استقامت کا دوسرا داخلی ثمر:رضابرضائے رب

استقامت کے داخلی ثمرات میں سے ایک اہم ثمر راضی برضائے رب رہنا ہے. یعنی جو رب کی طرف سے آ رہا ہے اس پرکوئی شکوہ زبان پر نہ آئے. ایک توہے اضطراری حرکت (reflex action) ‘جیسے کسی چیونٹی نے کاٹا ہے تو آپ کا ہاتھ یک دم ہل گیا.یہ بے اختیاری عمل ہے اور اس میں آپ کے ارادے کو کوئی دخل نہیں ہوتا. حضرت ابراہیم‘جو محمد ٌرسول اللہ کے ننھے سے بچے تھے‘ دم توڑ رہے تھے تو حضور کی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے. صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: یارسول اللہ ! آپ کے آنکھوں میں آنسو؟آپ نے فرمایا: یہ تو وہ رحمت ہے جو اللہ نے دلوں میں رکھی ہے. باقی ہم کہتے وہی ہیں جو اللہ کو پسند ہے اورہم اللہ کی رضا پر مکمل راضی ہیں. لہٰذا ریفلکس ایکشن کے درجے میں کوئی ری ایکشن ہو جائے‘ کوئی آنسو آ جائیں‘ کوئی اور بات ہو جائے تو یہ الگ بات ہے‘ لیکن اللہ تعالیٰ سے کوئی مستقل شکایت پیداہوجائے تو اس سے ایمان کی نفی ہو جائے گی. اس حدیث کا ہم مطالعہ کرچکے ہیں کہ جو ہوتا ہے اللہ کے اذن سے ہوتا ہے اور اس کائنات کے اندر پتا نہیں ہل سکتاجب تک کہ اللہ کا اذن نہ ہو .ارشادِ باری تعالیٰ ہے: 

قُلۡ لَّنۡ یُّصِیۡبَنَاۤ اِلَّا مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَنَا ۚ ہُوَ مَوۡلٰىنَا ۚ وَ عَلَی اللّٰہِ فَلۡیَتَوَکَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۵۱﴾ 
(التوبۃ) 
’’(اے نبی !) کہہ دیجیے کہ ہرگز کوئی مصیبت نہیں آ سکتی ہے سوائے اس کے جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دی ہے‘ وہ ہمارا آقا ہے‘ اور ایمان والوں کو تو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے .‘‘

یعنی اے منافقو! تم ہمیں رومیوں کی فوج سے اور وہاں کی سخت گرمی سے ڈرا رہے ہو‘ حالانکہ ہمارا تو اس بات پر پورا یقین ہے کہ ہم پر کوئی مصیبت نہیں آسکتی سوائے اس کے جو ہمارے رب نے ہمارے لیے لکھ دی ہو‘اور اس کی طرف سے جو بھی آئے وہ ہمیں قبول ہے

؏
’’سرِتسلیم خم ہے جو مزاجِ یار میں آئے! ‘‘
نشود نصیب ِدشمن کہ شود ہلاکِ تیغت 
سر دوستاں سلامت کہ ُتو خنجر آزمائی!

اس کو اکبر الٰہ آبادی نے بہت خوبصورت انداز میں کہا ہے : ؎ 

رضائے حق پہ راضی رہ ‘ یہ حرفِ آرزو کیسا
خدا خالق‘ خدا مالک‘ خدا کا حکم‘ ُتو کیسا!

یعنی خدا کے خالق اور مالک ہونے کا یقین انسان کو ان وسوسوں سے نجات دلاتاہے کہ یہ کیوں ہو گیا‘ یہ کیسے ہو گیا‘ یہ نہیں ہونا چاہیے تھا‘اس نے میراکام بگاڑ دیا. یہ ساری چیزیں ختم ہو جاتی ہیں صرف اس یقین سے کہ جو آیا اللہ کے حکم سے آیا‘اور جو درمیان میں ذریعہ بن گیااُس نے اپنے لیے جو کمائی کرنی تھی‘کر لی. میں نے آپ کو ایک درویش کا قصہ سنایا تھا جو یہ کہتے ہوئے جا رہا تھا ’’جو رب کرے سو ہو‘ جو رب کرے سو ہو!‘‘ ایک شخص نے اٹھا کر اسے پتھر دے مارا. اس نے مڑ کر دیکھا تو جس نے پتھر مارا تھا وہ کہنے لگا:مجھے کیا دیکھتے ہو‘ جو رب کرے سو ہو! وہ کہنے لگے کہ مجھے پتھر تو اللہ کے اذن ہی سے لگا ہے‘ لیکن میں یہ دیکھ رہا تھا کہ بیچ میں منہ کس کا کالا ہوا ہے! ظاہر بات ہے کہ تم لاکھ مجھے پتھر مارنا چاہتے ‘اگر اللہ نہ چاہتا تو تم نہ مار پاتے. تمہارانشانہ خطا ہوجاتا‘ تمہارا ہاتھ شل ہو جاتا. اقبال اس حوالے سے کہتا ہے :

ب
روں کشید ز پیچاکِ ہست و بود مرا
چہ عقدہ ہا کہ مقامِ رضا کشود مرا

یعنی مجھے تو اللہ تعالیٰ نے ایمان کے ایک ذریعے سے اس ہست و بود کے سارے چکروں سے نکال لیاہے اور مجھے تسلیم و رضا کا مقام حاصل ہو گیا ہے‘ بایں طور کہ اب جو بھی میرے رب کی طرف سے آئے‘اس پر سرتسلیم خم ہے.