مشقت ہر انسان کا مقدر ہے

یہ مشقت اور محنت ہر انسان کا مقدر ہے‘ صرف نوعیت کا فرق ہے. بعض لوگوں کی جسمانی مشقت زیادہ ہے اور بعض لوگوں کی ذہنی مشقت زیادہ ہے. بعض لوگوں کو روٹی کی پریشانی ہوتی ہے‘جبکہ بعض لوگوں کو اپنے نقصان کی پریشانی ہوتی ہے . کروڑ پتی ہیں لیکن نقصان آ گیا تو اب پریشانی ہے‘ ایک رنج اور غم ہے. اور آپ کو معلوم ہے کہ دولت مندوں میں جس قدر دماغی امراض ہوتے ہیں وہ مزدوروں میں نہیں ہوتے. مزدور تو صبح سے شام تک محنت کر کے تھکے ہارے لیٹتے ہی سو جاتے ہیں اور پھر صبح ہی آنکھ کھلتی ہے. لیکن دولت مند لوگوں کو نیند کے لیے سکون آوردوائیوں کی ضرورت ہوتی ہے اورانہیں ان کے بغیر نیند نہیں آتی. 

انسانی مشقت کے حوالے سے سورۃ الانشقاق میں فرمایاگیا : یٰۤاَیُّہَا الۡاِنۡسَانُ اِنَّکَ کَادِحٌ اِلٰی رَبِّکَ کَدۡحًا فَمُلٰقِیۡہِ ۚ﴿۶﴾ (الانشقاق) ’’اے انسان! تو مشقت پر مشقت جھیلتے ہوئے آئے گا اور اپنے رب سے ملاقات کرے گا‘‘. یعنی ایک کافر یا فاسق وفاجر شخص دنیا میں بھی مشقت جھیلتا ہے اور آخرت میں بھی ناکامی وبربادی سے دوچار ہوگا‘جبکہ ایک بندۂ مؤمن جس نے دنیا میں مشقتیں اور مصیبتیں جھیلی ہیں اور اس پر صبر کیا ہے‘اسی طرح اللہ کے دین کے لیے مشقت کی ہے‘ ایثار کیا ہے‘ بھاگ دوڑ کی ہے‘ اللہ کے دین کی دعوت اور اس کی اقامت کی جدوجہد میں اپنی صلاحیتیں گھلائی ہیں تو ایسےشخص کے لیے آخرت میں سکون و راحت ہو گی. سورۃ الواقعہ میں ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایاگیا : فَرَوۡحٌ وَّ رَیۡحَانٌ ۬ۙ وَّ جَنَّتُ نَعِیۡمٍ ﴿۸۹﴾ ’’پس اس کے لیے آرام وآرائش اور خوشبودار پھول اور نعمت کے باغ ہیں‘‘.ان کے لیے وہاں کوئی مشقت نہیں ہے ‘وہاں تو بس آرام اورراحت ہے. 

یہ حقیقت ہے کہ ہر شخص کا مقدر ہے کہ وہ محنت کرتا ہے ‘ مشقت کرتا ہے‘ تکلیفیں جھیلتا ہے‘حتیٰ کہ آپ یوں سمجھئے کہ حیوانات کے مقابلے میں ایک اعتبار سے انسان کا معاملہ زیادہ خراب ہے.اس لیے کہ حیوانات میں وہ احساسات نہیں ہوتے جو انسان میں ہوتے ہیں. اگرآپ کا جوان بیٹا آپ کے سامنے سینہ تان کر کہے: چھوڑیں‘ ابا جان! آپ تو دقیانوسی قسم کی باتیں کرتے ہیں اور میں آپ کی ان باتوں کونہیں مانتا تواس پر جو رنج وغم آپ کو ہو گاوہ کسی بیل گائے یا کسی اور حیوان کو کبھی نہیں ہوسکتا‘اس لیے کہ وہ ان احساسات سے عاری ہیں.اسی طرح آپ کو معلوم ہے کہ سب سے زیادہ لاچار انسانی بچہ ہوتا ہے. بکری کا بچہ پیدائش کے فوراًبعد کھڑا ہونا شروع کر دیتا ہے. کچھ دیر اس کی ٹانگیں لڑکھڑاتی ہیں اور اس کے بعد وہ صحیح طور سے کھڑاہو جاتا ہے. جبکہ انسان کے بچے کو کس قدر نگہداشت (care) اور محنت و مشقت کی ضرورت ہوتی ہے‘ کس قدر اس کے لیے راتوں کو اپنی نیندیں حرام کرنی پڑتی ہیں ‘ کس طرح اس کے لیے پیٹ کاٹ کر سارابندوبست کرنا پڑتا ہے. اس اعتبار سے انسان لدو اونٹ کی طرح ہے.