غلو ِعقیدت اور غلو ِمحبت سے احتراز لازم ہے!

دیکھئے ‘حضوراکرم فرما رہے ہیں کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے فضل واحسان اور اس کی رحمت کے بغیر میرا داخلہ بھی جنت میں نہیں ہو سکتا اور یہی ہمارے دین کی تعلیم ہے‘ جبکہ ہمارے ذہنوں میں انبیاء و رسل کی شانوں میں کس کس درجے کے مغالطے ہوتے ہیں. یہ غلو ِعقیدت اور غلو ِمحبت ہی تو ہے کہ جس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا بناڈالا.یہ کسی بدنیتی کا نتیجہ نہیں ہے‘بلکہ یہ محبت اور عقیدت کا غلو ہے.پھر اسی غلو نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خدا کا اوتاربنواڈالا. اللہ تعالیٰ نے اس دین کو قیامت تک محفوظ رکھنا تھا‘لہٰذا یہ گستاخی حضور کی شان میں کسی نے نہیں کی کہ حضور کو اللہ کا اوتار قرار دیاہو. ویسے تو ایسے بے شمار اشعار ہیں جن میں حضوراکرم کی شان بیان کرتے ہوئے غلو سے کام لیا گیا ہے‘ مثلاً :

وہی جو مستویٔ عرش تھا خدا ہو کر 
اُتر پڑا وہ مدینے میں مصطفی ہو کر

٭ (۱) صحیح البخاری‘ کتاب المرضی‘ باب تمنی المریض الموت‘ح: ۵۶۷۳ . وصحیح مسلم‘ کتاب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار‘ باب لن یدخل احد الجنۃ بعملہ…‘ح:۲۸۱۸
٭ اسی طرح ایک شعر کچھ یوں ہے : ؎

مدینے کی مسجد میں منبر کے اوپر بغیر عین کے اک عرب ہم نے دیکھا!

’’عرب‘‘ کے لفظ سے اگر ’’ع‘‘ کو ہٹا دیا جائے تو باقی ’’رب‘‘ بچتا ہے . ہمارے نعت خواں حضرات تو حضور سے عشق و محبت کے اظہار میں اس حد تک چلے جاتے ہیں کہ (نعوذ باللہ) حضور کو ربّ کے برابر بٹھائے بغیر اپنے عشق ومحبت کو مکمل ہی نہیں سمجھتے. (مرتب) 
لیکن یہ صرف شاعری کا معاملہ ہے اور شعروں میں تو غلو ہوتا ہی ہے . اس سے توکوئی بڑے سے بڑا شاعر بھی بچا ہوا نہیں ہے. قرآن مجید میں اس ضمن میں فرمایا گیا: وَ الشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُہُمُ الۡغَاوٗنَ ﴿۲۲۴﴾ؕاَلَمۡ تَرَ اَنَّہُمۡ فِیۡ کُلِّ وَادٍ یَّہِیۡمُوۡنَ ﴿۲۲۵﴾ۙوَ اَنَّہُمۡ یَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا یَفۡعَلُوۡنَ ﴿۲۲۶﴾ۙ ’’اور شاعروں کی پیروی تو گمراہ لوگ کیا کرتے ہیں. کیاتم نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر وادی میں سر گرداں رہتے ہیں‘ اور کہتے وہ ہیں جو کرتے نہیں!‘‘ 

حضوراکرم کو شعروں میں تو خدا کے برابر بٹھادیا گیا‘مگر بالفعل کسی نے حضور کو اللہ کا اوتار قرار نہیں دیا‘جبکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خدا ماننے والے پیدا ہوئے اورعبداللہ بن سبا پہلا شخص تھا جس نے یہ فتنہ کھڑا کیا تھا.جبکہ واقعہ یہ ہے کہ شام اورلبنان کے اندر ایسے لوگ آج بھی موجود ہیں جو علوی وغیرہ کہلاتے ہیں اور جن کا عقیدہ ہے کہ علی اللہ ہی کے اوتار کی حیثیت رکھتے ہیں. یہ میں صرف اس اعتبار سے بتا رہا ہوں کہ حضور کے مقابلے میں حضرت علیؓ کی کیا حیثیت ہے!بہرحال حضور کو اللہ نے محفوظ رکھا ‘اس لیے کہ سارے دین کا معاملہ آپ  کے ساتھ وابستہ ہے. ؎

بمصطفیٰ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست اگر بہ او نہ رسیدی تمام بولہبی است!

حضرت علیؓ حضور کے صحابی ہیں‘ ان کی آپؐ نے تربیت فرمائی‘ تزکیہ فرمایا. حضرت علی رضی اللہ عنہ حضور کی گود میں پلے ہیں. تو یہ گستاخی حضرت علیؓ کے ساتھ کی گئی ہے‘ لیکن اللہ نے اپنے نبی کو اس سے بچایا ہے.