ملے گا وہی جو تقدیر میں لکھ دیا گیاہے!

زیر مطالعہ حدیث کے دوسرے متن کے چند جملوں کا تذکرہ پہلے متن کے ضمن میں ہوچکا ہے ‘جبکہ باقی متن کا بیان ذیل میں کیا جاتا ہےرسول اللہ نے فرمایا: وَاعْلَمْ اَنَّ مَا اَخْطَأَکَ لَمْ یَـکُنْ لِیُصِیْبَکَ ’’اور جان لو کہ جو چیز تم سے چھوٹ گئی ہے وہ ہرگز تمہیں ملنے والی نہیں تھی‘‘.مثلاً آپ نے کسی ملازمت کے لیے درخواست دی تھی. آپ نے اپنی سی محنت کر لی‘ لیکن وہ ملازمت آپ کونہیں ملی. اب آپ افسوس‘ رنج اور غم میں بیٹھے ہوئے ہیں سوچ رہے ہیں کہ فلاں نے یہ کر دیا تھا‘ فلاں بڑی تگڑی سفارش لے آیا تھا‘ فلاں نے رشوت دے دی تھی‘ وغیرہ وغیرہ. چھوڑو میاں! ان سب سوچوں کو‘ بس یہ یقین کرلو کہ وہ نوکری تمہارے لیے تھی ہی نہیں. کاہے کو اپنے ذہن کے اندر یہ کھچڑی پکا کر خواہ مخواہ سوءِ ظن میں مبتلا ہو رہے ہو؟کسی نے رشوت نہ دی ہو اور آپ سمجھتے ہیں کہ اس نے رشوت دی ہے‘تو یہ سوءِ ظن ہوگیا اور سورۃ الحجرات میں سوئِ ظن کو گناہ سے تعبیر کیا گیا ہے.فرمایا: 

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اجۡتَنِبُوۡا کَثِیۡرًا مِّنَ الظَّنِّ ۫ اِنَّ بَعۡضَ الظَّنِّ اِثۡمٌ 
(آیت۱۲
’’اے اہل ایمان!بہت زیادہ گمان کرنے سے بچو‘ اس لیے کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں.‘‘

آگے آپ نے فرمایا: وَمَا اَصَابَکَ لَمْ یَکُنْ لِیُخْطِئَکَ ’’اور جو تکلیف تم پر آگئی ہے وہ کبھی بھی تم سے چوکنے والی نہیں تھی‘‘.یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ وہ تم پر نہ آتی. انسان سوچتا ہے کہ میں یہ کر لیتا تو شاید ایسا ہو جاتا‘ میں نے ٹیکا پہلے لگوا لیا ہوتا تو بیماری اس انتہا تک نہ پہنچتی. بھئی جو ہونا تھا وہ ہونا ہی تھا. یہ وہ چیز ہے جس سے انسان میں تسلیم و رضا پیدا ہوتی ہے. ؎

ہم بھی تسلیم کی خو ڈالیں گے 
بے نیازی تیری عادت ہی سہی!

اے اللہ! جو تو نے چاہا وہ مجھے بہرصورت قبول ہے. اسی لیے میں نے شروع میں سورۃ التغابن کی یہ آیت تلاوت کی تھی : 

مَاۤ اَصَابَ مِنۡ مُّصِیۡبَۃٍ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ وَ مَنۡ یُّؤۡمِنۡۢ بِاللّٰہِ یَہۡدِ قَلۡبَہٗ ؕ 

’’کوئی مصیبت نہیں آتی مگر اللہ کے اذن سے‘ اور جو اللہ پر ایمان رکھتا ہے تو اللہ اس کے دل کو ہدایت دے دیتا ہے.‘‘

اس ہدایت سے مراد ہے تسلیم و رضا: ؎

نہ شود نصیب دشمن کہ شود ہلاکِ تیغت
سر دوستاں سلامت کہ تو خنجر آزمائی!

اے اللہ! تیری طرف سے آنے والی ہر مشکل مجھے قبول ہے.بظاہر اس سے مجھے تکلیف ہو رہی ہے‘ لیکن یقینا اس میں میری کوئی بھلائی ہے.اسی لیے تو فرمایا گیا: بِیَدِکَ الۡخَیۡرُ ؕ (آلِ عمران:۲۶’’(اے اللہ!)تیرے ہاتھ میں تو خیر ہی خیر ہے .‘‘

یہ مضمون سورۃ الحدید(آیت ۲۲۲۳) میں زیادہ بڑے پیمانے پر آیا ہے.وہاں فرمایا گیا : مَاۤ اَصَابَ مِنۡ مُّصِیۡبَۃٍ فِی الۡاَرۡضِ وَ لَا فِیۡۤ اَنۡفُسِکُمۡ ’’کوئی مصیبت نہیں آتی نہ زمین میں اورنہ تمہاری جانوں میں ‘‘. مثلاًزمین میں زلزلہ آ جانا‘ سیلاب آجانا‘ یا زمین کا دھنس جانا. اسی طرح کسی کو کوئی بخار ہو گیا ‘ کوئی اور تکلیف ہو گئی‘ اچانک معلوم ہوا کہ ان صاحب کو کینسر ہے اور کینسر بھی اب تیسری سٹیج پر پہنچ چکا ہے . یہ سب کچھ اللہ کے علم قدیم میں پہلے سے لکھا ہوا ہے . اِلَّا فِیۡ کِتٰبٍ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ نَّبۡرَاَہَا ؕ ’’مگر ایک کتاب میں درج ہے اس سے پہلے کہ ہم اسے ظاہر کریں‘‘. اس کا نتیجہ یہ نکلنا چاہیے: لِّکَیۡلَا تَاۡسَوۡا عَلٰی مَا فَاتَکُمۡ ’’تاکہ تم افسوس نہ کرو اُس پر جو تم سے جاتا رہے‘‘. کوئی عزیز فوت ہو گیایا کوئی مالی نقصان ہوگیا تو اس پر افسوس مت کرو. وَ لَا تَفۡرَحُوۡا بِمَاۤ اٰتٰىکُمۡ ؕ ’’اورجو اللہ تمہیں دے دے اس پر مت اتراؤ.‘‘