زیر مطالعہ حدیث کا آخری حصہ

زیر مطالعہ حدیث کے آخری ٹکڑے میں قیامت کے دن ہونے والے حساب وکتاب اور جزاوسزا کا تذکرہ ہے.اللہ تعالیٰ فرماتاہے: 

یَا عِبَادِیْ! اِنَّمَا ھِیَ اَعْمَالُـکُمْ اُحْصِیْھَا لَـکُمْ، ثُمَّ اُوَفِّیْکُمْ اِیَّاھَا 
’’اے میرے بندو!یہ تو تمہارے اعمال ہیں جن کو میں محفوظ کر کے رکھ رہا ہوں‘ پھر میں تمہیں ان ہی کی پوری پوری جزا دوں گا.‘‘

مجھے کسی سے کوئی دشمنی نہیں ہے کہ اسے اپنی دشمنی کی وجہ سے جہنم میں ڈالوں. مجھے کوئی کیا نقصان پہنچا سکتا ہے کہ میں اس کو جہنم میں جھونک کر اپنے اس نقصان کی تلافی کروں. مجھے تو کوئی احتیاج نہیں‘ البتہ تمہارے اعمال میرے پاس محفوظ ہو رہے ہیں اور کل قیامت کے دن میں تمہیں ان کا بدلہ ضرور دوں گا.اس ضمن میں سورۃ الزلزال میں فرمایاگیا: فَمَنۡ یَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّۃٍ خَیۡرًا یَّرَہٗ ؕ﴿۷﴾وَ مَنۡ یَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ ٪﴿۸﴾ ’’جس کسی نے ذرّے کے برابر بھی خیر کمایا ہو گا تووہ اسے اپنے سامنے موجود پائے گا ‘اور جس کسی نے ذرّے کے برابر بھی برائی کمائی ہو گی تو وہ بھی اسے اپنے سامنے موجود پائے گا‘‘ ’’ذرّہ‘‘ کسے کہتے ہیں‘اس کو بھی جان لیجیے. آج کل تو خیر ہمارے تصورات میں ایٹم وغیرہ بھی آ جاتا ہے‘ جبکہ پہلے زمانے میں سب سے چھوٹی چیز جو انسان اپنی آنکھ سے دیکھتا تھا وہ چیونٹیوں کے نوزائیدہ بچے تھے اور ان کو ’’ذرّات‘‘ (واحد ’’ذرّہ‘‘) کہا جاتا ہے.

آگے فرمایا: 
فَمَنْ وَّجَدَ خَیْرًا فَلْیَحْمَدِ اللّٰہَ 
’’پس جو شخص (اپنے اعمال نامہ میں)کوئی خیر پائے تو وہ اللہ کا شکر ادا کرے.‘‘

اس لیے کہ بہرحال ہدایت اور نیکی کی توفیق تو اللہ نے ہی دی تھی تو پھر اس پر شکر بھی لازم ہے. جیسے کہ ابھی میں نے سورۃ الاعراف کی یہ آیت آپ کوسنائی : وَ قَالُوا الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ ہَدٰىنَا لِہٰذَا ۟ وَ مَا کُنَّا لِنَہۡتَدِیَ لَوۡ لَاۤ اَنۡ ہَدٰىنَا اللّٰہُ ۚ . یہ دراصل اہل جنت کا ترانۂ حمد ہے .اہل جنت‘جب جنت میں داخل ہوں گے تو اُس وقت ان کے قلب کی گہرائیوں سے یہ ترانہ حمد اُبھر کر آئے گا . اس لیے کہ اہل ایمان دنیا میں تو ڈرتے اور کانپتے رہتے ہیں اورکسی کو اپنے عمل پر کوئی غرور اور کوئی اعتماد نہیں ہوتا .وہ تو ہر وقت آسان حساب کی دعا مانگتے رہتے ہیں‘ اس لیے کہ اگر کہیں تفصیل سے محاسبہ شروع ہو گیا تو پھر کوئی شخص ایسا نہیں ہوگا جو اللہ کے ہاں کامیاب ہو سکے. 

اس ضمن میں یہ حدیث بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ حضوراکرم نے ایک موقع پر فرمایا: لَنْ یُدْخِلَ اَحَدًا عَمَلُہُ الْجَنَّۃَ ’’ تم میں سے کسی شخص کا عمل اسے ہرگز جنت میں داخل نہیں کرے گا(جب تک کہ اللہ کی رحمت اس کی دستگیری نہ فرمائے)‘‘.اب کسی صحابی نے بڑی ہمت ‘حوصلے اور جرأت سے کام لیتے ہوئے پوچھ لیا: وَلَا اَنْتَ یَارَسُوْل َ اللّٰہِ ! ’’یا رسول اللہ !کیا آپؐ بھی؟(اعمال کی بنیاد پر جنت میں داخل نہیں ہو سکتے)‘‘. اس پر آپؐ نے فرمایا: لَا وَلَا اَنَا‘ اِلَّا اَنْ یَتَغَمَّدَنِیَ اللّٰہُ بِفَضْلٍ وَّرَحْمَۃٍ (۱’’ ہاں میں بھی‘اِلایہ کہ اللہ عزوجل اپنے فضل و کرم اور اپنی رحمت کی چادر سے مجھے ڈھانپ دے.‘‘