زیرمطالعہ حدیث اور اس کی تشریح

حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: اِنَّ مِمَّا اَدْرَکَ النَّاسُ مِنْ کَلَامِ النُّبُوَّۃِ الْاُوْلٰی ’’نبوت ِاولیٰ (یعنی پہلے انبیاء کرام علیہم السلام) کے کلام میں سے جو چیز لوگوں نے پائی ہے یا جو اُن کے پاس محفوظ ہے‘‘ظاہر بات ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کاایک سلسلۃ الذہب ہے اور ہم اللہ کے تمام انبیاء و رسل علیہم السلام پر ایمان رکھتے ہیں.البتہ ان کی تعلیمات میں کچھ تحریف بھی ہوئی‘اور کچھ نسیان کا شکار بھی ہو گئیں کہ لوگوں نے اُن کی تعلیمات کو بھلا دیا. بہرحال ان کی تعلیمات کے کچھ نہ کچھ اثرات اُس وقت یعنی دورِ نبویؐ میں بھی موجود تھے اور وہ حکمت کے موتیوں کی طرح سے لوگوں کے اندر مشہور تھے. انہی میں سے ایک موتی وہ ہے جس کی نشاندہی حضور نے فرمائی: 

اِذَا لَمْ تَسْتَحْیِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ 
’’جب تم حیا کا پردہ اٹھا دو تو پھرجو چاہو کرو!‘‘ (۱) صحیح مسلم‘ کتاب الایمان‘ باب جامع الاوصاف الاسلام