ہر چیز پر احسان کا لزوم

ہمارے زیر مطالعہ آج کی پہلی حدیث میں ’’احسان‘‘ کا لفظ آ رہا ہے اور اسی مناسبت سے میں نے دو آیات آ پ کے سامنے پڑھی ہیں. عام طور پر ہمارے ذہن میں احسان کا مفہوم یہ آتا ہے کہ کسی کے ساتھ کوئی اچھا برتاؤ کرنا‘کسی پر کوئی احسان کرنا وغیرہ.اردو میں یہ لفظ صرف اسی معنی میں مستعمل ہے‘ لیکن عربی میں اس لفظ کے اور بھی کئی معانی ہیں. قرآن مجید میں یہ لفظ زیادہ تر بطور اصلاح کے آیا ہے اور اس کے معنی (۱) سنن الترمذی‘ ابواب البر والصلۃ ‘ باب ما جاء فی معاشرۃ الناس.

(۲) صحیح مسلم‘کتاب الجمعۃ‘ باب تخفیف الصلاۃ والخطبۃ. 
ہیں: انتہائی خوبصورتی کے ساتھ کسی کام کوانجام دینا. چنانچہ احسانِ اسلام کا مفہوم یہ ہو گا کہ کسی شخص کا اسلام بہت خوبصورت ہو جائے‘ دلفریب ہوجائے‘اس میں خوبیاں موجود ہوں‘ اس کے اندر روشنی پائی جائے‘ تویہ گویا اسلام کا احسان ہو گیا.

زیر مطالعہ حدیث میں رسول اللہ کا ارشاد نقل ہوا ہے : اِنَّ اللّٰہَ کَتَبَ الْاِحْسَانَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ ’’بے شک اللہ تعالیٰ نے واجب کر دیا ہے ہر شے میں احسان کو‘‘.یعنی جو کام بھی کرو دل لگا کر ‘ خوبصورت سے خوبصورت انداز میں اوراچھے سے اچھے طریقے پر کروتاکہ بہتر سے بہتر نتائج حاصل ہوسکیں. دنیوی کام ہو تو اس کے اندر بھی دل لگانا چاہیے‘نیم دلی کے ساتھ کوئی کام نہیں کرنا چاہیے. حلال ذریعے سے کمانا ہے تو دل لگا کر او رمحنت سے کماؤ‘ اس میں کوئی حرج نہیں ہے‘ بلکہ اس حوالے سے تو حضور اکرم نے یہاں تک فرما دیا: 

اَلتاَّجِرُ الصَّدُوْقُ الْاَمِیْنُ مَعَ النَّبِیِّیْنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّھَدَائِِ 
(۱
’’امانت دار سچا تاجر (قیامت کے دن)انبیاء‘ صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہو گا.‘‘

اس اعتبارسے دنیا کا کام بھی عمدگی سے کرنا چاہیے.پھر یہ بھی ذہن میں رہے کہ دنیا اور دین کی تقسیم ایک سطح پر آ کر ختم ہو جاتی ہے اوروہاں پہنچ کر دنیا اور دین ایک ہو جاتے ہیں. جب آپ دنیا کا کام بھی دین کے طریقے پر کررہے ہوںاور آپ کا اصل مقصود و مطلوب آخرت ہی ہو تو پھر وہ دنیا‘دنیا نہیں رہتی‘ بلکہ عین دین اور عین عبادت بن جاتی ہے. اب اگر کوئی شخص حلال کمائی کی کوشش کر رہا ہے تو وہ بھی عبادت اور باعث ثواب ہے. اس لیے کہ اُس نے اپنے نفس کا ایک حق جائز طریقے سے ادا کیا اور نفس کے حقوق کے ضمن میں رسول اکرم کا یہ فرمان بہت مشہور ہے: اِنَّ لِنَفْسِکَ عَلَیْکَ حَقًّا (۲’’یقینا تمہارے نفس کا بھی تم پر حق ہے ‘‘.اب تمہارے جسم و جان کے جوتقاضے ہیں ان کو بھی اگرجائز طریقے سے پورا کرو گے تو وہ عین عبادت بن جائیں گے اوراس پر ثواب ملے گا. (۱) سنن الترمذی‘ ابواب البیوع‘ باب ما جاء فی التجار وتسمیۃ النبی ایاہم.

(۲) سنن الترمذی‘ ابواب الزھد‘باب منہ. وسنن ابی داوٗد‘ کتاب الصلاۃ‘ باب ما یؤمر بہ من القصد فی الصلاۃ. 
اس پر بھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حیرت کے ساتھ پوچھا تھا:یا رسول اللہ! ہم اپنے نفس کی خواہش کو پورا کرنے کے لیے اپنی بیویوں سے جوازدواجی تعلقات قائم کرتے ہیں کیا اس پر بھی ہمیں اجروثواب ملے گا؟ اس کے جواب میں رسول اللہ نے فرمایا کہ اگر یہی کام تم کسی غلط طریقے سے کرتے تو تمہیں اس کی سزا ملتی یا نہ ملتی؟ صحابہؓ نے عرض کیا کہ اس پر سزا تو ملتی. آپ نے فرمایا کہ اگر تم صحیح اور جائز طریقے سے کر رہے ہو تو اس پر تمہیں اجر بھی ملے گا.