی نہیں ہوتا‘ الاّ یہ کہ آپ کوکسی نے دوپہر کے کھانے پر بلایا ہو.خیر نبی اکرم تشریف لائے اور آ کر کہا کہ ابوبکر! اجازت آ گئی ہے. اب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا. دل میںسوچتے ہوئے کہ مجھے شاباش ملے گی‘ عرض کیا: حضور! میں نے دو اونٹنیاں تیار کر رکھی ہیں اور انہیں خوب کھلا پلا کر فربہ کیا ہے! حضور نے تھوڑا سا توقف کرنے کے بعد فرمایا: اچھا ٹھیک ہے‘ میں ایک اونٹنی استعمال کروں گا لیکن میں اس کی قیمت ادا کروں گا. یہ سن کرحضرت ابوبکرؓ روپڑے اور کہا: حضور ! مجھ سے بھی مغائرت ہے؟میں نے تو اپنے جان و مال میں سے کوئی بھی چیز آپ سے بچا کر نہیں رکھی ہے.

بہرحال جب تک فیصلہ کن اجازت نہیں آجاتی اُس وقت تک رسول اپنی قوم کو چھوڑ کر نہیں جا سکتا.حضرت یونس علیہ السلام سے غلطی ہوئی کہ وہ انتہائی غصے کی حالت میں بغیر اجازت کے قوم کو چھوڑ کر چل دیے.اس غلطی پر ان کی پکڑ ہوئی ‘اس لیے کہ کارِ رسالت کی شرائط میں سے ایک شرط کے اندر کچھ کمی ہوئی ہے. لہٰذا آپ کو معلوم ہے کہ پھر مچھلی نے آپؑ کو نگل لیا اورمچھلی کے پیٹ میں آپؑ نے: ’’ لَّاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنۡتَ سُبۡحٰنَکَ ٭ۖ اِنِّیۡ کُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۚۖ۸۷﴾‘‘ (الانبیائ:۸۷کاوردکیا‘ اللہ سے استغفار کیا.اس پر اللہ رب العزت نے انہیں معاف فرمایا وہیل مچھلی نے آپ کو ’’شط العرب ‘‘میں نگلا تھا (دریائے فرات اور دریائے دجلہ عراق کے جنوب میں باہم مل کر ایک چھوٹے سے سمندر کی صورت اختیار کر لیتے ہیں‘ جو شط العرب کہلاتا ہے) اور خلیج فارس سے ہوتے ہوئے کہیں مکران کے ساحل پر اللہ کے حکم سے اُگلا تھا. اس پر جناب احمد الدین مارہروی کا ایک تحقیقی مضمون ماہنامہ میثاق اور حکمت قرآن میں شائع ہوا تھا . ٭ 

اس ساری تفصیل بتانے کا مقصد یہ ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام کا غضب ناک ہو جانا اگرچہ حمیت دینی کی وجہ سے تھا ‘لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائد کردہ شرائط کو نظر انداز کر نے کی کسی کو اجازت نہیں ہے. اس ضمن میں اگر کسی رسول سے بھی کوتاہی ہوئی ہے تو اس پراللہ تعالیٰ کی طرف سے گرفت ہوئی ہے. 

’’مجھے یونس ؑبن متیٰ پر فضیلت مت دو!‘‘

یہاں یہ بھی نوٹ کر لیجیے کہ ہمارے ہاں نعتوں کے اندر شدید مبالغہ آرائی کی جاتی ہے اور آج کل تو اس بارے میں انتہا ہوگئی ہے‘جبکہ نبی اکرم نے فرمایا: 

مَایَنْبَغِیْ لِاَحَدٍ اَنْ یَقُوْلَ اَنَا خَیْرٌ مِنْ یُوْنسَ ابْنُ مَتّٰی 
(۱
کسی شخص کے لیے مناسب نہیں کہ وہ یہ کہے کہ میں(محمد )یونس بن متیٰ سے بہتر ہوں.‘‘ 

دیکھئے حضرت یونس علیہ السلام واحد رسول ہیں جن سے کچھ خطا ہوئی تو پھر اس خطا کی انہیں سزا ٭ مذکورہ مضمون ’’شَجَرَۃً مِّنْ یَّقْطِیْنٍ‘‘ کے عنوان سے اول ماہنامہ میثاق‘فروری۱۹۸۰ئ‘بعد ازاں حکمت قرآن کے شمارہ فروری ۱۹۹۹ء اور پھر مئی ۲۰۰۶ء میں مکرر شائع ہوا تھا. (مرتب) 

(۱) صحیح البخاری‘کتاب تفسیر القرآن‘ باب قولہ انا اوحینا الیک… 
بھی ملی. باقی اور رسولوں میں سے کسی کے ساتھ ایسا معاملہ ثابت نہیں ہے. خطا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بھی ہوئی تھی‘جس کے بارے میں ہم قبل ازیں پڑھ چکے ہیں‘لیکن اس خطا کی کوئی سزا حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نہیں ملی.لہٰذا حضرت یونس علیہ السلام وہ واحد رسول ہیں جنہیں خطا کی سزا ملی ہے اور پھر اس کا فائدہ بھی قومِ یونس کو پہنچا ہے. آج کی جدید اکاؤنٹنگ کا اصول ہے کہ ہر ڈیبٹ (debit) کے مقابلے میں کوئی کریڈٹ (credit) اور ہر کریڈٹ کے مقابلے میں کوئی ڈیبٹ ہو گا . اس حساب سے یہ جو ڈیبٹ ہوا حضرت یونس علیہ السلام کے خلاف‘ تو یہ قوم کے حق میں کریڈٹ بن گیا. وہ اس طرح کہ حضرت یونس علیہ السلام کے جانے کے بعد عذاب کے آثار شروع ہو گئے تھے‘ جس کے بعد کسی بھی قوم کی اجتماعی توبہ کا دروازہ بند ہو جاتا ہے‘جس طرح کسی فرد کے لیے موت کے آثار نظر آنے پر توبہ کا دروازہ بند ہوجاتاہے جب عذاب کے آثار شروع ہو گئے تو قوم کو یاد آیا کہ یہ تو وہی بات ہو گئی جو یونس کہا کرتے تھے. اس پر وہ فوراً گھروں سے نکل کر کھلے میدان میں جمع ہو گئے اور چیخ چیخ کر‘ رو رو کر‘ گڑگڑا کر اللہ سے معافیاں مانگنے لگے اور دعائیں کرنے لگے‘ تو اللہ نے ان پر سے عذاب ٹال دیا.

سورۂ یونس میں اس کو یوں بیان کیا گیا ہے : فَلَوۡ لَا کَانَتۡ قَرۡیَۃٌ اٰمَنَتۡ فَنَفَعَہَاۤ اِیۡمَانُہَاۤ اِلَّا قَوۡمَ یُوۡنُسَ ؕ یہاں ’’بعد ظھورالعذاب‘‘ کے الفاظ محذوف ہیں. اس کا ترجمہ اس طرح ہو گا: ’’کیا ایسی کوئی مثال ہے کہ ایک بستی (عذاب کے ظاہر ہونے کے بعد) ایمان لائی ہو اور اس کے ایمان نے اس کو فائدہ دیا ہو سوائے یونس کی قوم کے!‘‘ ؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوۡا کَشَفۡنَا عَنۡہُمۡ عَذَابَ الۡخِزۡیِ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ مَتَّعۡنٰہُمۡ اِلٰی حِیۡنٍ ﴿۹۸﴾ ’’جب وہ ایمان لے آئے تو ہم نے ان پر دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب ہٹا دیا اور ان کو ایک خاص مدت کے لیے مہلت دے دی‘‘. عذاب کے آثار ظاہر ہونے کے بعد ایمان لانا اللہ کو قبول نہیں ہے‘ لیکن اس میں استثناء ہے قومِ یونس کا. ان پر عذاب کے آثار ظاہر ہونا شروع ہو گئے تھے‘ لیکن انہوں نے اجتماعی توبہ کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ کو قبول کر لیا ‘ عذاب کو ٹال دیا اور ان کو کچھ مہلت دے دی .