زیر مطالعہ حدیث کا آخری حصہ

اس شخص نے کہا کہ اگر میں فرض نمازپڑھوں اور فرض روزے رکھوں‘حلال کو حلال جانوں اور حرام کو حرام سمجھوں‘ وَلَمْ اَزِدْ عَلٰی ذٰلِکَ شَیْئًا ’’اور میں اس پر کسی عمل کا اضافہ نہ کروں‘‘ اَاَدْخُلُ الْجَنَّۃَ؟ ’’تو کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا؟‘‘رسول اللہ نے فرمایا: 

نَـعَمْ ’’ہاں!‘‘حضوراکرمکی طرف سے ’’ہاں‘‘سن کر اُس شخص نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا : وَاللّٰہِ لَا اَزِیْدُ عَلٰی ذٰلِکَ شَیْئًا ’’اللہ کی قسم !میں اس پر کسی چیز کا اضافہ نہیں کروں گا.‘‘ اس حدیث سے اب یہ مطلب نکالنا کہ یہاں چونکہ زکوٰۃ اور حج کا ذکر نہیں ہے‘ لہٰذا زکوٰۃ اور حج لازم نہیں ‘غلط ہے. اسی طرح چونکہ یہاں ایمان کا ذکر نہیں‘ لہٰذا یہ کہنا کہ ا گر کوئی شخص نیک اعمال کر رہا ہے‘چاہے اس کے دل میں ایمان ہے یا نہ ہے وہ بہرحال جنت میں جائے گا‘ ایسے نتیجے اخذ کرنا صحیح نہیں ہے .اس لیے کہ یہ سارے غلط نتائج ہیں جو صرف اس لیے ذہن میں آتے ہیں کہ انسان حدیث کے پس منظر اور مخاطب کو پیش نظر نہیں رکھتا.زیر مطالعہ حدیث ایک معین شخص کے احوال پر مبنی ہے (گویا ایک پی پی کال ہے) اور نبی اکرم نے اس کے حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اُسے صرف نماز‘روزہ اور حلال و حرام کی تمیز پر جنت کا پروانہ تھما دیا ہے‘لہٰذا حدیث کے پس منظر اور باقی حالات وواقعات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس کو سمجھناچاہیے. 

دوسری بات یہ ہے کہ یہاں اصل مضمون فرض اور نفل کا ہے. نماز فرض ہے پڑھو‘ روزہ فرض ہے رکھو‘ زکوٰۃ فرض ہے تو ادا کرو‘ حج فرض ہے تو اس کے لیے ضرور جاؤ.اس لیے کہ استطاعت کے ہوتے ہوئے بھی حج نہ کرنے کو کفر سے تعبیر کیا گیا ہے.ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَ لِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الۡبَیۡتِ مَنِ اسۡتَطَاعَ اِلَیۡہِ سَبِیۡلًا ؕ وَ مَنۡ کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنِ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۹۷﴾ (آلِ عمران) ’’اور لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا حق (یعنی فرض) ہے کہ جو اس گھر تک جانے کا مقدور رکھے وہ اس کا حج کرے ‘اور جو اس حکم کی تعمیل نہ کرے گا تو اللہ تعالیٰ بھی اہل عالم سے بے نیاز ہے.‘‘