صدقہ کی وسعت

اب حضور اکرم کا جواب سنیے. حضور نے فرمایا: أَوَ لَـیْسَ قَدْ جَعَلَ اللّٰہُ لَـکُمْ مَا تَصَدَّقُوْنَ بِہٖ؟ ’’کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے صدقے کا سامان مہیا نہیں کیا ہے؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے بھی صدقے کے راستے کھول رکھے ہیں. ان کی تفصیل بیان کرتے ہوئے آپ نے فرمایا: اِنَّ بِکُلِّ تَسْبِیْحَۃٍ صَدَقَۃً ’’تمہارا ہر دفعہ سبحان اللہ کہنا صدقہ ہے‘‘. وَکُلِّ تَـکْبِیْرَۃٍ صَدَقَۃً ’’اورتمہارا ہر مرتبہ اللہ اکبر کہنا صدقہ ہے‘‘. وَکُلِّ تَحْمِیْدَۃٍ صَدَقَۃً ’’اورتمہارا ہر مرتبہ الحمد للہ کہنا صدقہ ہے‘‘. وَکُلِّ تَھْلِیْلَۃٍ صَدَقَۃً ’’اورتمہارا ہر مرتبہ لا اِلٰہ اِلا اللہ کہنا صدقہ ہے‘‘.یعنی تم جتنی مرتبہ سبحان اللہ‘الحمد للہ‘اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ کہو گے ‘اتنا ہی صدقہ شمار ہو گا. 

وَاَمْرٌ بِالْمَعْرُوْفِ صَدَقَۃٌ 
’’تمہارا کسی کو نیکی کا مشورہ دینا (یانیکی کا حکم دینا) بھی صدقہ ہے‘‘. آپ کی حیثیت کے مطابق وہ مشورہ بھی ہو سکتا ہے اور حکم بھی. جہاں آپ کے پاس اختیار ہے وہاں حکم دینا ہو گا. آپ اپنے گھر کے اندر طاقت کے ساتھ نیکی کانفاذ کر سکتے ہیں‘چنانچہ آپ کے گھر میں ایک بچہ نماز نہیں پڑھ رہا ہے تواسے آپ سزا دے سکتے ہیں. یہاںوہ مغربی تصور نہیں ہے کہ بچے کو ہاتھ نہ لگاؤ‘ بچے کو روک ٹوک نہ کرو. ہم تو سمجھتے ہیں کہ بچے میں اگر شرم و حیا اور جھجک ہے تو وہ اس کی شخصیت کے صحت مند ارتقاء پانے کا ذریعہ بنے گا. لہٰذا اگر آپ کا کہیں اختیار اور طاقت ہے تو نیکی کا حکم دیں اور اگر اختیار نہیں ہے تو مشورۃً اورنصیحتاً نیکی کی بات بتائیں. وَنَھْیٌ عَنْ مُّنْکَرٍ صَدَقَۃٌ ’’اور کسی کو برائی سے روکنا بھی صدقہ ہے‘‘. برائی سے روکنے کے تین ذرائع احادیث میں بیان ہوئے ہیں.حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: 

مَنْ رَاٰی مِنْکُمْ مُنْکَرًا فَلْیُغَیِّرْہُ بِیَدِہٖ، فَاِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِہٖ، فَاِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِہٖ، وَذٰلِکَ اَضْعَفُ الْاِیْمَانِ 
(۱
یعنی تم میں سے جو کوئی بھی کسی برائی کو دیکھے تو اس کا فرض ہے کہ بزورِ بازواس کو روکے ! اگر اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو زبان سے روکے. اگر حالات ایسے ہوں کہ زبانوں پر بھی پہرے بٹھا دیے گئے ہوں اور حق بات کہنے پر زبانیں کھینچی جا رہی ہوں‘ تو کم سے کم دل میں اس برائی کے خلاف نفرت رکھیں. اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے. اگر آپ بدی کو دیکھتے ہیںاورآپ کو کوئی احساس ہی نہیں ہوتا‘ دل میں اس کے خلاف کوئی نفرت بھی پیدا نہیں ہوتی‘ طبیعت میں کوئی گٹھن بھی محسوس نہیں ہوتی تو پھر آپ کا دل ایمان سے خالی ہے. اس لیے کہ دل میں برائی کے خلاف نفرت پیدا ہوناایمان کا کمزور ترین درجہ ہے ‘اور جب یہ بھی نہیں ہے تو پھر ظاہر ہے کہ ایمان بھی نہیں ہے. (۱) صحیح مسلم‘ کتاب الایمان‘باب بیان کون النھی عن المنکر من الایمان…