صاحب ِامر کی اطاعت مقید اور مشروط ہے!

زیر مطالعہ آیت میں صاحب امر کے حوالے سے ’’اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ‘‘ کے الفاظ آئے ہیں‘یعنی تم (مسلمانوں)میں سے جو صاحب امر ہو اُس کی اطاعت لازم ہے. ظاہر بات ہے کہ اگر کوئی غیر مسلم آپ پر حاکم بن گیا تو اس کی اطاعت آپ پر فرض نہیں ہے‘بلکہ آگے بڑھ کر پوری کوشش کرنی چاہیے کہ اس کی حکومت کو ختم کیا جائے‘ اس سے نجات حاصل کی جائے‘اس کے خلاف جہاد کیا جائے.لیکن مسلمانوں میں سے جو بھی تمہارا امیر ہے اس کی اطاعت تم پر لازم ہے‘ البتہ یہ اطاعت اللہ اور رسول  کی اطاعت کے تابع ہے .اگر تو وہ اللہ اور رسولؐ کے احکام کے مطابق حکم دے تو اسے ماننا لازم ہے اور اگر خلافِ شریعت کوئی حکم دے تو نہ ماننا لازم ہے.

صاحب امر حضور کے زمانے میں بھی ہوتے تھے. حضور تو اللہ کے رسول بھی تھے اور مسلمانوں کے امیر اور سپہ سالار بھی‘ لیکن آپ کی امارت کے تحت چھوٹی امارتیںہوتی تھیں. مثلاًآپ نے کوئی لشکر بھیجا جس کے ساتھ آپؐ خود نہیں گئے - جنہیں ہم سرایا کہتے ہیں ظاہر بات ہے اس میں کسی کو تو امیر بنایا گیا. اب اس امیر کی اطاعت بھی ضروری ہے‘لیکن اس کی اطاعت معروف میں ہے. اس کو اختیار نہیں ہے کہ وہ جو چاہے حکم دے . چنانچہ دورِ نبویؐ میں بالفعل اسی طرح کاایک واقعہ بھی پیش آگیا. حضور نے اپنے صحابہ کی ایک جماعت روانہ کی اور اس میں ایک صاحب کو امیر بنایا.وہ امیر صاحب ذرا جلالی مزاج کے تھے‘ کسی بات پر وہ اپنے ساتھیوں سے ناراض ہو گئے تو انہوں نے ایک بہت بڑا گڑھا کھودنے کاحکم دیا . صحابہ کرامؓ نے گڑھاکھود دیا‘ اس لیے کہ اس میں تو کوئی خلافِ شریعت بات نہیں تھی. پھر امیر نے حکم دیا کہ اس میں لکڑیاں لا کر ڈال دو‘ ڈال دی گئیں. حکم دیا ان میں آگ لگا دو‘ لگا دی گئی.اس کے بعد اس نے حکم دیا کہ اس میں کود جاؤ. اس پر صحابہؓ نے کہا کہ اسی آگ سے بچنے کے لیے تو ہم نے محمد رسول اللہ کا دامن تھاما تھا اورآپ ہمیں اسی میں کودنے کا حکم دے رہے ہیں‘ تو لَا سَمْعَ وَلَا طَاعَۃَ یعنی ہم آپ کا یہ حکم نہیں مانیں گے.جب یہ بات حضور کے علم میں لائی گئی تو آپ نے توثیق فرمائی کہ انہوں نے صحیح کیا.مزید آپ نے فرمایا کہ اگر یہ لوگ اُس آگ میں داخل ہوجاتے تو پھر کبھی اس میں سے نہ نکل پاتے. لہٰذا حضور کے بعد کسی امیر کا حکم مطلق نہیں ہے‘ چاہے وہ امیر صحابی ہی کیوں نہ ہو. صحابی کا حکم بھی مطلق نہیں ہے‘ بلکہ اسے بھی اللہ اور اُس کے رسول کے احکام کی کسوٹی پر پرکھا جائے گا . اگر اس کے اوپر پورا اترتا ہے تو سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ورنہ اسے رد کر دیا جائے گا.