استقامت اور اس کے ثمرات

اب ہم اگلی حدیث کا مطالعہ کرتے ہیں.سیدنا ابوعمرو (یا ابوعمرہ)سفیان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ میں نے کہا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قُلْ لِّیْ فِی الْاِسْلَامِ قَوْلًا ‘ لَا ‘اَسْاَلُ عَنْہُ اَحَدًا غَیْرَکَ ’’اے اللہ کے رسول ! مجھے اسلام کے بارے میں ایک بات ایسی بتا دیجیے کہ پھر مجھے کسی سے کچھ او رپوچھنے کی ضرورت ہی نہ رہے‘‘. اس کا یہ ترجمہ بھی ہو سکتا ہے کہ مجھے ایسی بات بتا دیجیے کہ اس کے بعد میں کسی سے کچھ اور نہ پوچھوں. لیکن میں ان الفاظ کی ترجمانی اس طرح کر رہا ہوں کہ مجھے ایسی جامع بات بتا دیجیے کہ پھر مجھے کسی اور سے کچھ پوچھنے کی ضرورت ہی نہ رہے. رسول اللہ نے فرمایا: قُلْ آمَنْتُ بِاللّٰہِ ثُمَّ اسْتَقِمْ ’’کہو میں ایمان لایا اللہ پر اور پھر جم جاؤ‘‘. یعنی (۱) سنن ابی داوٗد‘ کتاب الصلاۃ‘ باب متی یؤمر الغلام بالصلاۃ . پھر اپنے اس قول پر جمے رہو‘ ثابت قدم رہو! یہ جم جانا‘ ڈٹ جانا اور استقامت‘ اس ایک لفظ کے اندر ایک قیامت مضمر ہے .