مغرب عورت کی حیا کو ختم کرنے پر ُتلا ہوا ہے!

اللہ تعالیٰ نے عورت کی فطرت میں جو بھی عناصر رکھے ہیں‘ ان میں مرد کے مقابلے میں حیا کا پہلو بہت قوی ہے‘ جس کومغرب آج ختم کرنے پر تلا ہوا ہے. مغرب حیا کے پردے کو ختم کرنا چاہتا ہے اور اس وقت دنیا میںاس کے لیے جو عظیم تحریک چل رہی ہے‘ اس کو ’’سوشل انجینئرنگ پروگرام‘‘ کا دل فریب نام دیاگیا ہے.یعنی سوسائٹی اور معاشرہ کی تعمیر نوکرنی ہے‘اس کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ عورت میں سے حیا کو باہرنکال دو. مغرب میں عورت کی بے پردگی کا معاملہ کوئی بہت پرانا نہیں ہے‘بلکہ زیادہ سے زیادہ سو‘سوا سوسال پرانا ہے. امریکہ کی پرانی فلموں میں عورت مکمل لباس زیب تن کیے ہوتی تھی‘ یعنی گردن سے لے کر ٹخنے تک‘سوائے چہرے کی ٹکیا کے اور سر پر ان کے یقیناسکارف ہوتاتھا. یہ جو سکرٹس اور منی سکرٹس آنی شروع ہوئی ہیں ان کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں ہے. 

۱۸۹۷ء میں ’’پروٹوکولزآف دی ایلڈرز آف زائن‘‘ کی پہلی کانفرنس سوئٹزرلینڈ کے شہر Basel میں ہوئی تھی‘ جہاں ٹاپ کے یہودی جمع ہوئے تھے اور ان میں سے بیشتر یہودی بینکرز تھے. Zionist موومنٹ بھی یہودی بینکرز کی تحریک ہے اور وہ مذہبی یہودی نہیں ہیں‘ بلکہ سیکولر ٹائپ کے یہودی ہیں.مذہبی یہودی وہ ہیں جو کبھی آپ نے کسی فلم یااخبارات میں دیکھے ہوں گے یا آپ امریکہ گئے ہوں تو آپ نے وہاںدیکھا ہو گا کہ بروک لین کا علاقہ ان سے بھرا ہوا ہے. ان کی چھلے دارزلفیں ہوتی ہیں. عام طور پر جہاں سے خط بنایا جاتا ہے وہاں سے وہ اپنے بالوں کو پھیلاتے ہیں اور بہت خوبصورت انداز میں چھلے دونوں طرف لٹکا لیتے ہیں. ان کی داڑھیاں لمبی ہوتی ہیں. سر ننگے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا. سر کے اوپر چھوٹی سی ٹوپی نہیں بلکہ پورا ہیٹ ہوتا ہے اور وہ بھی سیاہ رنگ کا. اسی طرح انہوں نے سیاہ اَچکن کی طرز کا لمبا کوٹ پہنا ہوتا ہے. یہ ہیں مذہبی یہودی. لیکن سوئٹزرلینڈ کے شہر Basel میں جو لوگ جمع ہوئے تھے وہ سب سیکولر تھے اور بینکرز کے نمائندے تھے.نوعِ انسانی کے لیے انہوں نے جو چیزیں طے کی تھیں ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ شرم و حیا کا جنازہ نکال دیا جائے تاکہ انسان حیوان بن جائے اور پھر ہم ان حیوانوں کو استعمال کر سکیں. یہ ان کا فلسفہ ہے کہ سوائے یہودیوں کے تمام بنی آدم انسان نما حیوان ہیں ‘یعنی شکل تو انسانوں کی سی ہے لیکن درحقیقت سب حیوان ہیں.چنانچہ غیر یہودی انسانوں کے لیے وہ goy`ims اور gentiles کے الفاظ استعمال کرتے ہیں. ان کا کہنا ہے کہ جیسے حیوان کو استعمال کرنا عام انسان کا حق ہے گھوڑے کو تانگے میں اور بیل کوہل میں جوتاجاتا ہے اسی طرح ہمارا حق ہے کہ ہم انسان نما حیوانوں کو بھی اسی طرح استعمال کریں.اور یہ بات ان کی باقاعدہ مذہبی تعلیمات میں شامل ہے. 

یہودیوں کی مذہبی کتاب ’’تالمود‘‘ جو اصل میں فقہ کی کتاب ہے اور مذہبی اعتبار سے بہت اہم ہے‘ اس میں یہ مذکورہے کہ غیر یہودیوں کو دھوکہ دینا‘ ان سے سود وصول کرنا‘ ان کے مال پر ڈاکہ ڈالنا‘ چوری کرنا وغیرہ جائز ہے. قرآن مجید میں بھی اس کا تذکرہ بایں الفاظ موجود ہے : قَالُوۡا لَیۡسَ عَلَیۡنَا فِی الۡاُمِّیّٖنَ سَبِیۡلٌ (آل عمران:۷۵’’وہ کہتے ہیں کہ ان اُمیوں کے ساتھ ہم جوچاہیں کریں ہم پر کوئی مواخذہ نہیں ہے ‘‘.چنانچہ آزادی ٔ نسواں (Women Lib) کے نام پر شرم و حیا کو ختم کرنے کی ایک عظیم تحریک اس وقت سے چل رہی ہے.لیکن ہم پاکستانیوں کے لیے انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ پرویز مشرف کی حکومت نے ساری دنیا سے آگے بڑھ کراس تحریک کو لبیک کہا. اس لیے کہ تمام اداروں‘ یعنی سینٹ میں‘ پارلیمنٹ میں اور اس سے نیچے یونین کونسلوں میں ۳۳ فیصد عورتوں کی نمائندگی مقرر کر دینا ‘عورتوں کو گھر سے نکالنے کا اتنا بڑا کام پاکستان کے علاوہ پوری دنیا میں کہیں نہیں ہوا. آج تک امریکہ اور یورپ میں بھی ایسا نہیں ہے.

ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں جمہوریت کا وجود ایک معجزہ ہے.معجزہ میںاس لیے کہہ رہا ہوں کہ دنیا میں یہ مانا جاتا ہے کہ کم شرح خواندگی میں ڈیموکریسی نہیں چل سکتی. لوگوں کے اندر خواندگی ہونی چاہیے‘ تعلیم ہونی چاہیے‘ تب ڈیموکریسی چل سکتی ہے.جبکہ بھارت انتہائی کم شرح خواندگی کے ساتھ اس بہترین انداز سے جمہوریت چلا رہا ہے کہ دنیا دیکھ کر حیران ہو رہی ہے‘لیکن ان کے ہاں بھی عورتوں کی نمائندگی کی شرح ۳۳ فیصد نہیں ہے‘ صرف چند عورتیں ہیں جوپارلیمنٹ میں آجاتی ہیں. امریکہ کے اندر بھی گنی چنی عورتیں جنرل الیکشن جیت کر آ جاتی تھیں‘جیسے ہمارے ہاں جنرل الیکشن جیت کر بے نظیر آ جاتی تھی اور اس طرح سے چند ایک اور عورتیں بھی آ جاتی تھیں. یہ کبھی نہیں تھا کہ ۳۳ فیصد سیٹیں عورتوں کے لیے مختص کی جائیں او رخواتین سے ہی اُن کو پُرکرنے کولازم قرار دے دیا جائے.

اس وقت بے حیائی کی اشاعت یو این او کے ایجنڈے پر ہے. چنانچہ اس کے لیے پہلی کانفرنس قاہرہ میں ہوئی تھی.پانچ سال کے بعد بیجنگ کانفرنس اور پھر بیجنگ پلس فائیو کانفرنس ہوئی. یہ تمام کانفرنسیں اقوامِ متحدہ کے تحت ہوئی ہیں اور وہاں طے ہوا ہے کہ شرم و حیا جو عورت کا سب سے بڑا زیور ہے ‘ اسے ختم کیا جائے. اس وقت مغرب کا معاشرہ اور مغرب کی ساری طاقت اسی پرلگی ہوئی ہے. ان کے ہاں تو شرم و حیا ختم ہو چکی ہے اور بے حیائی اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے. اب وہ چاہتے ہیں کہ ساری دنیا سے بھی حیا کا خاتمہ ہو جائے.جیسے اگر کسی بلی کی دم کٹ جائے تو وہ یہی چاہے گی کہ سب بلیوں کی دُمیں کٹ جائیں ‘ ورنہ وہ تو تمام بلیوں کے اندر ’’نکو‘‘ بنی رہے گی.اسی طرح مغربی ممالک بھی پوری نوعِ انسانی سے حیا کے زیور کو ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں. 

اصل میں یہ ایجنڈا یہودیوں کا ہے جس کے آلہ کار عیسائی بن رہے ہیں اور عیسائیوں میں سے بھی خاص طور پر (White Anglo Saxon Protestants (WASP) فرقہ اس میں پیش پیش ہے .پھر اس فرقے کی بھی اعلیٰ سطح کی کلاس Evengelists (جن کو ’’نیوکانز‘‘ بھی کہا جاتا ہے)اسرائیل کے سب سے بڑے سپورٹر ہیں اوران کے پروگرام کی تکمیل میں یہ سب سے بڑے آلہ کار ہیں. واضح رہے کہ wasp ’’بھڑ‘‘ کو کہتے ہیں جس کے کاٹنے سے جسم سوج جاتا ہے.